مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

زید بن حارثہ
مرقد زید بن حارثه.jpg
معلومات شخصیت
مکمل نام زید بن حارثہ بن شراحیل کلبی
مہاجر/انصار مہاجر
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکت جنگ بدرجنگ موتہ
ہجرت مدینہ
وجہ شہرت صحابی پیغمبر (ص)


ابو اسامہ زید بن حارثہ بن شراحیل (شراحبیل) کلبی (متوفی ۸ ھ۔ق) رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے آزاد کردہ غلام اور منھ بولے بیٹے ہیں۔ سب سے پہلے ایمان لانے والے مسلمانوں میں سے ہیں اور ایسے اکلوتے صحابی ہیں کہ جن کا نام قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے۔ جنگ موتہ کی سرداری آپ کے حوالے کی گئی تھی اور اسی جنگ میں آپ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ آپ کا اور جنگ موتہ کے دیگر شہدا کا مزار اردن میں مسلمانوں کی زیارت گاہ ہے۔

فہرست

نسب اور بچپن

زید کے والد حارثہ بن شراحیل ہیں جن کا تعلق قبیلہ بنی کلب قضاعہ[1] سے ہے اور والدہ سعدی بن ثعلبہ بن عامر تھیں ان کا تعلق قبیلہ بنی معن وطی[2] سے تھا۔ آپ کو زید الحب کہا جاتا تھا۔ چونکہ رسول خدا (ص) آپ کو دوست رکھتے تھے۔[3] زید آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اسی سبب سے زید اور ان کے بیٹے اسامہ کو رسول خدا (ص) کی طرف سے آزاد شدہ غلاموں میں شمار کیا جاتا تھا۔[4]

زید کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں دقیق اطلاع موجود نہیں ہے۔ وہ زمانہ جاہلیت میں اپنی ماں کے ہمراہ قبیلہ بنی معن میں گئے۔ انہی ایام میں وہ قبیلہ دشمن کے حملے کا شکار ہو گیا اور زید اسیر ہو گئے۔ آپ کا سن تقریبا آٹھ برس تھا جب حکیم بن حزام نے انہیں مکہ کے اطراف میں واقع ایک بازار سے جناب خدیجہ (س) کی غلامی کے لئے خریدا۔ جناب خدیجہ (ع) نے شادی کے بعد انہیں رسول خدا (ص) کو ہدیہ کر دیا۔ آنحضرت (ص) نے انہیں آزاد کر دیا اور اپنے بیت الشرف میں جگہ دی۔[5] نقل ہوا ہے کہ آنجناب (ص) اس وقت زید سے ۱۰ سال بڑے تھے۔

ایک مدت کے بعد زید نے حج کے ایام میں اپنے قبیلہ کے لوگوں کو دیکھا اور ان کے ذریعہ سے ان کی خیریت کی خبر ان کے والدین تک پہچی۔ ان کے والد نے ان کے فراق میں کچھ اشعار کہے ہیں۔[6] زید کے والد نے رسول خدا (ص) سے درخواست کی کہ وہ زید کو ان کی قیمت لیکر آزاد کر دیں اور ان کے ہمراہ جانے دیں۔ آپ (ص) نے زید کو اختیار دیا کہ وہ جیسا چاہیں کر سکتے ہیں جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں اور اگر رکنا چاہیں تو رک سکتے ہیں۔ زید نے آپ کے پاس رکنے کو ترجیح دی۔ حارثہ نے کہا: بیٹا تم آزادی کے اوپر غلامی کو ترجیح دے رہے ہو اور اپنے باپ کو تنہا چھوڑ رہے ہو۔ زید نے کہا: میں نے جب سے رسول خدا (ص) کا دیدار کیا ہے اس کے بعد سے میں ہرگز کسی اور کو آپ کے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا ہوں۔

جب آنحضرت (ص) نے زید کی ان باتوں کو سنا تو انہیں حجر مکہ کے قریب لائے اور فرمایا: زید میرا فرزند ہے، اسے میری میراث ملے گی اور مجھے اس کی۔ اس کے بعد سے انہیں زید بن محمد کہا جانے لگا یہاں تک کہ سورہ احزاب کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی آیتیں نازل ہوئیں اور منھ بولے بیٹے کو اس کے باپ کا نام دینے کا حکم ہوا تو اس کے بعد لوگوں نے انہیں زید بن محمد کہنا ترک کر دیا۔[7]

اسلام، ہجرت اور عقد اخوت

تاریخ اسلام کے منابع میں زید بن حارثہ کا شمار سب سے پہلے اسلام لانے والوں کی فہرست میں کیا گیا ہے۔[8] جس وقت پیغمبر اکرم (ص) مبعوث بہ رسالت ہوئے اور بیت الشرف میں تشریف لائے اس وقت جناب خدیجہ (ع)، حضرت علی بن ابی طالب (ع) اور زید بن حارثہ وہاں موجود تھے۔ حضرت علی (ع) کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں زید کا شمار کیا جاتا ہے۔[9]

پیغمبر اسلام (ص) کی مدینہ ہجرت کے بعد زید اور ابو رافع کو فاطمہ (ع) ام کلثوم اور سودہ کی ہمراہ جانے کا حکم دیا گیا اور اس سفر میں زید کے ہمراہ ان کی بیوی ام ایمن اور بیٹا اسامہ بھی تھے۔[10]

مکہ میں مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت جاری ہونے کے وقت حمزہ بن عبد المطلب نے زید بن حارثہ کے ساتھ عقد اخوت پڑھا تھا۔ اور جنگ احد میں انہیں اپنا وصی قرار دیا تھا۔[11] ہجرت کے بعد مدینہ میں رسول خدا (ص) نے زید اور اسید بن حضیر کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا۔[12]

زید پیغمبر (ص) کے اکلوتے صحابی ہیں کہ جن کا نام قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے:[13]

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّـهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرً‌ا ۚ وَكَانَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ مَفْعُولًا۔(ترجمہ: (یاد کریں) اس وقت کو جب اس انسان کو جسے اللہ نے اپنی نعمت عطا کی تھی اور آپ نے بھی اسے نعمت عطا کی (اپنے گود لئے بیٹے زید کو) اور آپ کہتے تھے: اپنی زوجہ کو اپنے لئے قرار دو اور اللہ سے ڈرو، اور آپ اپنے دل میں کچھ چھپا رہے تھے کہ خدا اسے آشکار کرتا ہے اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے جبکہ حق یہ ہے کہ اللہ سے زیادہ ڈرا جائے۔ ارو جب زید کی ضرورت اس خاتون سے پوری ہو گئی (اس سے جدا ہو گئے) تو ہم نے انہیں آپ کی زوجیت میں دے دیا تا کہ مومنین کے درمیان گود لئے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنے کے سلسلہ میں کوئی دشواری پیش نہ آئے جب وہ اس سے بے نیاز ہو جائیں اور انہیں طلاق دیں اور اللہ کا حکم حتمی طور پر ہونے والا ہے۔ (ان خواتین سے منھ بولے باپ کے شادی نہ کرنے جیسی غلط سنت کو توڑنا ہوگا))

ازدواج

ام ایمن نے جو پیغمبر اکرم (ص) کی کنیز اور آپ کی آزاد کردہ تھیں، اپنے شوہر عبید بن زید خزرجی کے انتقال کے بعد زید بن حارثہ سے شادی کی اور ان سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے۔[14] اسی وجہ سے زید کی کنیت ابو اسامہ تھی۔

زینب بنت جحش کے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے زید سے ان کی شادی کے لئے ان کے سامنے تجویز رکھی۔ زید کے لئے رشتہ دینے سے پہلے زینب کو یہ گمان تھا کہ آنحضرت (ص) خود اپنا رشتہ لے کر آئے ہیں، اس لئے وہ خوش ہو گئیں لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ آپ (ص) زید کا رشتہ لیکر آئے ہیں تو انہوں نے منع کر دیا لیکن جب زینب نے دیکھا کہ آپ (ص) اس رشتہ سے راضی ہیں تو انہوں نے اس رشتہ کو قبول کر لیا۔[15] لیکن زینب اور زید کے درمیان ہمیشہ تلخی بنی رہی[16] اور زید نے زینب کی بد اخلاقی کی شکایت پیغمبر (ص) سے کرتے تھے[17] اور آنحضرت (ص) انہیں صبر و تحمل کی دعوت دیتے تھے یہاں تک کہ آخر کار سن 5 ہجری میں آپ (ص) نے اللہ کے حکم سے ان دونوں کے درمیان جدائی کا حکم دے دیا۔[18]

زید نے زینب سے جدا ہونے کے بعد عقبی کی بیٹی ام کلثوم سے عقد کیا جن سے دو بچے زید بن زید اور رقیہ پیدا ہوئے۔ اس کے بعد زید نے انہیں طلاق دے کر درہ بنت ابی لہب بن عبد المطلب سے شادی کر لی اور ان سے جدا ہونے کے بعد زبیر بن عوام کی بہن ھند بنت عوام سے عقد کیا۔[19]

جنگوں میں شرکت

زید مختلف سریوں میں لشکر اسلام کے سردار تھے جن میں سریہ قردہ، سریہ جموم (ربیع الثانی سن ۶ ق)، سریہ عیض (جمادی الاول سن ۶ ھ۔ق)، سریہ طرف (جمادی الثانی سن ۶ ق)، سریہ حسمی (جمادی الثانی سن ۶ ق) اور وادی القری (رجب سن ۶ ق) شامل ہیں اور اس کے علاوہ جنگ موتہ میں بھی لشکر اسلام کی سرداری ان کے ذمہ تھی۔[20]

پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے سفر کے بعض موقعوں پر زید کو اپنے جانشین کے طور پر پیش کیا ہے۔[21] زید جنگ بدر میں شامل تھے اور انہوں نے حنظلہ بن ابو سفیان کو قتل کیا تھا۔[22] جنگ کے بعد رسول خدا (ص) نے زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کو اثیل کے مقام سے مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ مسلمانوں کی فتح کی خبر مدینہ کے مسلمانوں تک پہچا دیں۔[23]

جنگ موتہ کی سرداری

زید کو آٹھویں صدی ہجری میں پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے جنگ موتی میں ۳۰۰۰ کے لشکر کا سردار مقرر کیا گیا تھا۔ آنحضرت (ص) نے فرمایا تھا: اگر زید شہید ہو جائیں تو ان کے بعد لشکر اسلام کا پرچم جعفر بن ابی طالب کے ہاتھ میں ہوگا اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ سردار ہوں گے۔[24]

شہادت اور مزار

زید سن 8 ہجری میں جنگ موتہ میں جعفر بن ابی طالب اور عبد اللہ بن رواحہ کے ہمراہ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ پیغمبر اکرم (س) کوآپ کی خبر شہادت پر صدمہ ہوا اور آپ نے ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی[25] اور جعفر طیار کے ساتھ انہیں بھی نیکی کے ساتھ یاد کیا۔[26] شہادت کے وقت آپ کی عمر ۵۵[27] اور ۵۰ سال[28] ذکر ہوئی ہے۔ حسان بن ثابت نے آپ کی اور عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت پر ان اشعار کو نظم کیا ہے:[29]

ان زیدا قد کان منا بامر لیس الامر الکذب المغرور
ثم جودی للخزرجی بدمع سیدا کان ثم غیر نزور

شہدائے موتہ کی قبور مزار نامی گاوں میں واقع ہے جو مملکت اردن میں جنوب کرک سے ۱۲ کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔[30] بعض منابع کے مطابق، جعفر بن ابی طالب، عبد اللہ بن رواحہ اور زید بن حارثہ ایک ہی قبر میں دفن ہیں۔[31] سن ۱۹۳۰ سے ۱۹۳۴ عیسوی کے درمیان ملک عبد اللہ بن ملک حسین بادشاہ اردن کے حکم سے جعفر طیار کے مزار پر ایک مسجد تعمیر کی گئی جس میں تین گنبد اور دو مینار شامل ہیں، اور دو چھوٹے گنبد زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کی قبروں پر تعمیر کئے گئے ہیں۔[32] جعفر طیار اور زید بن حارثہ کا روضہ عاشورا کے ایام میں اردن میں امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والوں کے جمع ہونے کا مقام ہے۔ لیکن ادہر کچھ سالوں سے اردن کی حکومت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی راہ میں مانع ہوتی ہے۔[33]

روایت

اسامہ نے اپنے والد زید بن حارثہ سے روایات نقل کی ہیں۔[34]

حوالہ جات

  1. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۶۷.
  2. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۲۹.
  3. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۶۹.
  4. رجوع کریں: ابن حبیب، ص۱۲۸؛ طبری، ج۳، ص۱۶۹
  5. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۶۷.
  6. ابن ہشام، سیره، ج۱، ص۲۴۸؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۳۰.
  7. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۶۸-۴۶۹: ابن ہشام، سیره، ج۱، ص۲۴۸.
  8. ابن‌ ہشام، ج۱، ص۲۴۷.
  9. ابن‌ ہشام، سیره،ج۱، ص۲۶۲؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۳۱.
  10. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۱۴.
  11. ابن ہشام، سیره، ج۱، ص۵۰۵؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۷۲.
  12. ابن عبدالبر، استیعاب، ج۱، ص۹۳؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۱، ص۱۱۳؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۷۲.
  13. احزاب، آیہ ۳۷؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۳۲؛ ابن حجر، الإصابہ، ج۲، ص۴۹۷.
  14. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۷۱؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۳۱.
  15. ابن سعد، ج۸، ص۱۰۱؛ طبرانی، ج۲۴، ص۳۹ـ۴۰، ۴۵؛ ابو نعیم اصفہانی، ج۲، ص۵۱ـ۵۲.
  16. ابو نعیم اصفہانی، ج۲، ص۵۲
  17. ابن سعد، ج۸، ص۱۰۳؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۳۴.
  18. رجوع کریں: ابن سعد، ج۸، ص۱۱۴؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۵۲۱؛ قس ابن عبد البر، ج۴، ص۱۸۴۹، ایک قول کے مطابق زینب اور زید کی طلاق سن 3 ہجری میں ذکر ہوئی ہے، حالانکہ بلاذری نے کہا ہے کہ یہ قول ثابت نہیں ہے۔. بلاذری، انساب، ج۱، ص۵۲۱.
  19. ابن حجر، الاصابہ، ج۲، ص۴۹۶؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۷۱.
  20. ابن حجر، الإصابہ، ج۲، ص۴۹۷؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۳۷۷: مغازی، ج۱، ص۵، ص۱۹۷.
  21. ابن هشام، سیره، ج۱، ص۶۰۱.
  22. ابن ہشام، سیره، ج۱، ص۷۰۸
  23. ابن ہشام، سیره، ج۱، ص۶۴۲؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۳۱؛ واقدی، المغازی، ج۱، ص۱۱۴، ج۲، ص۵۵۳، ۵۵۵، ۵۶۴.
  24. ابن هشام، سیره، ج۳، ۸۲۹؛ واقدی، ج۲، ص۵۷۶؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۳۱.
  25. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۷۳.
  26. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۱۳۱، ۱۳۲.
  27. ابن حجر، الإصابہ، ج۲، ص۴۹۷.
  28. بلاذری، انساب، ج۱، ص۴۷۳. به نقل از واقدی
  29. ابن ہشام، سیره، ج۲، ص۳۷۸.
  30. رضا نژاد، اردن، ص۱۲۹.
  31. عمده الطالب، ص۳۶.
  32. الآثار الاسلامیہ فی بلدتی مؤتة والمزار، العدد۴، ص۱۰۷۴.
  33. مشرق؛ گزارشی از آخرین وضعیت شیعیان در اردن
  34. ابن ابی عاصم، ج۱، ص۲۰۱ـ۱۹۹.


منابع

  • ابن عنبہ، احمد، عمدۃ الطالب، نجف، المطبعۃ الحیدریہ، ۱۳۸۰ ق
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی، دار الجیل، بیروت، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲ع
  • ابن اثیر، علی بن محمد جزری، أسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹ع
  • ابن حجر، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابہ، تحقیق: عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ع
  • بلاذری، أحمد بن یحیی، جمل من انساب الأشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶ع
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، تحقیق مصطفی السقا و ابراہیم الأبیاری و عبد الحفیظ شلبی، دارالمعرفۃ، بیروت، بی‌ تا
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، مؤسسۃ الأعلمی، بیروت، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹ع
  • ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی، حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء،بیروت ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷ع
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، چاپ احسان عباس (اختصارات)
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، چاپ حمدی عبد المجید سلفی،موصل ۱۴۰۵ق/۱۹۸۴ع
  • ابن عنبہ، احمد، عمدۃ الطالب، نجف، المطبعۃ الحیدریہ، ۱۳۸۰ ق
  • رضا نژاد، عز الدین، سرزمین‌ ہای جہان اسلام: اردن(۱)، اندیشہ تقریب سال ہشتم بہار ۱۳۹۱ شمارہ ۳۰
  • الآثار الاسلامیۃ فی بلدتی مؤتۃ والمزار، الموسم، العدد۴، ص۱۰۷۲-۱۰۷۳