مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg
دعائے ندبہ سے اقتباس

دعائے نُدبہ[عربی میں: دعاء الندبة] امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقولہ معتبرترین دعاؤں میں سے ایک ہے اور مستحب ہے کہ چار عیدوں ـ یعنی فطر، ضحی، غدیر اور جمعہ ـ میں پڑھی جائے۔ اس دعا کو سید بن طاؤس نے اپنی کتاب اقبال الاعمال میں نقل کیا ہے۔ شیعیان اہل بیت(ع) عام طور پر جمعہ کے روز طلوع آفتاب سے قبل امام زمانہ(عج) کے فراق میں اس دعا کی قرائت کا اہتمام کرتے ہیں۔

یہ دعا امام زمانہ(عج) استغاثے (یا آہ و فریاد اور مدد طلب کرنے)، اور آنحضرت(عج) کی غیبت پر اظہار تاسف اور آپ(عج) کے فراق میں گریہ و بکاء پر مشتمل ہے اور ندبہ کے معنی بھی یہی ہیں۔

فہرست

وجۂ تسمیہ

ندبہ کے معنی بلانے نیز گریہ و بکاء کرنے کے ہیں اور یہ دعا امام زمانہ(عج) سے استغاثے، مدد طلب کرنے اور آنحضرت(عج) کی غیبت پر اظہار تاسف اور آپ(عج) کے فراق میں گریہ و بکاء پر مشتمل ہے؛ چنانچہ دعائے ندبہ کے عنوان سے مشہور ہوئی ہے۔[1]

دعائے ندبہ کی سند

یہ دعا سید رضی الدین علی بن طاؤس (متوفیٰ سنہ 664ھ‍)، نے اپنی کتاب "اقبال" میں،[2] اور کتاب "مصباح الزائر" (قلمی نسخہ) کی ساتویں فصل میں اور (چھٹی صدی ہجری کے ایک عالم دین) محمّد بن جعفر بن مشہدی حائری حائری نے اپنی کتاب مزار المعروف بہ "مزار ابن مشہدی"،[3] میں نقل کی ہیں۔

علامہ مجلسی نے دعائے ندبہ کو اپنی کتابوں بحار الانوار[4] اور تحفۃ الزائر میں نقل کیا ہے اور بحار کے دیباچے میں اس کی سند کے معتبر ہونے کی شہادت دی ہے۔ نیز علامہ مجلسی نے بطور خاص دعائے ندبہ کی سند کے اعتبار کی تصدیق کی ہے جس کا سلسلہ امام جعفر صادق علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ ان ہی کی کتاب "زاد المعاد میں اس دعا کے بارے میں ان کی عبارت کچھ یوں ہے: "{{حدیث|اور دعائے ندبہ، جو عقائد حقہ کے اظہار، غیبتِ حضرت قائم(عج) پر اظہارِ تاسف، معتبر سند سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، اور سنت ہے کہ یہ دعا چار عیدوں میں پڑھ لو"۔[5]

دعائے ندبہ کی قرائت کے اوقات

دعائے ندبہ کی قرائت چار عیدوں ـ عید الفطر، عید الضحی، عید غدیر اور روز جمعہ ـ مستحب ہے۔[6]

دعائے ندبہ کے مضامین و مندرجات

اس دعا کا آغاز اللہ کی حمد و ثنا اور محمد(ص) اور آل محمد صلی اللہ علیہم اجمعین پر درود و سلام سے ہوتا ہے، بعدازاں انبیاء اور اولیاء کے منتخب ہونے اور برگزیدگی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے اور اس حقیقت پر تاکید ہوئی ہے کہ وہ سب بارگاہ الہی میں قبول ہوئے ہیں۔ اس دعا میں اولو العزم پیغمبروں اور سب سے پہلے حضرت آدم(ع) کی زندگی کے اہم ترین واقعات کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے اور تاکید ہوئی ہے کہ "اس لئے کہ حقّ قائم و دائم رہے، خداوند متعال نے ہر پیغمبر کے لئے وصی اور جانشین متعین کیا ہے، تاکہ باطل اہل حق پر غلبہ نہ پا لے اور کوئی بھی خدا کے سامنے یہ عذر و بہانہ نہ لا سکے کہ تو نے پیغمبر کیوں نہیں بھیجے، اور کیوں کوئی رسول تیری طرف سے نہیں آیا، اور کوئی متنبہ کرنے والا راہنما نہیں پہنچا، تا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے"۔

بعدازاں حضرت علی(ع) کی جانشینی کے موضوع کو زیر بحث لایا جاتا ہے اور آپ(ع) کے بعض فضائل بیان کرتے ہوئے دشمنان دین کی بےوفائی اور بدبختی و سنگ دلی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جنہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے صریح حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امام علی(ع) اور آپ(ع) کے راہنما فرزندوں کو یکے بعد دیگرے شہید کیا؛ اور اس کے بعد خاندان رسالت کے آخری معصوم امام زمانہ (عج) کے حضور استغاثہ اور اظہارِ اشتیاق کیا جاتا ہے اور پھر محمد و آل محمد(ص) پر صلوات خاصہ بھیجنے کے بعد چند التجاؤں کے ضمن میں آپ(عج) کے امام زمانہ کے ظہور میں تعجیل، حکومت حقہ کے بر سر اقتدار آنے، باطل کے مٹ جانے اور امام زمانہ(عج) کے ساتھ تعلق اور پیوند کے استحکام کے لئے دعا پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔[7]

دعائے ندبہ کی شرحیں

  1. شرح دعائے ندبہ، بقلم: صدرالدین محمد حسنی مدرس یزدی؛
  2. عقد الجمان لندبۃ صاحب الزمان، بقلم: میرزا عبدالرحیم تبریزی؛
  3. وسیلہ القربۃ قی شرح دعاء الندبۃ بقلم: شیخ علی خوئی؛
  4. شرح دعائے ندبہ، بقلم: ملا حسن تربتی سبزواری؛
  5. النخبۃ فی شرح دعاء الندبۃ، بقلم: سید محمود مرعشی؛
  6. شرح یا ترجمہ دعائے ندبہ، بقلم: سردار کابلی؛
  7. معالم القربۃ قی شرح دعاء الندبۃ، بقلم: محدث ارموی؛
  8. وظائف الشیعۃ فی شرح دعاء الندبۃ، بقلم: ادیب اصفہانی؛
  9. کشف الکربۃ، بقلم: محدث ارموی؛
  10. نوید بامداد پیروزی، بقلم: موسوی خرم آبادی؛
  11. شرح و ترجمہ دعائے ندبہ، بقلم: محب الاسلام؛
  12. نصرۃ المسلمین، بقلم: عبدالرضا خان ابراہیمی؛
  13. فروغ الولایۃ، بقلم: آیت اللہ صافی؛
  14. الکلمات النخبۃ، بقلم: عطایی اصفہانی؛
  15. رسالہ حول دعاء الندبۃ، بقلم: محمد تقی تستری؛
  16. رسالہ حول دعاء الندبۃ، بقلم: میرجہانی اصفہانی؛
  17. سند دعائے الندبۃ، بقلم: سید یاسین الموسوی؛
  18. شرحی بر دعائے ندبہ، بقلم: علوی طالقانی.

دعا کا متن و ترجمہ

دعاء الندبة


اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعالَمينَ وَصَلَّى اللهُ عَلى سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ نَبِيِّهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْليماً، اَللّـهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلى ما جَرى بِهِ قَضاؤكَ في اَوْلِيائِكَ الَّذينَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ لِنَفْسِكَ وَدينِكَ، اِذِ اخْتَرْتَ لَهُمْ جَزيلَ ما عِنْدَكَ مِنَ النَّعيمِ الْمُقيمِ الَّذي لا زَوالَ لَهُ وَلاَ اضْمِحْلالَ، بَعْدَ اَنْ شَرَطْتَ عَلَيْهِمُ الزُّهْدَ في دَرَجاتِ هذِهِ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ وَزُخْرُفِها وَزِبْرِجِها، فَشَرَطُوا لَكَ ذلِكَ وَعَلِمْتَ مِنْهُمُ الْوَفاءَ بِهِ فَقَبِلْتَهُمْ وَقَرَّبْتَهُمْ، وَقَدَّمْتَ لَهُمُ الذِّكْرَ الْعَلِيَّ وَالثَّناءَ الْجَلِىَّ، وَاَهْبَطْتَ عَلَيْهِمْ مَلائِكَتَكَ وَكَرَّمْتَهُمْ بِوَحْيِكَ، وَرَفَدْتَهُمْ بِعِلْمِكَ، وَجَعَلْتَهُمُ الذَّريعَةَ اِلَيْكَ وَالْوَسيلَةَ اِلى رِضْوانِكَ، فَبَعْضٌ اَسْكَنْتَهُ جَنَّتَكَ اِلى اَنْ اَخْرَجْتَهُ مِنْها، وَبَعْضٌ حَمَلْتَهُ في فُلْكِكَ وَنَجَّيْتَهُ وَمَنْ آمَنَ مَعَهُ مِنَ الْهَلَكَةِ بِرَحْمَتِكَ، وَبَعْضٌ اتَّخَذْتَهُ لِنَفْسِكَ خَليلاً وَسَأَلَكَ لِسانَ صِدْق فِي الاْخِرينَ فَاَجَبْتَهُ وَجَعَلْتَ ذلِكَ عَلِيّاً، وَبَعْضٌ كَلَّمْتَهُ مِنْ شَجَـرَةٍ تَكْليماً وَجَعَلْتَ لَهُ مِنْ اَخيهِ رِدْءاً وَوَزيراً، وَبَعْضٌ اَوْلَدْتَهُ مِنْ غَيْرِ اَب وَآتَيْتَهُ الْبَيِّناتِ وَاَيَّدْتَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ، وَكُلٌّ شَرَعْتَ لَهُ شَريعَةً، وَنَهَجْتَ لَهُ مِنْهاجاً، وَتَخَيَّرْتَ لَهُ اَوْصِياءَ، مُسْتَحْفِظاً بَعْدَ مُسْتَحْفِظ مِنْ مُدَّةٍ اِلى مُدَّةٍ، اِقامَةً لِدينِكَ، وَحُجَّةً عَلى عِبادِكَ، وَلِئَلّا يَزُولَ الْحَقُّ عَنْ مَقَرِّهِ وَيَغْلِبَ الْباطِلُ عَلى اَهْلِهِ، وَلا يَقُولَ اَحَدٌ لَوْلا اَرْسَلْتَ اِلَيْنا رَسُولاً مُنْذِراً وَاَقَمْتَ لَنا عَلَماً هادِياً فَنَتَّبِـعَ آياتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَذِلَّ وَنَخْزى، اِلى اَنِ انْتَهَيْتَ بِالاَْمْرِ اِلى حَبيبِكَ وَنَجيبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، فَكانَ كَمَا انْتَجَبْتَهُ سَيِّدَ مَنْ خَلَقْتَهُ، وَصَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَيْتَهُ، وَاَفْضَلَ مَنِ اجْتَبَيْتَهُ، وَاَكْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهُ، قَدَّمْتَهُ عَلى اَنْبِيائِكَ، وَبَعَثْتَهُ اِلَى الثَّقَلَيْنِ مِنْ عِبادِكَ، وَاَوْطَأتَهُ مَشارِقَكَ وَمَغارِبَكَ، وَسَخَّرْتَ لَهُ الْبُراقَ، وَعَرَجْتَ (به) بِرُوْحِهِ اِلى سَمائِكَ، وَاَوْدَعْتَهُ عِلْمَ ما كانَ وَما يَكُونُ اِلَى انْقِضاءِ خَلْقِكَ، ثُمَّ نَصَرْتَهُ بِالرُّعْبِ، وَحَفَفْتَهُ بِجَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَالْمُسَوِّمينَ مِنْ مَلائِكَتِكَ وَوَعَدْتَهُ اَنْ تُظْهِرَ دينَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، وَذلِكَ بَعْدَ اَنْ بَوَّأتَهُ مَبَوَّأَ صِدْقٍ مِنْ اَهْلِهِ، وَجَعَلْتَ لَهُ وَلَهُمْ اَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنّاسِ لَلَّذي بِبَكَّةَ مُبارَكاً وَهُدىً لِلْعالَمينَ، فيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ مَقامُ اِبْراهيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كانَ آمِناً، وَقُلْتَ (اِنَّما يُريدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً) ثُمَّ جَعَلْتَ اَجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ مَوَدَّتَهُمْ في كِتابِكَ فَقُلْتَ: (قُلْ لا اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْراً اِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبى) وَقُلْتَ (ما سَألْتُكُمْ مِنْ اَجْر فَهُوَلَكُمْ) وَقُلْتَ: (ما اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْر الاّ مَنْ شاءَ اَنْ يَتَّخِذَ اِلى رَبِّهِ سَبيلاً)، فَكانُوا هُمُ السَّبيلَ اِلَيْكَ وَالْمَسْلَكَ اِلى رِضْوانِكَ، فَلَمَّا انْقَضَتْ اَيّامُهُ اَقامَ وَلِيَّهُ عَلِيَّ بْنَ اَبي طالِب صَلَواتُكَ عَلَيْهِما وَآلِهِما هادِياً، اِذْ كانَ هُوَ الْمُنْذِرَ وَلِكُلِّ قَوْم هاد، فَقالَ وَالْمَلأُ اَمامَهُ: مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ اَللّـهُمَّ والِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ عاداهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ، وَقالَ: مَنْ كُنْتُ اَنَا نَبِيَّهُ فَعَلِيٌّ اَميرُهُ، وَقالَ اَنَا وَعَلِيٌّ مِنْ شَجَرَة واحِدَة وَسائِرُالنَّاسِ مِنْ شَجَر شَتّى، وَاَحَلَّهُ مَحَلَّ هارُونَ مِنْ مُوسى، فَقال لَهُ اَنْتَ مِنّي بِمَنْزِلَةِ هارُونَ مِنْ مُوسى الّا اَنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدي، وَزَوَّجَهُ ابْنَتَهُ سَيِّدَةَ نِساءِ الْعالَمينَ، وَاَحَلَّ لَهُ مِنْ مَسْجِدِهِ ما حَلَّ لَهُ، وَسَدَّ الاَْبْوابَ اِلاّ بابَهُ، ثُمَّ اَوْدَعَهُ عِلْمَهُ وَحِكْمَتَهُ فَقالَ: اَنـَا مَدينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِىٌّ بابُها، فَمَنْ اَرادَ الْمَدينَةَ وَالْحِكْمَةَ فَلْيَاْتِها مِنْ بابِها، ثُمَّ قالَ: اَنْتَ اَخي وَوَصِيّي وَوارِثي، لَحْمُكَ مِنْ لَحْمي وَدَمُكَ مِنْ دَمي وَسِلْمُكَ سِلْمي وَحَرْبُكَ حَرْبي وَالإيمانُ مُخالِطٌ لَحْمَكَ وَدَمَكَ كَما خالَطَ لَحْمي وَدَمي، وَاَنْتَ غَداً عَلَى الْحَوْضِ خَليفَتي وَاَنْتَ تَقْضي دَيْني وَتُنْجِزُ عِداتي وَشيعَتُكَ عَلى مَنابِرَ مِنْ نُور مُبْيَضَّةً وُجُوهُهُمْ حَوْلي فِي الْجَنَّةِ وَهُمْ جيراني، وَلَوْلا اَنْتَ يا عَلِيُّ لَمْ يُعْرَفِ الْمُؤْمِنُونَ بَعْدي، وَكانَ بَعْدَهُ هُدىً مِنَ الضَّلالِ وَنُوراً مِنَ الْعَمى، وَحَبْلَ اللهِ الْمَتينَ وَصِراطَهُ الْمُسْتَقيمَ، لا يُسْبَقُ بِقَرابَةٍ في رَحِمٍ وَلا بِسابِقَةٍ في دينٍ، وَلا يُلْحَقُ في مَنْقَبَةٍ مِنْ مَناقِبِهِ، يَحْذُو حَذْوَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِما وَآلِهِما، وَيُقاتِلُ عَلَى التَّأويلِ وَلا تَأخُذُهُ فِي اللهِ لَوْمَةُ لائِمٍ، قَدْ وَتَرَ فيهِ صَناديدَ الْعَرَبِ وَقَتَلَ اَبْطالَهُمْ وَناوَشَ (ناهش) ذُؤْبانَهُمْ، فَاَوْدَعَ قُلُوبَهُمْ اَحْقاداً بَدْرِيَّةً وَخَيْبَرِيَّةً وَحُنَيْنِيَّةً وَغَيْرَهُنَّ، فَاَضَبَّتْ عَلى عَداوَتِهِ وَاَكَبَّتْ عَلى مُنابَذَتِهِ، حَتّى قَتَلَ النّاكِثينَ وَالْقاسِطينَ وَالْمارِقينَ، وَلَمّا قَضى نَحْبَهُ وَقَتَلَهُ اَشْقَى الاْخِرينَ يَتْبَعُ اَشْقَى الاَْوَّلينَ، لَمْ يُمْتَثَلْ اَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ فِي الْهادينَ بَعْدَ الْهادينَ، وَالاُْمَّةُ مُصِرَّةٌ عَلى مَقْتِهِ مُجْتَمِعَةٌ عَلى قَطيعَةِ رَحِمِهِ وَاِقْصاءِ وُلْدِهِ اِلّا الْقَليلَ مِمَّنْ وَفى لِرِعايَةِ الْحَقِّ فيهِمْ، فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ، وَسُبِيَ مَنْ سُبِيَ وَاُقْصِيَ مَنْ اُقْصِيَ وَجَرَى الْقَضاءُ لَهُمْ بِما يُرْجى لَهُ حُسْنُ الْمَثُوبَةِ، اِذْ كانَتِ الاَْرْضُ للهِ يُورِثُها مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقينَ، وَسُبْحانَ رَبِّنا اِنْ كانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً، وَلَنْ يُخْلِفَ اللهُ وَعْدَهُ وَهُوَ الْعَزيزُ الْحَكيمُ، فَعَلَى الاَْطائِبِ مِنْ اَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ وَعَلِيٍّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِما وَآلِهِما فَلْيَبْكِ الْباكُونَ، وَاِيّاهُمْ فَلْيَنْدُبِ النّادِبُونَ، وَلِمِثْلِهِمْ فَلْتَذْرِفِ (فَلْتًدرِ) الدُّمُوعُ، وَلْيَصْرُخِ الصّارِخُونَ، وَيَضِجَّ الضّاجُّونَ، وَيَعِـجَّ الْعاجُّوَن، اَيْنَ الْحَسَنُ اَيْنَ الْحُسَيْنُ اَيْنَ اَبْناءُ الْحُسَيْنِ، صالِحٌ بَعْدَ صالِـحٍ، وَصادِقٌ بَعْدَ صادِقٍ، اَيْنَ السَّبيلُ بَعْدَ السَّبيلِ، اَيْنَ الْخِيَرَةُ بَعْدَ الْخِيَرَةِ، اَيْنَ الشُّمُوسُ الطّالِعَةُ، اَيْنَ الاَْقْمارُ الْمُنيرَةُ، اَيْنَ الاَْنْجُمُ الزّاهِرَةُ، اَيْنَ اَعْلامُ الدّينِ وَقَواعِدُ الْعِلْمِ، اَيْنَ بَقِيَّةُ اللهِ الَّتي لا تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الْهادِيـَةِ، اَيـْنَ الـْمُعَدُّ لِـقَطْعِ دابِرِ الظَّلَمَةِ، اَيْنَ الْمُنْتَظَرُ لاِِقامَةِ الاَْمْتِ وَاْلعِوَجِ، اَيْنَ الْمُرْتَجى لاِزالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوانِ، اَيْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْديدِ الْفَرآئِضِ و َالسُّنَنِ، اَيْنَ الْمُتَخَيَّرُ لاِِعادَةِ الْمِلَّةِ وَالشَّريعَةِ، اَيْنَ الْمُؤَمَّلُ لاِِحْياءِ الْكِتابِ وَحُدُودِهِ، اَيْنَ مُحْيي مَعالِمِ الدّينِ وَاَهْلِهِ، اَيْنَ قاصِمُ شَوْكَةِ الْمُعْتَدينَ، اَيْنَ هادِمُ اَبْنِيَةِ الشِّرْكِ وَالنِّفاقِ، اَيْنَ مُبيدُ اَهْلِ الْفُسُوقِ وَالْعِصْيانِ وَالطُّغْيانِ، اَيْنَ حاصِدُ فُرُوعِ الْغَيِّ وَالشِّقاقِ (النِفاقِ)، اَيْنَ طامِسُ آثارِ الزَّيْغِ وَالاَْهْواء،ِ اَيْنَ قاطِعُ حَبائِلِ الْكِذْبِ (الكَذِبِ) وَالاِْفْتِراءِ، اَيْنَ مُبيدُ الْعُتاةِ وَالْمَرَدَةِ، اَيْنَ مُسْتَأصِلُ اَهْلِ الْعِنادِ وَالتَّضْليلِ وَالاِْلْحادِ، اَيْنَ مُـعِزُّ الاَْوْلِياءِ وَمُذِلُّ الاَْعْداءِ، اَيْنَ جامِعُ الْكَلِمَةِ (الكَلِمِ)عَلَى التَّقْوى، اَيْنَ بابُ اللهِ الَّذى مِنْهُ يُؤْتى، اَيْنَ وَجْهُ اللهِ الَّذى اِلَيْهِ يَتَوَجَّهُ الاَْوْلِياءُ، اَيْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ بَيْنَ الاَْرْضِ وَالسَّماءِ، اَيْنَ صاحِبُ يَوْمِ الْفَتْحِ وَناشِرُ رايَةِ الْهُدى، اَيْنَ مُؤَلِّفُ شَمْلِ الصَّلاحِ وَالرِّضا، اَيْنَ الطّالِبُ بِذُحُولِ الاَْنْبِياءِ وَاَبْناءِ الاَْنْبِياءِ، اَيْنَ الطّالِبُ (المُطالِبُ) بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِكَرْبَلاءَ، اَيْنَ الْمَنْصُورُ عَلى مَنِ اعْتَدى عَلَيْهِ وَافْتَرى، اَيْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذي يُجابُ اِذا دَعا اَيْنَ صَدْرُ الْخَلائِقِ ذُوالْبِرِّ وَالتَّقْوى، اَيْنَ ابْنُ النَّبِىِّ الْمُصْطَفى، وَابْنُ عَلِيٍّ الْمُرْتَضى، وَابْنُ خَديجَةَ الْغَرّآءِ، وَابْنُ فاطِمَةَ الْكُبْرى، بِاَبي اَنْتَ وَاُمّي وَنَفْسي لَكَ الْوِقاءُ وَالْحِمى، يَا بْنَ السّادَةِ الْمُقَرَّبينَ، يَا بْنَ النُّجَباءِ الاَْكْرَمينَ، يَا بْنَ الْهُداةِ الْمَهْدِيّينَ (المُهْتَدينَ)، يَا بْنَ الْخِيَرَةِ الْمُهَذَّبينَ، يَا بْنَ الْغَطارِفَةِ الاَْنْجَبينَ، يَا بْنَ الاَْطائِبِ الْمُطَهَّرينَ (المُتَطَهْريِِنَ)، يَا بْنَ الْخَضارِمَةِ الْمُنْتَجَبينَ، يَا بْنَ الْقَماقِمَةِ الاَْكْرَمينَ (الأكْبَرينَ)، يَا بْنَ الْبُدُورِ الْمُنيرَةِ، يَا بْنَ السُّرُجِ الْمُضيئَةِ، يَا بْنَ الشُّهُبِ الثّاقِبَةِ، يَا بْنَ الاَْنْجُمِ الزّاهِرَةِ، يَا بْنَ السُّبُلِ الْواضِحَةِ، يَا بْنَ الاَْعْلامِ الّلائِحَةِ، يَا بْنَ الْعُلُومِ الْكامِلَةِ، يَا بْنَ السُّنَنِ الْمَشْهُورَةِ، يَا بْنَ الْمَعالِمِ الْمَأثُورَةِ، يَا بْنَ الْمُعْجِزاتِ الْمَوْجُودَةِ، يَا بْنَ الدَّلائِلِ الْمَشْهُودَةِ (المَشْهُورَةِ)، يَا بْنَ الصـِّراطِ الْمُسْتَقيمِ، يَا بْنَ النَّبَأِ الْعَظيمِ، يَا بْنَ مَنْ هُوَ في اُمِّ الْكِتابِ لَدَى اللهِ عَلِيٌّ حَكيمٌ، يَا بْنَ الآياتِ وَالْبَيِّناتِ، يَا بْنَ الدَّلائِلِ الظّاهِراتِ، يَا بْنَ الْبَراهينِ الْواضِحاتِ الْباهِراتِ، يَا بْنَ الْحُجَجِ الْبالِغاتِ، يَا بْنَ النِّعَمِ السّابِغاتِ، يَا بْنَ طه وَالْـمُحْكَماتِ، يَا بْنَ يس وَالذّارِياتِ، يَا بْنَ الطُّورِ وَالْعادِياتِ، يَا بْنَ مَنْ دَنا فَتَدَلّى فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنى دُنُوّاً وَاقْتِراباً مِنَ الْعَلِيِّ الاَْعْلى، لَيْتَ شِعْري اَيْنَ اسْتَقَرَّتْ بِكَ النَّوى، بَلْ اَيُّ اَرْض تُقِلُّكَ اَوْ ثَرى، اَبِرَضْوى اَوْ غَيْرِها اَمْ ذي طُوى، عَزيزٌ عَلَيَّ اَنْ اَرَى الْخَلْقَ وَلا تُرى وَلا اَسْمَعُ لَكَ حَسيساً وَلا نَجْوى، عَزيزٌ عَلَيَّ اَنْ (لا تُحِيطَ بِِيَ دُونكَ) تُحيطَ بِكَ دُونِيَ الْبَلْوى وَلا يَنالُكَ مِنّي ضَجيجٌ وَلا شَكْوى، بِنَفْسي اَنْتَ مِنْ مُغَيَّبٍ لَمْ يَخْلُ مِنّا، بِنَفْسي اَنْتَ مِنْ نازِحٍ ما نَزَحَ (يَنْزِحُ) عَنّا، بِنَفْسي اَنْتَ اُمْنِيَّةُ شائِقٍ يَتَمَنّى، مِنْ مُؤْمِن وَمُؤْمِنَةٍ ذَكَرا فَحَنّا، بِنَفْسي اَنْتَ مِنْ عَقيدِ عِزٍّ لايُسامى، بِنَفْسي اَنْتَ مِنْ اَثيلِ مَجْدٍ لا يُجارى، بِنَفْسي اَنْتَ مِنْ تِلادِ نِعَمٍ لا تُضاهى، بِنَفْسي اَنْتَ مِنْ نَصيفِ شَرَف لا يُساوى، اِلى مَتى اَحارُ فيكَ يا مَوْلايَ وَاِلى مَتي، وَاَىَّ خِطابٍ اَصِفُ فيكَ وَاَيَّ نَجْوى، عَزيزٌ عَلَيَّ اَنْ اُجابَ دُونَكَ وَاُناغى، عَزيزٌ عَلَيَّ اَنْ اَبْكِيَكَ وَيَخْذُلَكَ الْوَرى، عَزيزٌ عَلَيَّ اَنْ يَجْرِيَ عَلَيْكَ دُونَهُمْ ما جَرى، هَلْ مِنْ مُعينٍ فَاُطيلَ مَعَهُ الْعَويلَ وَالْبُكاءَ، هَلْ مِنْ جَزُوعٍ فَاُساعِدَ جَزَعَهُ اِذا خَلا، هَلْ قَذِيَتْ عَيْنٌ فَساعَدَتْها عَيْني عَلَى الْقَذى، هَلْ اِلَيْكَ يَا بْنَ اَحْمَدَ سَبيلٌ فَتُلْقى، هَلْ يَتَّصِلُ يَوْمُنا مِنْكَ بِعِدَةٍ فَنَحْظى، مَتى نَرِدُ مَناهِلَكَ الرَّوِيَّةَ فَنَرْوى، مَتى نَنْتَقِعُ مِنْ عَذْبِ مائِكَ فَقَدْ طالَ الصَّدى، مَتى نُغاديكَ وَنُراوِحُكَ فَنُقِرَّ عَيْناً (فَتَقُرُ عًُيًُوننا)، مَتى تَرانا وَنَراكَ وَقَدْ نَشَرْتَ لِواءَ النَّصْرِ تُرى، اَتَرانا نَحُفُّ بِكَ وَاَنْتَ تَاُمُّ الْمَلاََ وَقَدْ مَلأْتَ الاَْرْضَ عَدْلاً وَاَذَقْتَ اَعْداءَكَ هَواناً وَعِقاباً، وَاَبَرْتَ الْعُتاةَ وَجَحَدَةَ الْحَقِّ، وَقَطَعْتَ دابِرَ الْمُتَكَبِّرينَ، وَاجْتَثَثْتَ اُصُولَ الظّالِمينَ، وَنَحْنُ نَقُولُ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعالَمينَ، اَللّـهُمَّ اَنْتَ كَشّافُ ْالكُرَبِ وَالْبَلْوى، وَاِلَيْكَ اَسْتَعْدى فَعِنْدَكَ الْعَدْوى، وَاَنْتَ رَبُّ الاْخِرَةِ وَالدُّنْيا (الاُول?)، فَاَغِثْ يا غِياثَ الْمُسْتَغيثينَ عُبَيْدَكَ الْمُبْتَلى، وَاَرِهِ سَيِّدَهُ يا شَديدَ الْقُوى، وَاَزِلْ عَنْهُ بِهِ الاَْسى وَالْجَوى، وَبَرِّدْ غَليلَهُ يا مَنْ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوى، وَمَنْ اِلَيْهِ الرُّجْعى وَالْمُنْتَهى، اَللّـهُمَّ وَنَحْنُ عَبيدُكَ التّائِقُونَ (الشائقون) اِلى وَلِيِّكَ الْمُذَكِّرِ بِكَ وَبِنَبِيِّكَ، خَلَقْتَهُ لَنا عِصْمَةً وَمَلاذاً، وَاَقَمْتَهُ لَنا قِواماً وَمَعاذاً، وَجَعَلْتَهُ لِلْمُؤْمِنينَ مِنّا اِماماً، فَبَلِّغْهُ مِنّا تَحِيَّةً وَسَلاماً، وَزِدْنا بِذلِكَ يارَبِّ اِكْراماً، وَاجْعَلْ مُسْتَقَرَّهُ لَنا مُسْتَقَرّاً وَمُقاماً، وَاَتْمِمْ نِعْمَتَكَ بِتَقْديمِكَ اِيّاهُ اَمامَنا حَتّى تُورِدَنا جِنانَكَ (جَنّاتِكَ) وَمُرافَقَةَ الشُّهَداءِ مِنْ خُلَصائِكَ، اَللّـهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ جَدِّهِ وَرَسُولِكَ السَّيِّدِ الاَكْبَرِ، وَعَلى اَبيهِ السَّيِّدِ الاَصْغَرِ، وَجَدَّتِهِ الصِّدّيقَةِ الْكُبْرى فاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، وَعَلى مَنِ اصْطَفَيْتَ مِنْ آبائِهِ الْبَرَرَةِ، وَعَلَيْهِ اَفْضَلَ وَاَكْمَلَ وَاَتَمَّ وَاَدْوَمَ وَاَكْثَرَ وَاَوْفَرَ ما صَلَّيْتَ عَلى اَحَدٍ مِنْ اَصْفِيائِكَ وَخِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلاةً لا غايَةَ لِعَدَدِها وَلا نِهايَةَ لِمَدَدِها وَلا نَفادَ لاَِمَدِها، اَللّـهُمَّ وَاَقِمْ بِهِ الْحَقَّ وَاَدْحِضْ بِهِ الْباطِلَ وَاَدِلْ بِهِ اَوْلِياءَكَ وَاَذْلِلْ بِهِ اَعْداءَكَ وَصِلِ اللّهُمَّ بَيْنَنا وَبَيْنَهُ وُصْلَةً تُؤَدّى اِلى مُرافَقَةِ سَلَفِهِ، وَاجْعَلْنا مِمَّنْ يَأخُذُ بِحُجْزَتِهِمْ، وَيَمْكُثُ في ظِلِّهِمْ، وَاَعِنّا عَلى تَأدِيَةِ حُقُوقِهِ اِلَيْهِ، وَالاْجْتِهادِ في طاعَتِهِ، وَاجْتِنابِ مَعْصِيَتِهِ، وَامْنُنْ عَلَيْنا بِرِضاهُ، وَهَبْ لَنا رَأَفَتَهُ وَرَحْمَتَهُ وَدُعاءَهُ وَخَيْرَهُ مانَنالُ بِهِ سَعَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَفَوْزاً عِنْدَكَ، وَاجْعَلْ صَلاتَنا بِهِ مَقبُولَةً، وَذُنُوبَنا بِهِ مَغْفُورَةً، وَدُعاءَنا بِهِ مُسْتَجاباً وَاجْعَلْ اَرْزاقَنا بِهِ مَبْسُوطَةً، وَهُمُومَنا بِهِ مَكْفِيَّةً، وَحَوآئِجَنا بِهِ مَقْضِيَّةً، وَاَقْبِلْ اِلَيْنا بِوَجْهِكَ الْكَريمِ وَاقْبَلْ تَقَرُّبَنا اِلَيْكَ، وَانْظُرْ اِلَيْنا نَظْرَةً رَحيمَةً نَسْتَكْمِلُ بِهَا الْكَرامَةَ عِنْدَكَ، ثُمَّ لا تَصْرِفْها عَنّا بِجُودِكَ، وَاسْقِنا مِنْ حَوْضِ جَدِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ بِكَأسِهِ وَبِيَدِهِ رَيّاً رَوِيّاً هَنيئاً سائِغاً لا ظَمَاَ بَعْدَهُ يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ.

دعائے ندبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو جہانوں کا پروردگار ہے، اور درود و سلام ہو ہمارے آقا و سرور جناب محمد(ص) پر جو اس کے پیغمبر ہیں، اور آپ(ص‏) کے خاندان پر، سلام کامل ہو ان پر خداوندا! تیرے لئے ہیں، تمام تعریفیں، اس قضا و قدر کے لئے جو جاری ہوئی تیرے مقرب بندوں پر، جنہیں تو نے خالص کردیا اپنے لئے اور اپنے دین کے لئے، جب تو نے اختیار کیا اپنے ہاں سے ان کے لئے اس عظیم اور دائمی نعمت کو، جو تیرے پاس ہے، وہی نعمیت جس زوال نا پذیر اور فنا ناپذیر ہے، اور (یہ) اس کے بعد (تھا جب) تو نے ان کے ساتھ مشروط کیا کہ وہ اجتناب کریں اور زہد اختیار کریں اس پست دنیا کے درجات (اور دنیاوی منزلتوں) سے اور اس کے زیب و زیور سے، تو انھوں نے بھی تیری اس شرط کو قبول کیا، اور تو نے ان کی وفا کو اس شرط کے بموجب جان لیا اور انہیں قبول کیا اور اپنی درگاہ کے مقربین میں شامل کیا اور عطا کیا ان کو بلند چرچا، اور ان کی ثناء کو ظاہر و آشکار کیا اور بھیجے تو نے اپنے فرشتے ان کی طرف اور ان کی تکریم کی اپنی وحی سے، اور ان کو مدد پہنچا دی اپنے علم سے اور انہیں قرار دیا واسطہ اپنی درگاہ کا اور وسیلہ اپنی خوشنودی کی جانب، تو بعض کو تو نے اپنے بہشت میں بسایا یہاں تک کہ انہیں وہاں سے نکال دیا اور بعض کو اپنی کشتی میں سوار کیا اور انہیں اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو ہلاکت سے نجات دلائی، اپنی مہربانی سے، اور بعض کو تو نے اپنے لئے دوست اور خليل قرار دیا اور انھوں نے تجھ سے اگلی امتوں میں نیک نام کی درخواست کی، تو تو نے استجابت کردی اور بلند قرار دیا ان کے نام کو، اور بعض کے ساتھ تو نے خاص طور پر درخت کے ذریعے کلام کیا اور ان کے بھائی کو قرار دیا ان کے لئے ناصر و مددگار اور وزیر، اور بعض کو تو نے باپ کے بغیر پیدا کیا اور انہیں آشکار نشانیاں عطا کیں اور روح القدس کے واسطے سے اور ان میں سے ہر ایک کے لئے دین اور قانون مقرر کیا اور طریقہ و منہاج قرار دیا، اور منتخب کیا ان کے لئے، ایسے اوصیاء اور جانشینوں کو، تاکہ حافظ و نگہبان رہیں یکے بعد دیگرے، ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک، تاکہ قائم رہے تیرا دین، اور وہ اور حجت ہوں تیرے بندوں پر، تاکہ زوال پذیر نہ ہو (دین) حق اپنے مقام سے اور تاکہ کامیاب نہ ہو باطل اہل حق پر، اور کوئی بھی یہ نہ کہہ سکے کہ تو نے کیوں نہیں بھیجا جو ہمیں ڈرائے اور تو نے قائم کیوں نہیں کیا ایسا راہنما پرچم جس کی ہم پیروی کریں تیری نشانیوں کی، قبل اس کے کہ ہم خوار و رسوا ہوجاتے؛ حتی کہ تو نے پہنچا دیا کام کو پہنچا دیا اپنے حیبب اور برگزیدہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ تک، تو آپ(ص) ویسے ہی تھے جس طرح کہ تو نے چن لیا آپ(ص) کو بطور آقا اپنی مخلوقات کے، بطور برگزیدہ اپنے برگزیدوں کے، اور افضل قرار دیا ان لوگوں میں جنہیں تو نے پسند فرمایا، اور آپ(ص) تیرے بہترین اور معتمد برگزیدہ تھے جنہیں تو نے مقدّم کیا اپنے انبیاء پر اور آپ(ص) کو مبعوث فرمایا جنّ و انس میں سے سے، اپنے بندوں کی جانب، اور عالَم کے مشرقوں اور مغربوں کو آپ(ص) کے قدموں کے لئے ہموار کردیا اور بُرّاق کو ان کے لئے مسخّر کیا اور آپ(ص) کو معراج کرائی اپنے آسمان کی اور آپ(ص) کو عطا کیا اپنی مخلوقات کے ماضی و مستقبل کا علم، خلقت کے خاتمے تک؛ اور پھر آپ(ص) کی نصرت فرمائی (آپ(ص) کے دشمنوں کے دلوں میں) رعب اور خوف کے ذریعے اور آپ(ص) کو گھیر دیا جبرائیل و میکائیل اور اپنے نشان زدہ فرشتوں سے، اور آپ(ص) کو وعدہ دیا کہ آپ(ص) کا دین غالب آئے گا تمام ادیان پر، خواہ یہ مشرک لوگوں کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو[8]، اور یہ سب اس کے بعد تھا جب تو نے آپ(ص) کے خاندان سے آپ(ص) کو صداقت کے مقام پر جگہ دی (یعنی آپ(ع) کے خاندان کو آپ(ص) کے دین کے تحفظ کے لئے متعین فرمایا)، اور قرار دیا آپ(ص) کے لئے اور آپ(ص)کے خاندان کے لئے جو مقرر ہوا تمام لوگوں کے لئے، سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے لیے مقرر ہوا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور سرمایہ ہدایت تمام جہانوں کے لیے، اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، خصوصیت سے مقام ابرہیم اور جو اس کے اندر پہنچ جائے وہ امن میں ہے[9]، اور تو نے فرمایا: اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم لوگوں سے ہر گناہ کو دور رکھے اے اس گھر والو! اللہ تمہیں پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے[10]؛ اور پھر تو نے اپنی کتاب میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے اجر (رسالت) کو ان (اہل بیت(ع) کی مودت قرار دیا، پس تو نے اپنی کتاب میں فرمایا: کہئے (اے میرے حبیب کہ)! میں تم سے اس (رسالت) کے عوض کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا قرابت داروں کی محبت کے،[11] اور تو نے فرمایا: کہئے کہ میں نے تم سے جو اجر طلب کیا ہے، وہ تو تمہارے ہی لئے ہے[12]؛ اور فرمایا: کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (رسالت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے پروردگار کی طرف راستہ بنائے[13]؛ اور یہی اہل بیت ہی تھے وہی راستہ جو تیری طرف آتا ہے، اور تیری خوشنودی حاصل کرنے کی طرف سلوک کا رستہ اور جب آپ(ص) کا زمانہ اختتام کو پہنچا تو آپ(ص) نے اپنے جانشین علی بن ابی طالب کو اپنا ولی اور جانشین متعین فرمایا ـ کہ تیرا درود ہو ان دونوں پر ـ اور ان دونوں کے خاندان پر کیونکہ آپ(ص) متنبہ کرنے والے اور تیرے عذاب سے ڈرانے والے تھے اور ہر قوم کا ایک راہنما ہوتا ہے[14]، تو آپ(ص) نے فرمایا اور لوگ آپ(ص) کے سامنے تھے کہ میں جس جس کا مولا اور سرپرست ہوں یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں، خداوندا تو دوست رکھ اسے جو انہیں دوست رکھے اور دشمنی رکھ اس سے جو ان سے دشمنی کرے، اور مدد کر اس کی جو ان کی مدد کرے اور چھوڑ دے اسے جو انہیں تنہا چھوڑ دے؛ اور فرمایا: میں جس جس کا پیغمبر ہوں تو علی(ع) بھی اس کے امیر اور فرمانروا ہیں، اور فرمایا: میں اور علی(ع) ایک ہی درخت سے ہیں اور دوسرے لوگ مختلف دوسرے درختوں سے ہیں، اور آپ(ص) نے اپنی نسبت علی(ع) کو وہی رتبہ عطا کیا جو موسی(ع) کے نزدیک ہارون(ع) کو حاصل تھا اور آپ(ع) سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے علی! تمہاری منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو موسی(ع) کے نزدیک ہارون(ع) کو حاصل تھی، سوا اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے، اور اپنی بیٹی ـ جہانوں کی خواتین کی سردار ـ کا نکاح علی(ع) سے کرایا، اور اپنی مسجد میں علی(ع) کے لئے وہ سب کچھ حلال کیا جو آپ(ص) کے لئے حلال تھا، اور مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کردیا سوائے علی(ع) کے گھر کے دروازے کے، پھر اپنی دانش و حکمت کو علی(ع) کے سپرد کیا اور فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں، تو جو اس شہر کی حدود نیز حدودِ حکمت میں داخل ہونا چاہے، تو اسے شہر کے دروازے سے آنا چاہئے، اور فرمایا: پھر فرمایا: اے علی(ع)! تم میرے بھائی اور جانشین اور وارث ہو، تمہارا گوشت میرے گوشت سے ہے، تمہارا خون میرے خون سے ہے اور تمہاری صلح میری صلح ہے، تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور ایمان تمہارے گوشت اور خون میں گھل مل گیا ہے، جس طرح کہ وہ میرے گوشت اور خون میں میں شامل ہے، اور تم کل (بروز قیامت) حوض کوثر پر میرے جانشین ہو، اور تم ہی میرے قرض اتارو گے اور میرے وعدے نبھاؤگے، اور تمہارے شیعہ جنت میں میرے مقامِ قرب میں، سفید (اور نورانی) چہروں کے ساتھ، نور کے منبروں پر رونق افروز ہونگے، اور وہ میرے پڑوسی ہیں اور اگر تم نہ ہوتے اے علی! تو میرے بعد اہل ایمان کی پہچان ممکن نہ ہوتی، اور علی(ع) آپ(ص) کے بعد راہنما تھے گمراہی سے، وہ ہدایت دلانے والے اور اندھیرے سے اجالے میں لانے والے اور اللہ کی مضبوط رسی، اور اس کا سیدھا راستہ تھے، نہ تو صاحبان قرابت میں آپ(ع) سے کوئی بڑھ کر تھا نہ ہی دین میں آپ(ع) سے کوئی سابق، اور نہ ہی کوئی آپ(ع) کی کسی منقبت میں آپ(ع) تک پہنچ سکا؛ آپ(ع) رسول خدا(ص) کی مانند تھے ـ درود و سلام ہو ان دونوں پر اور ان کی آل پر ـ اور علی(ع) ہی تھے جو تأویل قرآن پر لڑے اور اللہ کی راہ میں کبھی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کی، اور اس راہ میں آپ(ع) نے عرب کے سرداروں کو ہلاک کر ڈالا اور ان کے دلیروں کو قتل کیا اور ان کے بھیڑیوں سے لڑے، تو آپ(ع) نے کینہ بھر دیا ان کے دلوں میں، بدر، و خیبر اور حنین کا؛ چنانچہ عرب آپ(ع) کی دشمنی پر اکٹھے ہوئے، اور آپ(ع) کے خلاف جنگ و مخالفت کا سلسلہ شروع کیا، حتی کہ قتل کیا آپ(ع) نے ناکثین (عہد شکنوں = طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھیوں) کو اور جابروں و ستمگروں کو اور (دین سے) باہر جانے والے (مارقین = اصحاب نہروان اور خوارج) کو، اور جب آپ(ع) نے اپنا وقت پورا کر لیا اور بعد والوں کے بدبخت ترین شخص نے آپ(ع) کو قتل کیا پہلے والوں کے بدبخت ترین شخص کی پیروی کرتے ہوئے، چنانچہ فرمانبرداری نہیں ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے فرمان کی، جو آپ(ص) نے یکے بعد دیگرے آنے والے راہنماؤں کے بارے میں جاری کیا تھا، اور امت نے آپ(ع) کی دشمنی اور عداوت پر ہٹ دھرمی دکھائی، اور آپ(ع) کی قطع رحمی، اور آپ(ع) کی اولاد کو خانہ و کاشانہ چھوڑنے پر مجبور کرنے پر مجتمع ہوئی، سوائے ان کے حق کی رعایت کرنے کی خاطر (مختلف موقف اختیار کرنے والے) بہت تھوڑے سے لوگوں کے، پس آپ(ع) کی اولاد میں سے کچھ لوگ قتل ہوئے، اور کچھ کو اسیر کیا گیا اور کچھ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اور قضا و تقدیر اس طرح سے ان پر جاری ہوئی جس میں اجر و ثواب کی امید کی جاتی ہے، کیونکہ یقینا زمین اللہ کی ہے، وہ اس پر تسلط عطا کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اور آخرت کی بہتری پرہیز گاروں ہی کا حصہ ہے[15] اور پاک ہے ہمارا پروردگار بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے[16] اور خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag، چنانچہ محمد و علی ـ درود و سلام ہو ان دونوں پر اور ان کی آل پر ـ کے خاندان کی پاکیزہ ہستیوں کے لئے روئیں رونے والے، اور ان ہی مظلوموں کے لئے گریہ و ندبہ کریں گریہ کرنے والے، اور ان جیسے بزرگواروں کے لئے اپنے اشکوں کو رواں کریں، اور آہ و فغاں کریں اور اپنے آپ کو وقفِ نالہ و شیون کریں اور آہ و فریاد کرنے والے آہ و فریاد کریں، کہ:
کہاں ہے حسن، کہاں ہے حسین؟، کہاں ہیں فرزندانِ حسین جو صالح تھے یکے بعد دیگرے، سچے تھے یکے بعد دیگرے؟، کہاں ہے حق کا وہ راستہ، پچھلے راہ حق کے بعد، کہاں ہیں وہ برگزیدہ ہستیاں، برگزیدہ ہستیوں کے بعد، کہاں ہیں وہ تابندہ سورج، کہاں ہیں دمکتے ہوئے چاند؟ کہاں ہیں درخشندہ ستارے؟ کہاں ہیں دین کے نشانات اور علم و دانش کے ستون؟ کہاں ہے خدا کا با قی ماندہ (حضرت مہدی(عج)، جو رہبروں کے اس خاندان سے کہیں باہر نہیں ہے، کہاں ہیں ستمگروں کی جڑیں قطع کرنے کے لئے تیار کئے جانے والے؟ کہاں ہیں جن کا انتظار کیا جارہا ہے کجیوں کو راست کرنے اور ناہمواریوں کو ہموار کرنے کے لئے؟ کہاں ہیں وہ جن کی آنے کی امید کی جارہی ہے ظلم و جارحیت و تجاوز کے خاتمے کے لئے؟ کہاں ہے وہ جسے ذخیرہ کیا گیا ہے فرائض اور سنن کی تجدید و احیاء کے لئے؟ کہاں ہے وہ جس کو منتخب کیا گیا ہے دین و شریعت کو پلٹا کر لانے کے لئے؟ کہاں ہے جس کے آنے کی آرزو ہے کتاب اور اس کے حدود کے احیاء کے لئے؟ کہاں ہے دین کے آثار و نشانات نیز اہل دین کو زندہ کرنے والا؟ کہاں ہے جابروں کی شوکت کو توڑ کر رکھنے والا؟ کہاں ہے شرک اور منافقت کی عمارتیں ڈھانے والا؛ کہاں ہے بدکاروں، نافرمانوں اور سرکشوں کی کو تباہ کرنے والا؟ کہاں ہے گمراہی اور انتشار کی ٹہنیاں کاٹ دینے والا؟ کہاں ہے کجرویوں اور ہویٰ و ہوس کے اثرات کو مٹانے والا؟ کہاں ہے جھوٹ اور بہتان کے پھندے کاٹ دینے والا؟ کہاں ہے سرکشوں اور باغیوں کو نیست و نابود کردینے والا؟ کہاں ہے عناد اور دشمنی برتنے والا، گمراہ کرنے والوں اور بے دین گمراہوں کی جڑیں اکھاڑنے والا؟ کہاں ہے دوستوں کو عزت دینے والا اور دشمنوں کو خوار و ذلیل کرنے والا؟ کہاں ہیں پرہیزگاری کی بات کو جمع کردینے والے؟ کہاں ہے اللہ کی وہ درگاہ جس سے مؤمنین وارد ہوں؟ کہاں ہے خدا کا وہ آئینہ جس کی طرف متوجہ ہوں اولیاء؟ کہاں ہے وہ جو زمین و آسمان کے درمیان متصل ہے؟ کہاں ہے یوم فتح کا فرمانروا اور پرچم ہدایت لہرانے والا؟ کہاں ہے نیکی اور رضائے الہی کو اکٹھا کرنے والا؟ کہاں ہے انبیاء اور اولاد انبیاء کا خون (ناحق) طلب کرنے والا؟ کہاں ہے شہید کربلا کا خون طلب کرنے والا؟ کہاں ہے وہ نصرت یافتہ جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے اور جھوٹ باندھنے والے پر غلبہ پائے گا؟ کہاں ہے وہ درماندہ اور پریشان حال جو اگر دعا کرے تو قبول ہوتی ہے؟ کہاں ہے مخلوقات کا سربرآوردہ نیک اور پرہیزگار بزرگ؟ کہاں ہے برگزیدہ پیغمبر کا فرزند اور علی مرتضی کا فرزند اور روشن جبیں خدیجہ اور فاطمۂ کبری کا فرزند حضرت مہدی(عج)؟
میرے ماں بات فدا ہوں آپ پر، اور میری جان ڈھال ہو آپ پر آنے والی ہر ناگواری کے سامنے، اے آقاؤں کے فرزند، اے بہترین نسب کے کثیر الخیر ترین پاک نہادوں کے فرزند، اے راہ یافتہ راہنماؤں کے فرزند، اے پاکیزہ نیک سرداروں کے فرزند، اے نیک اور برگزیدہ ترین بزرگوں کے فرزند، اے طیب اور پاک اور پاک کئے جانے والوں کے فرزند، اے برگزیدہ سروروں کے فرزند، اے بہت زیادہ بخشش و عطاء کے مالک سیدوں کے فرزند، اے درخشندہ چاندوں کے فرزند، اے ضوء فشاں چراغوں کے فرزند، اے تابناک تاروں کے فرزند، اے بصارت افررز انجم کے فرزند، اے روشن راستوں کے فرزند، اے آشکار نشانوں کے فرزند اے علوم کاملہ کے فرزند، اے مشہور و معروف سنتوں کے فرزند، اے موصولہ معالم اور نشانیوں کے فرزند، اے موجودہ معجزوں کے فرزند، اے دلائل مشہودہ کے فرزند، اے سیدھے راستے کے فرزند، اے نبأِ عظیم (عظیم خبر) کے فرزند، اے اس ہستی کے فرزند جو اصل نوشتے میں خدا کے ہاں "علی" اور صاحب حکمت ہے، اے واضح آیتوں کے فرزند، اے ہویدا دلیلوں کے فرزند، اے آشکار اور ضیاء بخش برہانوں کے فرزند، اے کامل اور بامعنی حجتوں کے فرزند، اے وسیع نعمتوں کے فرزند، اے طہ اور حکمات قرآن کے فرزند، اے یس اور ذاریات کے فرزند، اے طور اور عادیات کے فرزند، اے اس بزرگوار کے فرزند جو (شب معراج) قریب ہوا اور زیادہ قریب ہوا، پس دو کمانوں جتنا فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم[17]، مقام قرب پر علی الاعلیٰ کے نزدیک،
کاش میں جانتا کہ کس مقام پر آپ نے منزل اختیار کی ہے، اور کس جگہ اور کس سرزمین اور کس مٹی نے آپ کو اپنے ہاں روک رکھا ہے، کیا رضویٰ میں ہیں یا پھر ذی طُویٰ میں، بہت دشوار ہے میرے لئے کہ لوگوں کو تو دیکھتا رہوں لیکن آپ نہ دیکھے جائیں، اور میں نہ سنوں آپ کی طرف سے کوئی صدا، اور نہ ہی کوئی سرگوشی، دشوار ہے میرے لئے میرے بغیر آپ کو تنہائی میں آزمائشیں گھیر لیں اور میری طرف سے کوئی زاری اور شکوہ آپ تک نہ پہنچنے پائے،
میری جان آپ پر فدا ہو، کہ آپ ایسے غائب ہیں جو ہم سے باہر نہیں ہے، میری جان قربان ہو آپ پر، آپ اس طرح سے دور ہیں جو ہم سے دور نہیں، میری جان فدا ہو آپ پر، آپ ہر مشتاق کی تمنا ہیں، ان صاحب ایمان مردوں اور عورتوں میں سے، جو آپ کو یاد کرکے آپ کے فراق میں آہ و نالہ کرتے ہیں، میری جان فدا ہو آپ پر، آپ وہ صاحب عزت ہیں جس کا کوئی ہم رتبہ نہیں، میری جان فدا ہو آپ پر، آپ مجد و عظمت کا وہ ریشہ دار درخت ہیں جس کی کوئی برابری نہیں کرسکتا، میری جان فدا ہو آپ پر، آپ وہ دیرینہ نعمت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ہے، میری جان قربان ہو آپ پر، آپ اس شرف کے مالک ہیں وہ صاحب شرف ہیں جس کا کوئی معادل نہیں،
اے میرے مولا! کب تک میں آپ کے لئے بےچین اور حیرت زدہ رہوں گا، اور کب تک اور کس خطاب سے آپ کا وصف کروں اور کس قسم کی سرگوشی سے؟ دشوار اور ناگوار ہے میرے لئے کہ جواب آپ کے سوا کسی اور سے سنوں اور کوئی اور مجھے مسرت بخش باتیں سنائے، دشوار ہے میرے لئے کہ آپ کے لئے رؤوں لیکن لوگ آپ کو چھوڑے رہیں، گراں ہے میرے لئے کہ گذرے آپ پر، جو گذرے اور دوسروں پر نہ گذرے، کیا کوئی مددگار ہے جس کے ساتھ مل کر طویل آہ و بکاء کروں؟
کیا ہے کوئی بےچین کہ جب وہ خلوتوں میں جاتا ہے تو بےچینی میں اس کی مساعدت کروں؟ کیا ایسی کوئی آنکھ ہے جس میں فراق کا کانٹا چبھ گیا ہو اور میں اس کے ساتھ مل کر غم کے آنسو بہاؤں؟ کیا کوئی راستہ ہے آپ کی طرف اے فرزند احمد! ہے کوئی راستہ کہ میں آپ کا دیدار کروں؟ کیا ہمارا جدائی کا دن آپ کے وعدے سے متصل ہوسکے گا جس سے ہم بہرہ ور ہوجائیں؟ کب ہوگا وہ وقت جب ہم آپ کے پر آب چشمے میں داخل ہوکر سیراب ہوجائیں؟ وہ وقت کب ہوگا جب ہم آپ کے وصل کے پانی سے سیراب ہوں، بےشک تشنگی طویل ہوگئی ہے ہم اپنی صبح و شام آپ کے ساتھ گذاریں تاکہ ہماری انکھوں کو ٹھنڈک ملے، کب دیکھیں گے ہمیں آپ اور کب دیکھیں گے ہم آپ کو، جبکہ آپ فتح و نصرت کا پرچم لہرا چکے ہوں اور لوگ اس کا مشاہدہ کررہے ہوں؟
کیا وہ دن آئے گا جب آپ ہمیں دیکھ لیں کہ آپ کے ارد گرد جمع ہوئے ہیں اور آپ خلق خدا کی امامت کررہے ہوں، اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر چکے ہوں، اور اپنے دشمنوں کو ذلت اور اور سزا کا مزہ چکھا دیا ہو، اور سرکشوں اور منکرین حق کو نابود کرچکے ہوں، اور متکبرین اور گردن کشوں کی پشت پناہیوں کو منقطع کرچکے ہوں، اور ہم کہہ رہے ہوں: "حمد و تعریف مختص ہے اللہ کے لئے جو پروردگار ہے جہانوں کا"۔
اے معبود تو ہے دکھوں اور مصیبتوں کو دور کرنے والا میں تیرے حضور شکایت لایا ہوں کہ تو مداوا کرتا ہے اور توہی دنیا و آخرت کا پروردگار ہے پس میری فریاد سن اے فریادیوں کی فریاد سننے والے، اے میرے خدا تو ہی ہے مصیبتوں اور دکھوں کو برطرف کرنے والا، اور میں اپنا شکوہ تیری بارگاہ میں لے کر آیا ہوں کیونکہ مدد صرف تیرے پاس ہے، اور تو آخرت اور دنیا کا پروردگار ہے ، تو فریاد رسی فرما اے فریادیوں کے فریاد رس، اپنے آزمایشوں میں مبتلا حقیر بندے کی، اور دیدار کرا دے اس کو اس کے آقا و سید کا، اے مضبوط طاقتوں والے صاحب قدرت، اور ان کے ذریعے اس سے اس کے دل کا سوز اور غم زائل کردے، اور اس کی پیاس بجھا دے اے وہ جس کا اقتدار عرش پر قائم ہے، اور اسی کی طرف پلٹنا ہے اور آخر میں پہنچنا اسی ہی تک ہے، اے معبود! ہم تیرے ولی (امام مہدی(عج) کے شیدائی ہیں وہی جو لوگوں کو تیری اور تیرے پیغمبر(ص) کی یاد دلائیں گے، جن کو تو نے خلق فرمایا ہمارے لئے بطور حافظ و نجات، اور قرار دیا ان کو ہمارے لئے اور سہارا اور پناہ، اور قرار دیا ان کو ہم میں سے مؤمنوں کے لئے امام پس پہنچا دے ہماری طرف سے اس کو تحیت اور سلام، اور ان کے ذریعے اے پروردگار ہماری عزت افزائی فرما، اور ان کا ٹھکانا ہمارے لئے ٹہرنے کی جگہ اور قیامگاہ قرار دے، اور کامل کردے اپنی نعمت کو ہمارے لئے یوں کہ مقدم کردے ان کو ہمارے آگے، تا کہ وہ ہمیں داخل کردے تیرے بہشتوں اور اپنے خالص و مخلص شہداء کی رفاقت اور ہم نشینی میں،
اے معبود! دورد و رحمت نازل فرما محمد(ص) اور آل محمد(ص) پر، جو ان کے جد امجد اور تیرے رسول(ص)، جو بڑے سردار ہیں، اور علی(ع) پر جو (آپ(ص) سے) چھوٹے سردار ہیں، اور ان کی نانی صدیقۂ کبری (حضرت فاطمہ(س) بنت محمد(ص) پر، اور ان کے آباء و اجداد میں ان برگزیدہ ہستیوں پر جنہیں تو نے چنا ہے، اور اس امام پر درود و سلام بھیج دے، بہترین، کامل ترین، مکمل ترین، مُدام ترین، اور بیش ترین، درود و سلام جو بھیجا ہو تو نے اپنے کسی برگزیدہ پر، اور اپنی مخلوقات کی بہترین ہستیوں پر، درود و سلام بھیج دے آن جناب(عج) پر بھیج دے ایسا درود و سلام جو شمار نہ کیا جاسکے اور اس کی مدت لامتناہی اور تمام نہ ہونے والی ہو، اے معبود! اور ان کے ہاتھوں حق کو بپا کردے اور باطل کو ان کے ذریعے نیست و نابود فرما اور اپنے دوستوں کو ان کے توسط سے غلبہ عطا کر اور ذلیل فرما ان کے وسیلے سے اپنے دشمنوں کو، اور ہمارے اور ان کے درمیان پیوند برقرار کردے ایسا پیوند جو ہمیں ان کے گذشتہ آباء و اجدا کی معیت و رفاقت تک پہنچا دے، اور قرار دے ہمیں ان لوگوں میں سے جو ان کا دامن تھامتے ہیں اور ان کے لطف کے سائے میں قیام کرتے ہیں، اور ہماری مدد فرما کہ ہم ان کے حقوق ان کو ادا کریں، اور توفیق دے کہ ہم ان کی فرمانبرداری میں کوشاں رہیں اور ان کی فرمانبرداری سے پرہیز کریں، اور ان کی خوشنودی عطا کرکے ہم پر احسان فرما، اور ان کی شفقت و مہربانی اور رحمت و دعا اور خیر و برکت عطا فرما یہاں تک کہ ہم اس کے وسیلے سے تیری وسیع رحمت اور تیری بارگاہ قرب میں کامیابی حاصل کرسکیں، اور ہماری نمازوں کو ان کے وسیلے سے مقبول کر، ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری دعاؤں کو مستجاب فرما، اور ہماری روزياں ان کے وسیلے سے کشادہ کر دے اور ہماری پریشانیاں دور کر، ہمیں ان کے ذریعے سے حاجت روا فرما، اور اپنے جلوۂِ کریمانہ سے ہماری طرف توجہ فرما، اور اپنی درگاہ میں ہمارا تقرب قبول فرما، اور ہم پر نظر فرما، رحمت سے بھری نظر، وہی جس کے ذریعے ہم تیری بارگاہ میں اپنی منزلت کو کمال تک پہنچا دیں، اور اپنے جود و کرم کے واسطے، اس مہربانانہ نظر کو ہم سے نہ پلٹا، اور ہمیں ان کے جد امجد صلی اللہ علیہ و آلہ کے حوض سے اور آپ(ص) کے پیالے اور آپ(ص) کے ہاتھ سے، سیر و سیراب فرما، کامل اور لذت بخش و سیرابی سے، جس کے بعد کوئی پیاس نہ ہو؛ اے رحم والوں میں سے سے بڑے رحم والے۔

حوالہ جات

  1. صدرجوادی، دایرةالمعارف تشیع، ج 7 ص535۔
  2. سید ابن طاؤس، اقبال، ص609 ـ 604۔
  3. مزار ابن مشهدی، ص584 ـ 537۔
  4. مجلسی، بحار، ج 99، ص104۔
  5. مجلسی، زادالمعاد، ص303۔
  6. سیدبن طاووس، اقبال، ص609 ـ 604۔
  7. صدرجوادی،دایرةالمعارف تشیع، ج 7 ص535۔
  8. سورہ صف، آیت 9
  9. سورہ آل عمران، آیات 96-97۔
  10. سورہ احزاب، آیت 33۔
  11. سورہ شوری، آیت 23۔
  12. سورہ سبا، آیت 47۔
  13. سورہ فرقان، آیت 47۔
  14. سورہ رعد، آیت 7۔
  15. سورہ اعراف، آیت 148۔
  16. سورہ اسراء، آیت 108۔
  17. سورہ نجم، آیت 8-9۔


مآخذ

  • ابن طاووس، سید رضی الدین، اقبال الاعمال، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1417ھ ق
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ھ ق
  • مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، بیروت، چاپ علاءالدین اعلمی، 1423ھ ق/ 2003ع‍
  • صدر حاج جوادی، احمد، دائرۃ المعارف تشیع، ج7، تہران، نشر شہید حسن محبی، 1380ھ ش
  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، جامعہ مدرسین، 1419ھ ق

بیرونی روابط