مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تشہد نماز کے واجب اجزا میں سے ہے ۔نماز کے مخصوص حالت میں بیٹھ کر خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دینے کو تشہد کہا جاتا ہے ۔ اسے نماز کے واجب اجزا میں سے شمار کیا جاتا ہے ۔واجب نماز ہو یا مستحب کوئی بھی نماز تشہد کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے ہر نماز یومیہ میں سے دو رکعتی نماز میں ایک تین رکعتی اور چار رکعتی نماز میں دو تشہد پڑھے جاتے ہیں ۔

توضیح المسائل (مراجع)

فہرست

لغوی اور اصطلاحی معنی

عربی زبان میں تشہد شہد سے مشتق ہے اور شہد کا معنی حاضر ہونا، جاننا اور آگاہ کرنا ہے اسی سے شہادت ،مشہد، شہید نکلے ہیں۔[1]ظاہری یا باطنی آنکھوں(یعنی بصیرت) سے دیکھتے ہوئے حاضر ہونا[2] ۔تشہد مصدر کا وزن ہے جو تفعّل کے وزن پر آتا ہے ۔

اصطلاحی لحاظ سے خدا کی وحدانیت اور رسول اللہ کی رسالت کی گواہی دینے کو تشہد کہا جاتا ہے ۔نماز میں اشہد ان لا الہ الا اللہ ، وحدہ لا شریک لہ و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ اللہم صل علی محمد و آل محمد کو تشہد کہا جاتا ہے ۔[3]

ذکر تشہد

دو رکعتی نماز کی دوسری ،تین رکعتی نماز کی دوسری اور تیسری اورچار رکعتی نماز کی دوسری اور چوتھی رکعت میں حالت تشہد میں درج ذیل ذکر پڑھا جاتا ہے اور یہ نماز کے واجب اجزا میں سے ہے :

اشہد ان لا الہ الا اللہ ، وحدہ لا شریک لہ ،و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ، اللہم صل علی محمد و آل محمد
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے۔

احکام

  • تشہد کے ذکر کو ضروری ہے کہ عربی زبان میں اور مسلسل پڑھا جائے۔[4]
  • نماز پڑھنے والا اگر اسے پڑھنا بھول جائے اور وہ بعد والی رکعت میں مشغول ہو جائے تو رکوع میں جانے سے پہلے اگر اسے یاد آجائے تو اسے چاہئے کسی توقف کے بغیر بیٹھ جائے اور تشہد کو پڑھے اور بعد والی رکعت کو نئے سرے سے دوبارہ پڑھے ۔بعض فقہا کے نزدیک نماز کے بعد دو سجدہ سہو بھی بجا لانا ضروری ہے ۔

نوٹ:آیت اللہ خوئی،رضا گلپایگانی، جواد تبریزی ، صافی گلپائیگانی: احتیاط واجب کی بنا پر نماز کے بعد بلا وجہ کھڑے ہونے کے بدلے میں دو سجدے سہو بجا لائے۔

آیت اللہ شبیری زنجانی ، علی حسینی سیستانی:احتیاط مستحب کی بنا پر بلا وجہ کھڑے ہونے کے بدلے میں دو سجدے سہو بجا لائے ۔

  • اگر رکوع میں یا اسکے بعد یاد آئے کہ تشہد نہیں پڑھا ھے تو نماز کو جاری رکھے ۔نماز مکمل ہونے کے بعد تشہد کی قضا ادا کرے اور دو سجدے سہو بجا لائے ۔[5]
  • تشہد پڑھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملا کر ران پر رکھنا اور اپنے دامن میں نگاہ رکھنا مستحب ہے۔[6]
  • تشہد کے دوران تَوَرُّک یعنی بائیں ران پر بیٹھنا،دائیں پاؤں کو بائیں پاؤں کی پشت پر قرار دینا ، مستحب ہے۔
  • عورتوں کیلئے دونوں رانوں کو باہم ملا کر رکھنا مستحب ہے ۔[7]
  • تشہد شروع کرنے سے پہلے الحمد للہ یا بِسْمِ اللهِ و بِاللهِ وَ الْحَمدُ لِلهِ وَ خَیرُ الأسماءِ لِله اور تشہد کے اختتام پر وَ تَقَبِّلْ شَفاعَتَهُ وَ ارْفَعْ دَرَجَتَه کہنا مستحب ہے ۔[8]



حوالہ جات

  1. ابن فارس،معجم مقایسس اللغہ3/221۔
  2. راغب اصفہانی،مفردات فی غریب القرآن، مادہ شہد۔
  3. احمد فتح اللہ ،معجم الفاظ الفقہ الجعفری 113۔
  4. احکام تشہد
  5. احکام تشہد
  6. احکام تشہد
  7. احکام تشہد
  8. احکام تشہد