مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

ام کلثوم بنت حضرت علیؑ

(ام‌کلثوم بنت امام علی سے رجوع مکرر)
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
ام کلثوم بنت علی بن ابیطالب
سوريه قبرستان باب الصغير-حرم ام كلثوم بنت علي ع و سكينه بنت حسين ع.jpg
نام زینب صغریٰ
وجہ شہرت امام علیؑ کی بیٹی
کنیت ام کلثوم
لقب ام کلثوم
تاریخ پیدائش سنہ 5 ہجری
جائے پیدائش مدینہ
مدفن دمشق، قبرستان باب الصغیر
سکونت مدینہ
والد امام علی
والدہ فاطمہ زہرا
مشہور امام زادے
حضرت عباس، حضرت زینب، حضرت معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


اُمّ کُلثوم بنت حضرت علیؑ امام حسن، امام حسین و حضرت زینب کبری (س) کے بعد امام علی اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کی چوتھی اولاد تھیں۔ تاریخی منابع میں عمر بن خطاب دوسرے خلیفہ کے ساتھ آپ کی شادی کے بارے میں داستانیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ بعض مؤرخین آپ کو واقعہ کربلا میں حاضر خواتین میں شمار کرتے ہیں اور آپ سے منسوب خطبات اور گفتگو بعض منابع میں نقل ہوئی ہیں۔

آپ کے بارے میں نقل ہونے والے بعض واقعات جیسے (واقعہ کربلا میں آپ کی موجودگی) کے بارے میں یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ یہ واقعات کسی اور شخصیت کے بارے میں ہیں اور صرف تشابہ اسمی کی وجہ سے ان واقعات کی نسبت آپ کی طرف دی گئی ہے۔

فہرست

تعارف

تاریخ ولادت اور حسب و نسب

ام کلثوم کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے؛ لیکن شیعہ اور سنی دونوں حضرت علی(ع) و حضرت فاطمہ(س) کی ام کلثوم نامی بیٹی ہونے پر متفق ہیں۔[1]

آپ کی تاریخ پیدائش کو سنہ 6 ہجری لکھا گیا ہے۔[2] البتہ بعض مؤرخین کسی سال کی تعیین کئے بغیر یوں لکھتے ہیں کہ ان کی ولادت پیغمبر اکرم (ص) کی حیات طیبہ کا دور تھا اور آپ کی وفات سے پہلے پیدا ہوئی ہے۔[3]

شیعہ و اہل سنت مآخذ میں اس حوالے سے بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ حضرت علی (ع) و حضرت فاطمہ(س) کی اولاد میں کون سے نمبر پر ہے۔ اس حوالے سے شیعہ علماء آپ کو حضرت زینب (س) سے چھوٹی مانتے ہیں؛[4] لیکن اہل سنت، ام کلثوم کو حضرت علی بن ابی طالب (ع) کی تیسری اولاد اور حضرت زینب سے بڑی قرار دیتے ہیں۔[5]



کنیت اور القاب

شیخ مفید نے امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کی اولاد کو گنواتے ہوئے آپ کا نام زینب صغری (س) ذکر کرتے ہوئے آپ کی کنیت کو ام کلثوم ذکر کیا ہے۔[6] اس کنیت کو پیغمبراکرم (ص) نے آپ کو اپنی خالہ ام کلثوم بنت پیغمبر(ص) کے ساتھ زیادہ شباہت کی وجہ سے دیا ہے۔[7] فریقین کے اکثر منابع میں انہیں ام کلثوم کبری سے تعبیر کیا گیا ہے۔

سید محسن امین اس بارے میں کہتے ہیں: امیر المؤمنین (ع) کی تین یا چار بیٹیوں کی کنیت ام کلثوم تھیں:

  1. ام کلثوم کبری بنت فاطمہ (س)۔
  2. ام کلثوم وُسطی زوجہ حضرت مسلم بن عقیل۔
  3. ام کلثوم صغری۔
  4. زینب صغری جس کی کنیت ام کلثوم ہے۔

سید محسن امین تصریح کرتے ہیں کہ: اگر آخری دو اسم ایک ہی شخصیت کے ہوں تو تین ورنہ چار اشخاص کا نام ام کلثوم ہے۔[8] ان سب باتوں کے باوجود بعض مآخذ میں ام کلثوم بنت علی (ع) و فاطمہ (س) کو رقیہ کبری‌ و ام کلثوم صغری کو نفیسہ‌ کے نام سے یاد کیا ہے۔[9]

شوہر اور اولاد

بعض مؤرخین کے مطابق ام کلثوم نے ابتدا میں عُمَر بن خطاب پھر ان کی وفات کے بعد اپنے چچا زاد بھائی عون‌ بن جعفر بن ابی طالب سے شادی کی تھی۔ عون کی وفات کے بعد ان کے بھائی محمد‌ پھر محمد کی وفات کے بعد ان کے دوسرے بھائی عبداللہ‌ سے شادی کی۔ [10] مسعودی انہیں لاولد جانتے ہیں۔[11] جبکہ بعض مؤرخین نے ان کے فرزندوں میں زید‌ اور رقیہ کا نام لیتے ہیں جو ہر دو عمر سے ہیں۔[12] ابن عنبہ مسلم بن عقیل کی اولاد کے ضمن میں حمیدہ‌ لڑکی کا نام لیتے ہیں جن کی والدہ کا نام "ام کلثوم بنت علی بن ابیطالب ہے۔[13] سید محسن امین کہتے ہیں: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلم بن عقیل نے اپنی چچا بہن ام کلثوم سے شادی کی تھی لیکن یہ ام کلثوم کبری کا غیر ہے کیونکہ کسی نے بھی اس حوالے سے کوئی خبر نقل نہیں کی ہے پس اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسلم نے ام کلثوم وسطی سے شادی کی ہے۔[14]

عمر بن خطاب سے شادی کی حقیقت

بعض تاریخی مآخذ کے مطابق ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب(ع) نے خلیفہ دوم حضرت عمر سے شادی کی تھی۔[15] اس شادی کی تاریخ ذی القعدہ سنہ 17 ہجری قمری ذکر ہوئی ہے۔[16]

اس کے مقابلے میں بعض شیعہ علماء جیسے کہ، شیخ مفید نے اس نکاح سے انکار کیا ہے اور آقا بزرگ تہرانی نے کئی ایسی کتابوں کا نام لیا ہے جن میں اس نکاح کو رد کیا گیا ہے۔[17]

ماں کا غم

ام کلثوم حضرت زہرا س) کی شہادت کے بعد چہرے پر ایک نقاب ڈال کر گریہ و زاری کرتے ہوئے پیغمبر اکرم(ص) کے روضہ اقدس پر گئیں اور کہا: اے رسول خدا! بتحقیق یہ وقت بالکل اس وقت کی طرح ہے جس وقت ہمیں آپ کی فقداں کی مصیبت آن پڑی تھی۔ اب اس کے بعد ہمارے اور ہماری ماں کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہو گی۔[18]

واقعہ کربلا میں شرکت

بعض مقاتل میں ام کلثوم کے کربلا میں حاضر ہونے کے بارے میں تذکرہ موجود ہے۔ جیسے کہ بہت سارے مقامات پر حضرت زینب(س) کے ساتھ ان کا نام لیا گیا ہے اور ان پر ڈھائے جانے والے مصائب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ علامہ مجلسی نقل کرتے ہیں: امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد خیموں کو آگ لگاتے وقت آپ کی بہن ام کلثوم کے کانوں سے بالیوں کو چھینا گیا۔[19] ام کلثوم واقعہ عاشورا کے راویوں میں سے ہیں اور کوفہ اور ابن زیاد کے دربار میں آپ نے خطبہ بھی دیا ہے۔ ابن طیفور نے اپنی کتاب میں ام کلثوم سے ایک خطبہ نقل کیا ہے جسے آپ نے اہل بیت کی اسیری کے وقت ارشاد فرمایا تھا۔ [20] علامہ مجلسی نے بھی ابن زیاد کے دربار میں ام کلثوم کی بعض گفتگو اور اشعار نقل کئے ہیں۔[21]

اس کے مقابلے میں بعض مآخذ میں کربلا میں موجود ام کلثوم کے غیر فاطمی ہونے پر تصریح کی گئی ہے۔[22] سید محسن امین اس مسئلہ کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں: امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی دو بیٹیوں کا نام ام کلثوم تھا ایک ام کلثوم کبری، حضرت زہرا(س) کی بیٹی تھی جو واقعہ کربلا سے پہلے اس دنیا سے چلی گئی تھی جبکہ دوسری جو واقعہ کربلا میں موجود تھی اور کوفہ میں خطبہ دیا ان کی ماں ایک کنیز تھی اور وہ حضرت مسلم بن عقیل کی بیوی تھی۔[23]

کوفہ میں ام کلثوم کا خطبہ

ام کلثوم منجملہ ان اشخاص میں سے تھے [24] جنہوں نے امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد کوفہ میں خطبہ دیا۔[25]

روای کہتے ہیں: امّ کلثوم بنت امیرالمؤمنین(ع) اس حالت میں کہ آپ کے رونے کی آواز بلند ہورہی تھی، محمل کے پیچھے سے یہ خطبہ دیا:

اے اہل کوفہ! وای ہو تم پر، کیوں تم نے حسین(ع) کو گرفتار کر کے انہیں شہید اور ان کے اموال کو غنیمت میں تقسیم کیا اور ان کے ناموس کو اسیر کیا پھر اس پر گریہ کرتے ہو؟ افسوس ہو تم پر اور ہلاکت اور بدبختی میں تم لوگ گرفتار ہو۔ آیا کیا تم لوگوں کو علم ہے کہ تم کس قدر سنگین گناہ اور جنایت کے مرتکب ہوئے؟ اور کتنے ناحق خون بہائے؟ اور کتنے پردہ نشینوں کو بے پردہ کیا؟ اور کتنے خاندانوں کی زینت و زیور کو تار تار کیا؟ اور ان کے اموال کو غارت کیا ہے؟ تم لوگوں نے ایک ایسی شخصیت کو شہید کیا ہے جس کے مقام و مرتبے تک رسول خدا(ص) کے بعد کوئی نہیں پہنچتا۔ تمہارے دلوں سے رحم اٹھا لیا گیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ خدا کو ماننے والوں کی جیت ہوگی اور شیطان کی اطاعت کرنے والے خسارے میں رہیں گے۔[26]

اس کے بعد انہوں کچھ اشعار پڑھیں جن کا ترجمہ یہ ہے:

تمہاری ماؤں پر وای ہو تم نے میرے بھائی کو شہید کر دیا! عنقریب ایک ایسی آگ میں گرفتار ہو جاؤگے جس کے شعلے بلند ہیں۔ تم لوگوں نے ایک ایسے خون کو پایمال کر دیا ہے جس کے بہانے سے خدا اور اس کے رسول نے منع کیا تھا اور اسے حرام قرار دیا تھا۔ تمہیں جہنم کی آگ کی خوشخبری سناتی ہوں۔ ضرور کل قیامت کے دن تم لوگ، ایسی شدید آگ میں گرفتار ہوگے جس کے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔ میں ہمیشہ اپنے بھائی پر گریہ کروں گی۔ پیغمبر(ص) کے بعد اس دنیا میں سب سے افضل اور بہترین شخصیت پر۔ ہاں ہر گز نہ تھمنے والی آنسوں کے ساتھ گریہ کروں گی۔ یہ رونا کبھی بھی ختم نہ ہوگا۔[27]

راوی کہتا ہے: اس وقت لوگوں کے رونے کی آواز بلند ہو گئی۔ عورتیں اپنے بالوں کو کھول کر ان میں مٹی ڈالتی تھیں اور اپنے چہروں پر مارتیں اور واویلا اور واثبوراہ کی صدائیں بلند کرتی تھیں۔ مرد روتے ہوئے اپنے داڑھی کے بال نوچتے تھے۔ کسی اور موقع پر لوگوں کو اس طرح روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔[28]

نقل حدیث

شیعہ مآخذ میں ام کلثوم سے احادیث نقل ہوئی ہیں۔ عبداللہ مامقانی انہیں خواتین راویوں میں شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں: "آپ ایک جلیل القدر، فہیم و بلیغ خاتون تھیں اور انہیں ثقات میں سے جانتے تھے۔"[29] ان احادیث کی اکثریت اہل بیت(ع) پر آنے والی مصیبتوں کے بارے میں ہیں۔

امام علی(ع) کی شہادت

علامہ مجلسی ایک طولانی حدیث میں لکھتے ہیں:

«ام کلثوم فرماتی ہیں: رمضان کی انیسوں رات کو میں نے اپنے والد محترم کیلئے افطار کی خاطر جو کی دو روٹیاں، دودھ اور نمک دسترخوان پر رکھ دیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد افطار کیلئے حاضر ہوئے۔ آپ دسترخوان پر نگاہ کرکے زور زور سے رونے لگے اور فرمایا... میری بیٹی اگر ان دو کھانوں میں سے ایک کو نہ اٹھایا تو خدا کی قسم کچھ نہیں کھاؤں گا ... یوں جو کی روٹی کو نمک کے ساتھ تناول فرمایا۔[30]

شیخ مفید نقل کرتے ہیں:

وہ رات جس کی صبح کو علی(ع) شہید ہوئے، صبح تک آپ بیدار رہے۔ جب ام کلثوم نے وجہ معلوم کی تو آپ نے فرمایا: جب یہ صبح طلوع ہوگی تو مجھے شہید کیا جائے گا۔ ام کلثوم نے بابا کو منع کیا لیکن آپ نے فرمایا موت سے کسی کو فرار نہیں ہے یہ کہہ کر گھر سے مسجد کی طرف نکل پڑے۔[31]

اسی طرح امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے موقع پر "ام کلثوم" نے روتے ہوئے ابن ملجم سے خطاب کیا: وائے ہو تم پر! خداوندعالم تمہیں دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل اور رسوا کرے اور تمہارا ٹھکانا جہنم قرار دے۔[32]

عبدالکریم بن احمد بن طاووس حلی نے شیخ صدوق سے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں آیا ہے کہ "ام کلثوم" نے حضرت علی(ع) کی تشییع اور تدفین کے حوالے سے اپنے فرزندوں کو کرنے والی وصیت کے بعض حصوں کو روایت کی ہے:

... ام کلثوم فرماتی ہیں: دفن کے وقت قبر کھودی گئی۔ مجھے معلوم نہیں میرے بابا کو زمین میں دفن کیا گیا یا آسمانوں میں لے ج