مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

ثِقَۃُ الاسلام، شیعہ علماء کی تعظیم اور احترام کی خاطر استعمال ہونے والے عمومی عناوین میں سے ایک ہے۔ البتہ یہ لقب بعض علماء کے لئے خصوصی طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا جیسے محمد بن یعقوب کلینی جو ثقۃ الاسلام کلینی کے نام سے مشہور تھے۔ آخری دہائیوں میں یہ عنوان حوزہ علمیہ میں دینی علوم کی ایک معین سطح کی نشاندہی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

فہرست

لغوی اور اصطلاحی معنی

"ثقۃ" لغت میں قابل اعتماد اور امین شخص کو کہا جاتا ہے۔[1] علم رجال کی اصطلاح میں لفظ "ثقۃ" کسی راوی کی عدالت اور وثاقت کو صراحتا بیان کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔[2]

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ "ثقۃ الاسلام" میں لفظ "ثقۃ" کے لغوی معنی کو مد نظر رکھا گیا ہے کیونکہ ثقۃ الاسلام میں لفظ "ثقۃ" کے اصطلاحی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔[حوالہ درکار]


پہلا استعمال

ثقۃ الاسلام پہلی مرتبہ محمد بن یعقوب کلینی (متوفی 329ق) کے لئے بطور لقب استعمال کیا گیا[3] اور بعض لوگ اسے مرحوم کلینی کا لقب خاص سمجھتے ہیں۔[4] یہاں تک کہ اگر "ثقۃ الاسلام" کو بغیر کسی قرینہ کے استعمال کیا جائے تو اس سے مرحوم کلینی ہی مراد لئے جاتے ہیں۔[5] کاظم مدیر شانہ‌چی مدعی ہیں کہ مرحوم کلینی اپنے زمانے میں بھی ثقۃ الاسلام کے نام سے معروف تھے،[6] لیکن انہوں نے اپنے اس مدعا پر کوئی دلیل ذکر نہیں کیا ہے۔ پہلا شخص جس نے مرحوم کلینی کیلئے اس لقب کا استعمال کیا وہ شیخ بہائی تھے۔[7] ان کے بعد بہت سے شیعہ علماء نے مرحوم کلینی کو اسی عنوان سے یاد کئے ہیں۔[8]

مرحوم کلینی کو ثقۃ الاسلام کہنے کی علت

شیخ عباس قمی[9] اس بارے میں کہتے ہیں کہ مرحوم کلینی شیعہ اور اہل سنّت دونوں فریقوں کے نزدیک عظیم المرتبت انسان تھے اور دونوں فریق کے علماء اپنے اپنے فتوؤں میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے اسلئے آپ کو ثقۃ الاسلام کا لقب دیا گیا تھا۔ ظاہرا یہ علت کم و بیش ہر اس شخص کے بارے میں بھی صحیح معلوم ہوتا ہے جنہیں ثقۃ الاسلام کہا جاتا تھا مثلاً، ملا محمد صالح مازندرانی اصول الکافی[10] کی شرح میں اور علامہ مجلسی اپنی کتاب بحارالانوار[11] میں شیخ طوسی(متوفی460ق) اور طَبرِسی(متوفی 548) کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان دونوں شخصیات کو بھی مذکورہ علت کی بنا پر اس لقب سے یاد کئے جاتے تھے۔

موجودہ دور میں اس کا استعمال

آخری ایک دو صدیوں میں علمی اور دینی لحاظ سے بلند درجات کے حامل شخصیات کو آیت اللہ یا آیت اللہ العُظمی کہا جاتا ہے۔ جبکہ ثقۃ الاسلام کا عنوان دینی علوم کے ان محصلین کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں جو درجہ اجتہاد تک نہیں پہنچے لیکن علمی کمالات کے حامل ہیں۔[12] اس کے باوجود بعض بزرگان کیلئے احترام کی خاطر ثقۃ الاسلام کہا جاتا ہے۔ مثلا شیخ عباس قمی،[13] اپنے استاد محدّث نوری اور عبد الحسین شرف الدین کو اسی عنوان سے یاد کرتے ہیں۔ اور اس دور میں بھی بعض علما اسی نام سے مشہور ہو گئے ہیں۔[14] ان اشخاص میں نوراللہ اصفہانی[15] اور ثقۃ الاسلام تبریزی کا نام خصوصی طور پر لیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

  1. ابن دُرَید؛ جوہری؛ابن منظور؛ ذیل «وثق»
  2. شہیدثانی، ص۲۰۳ـ۲۰۴ مدیرشانہ چی، ۱۳۵۶ ش، ص۱۱۲ـ۱۱۳
  3. مدرس تبریزی، ج ۵، ص۷۹
  4. عمیدی، ص۷۳
  5. بحرانی، ج ۲۱، ص۱۳۴، ۲۰۵، ج ۲۲، ص۶۳۹؛ نوری، ج ۳، ص۴۷۹، ۴۸۳
  6. علم الحدیث، ص۷۵
  7. شیخ بہائی، مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین، ص۹۸، ۱۰۲؛ شیخ بہائی، الوجیزۃ فی الدرایۃ، ص۴۳۶
  8. حرّعاملی، ج ۳۰، ص۱۵۳؛ مجلسی، ج ۵، ص۵، پانویس ۱، ج ۳۱، ص۳۳، ج ۵۵، ص۳۶۳؛ فاضل ہندی، ج ۱، ص۱۹۵؛ نراقی، ص۹۸، ۱۱۱، ۲۲۰؛ قمی، ۱۳۵۷ـ ۱۳۵۸، ج ۳، ص۹۸
  9. زندگی علمای مذہب شیعہ، ج ۲، ص۶۵۸
  10. ج ۹، ص۳۵۹
  11. ج ۱۰۵، ص۴۸
  12. ضوابطی، ص۲۰۲؛ متینی، ص۵۸۰ ـ۶۰۱
  13. الکنی و الالقاب، ج ۲، ص۴۰۴، ج ۳، ص۱۹۸
  14. ناظم الاسلام کرمانی، بخش ۱، مقدمہ، ص۲۳۸، ۳۳۶، ۵۳۷، ۵۵۰، بخش ۲، ج ۴، ص۱۳، ۱۱۶، ج ۵، ص۳۸۶، ۴۶۵
  15. الاسلام، ص۴


منابع

  • ابن درید، کتاب جمہرۃ اللغۃ، چاپ رمزی منیر بعلبکی، بیروت ۱۹۸۷-۱۹۸۸۔
  • ابن منظور۔
  • الاسلام (گفتگوی صفاخانۃ اصفہان)، سال ۱ (رمضان ۱۳۲۰)۔
  • یوسف بن احمد بحرانی، الحدائق الناضرۃ فی احکام العترۃ الطاہرۃ، قم ۱۳۶۳-۱۳۶۷ش۔
  • اسماعیل بن حماد جوہری، الصحاح: تاج اللغۃ و صحاح العربیۃ، چاپ احمد عبدالغفور عطار،بیروت، بی‌تا، چاپ افست تہران ۱۳۶۸ش۔
  • حرّعاملی۔
  • زین الدین بن علی شہید ثانی، الرعایۃ فی علم الدرایۃ، چاپ عبدالحسین محمدعلی بقال، قم ۱۴۰۸۔
  • محمدبن حسین شیخ بہائی، مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین، مع تعلیقات محمداسماعیل بن حسین مازندرانی خواجوئی، چاپ مہدی رجایی، مشہد ۱۳۷۲ش۔
  • محمدبن حسین شیخ بہائی، الوجیزۃ فی الدرایۃ، چاپ ماجد غرباوی، در تراثنا، سال ۸، ش ۳ و ۴ (رجب ـ ذیحجۃ ۱۴۱۳)۔
  • مہدی ضوابطی، پژوہشی در نظام طلبگی، تہران ۱۳۵۹ش۔
  • ثامر ہاشم حبیب عمیدی، الشیخ الکلینی البغدادی و کتابہ الکافی: الفروع، قم ۱۳۷۲ش۔
  • محمدبن حسن فاضل ہندی، کشف اللثام، چاپ سنگی تہران ۱۲۷۱-۱۲۷۴، چاپ افست قم ۱۴۰۵۔
  • عباس قمی، فوائدالرضویۃ: زندگی علمای مذہب شیعہ، تہران، (۱۳۲۷ش)۔
  • عباس قمی، کتاب الکنی و الالقاب، صیدا ۱۳۵۷-۱۳۵۸، چاپ افست قم، بی‌تا۔
  • محمدصالح بن احمد مازندرانی، شرح اصول الکافی، مع تعالیق ابوالحسن شعرانی، چاپ علی عاشور، بیروت ۱۴۲۱/۲۰۰۰۔
  • جلال متینی، «بحثی در بارۃ سابقۃ تاریخی القاب و عناوین علما در مذہب شیعہ»، ایران نامہ، سال ۱، ش ۴ (تابستان ۱۳۶۲)۔
  • مجلسی۔
  • محمدعلی مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، تہران ۱۳۶۹ش۔
  • کاظم مدیر شانہ چی، درایۃ الحدیث، مشہد ۱۳۵۶ش۔
  • کاظم مدیر شانہ چی، علم الحدیث، قم ۱۳۶۲ش۔
  • محمدبن علی ناظم الاسلام کرمانی، تاریخ بیداری ایرانیان، چاپ علی اکبر سعیدی سیرجانی، تہران ۱۳۷۶-۱۳۷۷ش۔
  • احمدبن محمدمہدی نراقی، عوائد الایام، قم ۱۴۰۸۔
  • حسین بن محمدتقی نوری، خاتمۃ مستدرک الوسائل، قم ۱۴۱۵-۱۴۲۰۔

بیرونی روابط