مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

انتفاضہ شعبانیہ عراق

انتفاضہ شعبانیہ عراق عراقی عوام کا صدام حسین کی حکومت کے خلاف قیام ہے کہ جس کا آغاز شعبان سنہ 1411ھ بمطابق 1369شمسی اور 1991ء کو ہوا۔ قیام کی ابتدا بصرہ سے ہوئی اور مظاہرین نے 15 دنوں میں عراق کے اٹھارہ میں سے چودہ صوبوں پر قبضہ کر لیا۔ عراق کی حزب بعث کا رد عمل ہزارہا افراد کے قتل اور تقریبا دو ملین لوگوں کی خانہ بدوشی پر منتہی ہوا جبکہ گرفتار ہونے والے علما میں سے کچھ کو پھانسی دے دی گئی اور باقی روپوش ہو گئے۔ اسی طرح حزب بعث کے رد عمل کے باعث امام علیؑ کے حرم اور امام حسینؑ کے حرم کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح عراقی حکومت نے بہت سے دینی مدارس، مساجد اور امامبارگاہوں کو گرا دیا۔ معاشی بدحالی اور ایران کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ابتر صورتحال، بنیادی سہولیات کے انفراسٹرکچر کی تباہی اور کویت جنگ میں شکست کو صدام حسین کے خلاف عراقی عوام کی مزاحمت کے عوامل میں سے شمار کیا جاتا ہے۔

فہرست

پس منظر اور آغاز

قیام کا آغاز ماہ شعبان 1411ھ میں بصرہ سے ہوا۔ کویت جنگ سے لوٹنے والے ایک عراقی فوجی نے ٹینک کا ایک گولہ صدام کی تصویر پر داغ دیا۔[1] اس کے بعد لوگوں نے حزب بعث کی عمارت اور پھر شہر کے جیل پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔[2] مظاہرین نے مختصر مدت میں بصرہ شہر پر بھی قبضہ کر لیا۔ بصرے پر قبضے کی خبر کے بعد عوام نے عراق کے کچھ دوسرے صوبوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔[3] کویت کے خلاف جنگ کے بعد عراق کی اقتصادی بدحالی، بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے انفراسٹرکچر کی تباہی، ایران پر مسلط کردہ جنگ سے ہونے والے نقصانات اور بعث پارٹی کی حکومت سے عوام کی ناراضگی کو عراقی عوام کی جانب سے صدام کے خلاف قیام کے عوامل میں سے قرار دیا جاتا ہے۔[4] عراق کے کویت پر حملے کے بعد امریکہ کی سربراہی میں متحدہ فورسز نے عراق پر حملہ کر دیا اور بڑے پیمانے پر عراق کے اقتصادی اور سروسز انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔[5]

وسعت

اتنفاضہ شعبانیہ کے نتیجے میں عراق کے اٹھارہ میں سے چودہ صوبوں پر عوام نے قبضہ کر لیا۔ مظاہرین نے صوبہ دیالی، واسط، میسان، بصرہ، ذی قار، مثنی، قادسیہ، بابل، کربلا، نجف، دہوک، اربیل، کرکوک اور سلیمانیہ پر تسلط حاصل کر لیا اور مرکز کے علاوہ صرف صلاح الدین، بغداد، نینوا اور الانبار پر حکومتی کنٹرول باقی رہ گیا۔[6] اس اعتبار سے انتفاضہ شعبان کو صدام حسین کی حکومت کو درپیش عراق کا سب سے بڑا داخلی محاذ قرار دیا جاتا ہے۔[7]

نجف

نجف میں عوامی تحریک کا آغاز 16 شعبان کو امام علیؑ کے حرم کے اطراف میں مظاہروں کی صورت میں ہوا۔[8] کچھ عرصے کے بعد اس نے بعثی فورسز اور لوگوں کے مابین مسلحانہ لڑائی کی شکل اختیار کر لی کہ جس سے دونوں گروہوں کے کچھ لوگ قتل اور زخمی ہوئے۔ یہ لڑائی 17 شعبان کی ظہر تک جاری رہی اور اس میں عوامی گروہوں کو کامیابی نصیب ہوئی اور شہر کے مرکزی مقامات پر سبز پرچم لہرا دیا گیا۔[9]

کربلا

کربلا شہر میں قیام کا آغاز 18 شعبان کو ہوا[10] اگرچہ اس شہر میں 16 شعبان تک مختلف مقامات پر لڑائی جاری رہی۔[11] کربلا کی عوامی تحریک تین دن تک جاری رہی اور آخرکار تیسرے دن عوام نے شہر پر قبضہ کر لیا۔[12]

رد عمل

آیت اللہ خوئی نے قیام کے آغاز کے دو دن بعد 18 شعبان کو نجف میں ایک بیان جاری کیا اور اس میں شرعی احکام کی رعایت، عوام اور بیت المال کے مال سے دوری، سڑکوں پر پڑی ہوئی لاشوں کی تدفین، لاشوں کو مثلہ نہ کرنے جیسے امور کا حکم دیا۔[13] اس کے دو دنوں کے بعد آیت اللہ خوئی نے ایک دوسرا بیان جاری کیا اور اس میں 9 علمائے کرام کو معاملات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی جن کے نام یہ ہیں:

بیان صادر ہونے کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ معاملات کا جائزہ لینے کیلئے مختلف شہروں میں گئے۔[14]نجف کے بزرگ عالم دین آیت اللہ سید عبد الاعلی سبزاواری نے بھی فتویٰ جاری کر کے انتفاضے کی حمایت کا اعلان کیا۔[15]سید محمد باقر حکیم نے بھی انتفاضے کی حمایت کی اور ان کے ساتھیوں کا بھی انتفاضہ شعبانیہ میں انتہائی مؤثر کردار تھا۔[16] ایران میں عراقی عوام کے قتل اور مقدس مقامات کی بے حرمتی پر ایک دن کے عام سوگ کا اعلان کیا گیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے اس مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا۔[17]

انجام

آیت اللہ خوئی کی صدام حسین کیساتھ جبری ملاقات کا منظر

انتفاضہ شعبان 15 دن تک جاری رہا۔[18] انقلابیوں کو صدام کی فورسز نے سختی سے کچل دیا۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تین لاکھ سے پانچ لاکھ افراد مارے گئے جبکہ دو ملین کے لگ بھگ عراقی وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔[19] تین شہر نجف ، کربلا اور کرکوک سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔[20] بعثی فورسز نے کربلا اور نجف میں دسیوں مساجد، دینی مدارس اور امامبارگاہوں کو مسمار کر دیا۔[21] اسی طرح بہت سی نایاب قلمی کتب بھی ضائع ہو گئیں۔[22] تحریک کو کچلنے کے بعد آیت اللہ خوئی کو اپنے کچھ گھر والوں اور عزیز و اقارب کیساتھ گرفتار کر کے بغداد منتقل کر دیا گیا [23] اور کچھ دنوں کے بعد انہیں ٹیلی وژن کے کیمروں کے سامنے مجبورا صدام سے گفتگو کرنا پڑی۔[24] آیت اللہ خوئی کے نمائندوں؛ سید محمد رضا موسوی خلخالی، سید جعفر بحر العلوم اور سید عز الدین بحر العلوم کو قیام کی ناکامی کے بعد پھانسی دے دی گئی۔[25] سید محمد سبزواری، شیخ محمدرضا شبیب ساعدی اور سید محمد صالح خرسان بھی عراق سے ہجرت کر گئے۔[26]

کربلا میں حرم کی دیوار کا انہدام

مقامات مقدسہ کی بے حرمتی

کربلا میں تحریک آزادی کو دبانے کا چارج صدام کے داماد حسین کامل کے ذمے تھا اور نجف کے عوام کی جدوجہد کو کچلنے کی ذمہ داری حزب بعث کے اہم اور معروف شخص طہ یٰسین رمضان کے پاس تھی۔[27] صدام کی فوج نے توپوں اور ٹینکوں کیساتھ کربلا اور نجف پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں حرم امام علیؑ ، حرم امام حسینؑ اور حرم حضرت عباسؑ کی بے حرمتی ہوئی اور بعد میں بھی چھ ماہ تک حرم کے دروازے بند رہے۔[28]

حکومت کے حامی

1991ء میں عراق کو کویت سے نکالنے کے بعد امریکی حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ عراق میں حکومت کو تبدیل کر دیا جائے مگر انتفاضہ شعبانیہ میں جارج بش نے صدام کو عوام کے خلاف پوری طاقت استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ پالیسی میں تبدیلی کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ عراق میں ایک دینی حکومت کے قیام کا سدباب چاہتا تھا۔[29]

سازمان مجاہدین کا کردار

انتفاضہ عراق کو کچلنے کیلئے مجاہدین خلق کی مداخلت کا منظر

بعض منابع کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروہ سازمان مجاہدین خلق ایران نے انتفاضہ شعبانیہ کو کچلنے کیلئے عراقی حکومت کا ساتھ دیا۔ کچھ اسناد کے مطابق انہوں نے بصرہ کے عوام کو کچلنے میں کردار ادا کیا اور بہت سے مقتولین کو اجتماعی قبروں میں دفن کرتے رہے۔ بعد میں 7 آبان 1396 شمسی میں خود کو شہدائے انتفاضہ شعبانیہ کے اہل خانہ بتانے والے ایک گروہ نے ایک میزائل حملے میں مجاہدین خلق کے 25 کارکنوں کو مار ڈالا اور ان کے دو سو افراد کو زخمی بھی کیا۔[30]

ناکامی کی وجوہات

کربلا میں حرم حضرت عباسؑ کے گنبد کو پہنچنے والا نقصان

محققین نے انتفاضہ شعبانیہ کی جلد شکست کی وجہ چند عوامل کو قرار دیا ہے:

  • حکومت کی جانب سے بھاری ہتھیاروں جیسے توپ وغیرہ کا استعمال؛
  • صدر کی حفاظت پر مامور خصوصی تربیت یافتہ دستوں کا استعمال کہ جن کے پاس نت نئے ہتھیار اور عام لوگوں کا قتل عام کرنے کے حوالے سے وسیع اختیارات موجود تھے؛[31]
  • حکومت کی فضائی بالا دستی اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال؛
  • عراقی گروہوں میں ہم آہنگی کا فقدان؛
  • انقلابیوں کا بلا سوچے سمجھے عراقی شہروں پر قبضہ؛
  • قیام میں حاضر گروہوں میں تعاون، یکجہتی اور قومی جذبے کا فقدان؛[32]

حوالہ جات

  1. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص200۔
  2. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص200۔
  3. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص230۔
  4. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص223۔
  5. کریمی، «جنگ عراق و کویت»، ج11، ص140۔
  6. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص230۔
  7. الحکیء، عذاب بلا نہایہ، 1993ء، ص117۔
  8. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص200۔
  9. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص201۔
  10. آل‌طعمہ، الانتفاضہ الشعبانیہ فی کربلاء، 1433ھ، ص20۔
  11. آل‌طعمہ، الانتفاضہ الشعبانیہ فی کربلاء، 1433ھ، ص19۔
  12. آل‌طعمہ، الانتفاضہ الشعبانیہ فی کربلاء، 1433ھ، ص20.
  13. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص247۔
  14. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌ 1391ش، ص280-281۔
  15. درگذشت مرجع بزرگ، آیت اللّہ سید عبدالاعلی موسوی سبزواری۔
  16. خامہ‌یار، «قیام سرتاسری و ہمگانی مردم عراق»، ص67۔
  17. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص315۔
  18. آل‌طعمہ، الانتفاضہ الشعبانیہ فی کربلاء، 1433ھ، ص17۔
  19. «ماجرای انتفاضہ شعبانیہ چیست؟»
  20. الحکیء، عذاب بلا نہایہ، 1993ء، ص118۔
  21. آل‌طعمہ، الانتفاضہ الشعبانیہ فی کربلاء، 1433ھ، ص149-156۔
  22. الحکیء، عذاب بلا نہایہ، 1993ء، ص112۔
  23. برای اطلاعات بیشتر در این زمینہ رجوع کنید بہ: جعفریان، خاطرہ‌ای خواندنی دربارہ دستگیری آیت اللہ خویی در انتفاضہ شعبانیہ 1991۔
  24. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص213۔
  25. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص279-280۔
  26. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص279-280۔
  27. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص289۔
  28. آل‌طعمہ، الانتفاضہ الشعبانیہ فی کربلاء، 1433ھ، ص47۔
  29. نگاہی بہ انتفاضہ شعبانیہ؛ چگونہ آمریکا ظرف چند روز، راہبرد خود را در قبال صدام تغییر داد؟، قدس آنلاین، درج مطلب: 27اردیبہشت1396، مشاہدہ:30 آبان 1397۔
  30. «جیش‌المختار حملہ بہ مقر منافقین را بر عہدہ گرفت»
  31. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، 210۔
  32. تبرائیان، انتفاضہ شعبانیہ،‌1391ش، ص509۔


مآخذ