مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

غرر الحکم و درر الکلم (کتاب)

362 bytes removed, 15:50, 29 جولائی 2016
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
میرزا عبداللہ افندی آپ کی طرف سے حضرت علی(ع) کو مذکورہ القاب میں توصیف کرنے کی وجہ کو [[تقیہ]] یا کتاب کے کاتبان اور نقل کرنے والوں کی کوتاہی یا دخل اندازی قرار دیتے ہیں۔<ref>افندی، ''ریاض العلماء''، ج۳، ص۲۸۱.</ref> [[محدث نوری]] کئی قرائن و شواہد کے ساتھ آپ کا شیعہ ہونا ثابت کرتے ہیں۔ <ref>نوری، ''خاتمۃ المستدرک''، ج۳، ص۹۱-۹۶.</ref>
==محتوا و کتاب کے مضامین اور ساختار کتاب==<!--{{جعبه نقل قول | عنوان = | نقل‌قول = '''یہ کتاب [[امام علی(ع)''': {{عربی| بِحُسنِ الاَخلاقِ يَطيبُ العَيشُ|ترجمه=به اخلاق نیکوست که زندگی نیکو می‌شود.}} |تاریخ بایگانی || منبع = <small>[[[http://www.hadithcity.com/Hadith.aspx?id=3484 غرر الحکم]]] .</small> | تراز = چپ| عرض = 230px | اندازه خط = 14px|رنگ پس‌زمینه=#D3F5D7| گیومه نقل‌قول = | تراز منبع = چپ}}این کتاب حاوی ۱۰۷۶۰ کے 10760 [[حدیث|احادیث]] کوتاه از [[امام علی(ع)]] است که آمِدی از کتاب‌‏هایی مانند اور کلمات قصار پر مشتمل ہے جسے مؤلف نے ''[[نهج البلاغهنہج البلاغہ]]''، [[مائة کلمة مائۃ کلمۃ (کتاب)|''مائة کلمةمائۃ کلمۃ'']] [[جاحظ]]، ''[[تحف العقول]]'' و اور ''[[دستور معالم الحکم]]'' گرد آورده است. وی این احادیث را با نظر به نخستین کلمۀ جیسی کتابوں سے جمع کیا ہے۔ مؤلف نے اس کتاب کو ہر حدیث و به ترتیب کی ابتدائی حرف کے مطابق حروف الفبا در ۹۱ تہجی کے اعتبار سے 91 باب سامان داده است. برای آسان‌شدن یافتن یک روایت در موضوعی خاص، این اثر در چاپ‌های جدید به صورت ترتیب موضوعی تدوین شده است.میں مرتب کیا ہے۔ کسی خاص موضوع کے بارے میں موجود احادیث کو با آسانی دریافت کرنے کی خاطر اس کتاب کو بعد میں موضوع کے لحاظ سے بھی منتشر کیا ہے۔
[[روایت|روایات]] ''غرر الحکم'' از نظر موضوعی کی [[حدیث|احادیث]] موضوع کے اعتبار سے عام است و شامل روایات ہیں جن میں اعتقادی، اخلاقی، عبادی، اجتماعی و اور سیاسی می‌شود. این روایات بدون موضوعات پر احادیث شامل ہیں۔ یہ احادیث بغیر [[سند روایت|سند]] آورده شده‌اند. نویسنده در مقدمه کتاب می‌گوید خودش سندها را حذف کرده است.کے ذکر کیا گیا ہے اور مؤلف مقدمے میں اسناد کو حدف کرنے کی علت کی طرف اشارہ کیاہے۔ <ref>آمدی، ''غرر الحکم''، مقدمهمقدمہ.</ref> آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی گویدفرماتے ہیں: روایات این اس کتاب به دلیل کی حدیثیں سند نداشتن نہ ہونے کی وجہ سے قابل استناد نیست.نہیں ہیں۔<ref>مکارم شیرازی، ''انوار الفقاهه''، کتاب البیع، ص۴۶۵.</ref>
==انگیزه نگارش تألیف کا مقصد ==<!--
مؤلف آن‌گونه که در آغاز کتاب می‌گوید، پس از آنکه کتاب ''[[مائه کلمه]]'' (صد کلمه) [[جاحظ]] را می‌بیند، تصمیم می‌گیرد کتابی مشتمل بر سخنان [[امیرالمؤمنین]](ع) تدوین کند. مؤلف همچنین جاحظ را به سبب اینکه فقط همین تعداد اندک (صد کلمه) را گرد آورده، نکوهش می‌کند و سپس می‌گوید:
::من با همه گرفتاری خاطر، و کوتاهی از رتبه اهل کمال، در حالی که به عجز و ناتوانی از دریافت آنچه که فضلای صدر اول خواسته و در آن راه قدم نهاده‌اند، و کوتاه‏ دستی خویش را از گردیدن در میدانشان و کم‏ وزنی خود را در میزانشان می‌دانم و اعتراف دارم، با این حال همت گماشتم تا آن‏جا که تیررس فکر من است، از سخنان آن حضرت گرد آورم.<ref>آمدی، ''غرر الحکم''، مقدمه کتاب.</ref>
19,929
ترامیم