مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

اسراء سورۂ کہف مریم
سوره کهف.jpg
ترتیب کتابت: 17
پارہ : 15 اور 16
نزول
ترتیب نزول: 69
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 110
الفاظ: 1589
حروف: 6550

سوره کَہفْ قرآن مجید کی 18ویں اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 69ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 15ویں اور 16ویں پارے میں واقع ہے۔ کہف، غار کو کہا جاتا ہے اور اس سورت کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ اس میں اصحابِ کہف کا تذکرہ آیا ہے۔ اس سورت میں لوگوں کو یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ وہ حق پر عقیدہ رکھیں اور نیک اعمال انجام دیں۔ اسی طرح سورہ کہف میں یہ وضاحت بھی ہوئی ہے کہ اللہ تعالی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس سورے میں بیان ہونے والی واقعات میں اصحاب کہف، حضرت موسی اور خضر کا واقعہ اور ذوالقرنین کا واقعہ اہم واقعات میں سے ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب قریش میں سے بعض لوگ چاہتے تھے کہ یہودیوں سے کچھ سیکھ کر پیغمبر اکرمؐ کا امتحان لیں۔ یہ سوالات مذکورہ تین واقعات اور قیامت برپا ہونے کے بارے میں تھے۔

سورہ کہف کی مشہور آیات میں سے ایک 50ویں آیت ہے جس میں فرشتوں کا آدم کے لیے سجدہ کرنے اور ابلیس کی نافرمانی بیان کیا ہے۔ اس سورت کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں بہت ساری روایات وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ سورہ کہف نازل ہوتے ہوئے 70ہزار فرشتوں نے ہمراہی کی اور اس سورت کی عظمت سے زمین اور آسمان بھر گئے۔ جو بھی جمعہ کے دن اس سورے کی تلاوت کرے اللہ تعالی اس کے اگلے جمعے تک کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور اسے ایسا نور عطا کرتا ہے جو آسمان پر چمکتا ہے اور دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے۔

فہرست

معرفی

کہف، پہاڑ پر موجود غار کو کہا جاتا ہے۔[1] اس سورت کو کہف کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ اس میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس کا دوسرا نام حائلہ ہے؛ کیونکہ سورہ کہف، جہنم کی آگ اور اس سورہ کی تلاوت کرنے والے اور عمل کرنے والوں کے درمیان حائل ہوتی ہے۔[2]

  • محل و ترتیب نزول

سورہ کہف مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 69ویں سورت ہے پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے اور موجودہ مصحف میں 18 سورت ہے[3] اور قرآن کے عین وسط میں 15ویں اور 16ویں پارے میں واقع ہوئی ہے۔[4]

  • آیات کی تعداد اور دیگر خصوصیات

سورہ کہف میں 110 آیات، 1589 کلمات اور 6550 حروف ہیں اور حجم اور کمیت کے اعتبار سے درمیانی درجے کی سورت ہے جو تقریباَ نصف پارے پر محیط ہے۔[5]

مضامین

سورہ کہف کے مضمون اور غرض کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ سورہ لوگوں بشارت اور ڈراتے ہوئے انہیں حق پر عقیدہ اور نیک عمل کی طرف دعوت دیتی ہے اور اللہ کی اولاد نہ ہونے پر بھی اس سورت میں تاکید ہوئی ہے؛ جیسا کہ بعض آیات میں ان لوگون کو دھمکی دی گئی ہے جو اللہ تعالی کی اولاد ہونے کے معتقد تھے۔ اس سورت کے ایک حصے کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو دوھری پرستش کرتے ہیں جو فرشتے، جن اور صالح افراد کو اللہ کی اولاد سمجھتے ہیں اور اسی طرح عیسائی جو حضرت عیسی کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعید نہیں ہے کہ یہ سورت تین عجیب واقعات؛ اصحاب کہف، حضرت موسی اور خضر کا واقعہ اور ذو القرنین کا واقعہ بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔[6] یہ تینوں واقعا قرآن میں مذکور دیگر واقعا کے برخلاف کہ جو مختلف سورتوں میں ذکر ہوتی ہیں؛ یہ صرف یہی پر یکجا ذکر ہوئی ہیں۔[7]

سورہ کہف کے مضامین[8]
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا گفتار؛ آیہ ۱۰۳-۱۱۰
دنیا طلبی کے بجائے اللہ کی رضا کے درپے رہو
 
پانچواں گفتار؛ آیہ ۸۳-۱۰۲
ذوالقرنین کا واقعہ، دنیا پرست کافروں کی شکست کی نشانی
 
چوتھا گفتار؛ آیہ ۶۰-۸۲
موسی اور خضر کا واقعہ، دنیا کا باطن ہونے کی علامت
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۳۷-۵۹
دنیا پرست کافروں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داریاں
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۹-۲۶
اصحاب کہف کا واقعہ، دنیا کے زوال اور قیامت کی حقانیت کی نشانی
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۸
دنیاپرستی، کافروں کا ایمان نہ لانے کا سبب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۰۳-۱۰۸
دنیا پرستوں کا اللہ کی رحمت سے محرومی
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۸۳-۸۴
دو القرنین اور الہی علم و قدرت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۶۰-۶۴
موسی کا خضر ڈھونڈنا
 
پہلا وظیفہ؛ آیہ ۲۷
قرآن کی تلاوت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۹-۱۲
اصحاب کہف کا واقعہ عجیب ہونا
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۵
قرآن، دنیاپرست مشرکوں کو ڈرانے والا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۰۹
لطف خدا کا اندازہ لگانا ناممکن ہونا
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۸۵-۸۸
ذوالقرنین کا مغرب کی طرف سفر
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۶۵-۶۶
موسی کا خضر سے معارف اسلامی سکھانے کی درخواست
 
دوسرا وظیفہ؛ آیہ ۲۸
مومنوں سے ہمراہی اور غافلوں سے دوری
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۳-۱۵
شرک کے مقابلے میں اصحاب کہف کا قیام
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۶-۸
دنیاپرستوں کی بےایمانی پر پیغمبر کی دلجوئی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۱۰
لطف خدا کے حصول کے لیے ایمان اور عمل صالح کی شرط
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۸۹-۹۱
ذوالقرنین کا مشرق کی طرف سفر
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۶۷-۷۰
موسی کو تعلیم دینے کے لیے خضر کی شرط
 
تیسرا وظیفہ؛ آیہ ۲۹-۳۱
کفر اور ایمان کا انجام
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۶
پناه‌بردن به غار
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۹۲-۱۰۲
ذوالقرنین کا پہاڑی علاقوں کی طرف سفر
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۷۱-۷۸
خضر کے تین عجیب کام
 
چوتھا وظیفہ؛ آیہ ۳۲-۴۴
دنیا پرست کے تین برے انجام کی یادآوری
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۱۷-۱۸
اصحاب کہف کا خاص حالت میں سونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۷۹-۸۲
حضرت خضر کے رفتار کا حکمت
 
پانچواں وظیفہ؛ آیہ ۴۵-۴۹
دنیا کے زوال کی یادآوری
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۱۹-۲۰
اصحاب کہف کی بیداری اور شہر رجوع کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا وظیفہ؛ آیہ ۵۰-۵۱
شیطان کی انسان سے دشمنی کی طرف توجہ
 
چھٹا مطلب؛ آیہ ۲۱
اصحاب کہف کے مقبرے پر عمارت بنانے میں لوگوں کا اختلاف
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ساتواں وظیفہ؛ آیہ ۵۲-۵۳
قیامت کے دن اللہ کے شریک ناتوان ہونے کی یاد دہانی
 
ساتواں مطلب؛ آیہ ۲۲-۲۴
اصحاب کہف کی تعداد میں اختلاف
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آٹھواں وظیفہ؛ آیہ ۵۴-۵۹
قرآنی اخطار کی طرف توجہ نہ دینے کا انجام
 
آٹھواں مطلب؛ آیہ ۲۵-۲۶
اصحاب کہف کے سونے کی مدت میں اختلاف

تاریخی واقعات اور روایات

سورہ کہف میں چند واقعات ذکر ہوئے ہیں ان میں سے تین تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔

  1. اصحاب کہف کی داستان؛(آیت 26-8) جس میں اصحاب کہف کی اللہ کی طرف سے ہدایت، ایمان، کافروں سے کشمکش، غار میں پناہ لینا، اللہ کی مدد سے ان کا زندہ رہنے کا معجزہ، دوبارہ بیدار ہوکر لوگوں سے ملاقات، اور پیغمبر اکرمؐ سے اس واقعے کے بارے میں کافر جو جدل کر رہے تھے اس کی حقیقت آشکار ہونا[9]
  2. حضرت موسی اور حضرت خضر کی داستان؛ (آیت 82-60) حضرت موسی اور نوجوانوں کا مجمع البحرین تک ہمراہی کرنا، مچھلی بھول جانا، مچھلی لینے واپس آنا، اللہ کے بندے حضرت خضر سے ملاقات، حضرت موسی کی ان کے ساتھ ہونے کی خواہش، موسی کو صبر نہ کرنے پر حضرت خضر کا خبردار کرنا، کشتی کو سوراخ کرنا، بچے کو قتل کرنا، جس شہر میں انہیں نہیں رکھا اس کی دیوار کی مرمت کرنا، موسی کے تینوں اعتراضات اور موسی کی خضر سے جدائی، حضرت حضر کے افعال کی توجیہ اور تاویل۔[10]
  3. ذوالقرنین اور یأجوج و مأجوج کی داستان۔ (98-83) جس میں ذو القرنین کے بارے میں پیغمبر سے سوال، ذو القرنین کو بادشاہ دینا، مغرب اور مشرق میں دو گروہ سے ٹکر لینا، در ڈیم کے درمیان پہنچنا، یأجوج و مأجوج کے بارے میں لوگوں کی شکایت اور یأجوج و مأجوج کے حملے سے بچنے کے لئے بند باندھنا۔[11]

شأن نزول

امام صادقؑ سے سورہ کہف کے نزول کے اسباب کے بارے میں منقول ہے کہ قریش نے تین آدمیوں کو نجران قبیلے کی طرف بھیجا تاکہ وہاں کے یہودیوں سے کچھ سیکھ لیں اور آکر پیغمبر اکرمؐ کو آزما لیں، وہ جاکر یہودی علما سے ملے اور یہودیوں نے کہا جاکر ان سے تین سوال کریں، اگر جس طرح سے ہم جانتے ہیں وہی جواب دیا تو وہ اپنے دعوے میں سچا ہے ورنہ جھوٹا ہے اور پھر ان سے ایک اور سوال کریں؛ اگر کہے کہ جواب جانتا ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔ وہ تین سوال جو پیغمبر اکرمؐ سے پوچھنے تھے وہ اصحاب کہف کے حالات، حضرت موسی کا عالم (خضر) کا واقعہ اور ایک آدمی (ذوالقرنین) کی تاریخ جو مشرق اور مغرب کے درمیان پھرا اور یأجوج و مأجوج کے بندھ تک پہنچا پھر ان سوالات کے جوابات بھی ان افراد کو دیا۔ اور چوتھا سوال قیامت واقع ہونے کے بارے میں تھا۔

قریش کے ایلچی مکہ واپس پہنچے اور ابوطالب کے پاس گئے اور پیغمبر اکرمؐ سے جو پوچھنا تھا پوچھ لیا اور آنحضرتؐ نے کل جواب دینے کا کہا اور اس وعدے پر آپ نے «ان شاء اللہ » نہیں کہا۔ اسی وجہ سے چالیس دن تک وحی کا سلسلہ رک گیا اور پیغمبر اکرمؐ مغموم ہوئے اور آپ پر ایمان لانے والے شک میں پڑ گئے، اور قریش خوشحال ہوئے اور اذیت کرنے اور مزاق اڑانے لگے۔ ابوطالب بہت مغموم ہوئے۔ اور چالیس دن کے بعد پیغمبر اکرمؐ پر سورہ کہف نازل ہوئی۔ آپؐ نے وحی میں تاخیر کی وجہ جبرئیل سے پوچھی تو جبرئیل نے کہا ہم اللہ تعالی کی اذن کے بغیر خود سے نازل نہیں ہوسکتے ہیں۔امام صادقؑ نے اس کے بعد اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا۔[12]

علامہ طباطبائی نے اصحاب کہف کے واقعے کے بارے میں روایات میں اختلاف کو بیان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ مذکورہ روایات اصاحب کہف کے بارے میں واضح ترین روایات ہیں اور تشویش و ضعف سے خالی ہیں؛ اس کے باوجود ان پر کچھ اشکالات وارد کیا ہے۔[13]

مشہور آیات

«وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِیسَ کانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ‌ رَ‌بِّهِ...»(ترجمہ: اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔ تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا۔ اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی سرتابی کی۔۔۔)

تفاسیر کے مطابق یہ آیت اس واقعے کے بارے میں ہے جو سورہ بقرہ[14] میں ذکر ہوا[15] اور آدم کی خلقت اور فرشتوں کا ان کے لیے سجدہ کو بیان کرتی ہے[16]اس سورت کے بارے میں ذکر ہونے والے نکات میں سے ایک نکتہ مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ ابلیس اگرچہ جنات میں سے تھا لیکن بندگی کی وجہ سے فرشتوں کی صف میں شامل ہوا تھا[17] اور فرشتوں کے سجدے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو احترام اور تکریم کے لیے اللہ کی اطاعت میں سجدہ کرے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔[18] ملائکہ کا سجدہ اور ابلیس کا انکار قرآن کی چند ایک جگہوں میں بیان ہوئے ہیں جیسے سوره ص کی آیت 73، سوره حجر کی آیت 30 اور سورہ بقرہ کی آیت 34۔

«قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ‌ مِّثْلُکمْ یوحَیٰ إِلَی أَنَّمَا إِلَٰهُکمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ...»(ترجمہ: (اے رسولؐ) کہہ دیجئے! کہ میں (بھی) تمہاری طرح ایک بشر (انسان) ہوں البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔)

کتب تفاسیر میں آیا ہے کہ اس آیت میں اصول دین میں سے تین اصل توحید، نبوت او‌ر معاد‌ کی طرف اشارہ ہوا ہے[19] اور شرک‌آلود خیالات اور پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں الوہیت کے دعوے کی نفی کی ہے۔[20]امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو بھی سوتے وقت سورہ کہف کی آخری آیت کی تلاوت کرے، جس وقت وہ بیدار ہونا چاہے اسی وقت بیدار ہوگا۔[21]

«وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا ﴿٢٣﴾ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ وَاذْكُر‌ رَّ‌بَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَىٰ أَن يَهْدِيَنِ رَ‌بِّي لِأَقْرَ‌بَ مِنْ هَـٰذَا رَ‌شَدًا ﴿٢٤﴾»(ترجمہ: اور آپ کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہیں کہ میں کل اسے ضرور کروں گا مگر یہ کہ خدا چاہے (یعنی اس کے ساتھ انشاء اللہ کہا کرو) اور جب بھی بھول جائیں تو اپنے پروردگار کو یاد کریں۔ اور آپ کہہ دیجئے! کہ امید ہے کہ میرا پروردگار ایسی بات کی مجھے راہنمائی کرے جو رشد و ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔)

سورہ کہف کی 23ویں اور 24ویں آیات آیہ مشیت سے مشہور ہیں ان آیات میں اللہ تعالی پیغمبر اکرمؐ سے چاہتے ہیں جب آیندہ کے بارے میں کچھ خبر دینا چاہیں یا کوئی کام کرنا چاہیں تو «ان شا اللہ» کہہ کر اس کام کو اللہ تعالی کی مشیت سے وابستہ کریں۔ ان آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ کوئی بھی شخص مالکیت اور فاعلیت میں مستقل نہیں ہے اور کسی چیز پر مالکیت یا کسی کام پر کسی کا اثر اللہ تعالی کی مشیت کے تحت ہوگا۔ اور «ان شا اللہ» کہنا اللہ کے حضور ادب کا تقاضا بھی ہے۔

فضیلت اور خصوصیات

سورہ کہف کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ اور شیعہ ائمہؑ سے بہت ساری روایات نقل ہوئی ہیں جو اس سورے کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں،[22] ان میں سے بعض یہ ہیں:

1۔ پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ سورہ کہف نازل ہوتے ہوئے 70ہزار فرشتوں نے اسے رخصت کیا اور اس سورت کی عظمت سے زمین اور آسمان بھر گئے۔ جو بھی جمعہ کے دن اس سورے کی تلاوت کرے اللہ تعالی اس کے اگلے جمعے تک کے گناہوں کو معاف کرتا ہے (ایک اور روایت کے مطابق اسے گناہوں سے بچا رکھتا ہے) اور اسے ایسا نور عطا کرتا ہے جو آسمان کی طرف چمکتا ہے اور دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے۔[23]

امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جس نے ہر شب جمعہ سورہ کہف کی تلاوت کی وہ دنیا سے شہید چلا جائے گا اور شہدا کے ساتھ مبعوث ہوگا اور قیامت کے دن شہدا کی صف میں ہوگا۔[24]

سورہ کہف کی بعض خصوصیات بھی ذکر ہوئی ہیں؛ ان میں سے ایک امام صادقؑ کی ایک روایت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: جو بھی سوتے وقت سورہ کہف کی آخری آیت کی تلاوت کرے گا وہ جب چاہے اور جس وقت چاہے بیدار ہوسکتا ہے»۔[25]

متن اور ترجمہ

سورہ کہف
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجَا ﴿1﴾ قَيِّمًا لِّيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا ﴿2﴾ مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا ﴿3﴾ وَيُنذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ﴿4﴾ مَّا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ﴿5﴾ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ﴿6﴾ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ﴿7﴾ وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا ﴿8﴾ أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا ﴿9﴾ إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا ﴿10﴾ فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا ﴿11﴾ ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا ﴿12﴾ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُم بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى ﴿13﴾ وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَن نَّدْعُوَ مِن دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا ﴿14﴾ هَؤُلَاء قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّوْلَا يَأْتُونَ عَلَيْهِم بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ﴿15﴾ وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحمته ويُهَيِّئْ لَكُم مِّنْ أَمْرِكُم مِّرْفَقًا ﴿16﴾ وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَاوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِّنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا ﴿17﴾ وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَكَلْبُهُم بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا ﴿18﴾ وَكَذَلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا ﴿19﴾ إِنَّهُمْ إِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَن تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا ﴿20﴾ وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا ﴿21﴾ سَيَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاء ظَاهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِم مِّنْهُمْ أَحَدًا ﴿22﴾ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا ﴿23﴾ إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ وَاذْكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَن يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا ﴿24﴾ وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا ﴿25﴾ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ مَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا ﴿26﴾ وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا ﴿27﴾ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ﴿28﴾ وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاء كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءتْ مُرْتَفَقًا ﴿29﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا ﴿30﴾ أُوْلَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا ﴿31﴾ وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا ﴿32﴾ كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا ﴿33﴾ وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا ﴿34﴾ وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا ﴿35﴾ وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا ﴿36﴾ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا ﴿37﴾ لَّكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا ﴿38﴾ وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاء اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تُرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا ﴿39﴾ فَعَسَى رَبِّي أَن يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَاء فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا ﴿40﴾ أَوْ يُصْبِحَ مَاؤُهَا غَوْرًا فَلَن تَسْتَطِيعَ لَهُ طَلَبًا ﴿41﴾ وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا ﴿42﴾ وَلَمْ تَكُن لَّهُ فِئَةٌ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا ﴿43﴾ هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا ﴿44﴾ وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاء أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاء فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا ﴿45﴾ الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا ﴿46﴾ وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا ﴿47﴾ وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُم مَّوْعِدًا ﴿48﴾ وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا ﴿49﴾ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاء مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا ﴿50﴾ مَا أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنفُسِهِمْ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُدًا ﴿51﴾ وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا ﴿52﴾ وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا ﴿53﴾ وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ﴿54﴾ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا ﴿55﴾ وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُوًا ﴿56﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَن يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا ﴿57﴾ وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلًا ﴿58﴾ وَتِلْكَ الْقُرَى أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِم مَّوْعِدًا ﴿59﴾ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا ﴿60﴾ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا ﴿61﴾ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا ﴿62﴾ قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ﴿63﴾ قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا ﴿64﴾ فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا ﴿65﴾ قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ﴿66﴾ قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ﴿67﴾ وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا ﴿68﴾ قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ﴿69﴾ قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ﴿70﴾ فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا ﴿71﴾ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ﴿72﴾ قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا ﴿73﴾ فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا ﴿74﴾ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا ﴿75﴾ قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا ﴿76﴾ فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ﴿77﴾ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ﴿78﴾ أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا ﴿79﴾ وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا ﴿80﴾ فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا ﴿81﴾ وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ﴿82﴾ وَيَسْأَلُونَكَ عَن ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُم مِّنْهُ ذِكْرًا ﴿83﴾ إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا ﴿84﴾ فَأَتْبَعَ سَبَبًا ﴿85﴾ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا ﴿86﴾ قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا ﴿87﴾ وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا ﴿88﴾ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا ﴿89﴾ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتْرًا ﴿90﴾ كَذَلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا ﴿91﴾ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا ﴿92﴾ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوْمًا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا ﴿93﴾ قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَن تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا ﴿94﴾ قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا ﴿95﴾ آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا ﴿96﴾ فَمَا اسْطَاعُوا أَن يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا ﴿97﴾ قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي فَإِذَا جَاء وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاء وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا ﴿98﴾ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا ﴿99﴾ وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِّلْكَافِرِينَ عَرْضًا ﴿100﴾ الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاء عَن ذِكْرِي وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا ﴿101﴾ أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاء إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا ﴿102﴾ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا ﴿103﴾ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا ﴿104﴾ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا ﴿105﴾ ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا ﴿106﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ﴿107﴾ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿108﴾ قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ﴿109﴾ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا ﴿110﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندہ (خاص) پر کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں رکھی۔ (1) بالکل سیدھی اور ہموار تاکہ وہ (مکذبین کو) اللہ کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور ان اہل ایمان کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے لئے بہترین اجر ہے۔ (2) جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (3) اور تاکہ وہ ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔ (4) اس بارے میں نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کو کوئی علم تھا۔ یہ بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ یہ لوگ بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔ (5) (اے پیغمبر(ص)!) شاید آپ ان کے پیچھے اس رنج و افسوس میں اپنی جان دے دیں گے کہ وہ اس کلام پر ایمان نہیں لائے۔ (6) بے شک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے زمین کی زینت بنایا ہے۔ تاکہ ہم ان لوگوں کو آزمائیں کہ عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔ (7) اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے (ایک دن) چٹیل میدان بنانے والے ہیں۔ (8) کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ کہف و رقیم (غار اور کتبے) والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب نشانی تھے؟ (9) جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی اور کہا اے ہمارے پروردگار! اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے اس کام میں ہدایت کا سامان مہیا فرما۔ (10) تو ہم نے غار میں کئی برسوں تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈال دیا۔ (11) پھر ہم نے انہیں اٹھایا۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ ان دو گروہوں میں سے کون اپنے ٹھہرنے کی مدت کا زیادہ ٹھیک شمار کر سکتا ہے۔ (12) (اے رسول(ص)) ہم آپ کو ان کا اصل قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔ (13) اور ہم نے ان کے دل اس وقت اور مضبوط کر دیئے جب وہ کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ ہم اس کے سوا اور کسی کو معبود ہرگز نہیں پکاریں گے۔ ورنہ ہم بالکل ناحق بات کے مرتکب ہوں گے۔ (14) یہ ہماری قوم ہے جنہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور خدا اپنا لئے ہیں، یہ لوگ ان کی خدائی پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ پس اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ (15) اور (پھر آپس میں کہنے لگے) اب جب کہ تم نے ان لوگوں سے اور ان کے ان معبودوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں علیٰحدگی اختیار کر لی ہے تو غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت (کا سایہ) تم پر پھیلائے گا۔ اور تمہارے اس کام کے لئے سروسامان مہیا کر دے گا۔ (16) اور (وہ غار اس طرح واقع ہوئی ہے کہ) تم دیکھوگے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں طرف مڑ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا کر نکل جاتا ہے۔ اور وہ ایک کشادہ جگہ پر (سوئے ہوئے) ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک (نشانی) ہے جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے تو تم اس کے لئے کوئی یار و مددگار اور راہنما نہیں پاؤگے۔ (17) اور تم انہیں دیکھو تو خیال کرو کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ بدلواتے رہتے ہیں اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے اگر تم انہیں جھانک کر دیکھو تو تم الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہو۔ اور تمہارے دل میں دہشت سما جائے۔ (18) اور (جس طرح انہیں اپنی قدرت سے سلایا تھا) اسی طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ آپس میں سوال و جواب کریں۔ چنانچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کتنی دیر ٹھہرے ہوگے؟ دوسروں نے کہا ہم ایک دن ٹھہرے ہوں گے یا دن کا کچھ حصہ (پھر) بولے تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنا ٹھہرے؟ اچھا اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو۔ وہ (جا کر) دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ پاک و پاکیزہ ہے۔ تو وہ اس میں سے کچھ کھانا تمہارے لئے لائے۔ اور اسے چاہیے کہ ہوش و تدبر سے کام لے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔ (19) یقیناً اگر ان لوگوں کو تمہاری اطلاع ہوگئی تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا پھر (زبردستی) تمہیں اپنے دین کی طرف واپس لے جائیں گے اور اس طرح تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکوگے۔ (20) اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان پر مطلع کیا تاکہ وہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچھا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ (بستی والے) لوگ ان (اصحافِ کہف) کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے (کہ کیا کیا جائے؟) تو (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان پر (یعنی غار پر) ایک (یادگاری) عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جو لوگ ان کے معاملات پر غالب آئے تھے وہ بولے کہ ہم ان پر ایک مسجد (عبادت گاہ) بنائیں گے۔ (21) عنقریب کچھ لوگ کہہ دیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ کہہ دیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ (اے رسول(ص)) کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔ اور بہت کم لوگوں کو ان کا علم ہے۔ سو ان کے بارے میں سوائے سرسری گفتگو کے لوگوں سے زیادہ بحث نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں۔ (22) اور آپ کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہیں کہ میں کل اسے ضرور کروں گا۔ (23) مگر یہ کہ خدا چاہے (یعنی اس کے ساتھ انشاء اللہ کہا کرو) اور جب بھی بھول جائیں تو اپنے پروردگار کو یاد کریں۔ اور آپ کہہ دیجئے! کہ امید ہے کہ میرا پروردگار ایسی بات کی مجھے راہنمائی کرے جو رشد و ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔ (24) اور وہ لوگ غار میں رہے نو برس اوپر تین سو سال۔ (25) کہہ دیجئے! کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنا رہے؟ تمام آسمانوں اور زمین کا (علمِ) غیب اسی کے لئے ہے وہ کتنا بڑا دیکھنے والا اور کتنا بڑا سننے والا ہے۔ اللہ کے سوا ان لوگوں کا کوئی سرپرست نہیں ہے اور نہ وہ کسی کو اپنے حکم میں شریک کرتا ہے۔ (26) (اے رسول) آپ کے پروردگار کی طرف کتاب (قرآن) کے ذریعہ سے جو وحی کی گئی ہے۔ اسے پڑھ سنائیں۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے۔ اور آپ اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔ (27) (اے رسول(ص)!) جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار ہیں آپ ان کی معیت پر صبر کریں۔ اور دنیا کی زینت کے طلبگار ہوتے ہوئے ان کی طرف سے آپ کی آنکھیں نہ پھر جائیں۔ اور جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل چھوڑ رکھا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے اس کی اطاعت نہ کریں۔ (28) اور آپ کہہ دیجئے کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ بے شک ہم نے ظالموں کیلئے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناطیں انہیں گھیر لیں گی اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا۔ جو چہروں کو بھون ڈالے گا کیا بری چیز ہے پینے کی۔ اور کیا بری آرام گاہ ہے۔ (29) بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ یقینا ہم نیکوکار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ (30) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہمیشگی کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی انہیں ان میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ سبز ریشم کے باریک اور دبیز کپڑے پہنیں گے اور وہ ان میں مسندوں پر گاؤ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہے ان کا ثواب اور کیا ہی اچھی ہے ان کی آرام گاہ۔ (31) (اے رسول(ص)!) ان لوگوں کے سامنے ان دو شخصوں کی مثال پیش کریں کہ ہم نے ان میں سے ایک کو انگور کے دو باغ دے رکھے تھے اور انہیں کھجور کے درختوں سے گھیر رکھا تھا۔ اور ان کے درمیان کھیتی اگا دی تھی۔ (32) یہ دونوں باغ خوب پھل دیتے تھے اور اس میں کچھ بھی کمی نہیں کی اور ہم نے ان کے درمیان (آبپاشی کیلئے) ایک نہر بھی جاری کر دی تھی۔ (33) اور اس کے پاس اور بھی تمول کا سامان تھا۔ (ایک دن گھمنڈ میں آکر) اس نے اپنے (غریب) ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میں مال کے اعتبار سے تجھ سے زیادہ (مالدار) ہوں اور نفری کے لحاظ سے بھی تجھ سے زیادہ طاقتور ہوں۔ (34) اور وہ (ایک دن) اپنے باغ میں داخل ہوا جبکہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا تھا (اور) کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو جائے گا۔ (35) اور میں خیال نہیں کرتا کہ کبھی قیامت برپا ہوگی اور اگر (بالفرض) میں کبھی اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا گیا تو اس (باغ) سے بہتر ٹھکانہ پاؤں گا۔ (36) اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے اور پھر نطفہ سے پیدا کیا پھر تجھے اچھا خاصا مرد بنایا۔ (37) لیکن میں! تو میرا پروردگار تو وہی اللہ ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (38) اور تو جب اپنے باغ میں داخل ہوا تو کیوں نہ کہا؟ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور خدا کی قوت کے بغیر کوئی قوت نہیں ہے)۔ اور اگر تو مجھے مال و اولاد میں (اپنے سے) کمتر دیکھتا ہے۔ (39) تو قریب ہے کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر (باغ) عطا فرمائے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں بھیج دے جس سے وہ چٹیل چکنا میدان بن کر رہ جائے۔ (40) یا اس کا پانی اس طرح نیچے اتر جائے کہ تو کسی طرح بھی اسے حاصل نہ کر سکے۔ (41) (چنانچہ) اس کے پھلوں کو گھیرے میں لے لیا گیا (ان پر آفت آگئی) تو اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر کفِ افسوس ملتا تھا اور وہ (باغ) اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا۔ اور وہ کہتا تھا کہ اے کاش کہ میں نے کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ بنایا ہوتا۔ (42) اب اس کے پاس کوئی ایسا گروہ بھی نہیں تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ ہی وہ غالب اور بدلہ لینے کے قابل تھا۔ (43) (ثابت ہوا) کہ ہر قسم کا اختیار خدائے برحق کیلئے ہے۔ وہی بہتر ثواب دینے والا اور وہی بہترین انجام والا ہے۔ (44) اور آپ ان لوگوں کے سامنے زندگانئ دنیا کی (ایک اور) مثال پیش کریں کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا تو اس سے زمین کی نباتات مل گئی (اور خوب پھلی پھولی) پھر وہ ریزہ ریزہ ہوگئی جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (45) مال اور اولادِ زندگانی دنیا کی (ہنگامی) زیب و زینت ہیں اور (دراصل) باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے پروردگار کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر ہیں۔ (46) اور وہ دن (یاد کرو) جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو دیکھوگے کہ وہ کھلا ہوا میدان ہے اور ہم اس طرح سب لوگوں کو جمع کریں گے کہ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ (47) اور وہ تمہارے پروردگار کے حضور صفیں باندھے پیش کئے جائیں گے (تب ان سے کہا جائے گا) آخر تم اسی طرح ہمارے پاس آگئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ ہاں البتہ تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (دوبارہ پیدا کرنے کا) کوئی وعدہ گاہ مقرر نہیں کیا ہے۔ (48) اور نامۂ اعمال (سامنے) رکھ دیا جائے گا اور تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہتے ہوں گے۔ ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسا نامۂ عمل ہے؟ جس نے (ہمارا) کوئی چھوٹا بڑا (گناہ) نہیں چھوڑا مگر سب کو درج کر لیا ہے۔ اور جو کچھ ان لوگوں نے کیا تھا وہ سب اپنے اپنے سامنے پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (49) اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔ تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا۔ اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی سرتابی کی۔ کیا تم (اے منکرینِ حق) مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی اولاد کو اپنا سرپرست و کارساز بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدل ہے۔ (50) اور میں نے انہیں آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت حاضر نہیں کیا اور نہ ہی ان کی اپنی خلقت کے وقت اور میں ایسا نہیں ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و بازو بناؤں۔ (51) اور وہ دن (یاد رکھو) جب وہ (اللہ مشرکین سے) فرمائے گا کہ بلاؤ میرے ان شریکوں کو جن کو تم میرا شریک خیال کرتے تھے۔ چنانچہ وہ انہیں پکاریں گے لیکن وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ مقرر کر دیں گے کہ وہ ایک دوسرے کی بات نہیں سن سکتے۔ (52) اور جب مجرم لوگ (دوزخ کی) آگ دیکھیں گے تو وہ خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں پائیں گے۔ (53) اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ہر قسم کی مثالیں الٹ پلٹ کر بیان کر دی ہیں۔ (مگر) انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ (54) اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی ہے تو ان کو ایمان لانے اور مغفرت طلب کرنے سے منع نہیں کیا۔ مگر اس چیز نے کہ اگلی قوموں کا معاملہ انہیں بھی پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آئے۔ (55) اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے۔ مگر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کے (ہتھیار سے) جھگڑتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو باطل کر دیں اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جس چیز (عذاب) سے انہیں ڈرایا گیا تھا اس کو مذاق بنا رکھا ہے۔ (56) اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے پروردگار کی نشانیوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے مگر وہ ان سے روگردانی کرے اور اپنے ان (گناہوں) کو بھول جائے۔ جو وہ اپنے ہاتھوں پہلے بھیج چکا ہے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے۔ کہ اس کو سنیں (یہ حق سے اعراض کرنے کی سزا ہے) اور اگر انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ اس حالت میں کبھی راہِ راست پر نہیں آئیں گے۔ (57) اور آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا، رحمت والا ہے اگر وہ لوگوں سے ان کے کئے (گناہوں) کا مواخذہ کرتا تو جلدی ہی میں ان پر عذاب نازل کر دیتا مگر ان کے لئے ایک میعاد ٹھہرا دی گئی ہے اس سے ادھر (پہلے) کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔ (58) اور یہ بستیاں ہیں جب (ان کے باشندوں نے) ظلم و زیادتی کی تو ہم نے انہیں ہلاک کر ڈالا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک میعاد مقرر کر دی تھی۔ (59) اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ (ع) نے اپنے جوان سے کہا کہ میں برابر سفر جاری رکھوں گا یہاں تک کہ اس جگہ پہنچوں جہاں دو دریا اکٹھے ہوتے ہیں یا پھر (یونہی چلتے چلتے) سالہا سال گزار دوں گا۔ (60) تو جب وہ دونوں ان دونوں دریاؤں کے اکٹھا ہونے کی جگہ پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس نے دریا میں داخل ہونے کے لئے سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔ (61) جب وہ دونوں وہاں سے آگے بڑھ گئے۔ تو موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا ہمارا صبح کا کھانا (ناشتہ) لاؤ۔ یقینا ہمیں اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانا پڑی ہے۔ (ہم بہت تھک گئے ہیں)۔ (62) اس (جوان) نے کہا کیا آپ نے دیکھا تھا؟ کہ جب ہم اس چٹان کے پاس (سستانے کیلئے) ٹھہرے ہوئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا۔ اور شیطان نے مجھے ایسا غافل کیا کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کرنا بھی بھول گیا اور اس نے عجیب طریقہ سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ (63) موسیٰ نے کہا یہی تو وہ (مقام) تھا جس کی ہمیں تلاش تھی (اور جسے ہم چاہتے تھے) چنانچہ وہ دونوں اپنے پاؤں کا نشان دیکھتے ہوئے واپس ہوئے۔ (64) سو انہوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندہ کو پایا۔ جسے ہم نے اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا۔ اور اسے اپنی طرف سے (خاص) علم عطا کیا تھا۔ (65) موسیٰ نے اس سے کہا! کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں بشرطیکہ رشد و ہدایت کا وہ خصوصی علم جو آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں۔ (66) اس نے (جواب میں) کہا کہ آپ میرے ساتھ (رہ کر) صبر نہیں کر سکتے۔ (67) اور بھلا اس بات پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جو تمہارے علمی دائرہ سے باہر ہے؟ (68) موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ (69) اس نے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کریں۔ جب تک میں خود آپ سے اس کا ذکر نہ کروں۔ (70) اس کے بعد دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوگئے تو خضر (ع) نے اس میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ نے کہا۔ آپ نے اس لئے کشتی میں سوراخ کیا ہے کہ سب کشتی والوں کو غرق کر دیں؟ آپ نے بڑی عجیب حرکت کی ہے۔ (71) خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ صبر نہیں کر سکیں گے؟ (72) موسیٰ نے کہا جو بھول ہوگئی اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کریں اور اس معاملہ میں مجھ سے زیادہ سختی نہ کریں۔ (73) چنانچہ پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ایک لڑکے سے ملے تو اس بندہ نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے ایک پاکیزہ نفس (بے گناہ) کو قصاص کے بغیر قتل کر دیا۔ یہ تو آپ نے سخت برا کام کیا۔ (74) خضر (ع) نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ (75) موسیٰ (ع) نے کہا (اچھا) اگر اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ بےشک آپ میری طرف سے عذر کی حد تک پہنچ گئے ہیں (اب آپ معذور ہیں)۔ (76) اس کے بعد وہ دونوں آگے چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ مگر انہوں نے ان کی مہمانداری کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ان دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی۔ تو خضر (ع) نے اسے (بنا کر) سیدھا کھڑا کر دیا۔ (اس پر) موسیٰ (ع) نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام کی (ان لوگوں سے) کچھ اجرت ہی لے لیتے۔ (77) خضر (ع) نے کہا بس (ساتھ ختم ہوا) اب میری اور تمہاری جدائی ہے اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ (78) جہاں تک کشتی کا معاملہ ہے تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا پر کام کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار بنا دوں کیونکہ ادھر ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (بے عیب) کشتی پر زبردستی قبضہ کر لیتا تھا۔ (79) اور جہاں تک اس بچے کا معاملہ ہے تو اس کے ماں باپ مؤمن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (بڑا ہوکر) ان کو بھی سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔ (80) تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کے عوض انہیں ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر ہو اور مہر و محبت میں اس سے بڑھ کر ہو۔ (81) باقی رہا دیوار کا معاملہ تو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان بچوں کا خزانہ (دفن) تھا۔ اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور یہ سب کچھ پروردگار کی رحمت کی بناء پر ہوا ہے۔ اور میں نے جو کچھ کیا ہے اپنی مرضی سے نہیں کیا (بلکہ خدا کے حکم سے کیا) یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ (82) (اے رسول(ص)) لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں عنقریب ان کا کچھ حال تمہیں سناتا ہوں۔ (83) ہم نے اسے زمین میں اقتدار عطا کیا تھا اور اسے ہر طرح کا ساز و سامان مہیا کر دیا تھا۔ (84) پھر اس نے (ایک مہم کیلئے) ساز و سامان کیا۔ (85) یہاں تک کہ وہ (چلتے چلتے) غروبِ آفتاب کے مقام پر پہنچ گیا تو اسے ایک سیاہ چشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا۔ (محسوس کیا) اور اس کے پاس ایک قوم کو (آباد) پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! (تمہیں اختیار ہے) خواہ انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو۔ (86) ذوالقرنین نے کہا کہ (ہم بے انصافی نہیں کریں گے) جو ظلم و سرکشی کرے گا ہم اسے ضرور سزا دیں گے اور پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف پلٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت سزا دے گا۔ (87) اور جو کوئی ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کیلئے اچھی جزا ہے۔ (88) اور ہم بھی اس کے ساتھ معاملہ میں نرم بات کریں گے۔ (89) پھر اس نے (دوسری مہم کیلئے) ساز و سامان کیا۔ (90) یہاں تک کہ (چلتے چلتے) وہ طلوعِ آفتاب کی جگہ پہنچا۔ تو اسے ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتا ہوا پایا کہ جس کیلئے ہم نے سورج کے سامنے کوئی پردہ نہیں رکھا ہے۔ (91) ایسا ہی تھا اور جو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا اس کی ہم کو پوری خبر ہے۔ (92) پھر (ایک اور مہم کی) تیاری کی۔ یہاں تک کہ (جب چلتے چلتے) وہ (دو پہاڑوں کی) دیواروں کے درمیان میں پہنچا تو ان کے ادھر ایک ایسی قوم کو پایا۔ جو (ان کی) کوئی بات نہیں سمجھتی تھی۔ (93) انہوں نے (اشاروں سے) کہا اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج اس سر زمین میں فساد کرنے والے ہیں تو کیا (یہ ممکن ہے کہ) ہم آپ کیلئے خرچ کا کچھ انتظام کر دیں اکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی دیوار تعمیر کر دیں۔ (94) ذوالقرنین نے کہا جو طاقت میرے پروردگار نے مجھے دے رکھی ہے وہ (تمہارے سامان سے) بہتر ہے۔ تم بس اپنی (بدنی) قوت سے میری مدد کرو۔ تو میں تمہارے اور ان کے درمیان بند باندھ دوں گا۔ (95) میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ (چنانچہ وہ لائے) یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے (درمیانی خلا کو پُر کرکے) دونوں کے سروں کے درمیان کو برابر کر دیا۔ تو کہا آگ پھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس (آہنی دیوار) کو بالکل آگ بنا دیا تو کہا اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ تاکہ اس پر انڈیل دوں۔ (96) (چنانچہ یہ دیوار اتنی مضبوط بن گئی کہ) یاجوج و ماجوج نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اس میں سرنگ لگا سکتے تھے۔ (97) ذوالقرنین نے کہا یہ میرے پرورگار کی رحمت ہے تو جب میرے پروردگار کے وعدے کے وقت آجائے گا تو وہ اسے ڈھا کر زمین کے برابر کر دے گا۔ اور میرے پروردگار کا وعدہ برحق ہے۔ (98) اور ہم اس (قیامت کے) دن ہم اس طرح ان کو چھوڑ دیں گے کہ دریا کی لہروں کی طرح گڈمڈ ہو جائیں گے۔ اور صور پھونکا جائے گا۔ اور پھر ہم سب کو پوری طرح جمع کر دیں گے۔ (99) اور اس دن ہم دوزخ کو کافروں کے سامنے پیش کر دیں گے۔ (100) جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا (کہ میری آیات نہیں دیکھتے تھے) اور وہ سن نہیں سکتے تھے۔ (101) کیا کافروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز اور سرپرست بنا لیں گے۱ (اور ہم باز پرس نہیں کریں گے) بےشک ہم نے دوزخ کو کافروں کی مہمانی کیلئے تیار کر رکھا ہے۔ (102) (اے پیغمبر(ص)) آپ کہہ دیجئے (اے لوگو) کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون ہیں۔ (103) جن کی دنیا کی زندگی کی تمام سعی و کوشش اکارت ہوگئی حالانکہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں۔ (104) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کا اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا انکار کیا پس ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ اس لئے ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (105) یہ ان کی سزا ہے جہنم۔ ان کے کفر کرنے اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑانے کی پاداش میں۔ (106) بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے تو ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغ ہیں۔ (107) جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہاں سے منتقل ہونا پسند نہیں کریں گے۔ (108) کہہ دیجئے! کہ اگر میرے پروردگار کے کلمات لکھنے کیلئے سمندر سیاہی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے گا قبل اس کے کہ میرے پروردگار کے کلمات ختم ہوں اگرچہ ہم اس کی مدد کیلئے ویسا ہی ایک سمندر لے آئیں۔ (109) (اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! کہ میں (بھی) تمہاری طرح ایک بشر (انسان) ہوں البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے پس جو کوئی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا امیدوار ہے۔ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ (110)

پچھلی سورت: سورہ اسراء سورہ کہف اگلی سورت:سورہ مریم

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس



حوالہ جات

  1. راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، «کہف» کے ذیل میں۔
  2. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۴۱.
  3. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶.
  4. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۴۱.
  5. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۴۱.
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۳، ص۲۳۶.
  7. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۴۱-۱۲۴۰
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. معموری، «تحلیل ساختار روایت در قرآن»، ص۱۶۰.
  10. معموری، «تحلیل ساختار روایت در قرآن»، ص۱۶۲.
  11. معموری، «تحلیل ساختار روایت در قرآن»، ص۱۶۲.
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۳، ص۲۷۸.
  13. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۳، ص۲۸۰-۲۸۳.
  14. سورہ بقرہ، آیات ۳۰-۳۸.
  15. ثقفی تہرانی، روان جاوید، نشر برہان، ج۳، ص۴۳۰.
  16. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۸۱.
  17. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۲، ص۴۶۲.
  18. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱، ص۱۲۲.
  19. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۳، ص۴۰۵.
  20. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۲، ص۵۷۶.
  21. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۵۴۰.
  22. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۱۲، ص۳۳۶.
  23. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۲، ص۳۳۶.
  24. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۲، ص۳۳۶.
  25. «مَا مِنْ أَحَدٍ یقْرَأُ آخِرَ الْکهْفِ عِنْدَ النَّوْمِ إِلَّا تَیقَّظَ فِی السَّاعَةِ الَّتِی یرِید» (کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۵۴۰).


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ثقفی تہرانی، محمد، روان جاوید در تفسیر قرآن مجید، تہران، برہان، [بی‌تا].
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، بہ کوشش بہاء الدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷شمسی.
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، بہ تحقیق صفوان عدنان داوودی، بیروت، چاپ اول، ۱۴۱۲ھ.
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات،‌چاپ دوم،‌ ۱۹۷۴ء.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، بہ تصحیح علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ.
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱شمسی.
  • معموری، علی، تحلیل ساختار روایت در قرآن: بررسی منطق توالی پیرفتہا، تہران، نگاہ معاصر، ۱۳۹۲شمسی.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دہم، ۱۳۷۱شمسی

بیرونی روابط