مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تفسیر عیاشی (کتاب)

(تفسیر عیاشی سے رجوع مکرر)
تفسیر عیاشی
کتاب تفسیر عیاشی.jpg
مؤلف محمد بن مسعود عیاشی (متوفای سنہ ۳۲۰ ہجری قمری)
زبان عربی
موضوع تفسیر قرآن
تعداد جلد 2 مجلد
ناشر مکتبہ العلمیہ الاسلامیہ
محل نشر تہران

تفسیر عَیّاشی قرآن کریم کی احادیث کے ذریعے تفسیر یعنی تفسیر روایی ہے جسے شیعہ مفسر محمد بن مسعود عیاش السلمی السمرقندی معروف بہ عیاشی (متوفی سنہ ۳۲۰ ھ) نے تحریر کیا ہے۔ عیاشی عصر غیبت صغری میں شیخ کلینی کا ہم عصر شیعہ متقدم محدثین میں سے ہیں اور یہ کتاب شیعوں کے حدیثی منابع میں شمار ہوتی ہے۔

بعد والے تفاسیر میں اس تفسیر سے جو مطالب ذکر کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تفسیر پورے قرآن کی تفسیر پر مشتمل تھی لیکن اس وقت جو چیز اس تفسیر میں سے ہمارے پاس موجود ہے وہ سورہ حمد کی ابتداء سے سورہ کہف کے آخر تک ہے۔

تفسیر عیاشی کا تفسیر قمی اور تفسیر فرات کوفی (پہلی صدی ہجری کی دیگر روایی تفاسیر) سے وجہ تمایز یہ ہے کہ تفسیر عیاشی کو فقہی جہات سے آیات الاحکام قرار دیا گیا ہے۔ عیاشی نے علم کلام اور شیعہ اور غیر شیعہ فرقوں سے بھی بحث کی ہے اور اس حوالے سے مختلف روایات کو بھی ذکر کیا ہے۔ ان تمام خصوصیات کے باوجود اس کتاب کو نقل کرنے والوں اور اسے تدوین کرنے والوں کی طرف سے احادیث کے اسناد کو حذف کرکے بطور مرسل ذکر کرنے کی وجہ سے اس کتاب کی اہمیت میں کمی آئی ہے۔

فہرست

معرفی کتاب

تفسیر عَیّاشی عصر غیبت صغرا (۲۶۰ـ۳۲۹ق) سے متعلق شیعہ قدیمی تفاسیر میں سے ہے اور اس زمانے کے دوسرے شیعہ علمی آثار کی طرح اس میں بھی احادیث کا پہلو نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن مصنف کی آیات الاحکام پر زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے اس کا فقہی پہلو دوسرے شیعہ قدیمی تفاسیر جیسے تفسیر فرات کوفی اور تفسیر علی بن ابراہیم قمی کی فقہی پہلو سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔[1]

کتاب کے بعض اجزاء کا مفقود ہونا

بعد والے تفاسیر میں اس تفسیر سے جو مطالب ذکر کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تفسیر پورے قرآن کی تفسیر پر مشتمل تھی لیکن اس وقت جو چیز اس تفسیر میں سے ہمارے پاس موجود ہے وہ سورہ حمد کی ابتداء سے سورہ کہف کے آخر تک ہے۔ یہ تفسیر اصل میں دو جلدوں پر مشتمل علم تفسیر کے ماہرین کے ہاں موجود تھی جس سے وہ روایت نقل کرتے تھے۔ حاکم حسکانی اپنی کتاب شواہد التنزیل میں تقریبا 30 روایت اس کتاب سے نقل کرتے ہیں۔[2] شیخ طبرسی نے بھی اس کتاب کے دونوں جلدوں سے تقریبا 70 احادیث نقل کئے ہیں۔[3] علامہ مجلسی فرماتے ہیں: اس تفسیر کے دو قدیمی نسخوں کو میں نے دیکھا ہے۔[4]

علامہ مجلسی کے زمانے کے بعد سے پھر اس کتاب کے دوسرے حصے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور آقا بزرگ تہرانی نے اس کتاب کے پہلے حصے کے خطی یا چاپ شدہ نسخوں کی تعداد کو چھ نسخوں تک شمار کرتے ہیں۔[5]

مصنف اور اس تفسیر کی اہمیت

تفصیلی مضمون: محمد بن مسعود عیاشی

شیخ عیاشی علم رجال کے ماہرین میں سے تھے اور شیعہ اور اہل سنت مورخین نے اگرچہ آپ کی تعریف و تمجید کی ہے او آپ کو ایک فقیہ، محدث اور شیعہ بزرگان میں شمار کیا ہے؛ [6] لیکن کہتے ہیں کہ آپ ضعیف افراد سے بھی بہت زیادہ احادیث نقل کرتے تھے۔[7]

بہت سارے شیعہ بزرگان جیسے سید ہاشم بحرانی تفسیر البرہان میں، علامہ مجلسی بحارالانوار میں اور فیض کاشانی تفسیر صافی میں اس تفسیر سے بہت زیادہ احادیث نقل کئے ہیں۔ علامہ طباطبایی نے اس کتاب پر ایک مقدمہ‌ لکھا ہے جس میں اس کتاب کی اہمیت اور اس کی قدر و قیمت کو بیان فرمایا ہے۔[8]

خصوصیات

علم تفسیر
اہم تفاسیر
شیعہ تفاسیر:
سنی تفاسیر:
تفسیری رجحان
تفسیری روشیں
اقسام تفسیر
اصطلاحات علم تفسیر

مصنف نے کتاب کے شروع میں ایک مختصر مقدمہ‌ لکھا ہے جس میں قرآن کریم کی فضیلت اور قرآن کے مخالف احادیث کو نقل نہ کرنے، تفسیر بہ رائ کی مذمت، علوم قرآنی جیسے ناسخ و منسوخ، ظاہر و باطن ، محکم و متشابہ اور قرآن کی تفسیر اور اسے سمجھنے کیلئے ائمہ معصومین(ع) کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت وغیرہ سے بحث کی ہیں۔[9]

مؤلف نے دوسرے شیعہ مفسرین کی طرح اس تفسیر میں بھی اہل بیت(ع) کے فضائل اور ان کے دشمنوں کے رزائل کے بارے میں احادیث کو ذکر کرتے ہوئے شیعہ اعتقادات اور تعلیمات کی ترویج کی کوشش کی ہے۔

تفسیر عیاشی کا تفسیر قمی اور تفسیر فرات کوفی سے وجہ تمایز یہ ہے کہ تفسیر عیاشی کو فقہی جہات سے آیات الاحکام قرار دیا گیا ہے۔

احادیث کو بطور مرسل اور بغیر سند کے ذکر کرنا اس تفسیر کی دوسری خصوصیات میں سے ہے جو اس کتاب کے تدوین اور اسے نقل کرنے والوں نے حذف کی ہیں۔کتاب کے مقدمہ میں آنے والے مطالب کے مطابق انہوں نے ان روایات کے اسناد کو حذف کیا تاکہ مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ کاتبوس کیلئے لکھنے میں آسانی ہو اس کے علاوہ ایک مناسب وقت میں اس کے متن کو کسی ایسے شخص جس نے خود مصنف سے سنا ہو یا مصنف سے اجازہ لیا ہو کو سنا کر اس کی تصحیح کر لیں گے۔[10]

نشر و اشاعت

  1. چاپ مکتبۃ الاسلامیہ تہران سنہ ۱۳۸۰ق.
  2. چاپ آقای سید ہاشم رسولی محلاتی دو جلدوں میں، علامہ طباطبایی کے مقدمے کی ساتھ۔
  3. چاپ بنیاد بعثت قم سنہ ۱۴۲۱ق ۳ جلد. اس چاپ میں نصوص میں سے ۱۱۶ مورد مفقود ہیں جو دوسرے شیعہ اور غیر شیعہ نقل میں موجود ہیں اور ان کی سند کو مختلف افراد کی طرف نسبت دی گئی ہے۔

حوالہ جات

  1. عیّاشی، تفسیر، ج ۱، ص۱۹۲، ۲۳۸، ۲۴۸.
  2. حاکم حسکانی، شواہد التنزیل، ۱۴۱۱ق، احادیث ۲۷، ۱۴۴، ۱۴۵، ۱۸۵، ۱۹۰، ۱۹۶ و...
  3. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۷ بہ بعد.
  4. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۲۸.
  5. تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق، ج۴، ص۲۹۵.
  6. ابن ندیم، الفہرست، ص۲۴۴. طوسی، الفہرست، ۱۴۱۷ق، ص۲۱۲.
  7. نجاشی، رجال، ص۳۵۰.
  8. عیاشی، مقدمہ تفسیر عیاشی، ص۳ - ۵.
  9. عیاشی، تفسیر، ص۸ - ۱۸.
  10. عیاشی، مقدمہ تفسیر، ص۲.


مآخذ

  • بغدادی، ابن ندیم، الفہرست،.
  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعۃ، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۳ق.
  • حاکم حسکانی، عبیداللہ بن احمد، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تہران، وزارت ارشاد، ۱۴۱۱ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۱۵ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، الفہرست، نشر الفقاہۃ، ۱۴۱۷ق.
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، تہران، المکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۳ق.
  • نجاشی، احمد بن علی، اسماء مصنفی الشیعۃ، قم، جامعہ مدرسین.

بیرونی روابط