مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی شادی

60 bytes removed, 10:56, 12 فروری 2018
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
[[حضرت علی(ع)علیؑ]] اور [[حضرت فاطمہ(س)]] کی شادی دوسری ہجری میں ہوئی اور [[اہل تشیع]] اسی مناسبت سے [[ذوالحجہ]] کی پہلی تاریخ کو جشن مناتے ہیں. حضرت فاطمہ(س) کا رشتہ مانگنے کے لئے کئی لوگ آئے کہ [[حضرت پیغمبر(ص)]] نے ان میں سے علی بن ابی طالب(ع) طالبؑ کو انتخاب فرمایا اور اسے آسمانی پیوند کہا اور فرمایا کہ فاطمہ(س) اور علی(ع) علیؑ کی شادی کا فیصلہ خود خداوندمتعال نے فرمایا ہے. اور مشہور قول کے مطابق حضرت زہراء(س) کا حق مہر، پانچ سو درہم تھا.
==حضرت فاطمہ(س) کا ہاتھ مانگنا==
شیعہ اور سنی کے منابع میں حضرت فاطمہ(س) کا رشتہ مانگنے کے بارے میں مختلف قول نقل ہوئے ہیں. کہا گیا ہے کہ [[مدینہ]] میں، کچھ [[صحابہ]] جیسے [[ابوبکر]]، [[عمربن خطاب]] اور [[عبدالرحمن بن عوف]] فاطمہ(س) کا ہاتھ مانگنے کے لئے آئے، لیکن پیغمبر(ص) نے جواب میں فرمایا کہ آپ(س) کی شادی خدا کے ہاتھ میں ہے اور فرمایا کہ میں خود اس بارے میں خدا کے حکم کا منتظر ہوں.<ref>ابن سعد، طبقات، ح۸، ص۱۱؛ قزوینی، فاطمة الزهراء الزہراء از ولادت تا شهادت، شہادت، ص۱۹۱.</ref>بعض مہاجرین نے حضرت علی(ع) علیؑ سے کہا: کہ آپ حضرت فاطمہ(س) کا رشتہ کیوں نہیں مانگتے؟ آپ(ع) آپؑ نے جواب دیا: ''خدا کی قسم کے میرے پاس کچھ نہیں ہے'' تو مہاجرین نے کہا کہ پیغمبر(ص) آپ سے کچھ نہیں مانگیں گے. آخر کار علی(ع) علیؑ رسول خدا(ص) کے پاس گئے لیکن شرم کی وجہ سے اس بارے میں کوئی درخواست نہ کی. تیسری بار آخر آپ(ع) آپؑ نے اس بارے میں حضرت پیغمبر(ص) سے بات کی. پیغمبر(ص) نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ علی(ع) علیؑ نے فرمایا: ''یا رسول اللہ(ص) ایک زرہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے''. حضرت پیغمبر(ص) نے حضرت فاطمہ(ع) فاطمہؑ کی ساڑھے بارہ اوقیہ سونا حق مہر رکھنے کے بعد حضرت علی(ع) علیؑ کے ساتھ شادی کر دی اور زرہ بھی حضرت علی(ع) علیؑ کو واپس لوٹا دی.<ref> اعلام الوری، ج۱، ص۱۶۱؛ تاریخ تحقیقی اسلام، محمد هادی ہادی یوسفی غروی، ج۲، ص۲۵۱.</ref>
کہا گیا ہے کہ بعض مہاجرین نے اس بات پر شکوہ کیا تو حضرت پیغمبر(ص) نے فرمایا: ''فاطمہ کا ہاتھ علی کے ہاتھ میں، میں نے نہیں دیا بلکہ [[خدا]] نے دیا ہے''. <ref> تاريخ يعقوبي، ج۲، ص۴۱.</ref>
==نکاح کا خطبہ==
ابن شہر آشوب نے مناقب آل ابی طالب میں لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ(س) کی شادی کے وقت حضرت پیغمبر(ص) منبر پر گئے اوریہ خطبہ ارشاد فرمایا:
<font color = green> {{حدیث|'''الحمد لله للہ المحمود بنعمته، بنعمتہ، المعبود بقدرته، بقدرتہ، المطاع فی سلطانه، سلطانہ، المرغوب الیه الیہ فیما عنده، المرهوب عندہ، المرہوب من عذابه، عذابہ، النافذ امره امرہ فی سمائه وارضه، سمائہ وارضہ، خلق الخلق بقدرته ومیّزهم باحکامه واعزّهم بدینه واکرمهم بنبیه بقدرتہ ومیّزہم باحکامہ واعزّہم بدینہ واکرمہم بنبیہ محمّد. انّ الله اللہ جعل المصاهرة المصاہرة نسباً لاحقاً وامراً مفترضاً وَشَج بهاالارحام والزمها بہاالارحام والزمہا الانام. قال تعالی «هو «ہو الذی خلق من الماءِ بشراً فجعله فجعلہ نسباً وصهراًوصہراً'''}}</font> <ref> فرقان، آیه آیہ ۵</ref>
پھر آپ(ص) نے فرمایا: خداوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ فاطمہ(س) کا نکاح علی(ع) علیؑ کے ساتھ کروں اور اگر علی راضی ہو تو چار سو مثقال چاندی حق مہر کے طور پر میں فاطمہ (س) کا نکاح علی(ع) علیؑ کے ساتھ کر دوں. علی(ع) علیؑ نے فرمایا میں اس کام پر راضی ہوں. <ref> مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۳۵۰</ref>
==شادی کی تاریخ==
{{ستون آ|2}}
*کلینی نے [[اصول کافی|کافی]] میں [[امام سجاد(ع)سجادؑ]] سے قول نقل کیا ہے کہ [[ہجرت مدینہ]] کے ایک سال بعد، رسول اللہ(ص) نے حضرت فاطمہ(س) کی شادی حضرت علی(ع) علیؑ کے ساتھ کر دی.<ref> روضه روضہ کافی، ص۱۸۰.</ref> یہ قول، دوسرے قول جو طبرئ نے امام باقر(ع) باقرؑ سے نقل کیا ہے اس کے ساتھ سازگار ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ ہجری کے دوسرے سال صفر کا مہینہ شروع ہونے میں کچھ دن باقی تھے تو اس وقت علی(ع) علیؑ نے حضرت فاطمہ(س) سے شادی کی.<ref>تاریخ طبری، ابو جعفر محمد بن جریر طبری، ج۲، ص۴۱۰</ref>[[ابوالفرج اصفہانی]] نے مقاتل الطالبیین میں طبری کا یہی قول لکھا اور اس کے بعد کہا کہ: .. [[جنگ بدر]] سے واپسی پر علی(ع) علیؑ نے فاطمہ(س) شادی کی. <ref> مقاتل الطالبین، ابوالفرج علی بن الحسین الاصفهانی، الاصفہانی، تحقیق سید احمد صقر، بیروت، دارالمعرفه، دارالمعرفہ، بی‌تا، ص۳۰، و اضافه کرده اضافہ کردہ است که فاطمه زهرا کہ فاطمہ زہرا (س) در آن هنگام هجده ساله بوده ہنگام ہجدہ سالہ بودہ است.</ref>*پیغمبر(ص) نے ہجرت کے دوسرے سال، پہلی ذوالحجہ کو حضرت فاطمہ(س) کو امیرالمومنین(ع) امیرالمومنینؑ کے گھر بھیجا. <ref>بحارالانوار، علامه علامہ مجلسی، ج۴۳، ص۹۲.</ref> اس لئے شادی اور نکاح کے درمیان تقریباً دس مہینے کا فاصلہ تھا. شاید نکاح کا صیغہ جلدی پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ دوسرے رشتے مانگنے والے لوگوں کے لئے جواب واضح ہو جائے اور شادی کی دیر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ فاطمہ(س) جسمی رشد ونما کے لحاظ سے بہتر ہو جائیں. <ref> یوسفی غروی، محمد هادی؛ ہادی؛ تاریخ تحقیقی اسلام، ج۲، ص۲۵۰.</ref>
*سید ابن طاؤوس نے اس شادی کی تاریخ شیخ مفید کے حوالے سے اکیس محرم الحرام ذکر کی ہے ۔<ref>سید ابن طاوس ،الاقبال،2/584</ref>
*جنگ بدر سے واپسی پر ماہ شوال میں یہ شادی ہوئی۔<ref>شیخ طوسی، الأمالی، ص 43، دار الثقافہ، قم، 1414ق.</ref>
*جنگ بدر سے واپسی پر 6 ذی الحج کو ہوئی۔<ref>شیخ طوسی، الأمالی، ص 43، دار الثقافہ، قم، 1414ق.</ref>
*امام صادق (ع) کی روایت کے مطابق : ہجرت کے دوسرے سال ماہ رمضان میں حضرت على اور فاطمہ (ع) ؑ کا باہمی عقد اور شادی ذى الحجّہ میں ہوئی <ref>اربلی،کشف الغمہ،1/374، دار الأضواء - بيروت - لبنان</ref>۔
*...۔
{{ستون خ}}
==حق مہر اور جہیز==
تاریخی منابع کے مطابق حضرت زہراء(س) کا حق مہر ٤٠٠ سے ٥٠٠ درہم کے درمیان تھا.<ref>ابن شهر شہر آشوب، مناقب، ج۳، ص۳۵۰، ۳۵۱، و متقی هندی، ہندی، فاضل، کنزالعمال، ج۱۳، ص۶۸۰. </ref> امام رضا(ع) رضاؑ کی حدیث کے مطابق حق مہر کی سنت، کہ جو ''مہرالسنہ'' سے مشہور ہے، وہ ٥٠٠ درہم معین ہوا تھا. <ref>علامه علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج۹۳، ص۱۷۰، روایت ۱۰ </ref>٥٠٠ درہم تقریباً ١٢٥٠ <ref>http://www.bahjat.org/index.php/ahkam-2/esteftahat/76-2011-09-06-09-10-59.html</ref> سے ١٥٠٠ گرام <ref>در میزان دقیق وزن درهم درہم اختلاف نظر وجود دارد. </ref>چاندی ہے اور اس زمانے میں ہر دس درہم چاندی ایک دینار سونے کے برابر تھی، اور مہرالسنہ(حق مہر) تقریباً ١٧٠تا٢٢٣ گرام سونا بنتا ہے. <ref>http://www.sistani.org/persian/qa/0929/</ref> یہ مقداربھی درہم اور دینار کے وزن مختلف ہونے کی وجہ سے، مختلف ہے. <ref>نجفی، جواهر جواہر الکلام، ج۱۵، ص۱۷۴-۱۷۹. توضیح المسائل مراجع، ج۲، ص۱۲۹</ref>[[امام علی(ع)علیؑ]] حق مہر کی ادائیگی کے لئے'' زرہ، بھیڑ کا چمڑا، یمنی کرتا یا اونٹ ''ان میں سے کوئی ایک چیز فروخت کی تھی. جب رقم پیغمبر(ص) کو دی تو آپ(ص) نے اس رقم کو گنے بغیر، کچھ رقم [[بلال حبشی|بلال]] کو دی اور فرمایا: اس رقم سے میری بیٹی کے لئے اچھی خوشبو خرید کر لے آؤ! اور باقی بچی رقم [[ابوبکر]] کو دی اور فرمایا: اس سے کچھ گھر کی اشیاء جن کی ضرورت میری بیٹی کو ہو گی وہ تیار کرو. پیغمبر(ص) نے [[عمار یاسر]] اور کچھ اور صحابہ کو بھی ابوبکر کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ حضرت زہراء(س) کے جہیز کے لئے کچھ اشیاء تیار کریں.
===جہیز===
شیخ طوسی نے جہیز کی فہرست یوں لکھی ہے:
پیغمبر اکرم(ص) نے بلال حبشی کو بلایا اور فرمایا:
''میری بیٹی کی شادی، میرے چچا کے بیٹے سے ہو رہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری امت کے لئے یہ سنت ہو کہ شادی کے دن کھانا دیں. اس لئے جاؤ اور ایک بھیڑ اور پانچ مد جو مہیا کرو تا کہ مہاجرین اور انصار کو دعوت دوں''
بلال نے یہ سب تیار کیا اور رسول اللہ(ص) کے پاس لے آیا آپ(ص) نے یہ کھانا اپنے آگے رکھا. لوگ پیغمبر(ص) کے حکم پر گروہ در گروہ [[مسجد]] میں داخل ہوئے اور سب نے کھانا کھایا جب سب نے کھا لیا تو کچھ مقدار میں جو بچ گیا تھا اسے آپ(ص) نے متبرک کیا اور بلال سے فرمایا: ''اس کھانے کو عورتوں کے پاس لے جاؤ اور کہو: یہ کھانا خود بھی کھائیں اور کوئی بھی اگر ان کے پاس آئے تو اسے بھی اس کھانے سے دیں'' <ref>یوسفی غروی، محمد هادی، ہادی، موسوعة التاریخ الاسلام، ج۲، ص۲۱۴.</ref>
==پیغمبر(ص) کی دعا==
شادی کے ولیمے کے بعد [[رسول خدا(ص)]] علی(ع) علیؑ کے ہمراہ گھر میں داخل ہوئے اور فاطمہ(س) کو آواز دی. جب فاطمہ(س) نزدیک آئیں، تو دیکھا کہ رسول اللہ(ص) کے ساتھ حضرت علی(ع) علیؑ بھی ہیں. رسول اللہ(ص) نے فرمایا: نزدیک آ جاؤ. فاطمہ(س) اپنے بابا کے نزدیک آئیں. رسول اللہ(ص) نے حضرت علی(ع) علیؑ اور حضرت فاطمہ(س) کے ہاتھ کو پکڑا اور جب فاطمہ(س) کا ہاتھ علی(ع) علیؑ کے ہاتھ میں دیا تو فرمایا: ''خدا کی قسم میں نے تمہارے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور تمہاری عزت کی اور اپنے خاندان کے بہترین فرد کو تمہارے لئے انتخاب کیا خدا کی قسم تمہاری شادی ایسے فرد سے کر رہا ہوں جو دنیا اور آخرت میں سید و آقا اور صالحین سے ہے... اپنے گھر کی طرف جائیں. خداوند یہ شادی آپکے لئے مبارک فرمائے اور آپکے کاموں کی اصلاح فرمائے. <ref>یوسفی غروی، محمد هادی؛ ہادی؛ موسوعة التاریخ الاسلام، ج۲، ص۲۱۴.</ref>رسول خدا(ص) نے اسماء بنت عمیس سے فرمایا: ''ایک برتن میں میرے لئے پانی لے آؤ'' اسماء فوراً گئیں اور ایک برتن پانی کا بھر کر لے آئیں. آپ(ص) نے پانی کا ایک چلو بھرا اور اسے حضرت فاطمہ(س) کے سر پر ڈالا اور پھر ایک چلو بھرا اور آپ(س) کے ہاتھوں پر ڈالا اور کچھ پانی آپ(س) کی گردن اور بدن پر ڈالا. پھر فرمایا: ''خدایا فاطمہ مجھ سے ہے اور میں فاطمہ سے ہوں. پس جس طرح ہر پلیدی کو مجھ سے دور کیا اور مجھے پاک وپاکیزہ کیا ہے اسی طرح اس کو بھی پاک و طاہر کر دے'' اس کے بعد فاطمہ(س) سے فرمایا کہ یہ پانی پئیں اور اس سے اپنے منہ کو دھوئیں اور ناک میں ڈالیں اور کلی کریں. پھر پانی کا ایک اور برتن طلب کیا اور علی(ع) علیؑ کو بلایا اور یہی عمل دھرایا اور آپ(ع) آپؑ کے لئے بھی اسی طرح دعا فرمائی اور پھر فرمایا:''خداوند آپ دونوں کے دلوں کو ایک دوسرے کے لئے نزدیک اور مہربان کرے اور آپکی نسل کو مبارک کرے اور آپکے کاموں کی اصلاح کرے''. <ref> یوسفی غروی، محمد هادی؛ ہادی؛ موسوعة التاریخ الاسلام، ج۲، ص۲۱۵</ref>
==پیغمبر(ص) کی ہمسایگی میں نقل مکان==
شادی کے کچھ دن گزرنے کے بعد، پیغمبر(ص) کے لئے فاطمہ(س) کی دوری مشکل ہو گئی اس لئے سوچا کہ بیٹی اور داماد کو اپنے گھر میں ہی جگہ دی جائے. حارث بن نعمان جو کہ آپ(ص) کا صحابی تھا جب وہ اس خبر سے آگاہ ہوا تو پیغمبر(ص) کے پاس آیا اور کہا:
میرے سب گھر آپ کے نزدیک ہیں. میرے پاس جو کچھ بھی ہے سب آپ کا ہی ہے. خدا کی قسم میں چاہتا ہوں کہ میرا مال آپ لے لیں یہ اس سے بہتر ہے کہ یہ میرے پاس ہو.
پیغمبر(ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: خدا تمہیں اس کا اجر دے.
اس طرح سے حضرت علی(ع) علیؑ اور حضرت فاطمہ(س) رسول خدا(ص) کے ہمسائے بن گئے. <ref>شهیدی، شہیدی، زندگانی فاطمه زهرا، فاطمہ زہرا، صص ۷۳-۷۲؛ نیز ر.ک: ابن سعد، طبقات، ج ۸، صص ۲۲-۲۳.</ref>
==حوالہ جات==
{{امام علی علیہ السلام}}
{{شیعہ مناسبتیں}}
[[fa:ازدواج علی (ع) و فاطمه فاطمہ (س)]][[ar:زواج الإمام علي من فاطمة الزهراء الزہراء عليهما السلام]]
[[en:Marriage of Imam 'Ali (a) and Lady Fatima (a)]]
[[fr:Mariage de l'Imam Ali (a) et Fatima (s)]]
15,983
ترامیم