مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

احمد بن علی نجاشی

9 bytes removed, 08:52, 27 مارچ 2017
م
دقت و وثاقت در نقل روایت
* '''اخبار بنی سنسن'''؛ نجاشی ذیل نام [[ابوغالب زراری]] از این کتاب نام می‌برد.<ref>نجاشی، رجال نجاشی، ۱۴۱۶، ص۸۴.</ref>
== دقت و اور وثاقت در نقل روایت ==<!--از جمله نجاشى سے متعلق قابل توجہ مسائل قابل توجه پيرامون نجاشى آن است كه وى تنها از موثقين و میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے صرف موثق اور معتبر افراد معتبر روايت سے روایت نقل كرده و با اينكه روايات فراوانى از کی ہے جبکہ ضعیف اور متہم بطعن افراد ضعيف يا متهم به ضعف و طعن در اختيار داشته آنها را اصلا نقل نكرده است.کی اکثر روایات اختیار میں ہونے کے باوجود انہیں ذکر نہیں کیا ہے ۔در موارد فراوانى می ‏گويد:اکثر جگہوں پر کہتے ہیں ::::در فلان موضوع رواياتى در اختيار دارم كه از شخصى ضعيف يا كتابى ضعيف و سے متعلق ضعیف اور مطعون است لذا آنها را افراد سے میرے اختیار میں روایات ہیں لیکن میں نے انہیں نقل نمی ‏كنم.کرنے گریز کیا ہے ۔
احتياط و توجه او به حدى بوده كه حتى اور توجہ اس حد تک تھی کہ وہ ضعیف افراد سے روایت سننے کیلئے حاضر به شنيدن حديث از افراد ضعيف هم، نبوده است. اين نكته، ارزش نہ تھے ۔اس نقطے نے نجاشی کی منقولات بزرگانى چون نجاشى را دو چندان کرده کو دوچندان کر دیا ہے اور یہ بات انسان کو نجاشی کی روایات کے بارے میں زیادہ اطمینان بخشتی ہے ۔== اقوال علما ==محمد باقر خوانساری کتاب [[حاوی الاقوال فی معرفۃ الرجال|حاوی]] میں شیخ [[عبدالنبی جزائری]] درسے نقل کرتا ہے ::::«نجاشی رجال کے احوال ضبط کرنے میں جلیل اور عظیم الشأن عالم ہے ۔ علمائے متأخرین رجال کی جرح و انسان را نسبت به روايات آنها مطمئن می ‏سازدتعدیل میں اس کی گفتار پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ <ref>خوانساری، روضات الجنات، قم، ج۱، ص۶۱.</ref>
== در کلام بزرگان ==[[محمد باقر خوانساری]] به نقل از شیخ [[عبدالنبی جزائری]] در کتاب [[حاوی الاقوال فی معرفة الرجال|حاوی]] می‌نویسد::::«نجاشی مردی جلیل و عالمی عظیم الشأن در ضبط احوال رجال بود و متأخران علما در جرح و تعدیل رجال به گفتار او اعتماد کامل داشتند».<ref>خوانساری، روضات الجنات، قم، ج۱، ص۶۱.</ref> [[محدث قمی]] درباره او می‌گویدانکے متعلق لکھتے ہیں ::::«وی از بزرگ‌ترین عالمان وہ علم رجال بود، علمای کے بزرگ تری عالم تھے ۔ہمارے بزرگ ما که در صدد علما میں رجال کی تنظیم و تألیف رجال و اور جرح و تعدیل آنها اقدام نموده‌اند هیچ کدام به میں کوئی بھی نجاشی نرسیده‌اند و همه کو نہیں پہنچتا ہے۔تمام علما بر وی نے اس پر اعتماد کرده‌اند.» کیا ہے ۔<ref>قمی، الکنی و الالقاب، تهران، تہران، ج۳، ص۲۳۹.</ref>-->
==مزید مطالعہ==
15,578
ترامیم