مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

مرجع تقلید

1 بائٹ کا اضافہ، 13:49، 3 مارچ 2018ء
مرجعیت اور عراق
سنہ۱۳۴۴ تا ۱۳۵۷ش تک آیت الله [[سید روح الله موسوی خمینی|سید روح الله خمینی]] بھی ایران سے عراق کی طرف جلا وطن ہوئے اور نجف میں بسنے لگے۔
۱۳۵۰ش کی دہائی میں عراق کی حکومت نے عراق میں بسنے والے بہت سارے ایرانیوں کو عراق سے خارج کیا اور اسی وجہ سے حوزہ علمیہ نجف کے بعض اساتذہ اور طلاب بھی عراق سے نکل کر ایران، اور خاص کر قم میں بسنے لگے۔ اور یہ مہاجرت ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ساتھ تھی اور بعثی حکومت کی طرف سے نجف میں مقیم مجتہدوں پر بڑا دباؤ تھا جس کی وجہ سے آیندہ کی مرجعیت متاثر ہوئی اور مرجعیت میں ایرانی کردار زیادہ ہونے لگا۔
پس از [[انتفاضه شعبانیه عراق|انتفاضه شعبانیه]] کے بعد عراق کی حکومت عراق سخت‌گیری‌های بیشتری بر حوزه‌ نے حوزہ نجف اعمال کرد. در سال‌های نخست بعد از درگذشت پر مزید دباؤ بڑھا دیا اور ابتدائی سالوں میں خوئی و نیز اور محمد علی اراکی، اراکی کی وفات کے بعد خوئی کے دو تن از شاگردان خوئی شاگرد([[علی غروی تبریزی]] و اور [[مرتضی بروجردی]]) که به عنوان کہ جو مرجع مطرح بودند هدف ترور قرار گرفته و کشته شدند. مدتی طور پر مشہور تھے ٹارگٹ کلینگ میں مارے گئے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد نیز [[سید محمد باقر صدر]] که از شاگردان کے شاگردوں میں سے [[سید محمد باقر صدر]] بود و جس کی مرجعیت او مورد بعض لوگوں کے لیے قابل قبول گروهی از شیعیان قرار گرفته بود کشته شد. این ترورها و فشارها عملا حوزه علمیه تھی وہ بھی مارا گیا۔ ان حادثات اور دباؤ نے عملی طور پر حوزہ علمیہ نجف را در انزوا قرار داد. با این حال هم‌چنان بخشی از کو منزوی کردیا۔ اس کے باوجود اب بھی شیعہ مرجعیت شیعه در حوزه کا ایک حصہ حوزہ علیمہ نجف میں باقی ماند.ہے۔
=== پس از سقوط رژیم بعث ===
16,223
ترامیم