مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

امامہ بنت ابی العاص

اُمامَہ بنت ابی‌العاص بن رَبیع زینب رسول خدا کی (منہ بولی) بیٹی کی بیٹی ہے جس کی ماں کا نام زینب تھا۔اس کے باپ کا نام ابو العاص بن ربیع تھا۔ امام علی (ع) نے حضرت فاطمہ(س) کی شہادت کے بعد امامہ سے شادی کی۔ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے یہ شادی حضرت فاطمہ کی وصیت کی بنا پر کی۔

فہرست

زندگی نامہ

اُمامَہ بعثت سے پہلے پیدا ہوئی اور ۵۰ ق میں فوت ہوئی ۔[1]

امامہ کے باپ کا نام ابوالعاص بن ربیع[2] (متوفی ۱۲ ذی‌الحجہ ۵۰ق)، ہے جو خدیجہ کی بہن کا بیٹا تھا اور وہ جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوا [3] اس نے ۶ہجری قمری میں اسلام قبول کیا۔

اس کی ماں ابن اثیر کے بقول رسول خدا اور خدیجہ کی بیٹی زینب تھی [4] کہ جو ۸ ق میں فوت ہوئی۔[5] نیز وہ مدینے کے بقیع نامی قبرستان میں مدفون ہے۔

بچپن

رسول خدا (ص) اُمامَہ کو دوست رکھتے تھے ۔ پیغمبر جب نماز ادا کرتے تو وہ آپ کے کاندھوں پر ہوتی ۔ رسول جب سجدے میں جاتے تو اسے زمین پر بٹھا دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو اسے پھر اٹھا لیتے۔[6]

نماز کے دوران بعض کام کرنے کے جواز کو فقہا نے اس روایت سے استفادہ کیا ہے ۔[7]

حضرت علی سے ازدواج

امام علی(ع) نے حضرت فاطمہ (س) کی شہادت کے بعد انکی سفارش پر اُمامَہ سے شادی کی [8] اور ان سے بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد اوسط تھا [9] جب حضرت علی (ع) ابن ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو امامہ کو وصیت کی کہ وہ مُغِیرَة بن نَوْفَل سے ازدواج کرے ۔ پس اس نے عده وفات کے بعد مغیره سے شادی کی اور وفات تک اس کے عقد میں رہیں ۔اس سے یحیی نام بیٹے کی ماں بنی ۔[10] اگرچہ بعض معتقد ہیں کہ علی اور مغیره سے اسکی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔[11] بعض تاریخی روایات کی بنا پر حضرت علی نے آخری وقت مغیره سے تقاضا کیا کہ وہ اس سے عقد کرے کیونکہ آپ کو خوف تھا کہ آپ کے بعد معاویہ امامہ سے شادی نہ کر لے ۔[12] ایک اور روایت کے مطابق حضرت علی نے امامہ سے کہا کہ اگر تمہیں میرے بعد شادی کی ضرورت ہو تو مغیره سے شادی کرنا۔ جب حضرت علی کی شہادت ہو گئی تو عدۂ وفات گزارنے کے بعد معاویہ نے اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی ۔ امامہ نے مغیره کو پیغام بھیجا کہ اس معاویہ نے مجھ سے شادی کی خواہش ظاہر کی ہے اگر تمہیں میری ضرورت ہو تو رشتے کیلئے آؤ۔ اسی طرح ہوا اور امامہ مغیرہ کے عقد میں آ گئی ۔[13]

شیعہ منابع میں اس سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں انہوں نے حضرت علی کے حالات اور آداب بیان کئے ہیں ۔[14]

حوالہ جات

  1. ذہبی، تاریخ اسلام، ج۴، ص۲۴
  2. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۴، ص۴۷۳
  3. واقدی، المغازی، ج۱، ص۱۳۹؛ ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۲، ص۳۰۶
  4. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۴، ص۴۷۳
  5. خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص۴۴
  6. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۴، ص۱۷۸۸، ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۶، ص۲۲؛ مقدسی، البدء و التاریخ، ج۷، ص۳۳۱؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۸، ص۲۴؛ ابن سعد، طبقات، ج۸، ص۳۲
  7. نک: علامہ مجلسی، بحارالأنوار ج۸۱، ص۲۸۸.
  8. محدث نوری، مستدرک وسائل الشیعہ، ج۲، ص۱۳۵؛ ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۶، ص۲۲؛ علامہ مجلسی، بحارالأنوار ج۴۳، ص۲۱۷.
  9. ابن سعد، ج۳، ص۱۴؛ ابن اثیر، الکامل، ج۳، ص۳۹۷؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۳
  10. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۴، ص۴۷۳، ج۶، ص۲۲؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۸، ص۲۵؛ ذہبی، تاریخ اسلام، ج۴، ص۲۴؛ ابن عبدالبر، استیعاب، ج۴، ص۱۷۸۹
  11. ابن سعد، طبقات، ج۸، ص۱۶۸؛ رک: ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۸، ص۲۵؛ ابن عبدالبر، استیعاب، ج۴، ص۱۷۸۹
  12. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج‏۲، ص۱۷۸۹.
  13. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج‏۴، ص۱۷۸۹-۱۷۹۰.
  14. کلینی، الکافی، ج۶، ص۳۷۰.


منابع

  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفہ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت،‌ دارالجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲ق-۱۹۹۲م.
  • ابن اثیر، علی بن محمد جزری، أسدالغابة فی معرفہ الصحابہ، بیروت، دارالفکر، بیروت، ۱۴۰۹ق-۱۹۸۹م.
  • سلیم بن قیس ہلالی کوفی، کتاب سلیم بن قیس، انتشارات الہادی قم، ۱۴۱۵ق.
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحارالأنوار، مؤسسہ الوفاء، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • محدث نوری، مستدرک الوسائل، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام قم، ۱۴۰۸ق.
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، البدء و التاریخ، بور سعید، مکتبہ الثقافہ الدینیہ، بی‌تا.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، دارالکتب العلمیہ، ط الأولی، بیروت، ۱۴۱۵ق-۱۹۹۵م.
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، دارالکتاب العربی، ط الثانیہ، بیروت، ۱۴۱۳ق-۱۹۹۳م.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا،‌ دارالکتب العلمیہ، ط الأولی، بیروت، ۱۴۱۰ق-۱۹۹۰م.
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ،‌ دار صادر، بیروت، ۱۳۸۵ق-۱۹۶۵م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی،‌ دارالفکر، ط الأولی، بیروت، ۱۴۱۷ق-۱۹۹۶م.
  • ابن ہشام، عبدالملک، السیره النبویـه، کوشش مصطفی سقا و دیگران، قاہره، ۱۳۷۵ق-۱۹۵۵م.
  • واقدی، محمدبن عمر، المغازی، مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶م.
  • خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، تحقیق فواز، دارالکتب العلمیہ، ط الأولی، بیروت، ۱۴۱۵ق-۱۹۹۵م.