مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

نجف

13 بائٹ کا اضافہ، 00:56، 12 فروری 2019ء
تاریخی آثار
کچھ عرصہ پہلے تک اس قلعہ کے بعض ستون باقی تھے لیکن اب اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے۔
* '''قلعہ نجف'''
نجف میں سلسلہ عثمانیہ کے ہاتھوں تعمیر ہونے والے بہت سارے مستحکم قلعے موجود تھے۔ اصفہان کے صدر اعظم حاجی محمد حسین خان نے ان قلعوں کے دیواروں کی مرمت کی اور اس میں دو دروازے بھی نصب کروائے۔ دروازہ نجف قلعہ کے دیوار کے ساتھ موجود تھا جس کے اطراف میں بازار تھا اور [[امام علی(ع) ]] کے روضے اقدس کے صحن میں جانے کا ایک راستہ بھی اسی قلعے سے گذرتا تھا۔ اس وقت صحن روضہ علوی کی تعمیر و توسعہ کی وجہ سے یہ قلعہ تخریب ہوا ہے۔
*'''صفہ صافی صفا'''
شہر نجف کے جنوبی سمت کے آخر میں ایک مرقد اور عظیم شان مقام واقع ہے جو "صفہ صفا" کے نام سے معروف ہے۔
صافی صفا مقام [[امام سجاد (ع)]] کے ساتھ واقع ہے اور اس وقت بھی اسی جگہ موجود ہے۔
*'''تکیہ بکتاشیہ'''
سلسلہ عثمانیہ کے دور میں صحن مطہر کے آس پاس مختلف تکیہ جات تعمیر ہوئی تھی ہوئے تھے جو "بکتاشیہ" نامی فرقے کی تھیں کے تھے اور اس مذہب کے بزرگان یہاں ٹہرا کرتے تھے۔ اسے بھی حرم مطہر کی تعمیر و توسعہ کی خاطر تخریب کی گئی کیا گیا ہے۔
*'''مقبرہ ذی الکفل'''
نجف سے [[حلہ]] کے راستے میں 40 کیلو میٹر کے فاصلے پر دریائے [[فرات]] کے کنارے ایک بستی میں بنی اسرائیل کا ایک پیغمبر "ذی الکفل" مدفون ہیں۔ یہ پیغمیر چونکہ یہودیوں کا کے کفیل تھا اسی بنا پر اسے انہیں ذی الکفل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ اس بستی میں اینٹوں کا ایک چوٹا قلعہ ہے "ذی الکفل" پیغمبر کا مقبرہ اسی قلعہ کے اندر موجود ہے۔ یہودیوں نے پرانے قدیم صدیوں میں اس منطقے علاقے میں عمارتیں تعمیر کروائی تھیں جن میں رہایش پذیر افراد یہودی اور عربی نژاد تھے جو بعد میں سب کے سب [[فلسطین]] چلے گئے۔ ہر سال دنیا کے مختلف علاقوں سے یہودی یہاں آکر ایک ماہ تک یاں یہاں قیام کرتے تھے۔ اس مقبرہ کے پچھلے سمت میں ایک [[مسجد ]] ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جواریوں حواریوں میں سے چار افراد اس میں مدفون ہیں اور "ذی الکفل" نبی کی بیٹی کا کی قبر بھی اسی میں ہے۔
*'''برج نمرود'''
فرات کے کنارے وادی "ذی الکفل" کے قریب ایک پہاڑی ہے جس کے اوپر اینٹوں کا ایک قلعہ تعمیر کیا گیا ہے جو تہ خانے پر بھی مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ [[حضرت ابراہیم]] کو اسی جگہ آگ میں پھینکا گیا تھا یہ برج اور پہاڑ شہر بابل کے آثار قدیمہ میں شمار کیا جاتا ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے باوجود اب بھی اپنی جگہ قائم ہے۔
16,427
ترامیم