مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
حضرت صالح
وادی السلام (نجف،عراق) میں حضرت صالح کا مقبرہ
وادی السلام (نجف،عراق) میں حضرت صالح کا مقبرہ
قرآنی نام: صالح
رہائش: مدینہ
مدفن: وادی السلام (نجف)
قوم کا نام: قوم ثمود
معجزات: ناقہ صالح
دین: ایک خدا کی عبادت
عمر: 280سال
دوران نبوت: 104سال
قرآن میں نام کا تکرار: 9 مرتبہ
مخالفین: قوم ثمود
اہم واقعات: ناقہ صالح کا قتل، قوم پر عذاب الہی
اولوالعزم انبیاء
حضرت محمدؐحضرت نوححضرت ابراہیمحضرت موسیحضرت عیسی

حضرت صالح، سام بن نوح کی اولاد میں سے اور قوم ثمود کے پیغمبر تھے۔ قرآن میں حضرت نوحؑ اور حضرت ہودؑ کے بعد ان کا تذکرہ ہوا ہے۔ صالح عرب انبیاء میں سے تیسرے نبی ہیں جن کا تذکرہ قرآن کی مختلف سورتوں میں ہوا ہے لیکن توریت میں ان کے نام کا ذکر نہیں ہے۔ صالح کی عمر 280 سال تھی اور نجف کے وادی السلام قبرستان میں دفن ہوئے ہیں۔ تاریخی منابع کے مطابق آپ 16 سال کی عمر میں نبوت پر مبعوث ہوئے اور 120 سال کی عمر تک اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی لیکن ان کی دعوت کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی اور ان کی اونٹنی (وہ اونٹنی جسے صالحؑ نے معجزہ کے طور پر پہاڑ سے باہر نکالا تھا) کو مار ڈالا۔

فہرست

حالات زندگی

صالحؑ عرب انبیاء میں سے [1] اور سام بن نوحؑ کی نسل سے ہیں اور وہ تیسرے پیغمبر ہیں جنہوں نے لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی[2] آپ قوم ثمود کے پیغمبر تھے۔[3] جو مدینہ کے شمال میں سکونت پذیر تھی اور جناب صالحؑ سے پہلے وہ لوگ بت پرست تھے۔[4]

قرآن مجید میں 9 دفعہ صالحؑ کا نام مختلف سورتوں میں جیسے سورہ اعراف، ہود اور بعض دوسری سورتوں میں نوحؑ اور ہودؑ کے بعد ذکر ہوا ہے۔[5] لیکن توریت میں اس نام سے کسی پیغمبر کا ذکر نہیں ہوا ہے۔ [6]

جناب صالح نے ۲۸۰ کی عمر میں وفات پائی اور عراق کے شہر نجف میں وادی السلام نامی قبرستان میں دفن ہوئے۔[7]

قوم ثمود اور صالحؑ کی رسالت

جناب صالحؑ تقریباً سولہ سال کی عمر میں نبوت کے لئے مبعوث ہوئے۔ منقول ہے کہ آپ نے 120 سال کی عمر تک اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی لیکن انہوں نے آپ کی ایک نہ سنی۔ صالحؑ ان سے کہتے ہیں کہ میں تمہارے خداوں سے ایک درخواست کرتا ہوں اور تم لوگ میرے خدا سے ایک درخواست کرو تاکہ حقیقت واضح ہوجائے۔[8] جناب صالحؑ بتوں سے ایک درخواست کرتے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملتا ہے اس کے مقابلے میں جب بت پرستوں نے جناب صالحؑ سے کہا کہ اپنے خدا سے درخواست کریں کہ اس پہاڑ کے اندر سے ایک اونٹنی باہر لے آئے اور ایسا ہوتا ہے۔ قرآن جناب صالح کو قوم ثمود کے پیغمبر کے طور پر متعارف کرتا ہے جس کی مخالفت کی وجہ سے ان کی قوم پر عذاب نازل ہوا۔ [9] صالحؑ قوم ثمود سے ہیں جو قوم عاد کے بعد آئے اور یمن کے عربوں میں سے تھے۔[10] بعض تفاسیر کے مطابق قوم ثمود نے پرستش کے لیے 70 بت بنائے تھے۔ [11]

ناقہ صالح

تفصیلی مضمون: ناقہ صالح

وہ اونٹنی جو حضرت صالحؑ کے معجزہ کے طور پر پہاڑ کے اندر سے نکلی، قرآنی آیات کے مطابق حضرت صالح نے اپنی قوم سے اس اونٹنی کو نہ مارنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن انہوں نے اسے مار ڈالا اور اللہ تعالی نے اس نافرمانی کی وجہ سے عذاب نازل کیا۔ [12] قرآنی آیات کے مطابق اللہ تعالی نے اس علاقے کے پانی کو یوں تقسیم کیا کہ ایک دن اونٹنی کو پینے کے لیے اور دوسرے دن لوگوں کے لیے [13] اونٹنی اپنی باری پر پانی پینے آتی تھی اور دن کے آخر میں واپس جاتی تھی اور جس دن اونٹنی کی باری تھی اس دن لوگ اس کے دودھ سے استفادہ کرتے تھے۔ [14]

حوالہ جات

  1. تفسیر در المنثور، ج۳، ص۹۴.
  2. قطب راوندی، قصص الانبیاء، مکتبہ العلامہ المجلسی. ص۲۷۹.
  3. سورہ اعراف، آیہ ۷۳ و ۷۴.
  4. بوترابی، «صالح»، ۱۳۹۰ش، ص۲۵۳.
  5. بوترابی، «صالح»، ۱۳۹۰ش، ص۲۵۴.
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۲ق، ج۱۰، ص۳۱۸.
  7. بوترابی، «صالح»، ص۲۵۴.
  8. جزایری، داستان پیامبران، ۱۳۸۰ش، ص۱۷۳.
  9. سورہ ہود، آیہ ۶۱ و ۶۷.
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۲ق، ج۸، ص۱۸۱.
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۲۹۳؛ فیض کاشانی، تفسیر صافی، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۲۱۳.
  12. جزایری، داستان پیامبران، ۱۳۸۰ش، ص۱۷۳.
  13. سورہ قمر، آیہ ۲۸.
  14. طوسی، التبیان، دار الاحیاء، ج۹، ص۴۵۴.


مآخذ

  • بوترابی،‌ خدیجہ،‌ «صالح»، در دایرۃ المعارف تشیع، جلد ۱۰،‌ تہران، انتشارات حکمت، ۱۳۹۰ش.
  • جزایری، سید نعمت اللہ، داستان پیامبران، تہران، انتشارات ہاد، چاپ اول، ۱۳۸۰ش.
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، اسماعیلیان، چاپ پنجم، ۱۴۱۲ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، اعلمی، چاپ اول، ۱۴۱۵ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر صافی، قم، الہادی، ۱۴۱۶ق.
  • قطب راوندی، سعید بن ہبہ‌اللہ، قصص الانبیاء علیہم السلام، تحقیق: حلی، عبد الحلیم، قم، مکتبۃ العلامۃ المجلسی، بی‌تا.