مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

دعا و مناجات
220px

تسبیحات اربعہ چار ذکر ہیں جو ہر روز تین یا چار رکعتی نمازوں میں اور بعض اذکار میں پڑھے جاتے ہیں. یہ چار ذکر درج ذیل ہیں: سُبْحانَ اللہِ، وَ الْحَمْدُ لِلہِ، وَ لا إلہَ إلاّ اللہُ، وَ اللہُ أکْبَرُ ترجمہ: خداوند پاک اور منزہ ہے، اور سب تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں، اور خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اور خداوند بہت بڑا ہے.

روزانہ کی نمازوں میں تیسری اور چوتھی رکعت میں حمد اور سورہ کی جگہ پر تسبیحات اربعہ پڑھی جاتی ہے.[1] بعض مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق تیسری اور چوتھی رکعت میں تسبیحات اربعہ تین بار پڑھی جائے اور بعض کے مطابق، ایک بار پڑھنا کافی ہے. [2]

یومیہ نمازوں کے علاوہ، نماز جعفر طیار میں سورہ کے بعد (تین سو مرتبہ) [3]، اور ماہ رمضان کی راتوں میں مشترک نماز میں (سات مرتبہ)[4]اور جمادی الثانی کے اعمال میں مشترک نماز ختم ہونے کے بعد (ستر مرتبہ) تسبیحات اربعہ پڑھی جاتی ہے.

علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی ٩٠ نمبر جلد میں، ایک باب کو تسبیحات اربعہ کی فضیلت کے لئے مخصوص قرار دیا ہے. [5] اسی طرح سے خداوند کے نزدیک ہونے کے لئے، اور دنیوی بلاؤں سے بچنے کے لئے تسبیحات اربعہ پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے. [6]

حوالہ جات

  1. فاضلی، عرفان نماز، ۱۳۸۸ش، ص۸۵
  2. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۵۵۲
  3. قمی، دستورالعمل و مرواریدہای درخشان، ۱۳۸۱ش، ص۲۶۷
  4. قمی، مفاتیح الجنان، رمضان کی نمازیں، دعای افتتاح کے بعد
  5. ر.ک بہ: مجلسی، بحار الأنوار، ۱۹۸۳م، ج۹۰، ص۱۶۶ - ۱۷۵
  6. ابن‌طاووس، ادب حضور، ۱۳۸۰ش، ج۱، ص۲۹۳ و ۲۹۴


مآخذ

  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، ادب حضور، مترجم محمد روحی، قم، نشر انصاری، ۱۳۸۰ش.
  • بنی ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۸۵ش.
  • فاضلی، قادر، عرفان نماز، تہران، نشر فضیلت علم، ۱۳۸۸ش.
  • قمی، عباس، دستور العمل و مرواریدہای درخشان (لئالی منثورہ)، گردآورندہ محمد حسین ربانی، قم، نشر عہد، ۱۳۸۱ش.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطہار (علیہم السلام)، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.