مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

عبداللہ بن ابی حصین ازدی بجلی

7 bytes removed, 16:42, 31 اگست 2019
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
| دیگر فعالیتیں =[[عمر بن سعد]] کی لشکر کا سپاہی اور عمرو بن حجاج کے ماتحت فوجیوں میں سے ایک
}}
'''عبداللہ بن اَبی‌ حُصَین اَزدی بَجَلی''' [[واقعہ کربلا]] میں [[لشکر عمر بن سعد|عمر بن سعد کی لشکر]] کے افراد میں سے ایک ہے جو [[عمرو بن حجاج زبیدی|عمرو بن حجاج]] کے ماتحت افراد میں سے ہے اور امام حسینؑ پر پانی بند کرنے پر مامور افراد دستہ میں سے ایک ہے۔ شامل تھا۔ کہا گیا ہے کہ [[امام حسینؑ]] نے اس پر نفرین کیا ہے۔
== نام و نسب ==
عبداللہ بن ابی‌حصین ابی‌ حصین کو بجلیہ قبیلے میں سے قرار دیا گیا ہے۔<ref> ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۳، ص۲۸۱، ۳۰۳، ج۴، ص۵۳؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۱۲.</ref> مآخذ میں اسے عبداللہ بن حصین<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۸۱؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۸۷؛ ابن نما، مثیرالاحزان، ۱۴۰۶ق، ص۷۱؛ قمی، نفس المہموم، المکتبۃ الحیدریۃ، ص۳۰۱؛ مجلسی، بحارالانوار، بحار الانوار، ۱۴۰۴ق، ج۴۴، ص۳۸۹؛ طبرسی، اعلام الوری، دار الکتب الإسلامیۃ، ص۳۲۵.</ref> سے یاد کیا ہے۔ نیز عبداللہ بن حصن ازدی<ref>ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ۱۴۱۸ق، ص۲۲۳.</ref> بھی ذکر ہوا ہے۔
==ابن سعد کی لشکر میں شرکت==
عبداللہ بن ابی‌حصین، ابی‌ حصین، [[واقعہ کربلا]] میں عمر بن سعد کی فوج میں شامل تھا اور عمرو بن حجاج کے ماتحت سپاہیوں میں سے ایک تھا جو امام حسینؑ اور ان کے اصحاب پر پانی بند کرنے پر مامور تھے۔ سات محرم الحرام کو [[عبیداللہ بن زیاد]] نے ایک خط کے ذریعے [[عمر بن سعد]] کو حکم دیا کہ امام حسینؑ اور پانی کے درمیان حائل ہوجائے۔ ہو جائے۔ عمر سعد نے عمرو بن حجاج کو امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی [[فرات|شریعہ فرات]] تک رسائی سے مانع بننے کا حکم دیا۔ مآخذ کے مطابق، عبداللہ بن ابی حصین ازدی نے امام حسینؑ سے کہا:
::: «کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ پانی آسمان کے قلب کی مانند ہے! [[خدا]] کی قسم تم ایک گونٹ بھی نہیں پی سکو گے یہاں تک کہ پیاسا مرجاؤ گے۔»
امام حسینؑ نے فرمایا: « خدایا! اسے پیاسا مار دے اور کبھی اسے معاف نہ کریں۔»<ref> طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۱۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۸۱؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۱۲.</ref> [[حمید بن مسلم ازدی]] کی روایت کے مطابق، وہ واقعہ کربلا کے بعد بیمار ہوا اور جتنا بھی پانی پیتا تھا اس کی پیاس نہیں بجھتی تھی اور اسی حالت میں دنیا سے چلا گیا۔<ref> طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۱۲؛ ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۱۲؛ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۴، ص۵۳-۵۴.</ref>
16,427
ترامیم