مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

حاکم شرع اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو مسلمانوں پر ولایت کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ اصطلاح فقہ میں اکثر اس جامع الشرائط فقیہ کے لیے استعمال ہوتی ہے جو معصومینؑ کی نیابت میں شرعی حاکمیت کا حق رکھتا ہے۔ حاکم شرع کے اختیارات کے دائرہ کار میں فقہا کے مابین اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ اختیارات مخصوص موارد جیسے یتیموں کی سرپرستی و غائب شخص کے اموال کے ساتھ خاص ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ حاکم شرع کو معصومینؑ کے اختیارات کی مانند اختیار حاصل ہے۔

فہرست

فقہی تعریف

«حاکم شرع» ایک فقہی اصطلاح ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاح علامہ حلی کے دَور سے فقہی کتابوں میں ذکر ہوئی ہے۔[1]اکثر اوقات حاکم شرع سے فقہا کا مراد جامع الشرائط فقیہ ہے۔[2] وحید بہبہانی کا کہنا ہے کہ فقیہ کو اس لئے حاکم شرع کہا جاتا ہے کہ بعض موارد جیسے یتیموں کی سرپرستی میں ان کو ولایت حاصل ہے۔[3]

ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینی حاکم شرع کی اصطلاح کو ان شرعی قاضیوں کے لیے استعمال کرتے تھے جو مختلف علاقوں میں معین کرتے تھے۔[4]

حاکمیت شرع کا وجوب

فقہا قائل ہیں کہ جامع الشرائط فقیہ پر فتوا دینے کے علاوہ حاکم شرع کے عنوان سے حکم صادر کرنے کی ذمہ داری ہے۔[5] شرعی حکومت کو عہدے پر لینا واجب کِفایی ہے۔[6] فقہا کے فتؤوں کے مطابق حاکم شرع کا حکم ماننا واجب ہے۔[7]

حاکم شرع کون لوگ ہیں؟

بعض فقہا حاکم شرع کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: وہ شخص جسے اللہ تعالی نے مستقیم اور وحی کے ذریعے حاکم شرع معین کیا ہے؛ اور وہ شخص جو غیرمستقیم حاکم شرع بنتا ہے۔ پہلی قسم پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ ہیں[8] دوسری قسم ان لوگوں کو شامل کرتی ہے جو پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ کی طرف حاکم شرع معین ہوتے ہیں۔[9]

فقہا اس دوسری قسم میں شامل ہیں۔ چودہ معصومینؑ کی روایات کے مطابق فقہا کو غیبت کبری میں لوگوں کے امور کی سرپرستی کے لئے معین کیا ہے۔[10]

فقہا کی حاکمیت شرعی پر دلیل

اس مسئلے کے اثبات کے لئے فقہی کتابوں میں بہت ساری ادلہ پیش کی گئی ہیں کہ عصرِ غیبت میں مرجع تقلید امامؑ کے نائب کے عنوان سے حاکمِ شرع ہیں۔[11]

اس مسئلے کی روائی ادلہ میں بعض ایسی احادیث ہیں جو علما کے بارے میں بیان ہوئی ہیں۔ ان میں بعض وہ روایات ہیں جن میں علما کو انبیاء کا وارث قرار دیا ہے،[12] یا پیغمبر کے امین[13] یا ان کے جانشین[14] کے طور پر معرفی ہوئے ہیں۔

فقہا کی دوسری دلیل عقل ہے۔ ان کے بقول جو عقل حکم کرتی ہے کہ شہروں کی حفاظت اور بندوں کے دینی اور دنیوی امور کی حفاظت کے لیے اللہ تعالی پر لازم ہے کہ وہ امام منصوب کرے، وہی عقل حکم کرتی ہے کہ عصرِ غیبت میں امام کا کوئی جانشین ہو۔[15]

بعض فقہا نے فقہا کے لئے شرعی حاکمیت ثابت کرنے کے لئے اجماع سے بھی استناد کیا ہے۔[16]

حاکمِ شرع کے اختیارات کا دائرہ کار

حاکمِ شرع کے اختیارات کے دائرہ کار کے بارے میں فقہا کے مابین اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ بعض حاکمِ شرع کے اختیارات کو صرف ان امور میں قرار دیتے ہیں جنکا ذکر قرآن یا روایات میں آیا ہے؛ جیسے یتیموں سے مربوط امور اور ان لوگوں کے اموال کے بارے میں جو غائب ہیں اور ان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔[17]جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ان کے اختیارات وہی ہیں جو ائمہ کو حاصل ہیں۔[18]

پہلے نظرئے کے مطابق اگر کسی مورد میں شک ہو تو اصل یہ ہے کہ وہ مورد حاکمِ شرعی کی ولایت کے دائرے سے خارج ہے؛[19] لیکن دوسرے نظرئے کے مطابق مرجعِ تقلید کی ولایت تمام امور کو شامل ہے سوائے چند ایک موارد کے جو ان کی ولایت سے خارج ہونے میں مخصوص دلیل موجود ہے۔ لہذا جن موارد میں شک ہو کہ حاکمِ شرع کی ولایت ان کو شامل کرتی ہے یا نہیں تو ایسے موارد ان کی ولایت میں شامل ہونگے۔[20]

دو حاکمِ شرع کے درمیان تعارض

بعض فقہا کے بقول حاکم شرع ایک ایسا منصب ہے جو تمام مراجع تقلید کو حاصل ہے؛ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک حاکمِ شرع بن جائے تو ان کے حکم کی مخالفت کرنا دوسرے فقہا کے لئے جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے؛ کیونکہ حاکمِ شرع بننا واجب کفائی ہے لہذا اگر کوئی شخص اسے بنحو کفایت انجام دے رہا ہو تو دیگر واجب کفائی کی طرح اس شخص کے ساتھ معارضہ اور منازعہ کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ مراجع تقلید کا حاکمِ شرع کے ساتھ منازعہ کرنا نظام مختل ہونے اور نزاع ایجاد ہونے کا سبب بنے کہ جس پر کسی بھی صورت میں اللہ تعالی راضی نہیں ہے۔[21]

حوالہ جات

  1. قافی، «حاکم (۱)»، ص۴۲۳.
  2. مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۲ش، ج۳، ص۱۹۹.
  3. ملاحظہ فرمائیں: وحید بہبہانی، الاجتہاد و التقلید، ۱۴۱۵ق، ص۴۹۹.
  4. ملاحظہ فرمائیں: امام خمینی، صحیفہ نور، ۱۳۸۹ش، ج۱۱، ص۳۷۸؛ ج ۲۰، ص۲۸۵؛ ج۱۸، ص۳۶؛ ج ۱۴، ص۴۶۶؛ ج۱۶، ص۳۹۸.
  5. ملاحظہ کریں: کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۸۹- ۳۹۵؛ رحمان ستایش،‌ رسائل فی ولایۃ الفقیہ،‌ ۱۴۲۵ق، کل کتاب.
  6. ملاحظہ کریں: شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۳۶؛ روحانی، فقہ‌الصادق، ۱۴۱۲ق، ج۱۶، ص۱۶۹؛ قمی، الدلائل، ۱۴۲۳ق، ج۴، ص۳۵۷-۳۵۶.
  7. صدر، الفتاوی الواضحۃ،‌ ۱۴۰۳ق، ص۶۳۲.
  8. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۷۰- ۳۷۲؛ حیدری، ولایۃ الفقیہ، تأریخہا و مبانیہا‌، ۱۴۲۴ق، ص۱۹۲.
  9. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۷۵- ۳۷۷؛ حیدری، ولایۃ الفقیہ، تأریخہا و مبانیہا‌، ۱۴۲۴ق، ص۱۹۳.
  10. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۴۱؛ حیدری، ولایۃ الفقیہ، تأریخہا و مبانیہا‌، ۱۴۲۴ق، ص۱۹۲.
  11. مراجعہ کریں: حکیم، نہج الفقاہۃ،‌ قم، ص۲۹۹-۳۰۳.
  12. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۵۰؛ بحرانی، الحدائق الناظرہ، ۱۴۰۵ق، ج۱۳، ص۵۶۴؛ رحمان‌ستایش،‌ رسائل فی ولایۃ الفقیہ،‌ ۱۴۲۵ق، ص۱۱۶.
  13. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۵۴؛ بحرانی، الحدائق الناظرہ، ۱۴۰۵ق، ج۱۳، ص۵۶۶؛ رحمان‌ستایش،‌ رسائل فی ولایۃ الفقیہ،‌ ۱۴۲۵ق، ص۱۱۸.
  14. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۵۵؛ بحرانی، الحدائق الناظرہ، ۱۴۰۵ق، ج۱۳، ص۵۶۶؛ رحمان‌ستایش،‌ رسائل فی ولایۃ الفقیہ،‌ ۱۴۲۵ق، ص۱۱۸.
  15. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۴۳؛ حیدری، ولایۃ الفقیہ، تأریخہا و مبانیہا‌، ۱۴۲۴ق، ص۲۲۱.
  16. ملاحظہ فرمائیں: بحرانی، الحدائق الناظرہ، ۱۴۰۵ق، ج۱۳، ص۵۶۳؛ کاشف الغطاء، النور الساطع،۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۴۸؛ رحمان‌ ستایش،‌ رسائل فی ولایۃالفقیہ،‌ ۱۴۲۵ق، ص۱۱۵؛ حیدری، ولایۃ الفقیہ، تأریخہا و مبانیہا‌، ۱۴۲۴ق، ص۲۲۰.
  17. حیدری، ولایۃ الفقیہ، تأریخہا و مبانیہا‌، ۱۴۲۴ق، ص۲۲۶-۲۲۸؛ کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۴۱، ص۳۷۹؛ مراغی، العناوین الفقہیہ، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۵۶۲-۵۶۹.
  18. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۴۱، ص۳۷۹؛ مراغی، العناوین الفقہیہ، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۵۶۲-۵۶۹.
  19. حیدری، ولایۃ الفقیہ، تأریخہا و مبانیہا‌، ۱۴۲۴ق، ص۲۲۶-۲۲۸؛ کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۴۱، ص۳۷۹؛ مراغی، العناوین الفقہیہ، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۵۶۲-۵۶۹.
  20. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۴۱، ص۳۷۹؛ مراغی، العناوین الفقہیہ، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۵۶۲-۵۶۹.
  21. کاشف الغطاء، النور الساطع، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۸۹-۳۹۰.

مآخذ

  • امام خمینی، سیدروح‌اللہ، صحیفہ نور، تہران، موسسہ نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۹ شمسی ہجری۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناظرہ فی احکام العترۃ الطاہرہ، قم، تحقیق و تصحیح محمد تقی ایروانی و سید عبد الرزاق مقرم، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم‌، ۱۴۰۵ھ۔
  • حکیم، سید محسن طباطبایی،‌ نہج‌ الفقاہۃ،‌ قم، انتشارات ۲۲ بہمن‌.
  • حیدری، محسن،‌ ولایۃ الفقیہ، تأریخ‌ہا و مبانی‌ہا‌، بیروت،‌ دار الولاء للطباعۃ و النشر و التوزیع‌، ۱۴۲۴ھ۔
  • رحمان‌ ستایش، محمد کاظم،‌ رسائل فی ولایۃ الفقیہ،‌ قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم‌، ۱۴۲۵ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، شرح سلطان‌العلماء، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم‌، ۱۴۱۲ھ۔
  • صدر، سید محمد باقر،‌ الفتاوی الواضحۃ وفقاً لمذہب أہل البیت علیہم‌ السلام،‌ بیروت،‌ دار التعارف للمطبوعات‌، ۱۴۰۳ھ۔
  • قافی، حسین، «حاکم (۱)»، دانشنامہ جہان اسلام، جلد ۱۲، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۷ شمسی ہجری۔
  • قمی، سید تقی، الدلائل فی شرح منتخب المسائل، قم، کتاب فروشی محلاتی‌، ۱۴۲۳ھ۔
  • روحانی، سید صادق، فقہ‌ الصادق علیہ‌السلام، قم،‌ دار الکتاب- مدرسہ امام صادق علیہ‌ السلام‌، ۱۴۱۲ھ۔
  • مراغی، سید میر عبد الفتاح بن علی حسینی، العناوین الفقہیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۷ھ۔
  • نجفی کاشف‌ الغطاء، علی بن محمد رضا بن ہادی‌، النور الساطع فی الفقہ النافع‌، نجف، مطبعۃ الآداب‌، ۱۳۸۱ھ۔
  • مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم‌ السّلام، قم، مؤسّسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۹۴شمسی ہجری۔
  • وحید بہبہانی، الاجتہاد و التقلید (الفوائد الحائریہ)، محمد باقر، قم، مجمع الفکر الاسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۵ھ۔

بیرونی روابط