مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

المراجعات (کتاب)

(المراجعات سے رجوع مکرر)
المراجعات
المراجعات.jpg
مؤلف: سید عبدالحسین شرف الدین موسوی عاملی
زبان: عربی
موضوع: مناظرہ
تعداد مجلد: 1
ناشر: مؤسسۃ للاعلمی للمطبوعات۔بیروت، لبنان۔


المراجعات نام کی کتاب لبنان کے شیعہ عالم سید عبد الحسین شرف الدین موسوی اور مصر کے اہل سنت عالم دین شیخ سلیم بشری کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا مجموعہ ہے ۔ان خطوط میں مذہب شیعہ کی حقانیت اور رسول اللہ کے بعد حضرت علی(ع) کے بلا فصل خلیفہ ہونے کے متعلق بحث مذکور ہے ۔اس کتاب میں حضرت علی کی بلا فصل خلافت و امامت کے بارے میں قرآن اور اہل سنت منابع سے انکے نزدیک قبول شدہ متعدد روایات سے استدلال کیا گیا نیز اہل سنت کے ہاں موجود ابہامات کی مفصل تحقیق کی گئی ہے ۔

فہرست

مصنف کتاب

مؤلف کتاب سید عبدالحسین شرف الدین موسوی عاملی (۱۲۹۰-۱۳۷۷ه‍.ق)لبنان کے شیعہ مجتہدین میں سے تھے۔وہ اسلامی مذاہب کے درمیان قرابت کے مدافع تھے کہ جنہوں نے شیعہ اور اہل سنت کے درمیان وحدت اور ان کے درمیان اختلافات کی ریشہ دوانیوں کی بیخ کنی کیلئے بہت کوششیں کیں۔ وہ لبنان کی تحریک استقلال کے رہنماؤں میں سے تھے ۔

شیخ سُلَیم بُشری مالکی علمائے اہل سنت میں سے تھے ۔مصر کی الازہر یونیورسٹی کے دوسرے دورہ کی صدارت انکے پاس رہی ۔ علامہ شرف الدین نے ۱۳۲۹ق میں مصر کے دورے میں ان سے ملاقات کی ۔ بعد ازاں انکے درمیان شیعہ اور اہل سنت عقائد کے متعلق خطوط کی صورت میں گفتگو ہوتی رہی جن کی تعداد ۱۱۲ تک پہنچ گئی ۔دونوں ارادہ رکھتے تھے کہ ان خطوط کو چھپوایا جائے ۔ لیکن ملک میں سیاسی جدوجہد کی وجہ سے یہ کام التوا کا شکار ہوا۔یہانتک کہ ۱۳۳۸ق فرانسوی قابضین نے علامہ شرف الدین کے گھر اور کتابخانے پر حملہ کیا جس میں لائبریری کی کتابوں کا کچھ حصہ نظر آتش کیا۔خوش قسمتی سے کتاب المراجعات سالم رہی۔آپ نے دوبارہ ان پراکندہ خطوط کو ترتیب دیا اور اسے چھپوایا۔

شرف الدین نے کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ جو کچھ ہم دونوں کے درمیان نقل و انتقال ہوا میں نے اسے کتاب میں ذکر کیا ہے ۔یہ کتب پہلی مرتبہ لبنان کے شہر صیدا سے سال ۱۳۵۵ق میں چھپی ۔[1]

خصوصیات کتاب

اس کتاب کا دوسرا نام "المناظرات الازہریہ و المباحثات المصریہ" ہے [2]

مباحث کی مکتوبی صورت اسکی علمی حیثیت میں اضافہ کا باعث بنی ہے ۔مکتوبی ہونے کی وجہ سے فریقین کو کافی فرصت ملتی ہے کہ وہ اپنے مدمقابل کو بہتر اور محکم تر جواب دے سکیں۔

یہ کتاب مدمقابل کی ذرہ برابر توہین اور ناانصافی کے بغیر لکھی گئی۔ یہ کتاب شیعہ عقائد کی ایک اہم استدلالی کتاب ہے کہ جو قوی منابع، مستدل اور روان زبان میں تالیف ہوئی ہے ۔

موضوع اور محتوائے کتاب

اس کتاب میں مذہب شیعہ کی حقانیت اور حضرت علی کی بلا فصل خلافت کو عبقات الانوار تالیف میر حامد حسین ہندی، احقاق الحقتالیف قاضی نور اللہ شوشتری ، الغدیر تالیف علامہ امینی جیسے نمایاں شیعہ آثار سے ترتیب دیا گیا ہے ۔ شیعہ عقیدے کے مطابق پیغمبر اکرم نے کئی مرتبہ علی (ع) کی جانشینی کو لوگوں میں بیان کیا جبکہ اہل سنت عقیدے کے مطابق رسول خدا اپنا جانشین مقرر کیے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔اس کتاب میں مصنف نے قرآنی آیات اور اہل سنت کی کتب سے انکی معتبر روایات کی مدد سے شیعہ عقائد کو ثابت کیا اور انکے شکوک و شبہات کا وافی و شافی جواب دیا ہے ۔

  • یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے:

پہلا حصہ

پہلا حصہ ۱۶ خطوط پر مشتمل ہے جس میں امامت اور مذہب کی بحث ہوئی ہے ۔اس حصے کی اہم ابحاث درج ذیل ہیں :

  • شیعہ مذہب کی اہل سنت کے چار مذاہب کی پیروی نہ کرنے اور اہل بیت کی پیروی کرنے کا سبب۔
  • علمائے اہل سنت کی آرا مذہب شیعہ پر ترجیح نہیں رکھتی ہیں ۔
  • اسلام میں اہل بیت کا مقام۔
  • شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلافات کا راہ حل۔
  • مذہب اہل بیت کی برتری پر قرآنی اور روائی دلائل۔
  • حدیث ثقلین اور اسکا تواتر۔
  • حدیث سفینہ سمیت دیگر روایات کی روشی میں مقام اہل بیت ۔
  • آیات و روایات میں اہل بیت سے کون مراد ہیں؟
  • اہل سنت کے ۱۲ افراد کا صحاح اہل سنت میں شیعہ افراد سے استدلال ۔
  • اہل سنت کی اسناد میں ۱۰۰ شیعہ افراد کی نشاندہی کہ جن روایات کو علمائے اہل سنت نے قبول کیا اور استدلال کیا۔
  • شیخ سلیم کا اعتراف کرنا کہ مذہب اہل بیت کی پیروی اسی طرح کافی ہے جس طرح دیگر اہل سنت کے مذاہب کی پیری کافی ہے ۔

دوسرا حصہ

۹۳ خطوط کے ضمن میں مباحث امامت اور جانشینی پیامبر اکرم(ص) کی طولانی ابحاث پر مشتمل ہے:

  • اہل سنت سے اکثر روایات کا بیان جیسے (حدیث انذارحدیث منزلت، پہلا اور دوسرا عقد اخوت اور سد الابواب مسجد النبی میں تمام اصحاب کے دروازوں کا بند کرنا اور حضرت علی کے دروازے کو کھلا رکھنا۔
  • حضرت علی (ع) کی دوسروں پر برتری ثابت کرنے والی روایات ۔
  • آیت ولایت اور دیگر آیات قرآن اور روایات میں لفظ ولی سے مراد۔
  • حدیث غدیر اور اسکا تواتر۔
  • شیعہ روات سے ذکر ہونے والی روایات کا ذکر اور اہل سنت کا انہیں نقل نہ کرنے کا سبب۔
  • علی (ع) وارث اور وصی پیامبر۔
  • ازواج پیامبر کی بحث اور احادیث عائشہ قبول نہ کرنے اور احادیث ام‌سلمہ قبول کرنے کا سبب۔
  • علی کی جانشنی کے علاوہ کسی دوسرے پر صحابہ کا اجماع نہ ہونا۔
  • غصب خلافت پر حضرت علی کے سکوت کا سبب۔
  • رسول کے آخری ایام میں حدیث قرطاس اور بعض اصحاب کی طرف سے رسول کی طرف ناروا نسبت۔
  • بعض اصحاب کا لشکر اسامہ سے تخلف اوررسول کا ان پر لعنت بھیجنا۔
  • صحابہ کی نسبت بہت بعید ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کے بعد علی کے بارے میں رسول اللہ کی تصریحات کو پس پشت ڈال دیا ہو
  • غصب خلافت کے بعد امام علی (ع) اور حضرت زہرا (س) اور صحابہ کے احتجاجات۔
  • علوم کی تدوین میں شیعوں کی برتری۔

حیثیت اور مقام کتاب

لوگوں نے اس کتاب کی اشاعت کا بہت زیادہ استقبال کیا ۔اسکے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے اور کئی مرتبہ چھپی ۔بعض اہل سنت علما نے اپنے مذہب کے دفاع میں اس کتاب کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن شیعہ علما نے پھر اس کے جواب دیے۔ کتاب تشیید المراجعات و تفنید المکابرات تالیف سید علی حسینی میلانی المراجعات کے دفاع میں لکھی جانے والی کتابوں میں اہم ترین کتاب ہے ۔

ترجمے

مراجعات کے مختلف زبانوں میں ترجمے

اسکے فارسی زبان میں 5 کے قریب ترجمے ہوئے ۔اسکے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی اس کے ترجمے شائع ہوئے جیسا کہ اردو زبان میں بھی اسکا ترجمہ تقریبا ۲۰ سال پہلے چھپا ۔ مجمع جہانی اہل بیت کے توسط سے اب تک یہ کتاب اردو (سال ۱۳۶۹)، فرانسوی (سال ۱۳۷۱)، تاجیک (۱۳۷۶)، روسی (۱۳۷۶)، ترکی استانبولی (۱۳۷۷)، فولانی (۱۳۸۵) و کردی (۱۳۸۵) میں ترجمہ ہو کر چھپ چکی ہے۔

اسکے علاوہ چھپے ترجمے مثلا:

  • انگلش مترجم: یاسین جیبوری۔[1]
  • ہسپانوی :Las Referencias،مترجم:فیصل مورہل ،[3]
  • جرمن:بنام Die Konsultation،
  • انڈونیشین: بنام Dialog Sunnah Syi'ah ۔یہ تمام ترجمے چھپ چکے ہیں ۔

تحقیق

  • حسین راضی نے تحقیق کے عنوان سے مؤلف کی جانب سے مذکور حوالہ جات کے دقیق ایڈریس جلد صفحہ کے ہمراہ ذکر کئے نیز مزید منابع کا اضافہ کیا۔ یہ تحقیق مجمع جہانی اہل بیت اور دوسری بعض چاپوں میں موجود ہے۔
  • محمد جمیل حمود نے تحقیق کی اور اس پر تعلیقوں کا اضافہ کیا ۔

حوالہ جات

  1. شرف الدیں کا بیٹا سید عبدالله شرف الدین بغیۃ الراغبین کے ایک مختصر تعلیقے میں لکھتا ہے کہ اس کے والد کی کتاب ۱۳۵۵ق میں طبع ہوئی جو صیدا کے العرفان نامی چاپخانے سے چھپی ۔
  2. موسوعہ الامام السید عبدالحسین شرف الدین ج۷، ص۳۳۱۶
  3. ڈی ایف