مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

انتفاضہ صفر
تاریخ: ماہ صفر 1397ھ بمطابق 1977ء
مقام: عراق
نتیجہ: عوامی قیام کی شکست
فریقین:
عراقی شیعہ حکومت عراق
نقصان:
16 افراد قتل، 8 کو سزائے موت، 16 کو عمر قید اور ہزاروں لوگوں کو جیل


انتفاضہ صفر سے مراد ماہ صفر سنہ 1397ھ بمطابق 1977ء کو عراقی شیعوں کی حزب بعث کی حکومت کے خلاف مزاحمت ہے۔ حزب بعث نے مذہبی مراسم کو محدود اور کسی بھی قسم کے موکب کے قیام اور کربلا کی طرف مشی کو ممنوع قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود نجف کے عوام 15 صفر 1397ھ کو اربعین کی مشی کیلئے آمادہ ہو گئے۔ تیس ہزار لوگوں کا کاروان کربلا کی طرف رواں دواں ہو گیا۔ اس اقدام کو ابتدا سے ہی حکومتی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔ آخرکار نجف کربلا کے راستے میں فوج نے آپریشن کر کے ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ کچھ لوگ قتل ہو گئے، کچھ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور کچھ لوگوں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ سید محمد باقر صدر اور سید محمد باقر حکیم کا اس تحریک میں نمایاں کردار تھا۔ امام خمینیؒ نے بھی اس عوامی قیام کی تائید کی۔

فہرست

پس منظر

حزب بعث نے 1968ء میں عراق کا اقتدار سنبھالا۔[1] ایک سال بعد اہل تشیع کے مذہبی شعائر پر بے تحاشا پابندیاں عائد کر دیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں عوام اور حکومت کے مابین مذہبی شعائر کی انجام دہی کے حوالے سے مختلف مقامات پر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔[2] 1976ء میں حسن البکر کی صدارت اور صدام حسین کی نائب صدارت کے دوران شعائر حسینیکے انعقاد کی ممنوعیت پر مبنی حکم جاری کیا گیا اور کربلا کی جانب مشی اور کسی بھی نوعیت کے موکب کا قیام ممنوع قرار دیا گیا۔ اسی طرح امام حسینؑ کی مجلس عزا کے انعقاد کو بھی محدود کر دیا گیا اور صرف چند شرائط کے تحت اس کی اجازت دی جاتی تھی۔[3] 1977ء میں ایک مرتبہ پھر یہی احکامات جاری کیے گئے۔[4]

پابندیوں میں اضافہ

ماہ محرم 1977ء کے پہلے عشرے میں یہ پابندیاں بہت سخت کر دی گئیں۔ حکومتی اہلکاروں کی جانب سے گاڑیوں کی تلاشی لی جانے لگی اور عزاداری سے مربوط ہر قسم کا سامان ضبط کر لیا جاتا تھا۔ بعض لوگوں نے نقل کیا ہے کہ حکومتی اہلکار زائرین کیلئے تیار کردہ کھانا بھی اٹھا کر لے جاتے تھے۔[5] سنہ 1977ء کی شب عاشور کو کچھ شیعہ جوانوں نے عزاداریبرپا کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کو مخبری ہو گئی اور انہوں نے دسیوں جوانوں کو جیل میں ڈال دیا۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ امام سجادؑ کی شہادت بمطابق 25 محرم کی رات کو باہر نکل کر مظاہرے کریں گے۔ آیت اللہ سید محمد باقر الصدر کے مشورے سے اس اقدام کو امام حسینؑ کے چہلم تک مؤخر کر دیا گیا۔[6]

انتفاضہ

15 صفر 1397ھ بمطابق 1977ء کو لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اربعین کی مشی اور امام حسینؑ کی زیارت کے قصد سے نجف میں امام علیؑ کے حرم میں اجتماع منعقد کیا۔[7] کچھ محققین نے ان زائرین کی تعداد 30ہزار تک شمار کی ہے۔[8] فوج کی مداخلت کے باوجود لوگ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو گئے اور انہوں نے نجف سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر پہلا پڑاؤ ڈالا۔ اس کاروان کو فوجی گاڑیوں نے گھیرے میں لے لیا۔[9] پورے راستے میں مختلف جھڑپیں ہوتی رہیں۔[10] کربلا سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر فوج کے ساتھ آمنا سامنا ہوا کہ جس میں چار لوگوں نے جام شہادت نوش کیا۔[11] عوام، لڑائی اور کچھ لوگوں کی شہادت کے باجود آگے بڑھتے چلے گئے۔ آخرکار فوجی دستوں نے آپریشن شروع کر دیا اور 16 لوگ مارے گئے جبکہ ہزاروں کو قید کر لیا گیا۔[12] قیدیوں میں سے آٹھ لوگوں کو پھانسی دے دی گئی جبکہ سولہ افراد منجملہ سید محمد باقر حکیم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔[13] اسی طرح کچھ افراد کہ جو عراق سے بھاگ گئے تھے؛ کیلئے بھی غائبانہ طور پر موت کی سزا سنائی گئی؛ ان افراد میں درج ذیل لوگ شامل تھے: سید مرتضی عسکری، سید محمدحسین فضل‌اللہ، شیخ محمد مہدی شمس‌ الدین اور شیخ محمد مہدی آصفی[14]

سیاسی ومذہبی اقدام

اربعین کے موقع پر نجف سے کربلا تک کی مشی ایک مذہبی پروگرام رہا ہے۔[15] علاوہ ازیں اس زمانے میں زیارتی مواکب کا قیام اور مشی، حکومت کے خلاف ایک طرح کا احتجاج سمجھے جاتے تھے۔[16] اس اجتماع میں آگے آگے لوگوں نے ایک سبز رنگ کا بڑا پرچم اٹھایا ہوا تھا کہ جس پر آیت: (یدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیدیہِم؛ اللہ کا ہاتھ ان کے پاتھوں سے اوپر ہے؛تحریر تھی۔[17] اس پرچم اور اس کی تحریر کو حکومت کیلئے واضح پیغام قرار دیا جاتا تھا۔[18]سید محمد باقر صدرنے لوگوں سے اپیل کی کہ ان کے نعرے امام حسینؑ سے مربوط ہوں اور براہ راست حکومت کے خلاف نعرے بازی نہ کریں۔[19] مگر اس کے باوجود حسن البکر اور صدام حسین کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔[20]

علما کا موقف

امام خمینیؒ اور سید عبد اللہ موسوی شیرازی نے عراق کے انتفاضہ صفر کی تائید کی۔[21] سید محمد باقر صدر نے اپنی نمائندگی میں سید محمد باقر حکیم کو زائرین کے درمیان بھیجا۔[22] محمد باقر حکیم نجف سے کربلا کے راستے میں لوگوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور اعلان کیا کہ وہ آخر تک ان کے ساتھ رہیں گے۔[23] محققین کے نزدیک اس انتفاضے میں نجف کے علما کا کردار بہت پرجوش تھا۔[24]

نتائج

عراقی حکومت نے اس قیام کو ایک شرانگیز اقدام قرار دیا کہ جس کی منصوبہ بندی استعماری حکومتوں نے کی تھی۔[25] دوسری جانب بعض شخصیات نے اس قیام کو ایک سیاسی اور مذہبی تحریک قرار دیا کہ جس کی رو سے یہ مذہب اور امام حسینؑ کی محوریت کیساتھ حزب بعث کے خلاف پہلا قیام تھا۔[26] کچھ لوگوں نے اس قیام کے کچھ نتائج شمار کیے ہیں؛ منجملہ:

  • یہ انتفاضہ موجب بنا کہ حزب کے اسلامی چہرے سے نقاب ہٹ جائے۔
  • اس انتفاضے کی وجہ سے حزبِ بعث کا رعب و دبدبہ جاتا رہا اور پہلی مرتبہ لوگوں نے بعثی حکومت کے خلاف مزاحمت کی۔
  • حزب بعث میں اختلاف پیدا ہو گیا۔

حوالہ جات

  1. ویلی، نہضت اسلامی شیعیان عراق، 1373شمسی، ص70۔
  2. المؤمن، سنوات الجمر، 2004ء، ص164۔
  3. المؤمن، سنوات الجمر، 2004ء، ص165۔
  4. کاظم، ارقام و آراء حول نظام البعث فی العراق، 1982ء، ص158۔
  5. کاظم، ارقام و آراء حول نظام البعث فی العراق، 1982ء، ص159۔
  6. الطالقانی، «دراسة حول انتفاضة صفر المجیدة عام 1977 میلادیة»۔
  7. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص101۔
  8. ویلی، نہضت اسلامی شیعیان عراق، 1373شمسی، ص80۔
  9. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص101۔
  10. الموسوی، «انتفاضہ اربعین»۔
  11. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص102۔
  12. ویلی، نہضت اسلامی شیعیان عراق، 1373شمسی، ص81۔
  13. الأسدی، موجز تاریخ العراق السیاسی الحدیث، 2001ء، ص103۔
  14. ویلی، نہضت اسلامی شیعیان عراق، 1373شمسی، ص82۔
  15. الطالقانی، «دراسة حول انتفاضة صفر المجیدة عام 1977 میلادیة».۔
  16. الموسوی، «انتفاضہ اربعین»۔
  17. سورہ فتح،‌آیہ10۔
  18. ویلی، نہضت اسلامی شیعیان عراق، 1373شمسی، ص81۔
  19. المؤمن، سنوات الجمر، 2004ء، ص169
  20. العامری، «انتفاضة صفر 1977 قراءة جدیدة»۔
  21. المؤمن، سنوات الجمر، 2004ء، ص170۔
  22. الطالقانی، «دراسة حول انتفاضة صفر المجیدة عام 1977 میلادیة»..
  23. موسوی، «نفحات من انتفاضة صفر عام 1977ء۔
  24. ویلی، نہضت اسلامی شیعیان عراق، 1373شمسی، ص81۔
  25. المؤمن، سنوات الجمر، 2004ء، ص171۔
  26. الموسوی، «نفحات من انتفاضة صفر عام 1977ء»۔


مآخذ