مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

مرجع تقلید

70 بائٹ کا ازالہ، 13:17، 3 مارچ 2018ء
صاحب جواهر اور مرجعیت کا آغاز
آیت الله بروجردی کی وفات کے بعد کوئی متمرکز مرجعیت نہیں رہی اور متعدد مراجع تقلید ایران اور عراق میں شیعوں کے مرجع بنے۔<ref>قربانی، تاریخ تقلید در شیعه، ۱۳۹۴ش، ص۳۷۳</ref>اگرچہ اس دَور کے ابتدائی سالوں میں [[سید محسن حکیم]](م ۱۳۹۰ھ) جو نجف میں سکونت کرتے تھے؛ دوسروں سے زیادہ مقبول تھے۔<ref>جعفریان، تشیع در عراق مرجعیت و ایران، ۱۳۸۶ش، ص۸۱</ref>اور اس 33 سالہ دَور کے آخر میں [[اسلامی جمهوریہ ایران]] کے بانی [[سید روح الله خمینی]] (م ۱۴۰۹ھ) ایران میں سکونت پذیر تھے اور سب سے زیادہ مقبول واقع ہوئے جبکہ [[سید ابوالقاسم خوئی]] نجف میں مقیم مراجع میں سب سے زیادہ باثر تھے۔
پس از درگذشت [[سید ابوالقاسم خوئی]] در ۱۴۱۳ق (۱۳۷۰ش) در فاصله‌ای سه ساله کی سنہ ۱۴۱۳ھ کو وفات کے بعد شیعوں کی مرجعیت فراگیر شیعه در [[حوزه علمیه حوزہ علمیہ قم]] متمرکز بود. دلیل این وضعیت را می‌توان درگذشت مراجع نجف، [[معاودین|اخراج بسیاری از تحصیل‌کردگان ایرانی از میں تھی۔ اس کی وجہ نجف میں مقیم مجتہدوں کی وفات اور بہت سارے ایران کے نجف]] و محدودیت‌های اعمال شده از سوی حزب حاکم بعث در میں مقیم علما کو عراق دانست. مهاجرت اجباری ایرانیان ساکن سے نکالنا اور بعثی حکومت کی طرف سے بعض محدودیتیں تھی۔ نجف باعث سکونت بسیاری از آنان در میں مقیم ایرانیوں کو زبردستی نجف سے نکالنے پر ان میں سے اکثر قم و ضعیف شدن حوزه علمیه میں بسنے لگے اور اس سے نجف شد . کا حوزہ کمزور ہوگیا۔ [[سید محمد رضا گلپایگانی]] و اور [[محمد علی اراکی]] دو مرجع اس مختصر دَورے کے مشہور مراجع تقلید مشهور این دوره نه چندان طولانی بودند.میں سے ہیں۔
دوره متاخر مرجعیت با درگذشت کا آخری دَوره سنہ 1415ھ کو [[محمد علی اراکی]] در سال ۱۳۷۳ش (۱۴۱۵ق) آغاز شده است. در این دوره مراجع تقلید متعددی در کی وفات سے شروع ہوگیا اور اس دَور [[ایران]]، [[عراق]]، [[لبنان]] و ، [[افغانستان]]اور [[پاکستان]] عهده‌دار این مسئولیت شده‌اند.سے بہت سارے مجتہدین اس عہدے پر فائز ہوئے۔
== مرجعیت در عراق ==
16,223
ترامیم