مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

خطبہ متقین، امیر المؤمنین(ع) کے مشہور خطبوں میں سے ایک ہے جو آپ کے شیعوں میں سے ہمّام نامی شخص کی درخواست پر آپ نے بیان کیا ہے۔ یہ خطبہ نہج البلاغہ میں ذکر ہوا ہے اور اس میں امام علی (ع) متقی لوگوں کے اوصاف بیان فرماتے ہیں۔ اس خطبے میں متقی لوگوں کی فردی، اجتماعی اور عبادی کردار اور رفتار کو یوں بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے ہمام ان کو سننے کے بعد بے ہوش ہوئے اور وفات پاگئے۔

نام نسخہ خطبہ نمبر[1]
المعجم المفہرس و صبحی صالح ۱۹۳
فیض الاسلام، ابن میثم ۱۸۴
خوئی، ملاصالح ۱۹۲
ابن ابی الحدید، عبدہ ۱۸۶
ملافتح اللہ ۲۲۱
فی ظلال ۱۹۱
مفتی جعفر حسین (اردو) ۱۹۱
ذیشان حیدر جوادی (اردو) ۱۹۳

فہرست

خطبہ دینے کی وجہ

امیر المومنین علی علیہ السلام کے شیعوں میں سے ایک شخص بنام ہمام نے آپ سے متقی لوگوں کی صفات بیان کرنے کی خواہش ظاہر کی.[2] اس نے امیرالمؤمنین(ع)، سے عرض کی: « یا امیرالمومنین مجھ سے پرہیز گاروں کی حالت اس طرح بیان فرمائیں کہ ان کی تصویر میری نظروں میں پھرنے لگے۔حضرت نے جواب دینے میں کچھ تامل کیا۔پھر اتنا فرمایا کہ اے ہمام اللہ سے ڈرو اور اچھے عمل کرو،کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی و نیک کردار ہوں۔ہمام نے آ پ کے اس جواب پر اکتفا نہ کیا اور آپ کو (مزید بیان فرمانے کے ليے) قسم دی جس پر حضرت نے خدا کی حمد و ثنا کی اور نبی پر درود بھیجا اور اس کے بعد یہ خطبہ دیا.[3] کہا جاتا ہے کہ خطبہ ختم ہونے کے بعد ہمام بے ہوش ہوا اور بے ہوشی کے عالم میں دنیا سے چل بسا۔ امیرالمومنین (ع) نے کہا: خدا کی قسم! ان کے بارے میں اسی سے ڈرتا تھا۔ پھر فرمایا: جن لوگوں میں واضح پیغام سننے کی صلاحیت ہو تو ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ کسی نے کہا: «اے امیر المومنین تو پھر آپ کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کیا؟» آپ نے فرمایا: افسوس ہم تم پر، ہر اجل کے لیے ایک مخصوص وقت ہے اس وقت سے پہلے نہیں آسکتا ہے اور ہر اجل کے لیے ایک سبب ہے جس سے کوئی نہیں بچ سکتا ہے پس خاموش رہو اور پھر کبھی ایسی بات مت کہو یہ شیطان کی باتیں ہیں جو آپ کی زبان سے جاری ہوئی ہیں۔.[4]

نام

اس خطبے میں چونکہ متقی اور پرہیزگار لوگوں کی صفات بیان ہوئی ہیں اس لیے خطبہ متقین کہا جاتا ہے اور خطبہ کیلیے درخواست کرنے والے شخص کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے خطبہ ہمام بھی کہا جاتا ہے۔

مضمون

اس خطبے کا محور اس کے نام سے واضح ہے کہ اس میں متقی اور پرہیزگار لوگوں کی صفات بیان ہوئی ہیں۔ امام اس کی وضاحت میں متقی لوگوں کے معاشرتی اور فردی کردار، عبادت کرنے کا طریقہ اور اپنے بارے میں ان کی نظر کو بیان کرتا ہے۔ ان صفات کے ذیل میں بیان ہوتا ہے۔ البتہ ان صفات کا باہمی فرق کے بارے میں واضح تقسیم بندی متصور نہیں ہے اسی لیے بعض کو دوسروں میں شامل کیا جاسکتا ہے لیکن ہم نے اس کو نظم دینے کے لیے مندرجہ ذیل عنوانوں میں تقسیم کیا ہے۔

متقین کی اجتماعی صفات

معاشرے میں متقی لوگوں کی بعض صفات کچھ اس طرح ہیں:

  1. گفتار میں نیک
  2. میانہ روی
  3. خاضع
  4. محرّمات سے دوری
  5. مفید علم کو سننا
  6. علم کے حصول میں حریص ہونا
  7. سختیوں میں صبر
  8. جس نے ستم ڈھایا ہے اسے معاف کردینا
  9. بری باتوں سے اجتناب
  10. جو ان کے ذمے ہے اسے تباہ نہ کردنا
  11. غصہ پی جانا
  12. لوگ ان کی شر سے محفوظ رہے
  13. نیک کاموں کی امید

فردی صفات

  1. اپنے بارے میں بدگمان ہونا
  2. دوسروں کی تعریف کرنے سے ڈرنا
  3. یقین کے ساتھ ایمان رکھنا
  4. بردباری
  5. اخروی امور کی امید اور زہد

خالق سے رابطہ

  1. راتوں میں نماز اور قرآن کی تلاوت
  2. قرآن سے علاج لینا
  3. قرآنی آیات کی ان پر تاثیر
  4. عبادت میں خشوع و خضوع
  5. دن رات اللہ کی یاد اور حمد

ترجمہ اور شرح

یہ خطبہ نہج البلاغہ کے تمام ترجموں میں آنے کے علاوہ اسکے فارسی میں بعض مستقل ترجمے بھی ہوئے ہیں اور اسی طرح نہج البلاغہ پر لکھی جانے والی مختلف شروح کے علاوہ بھی بعض مستقل شرح بھی فارسی میں اس خطبے پر لکھی گئی ہیں

متن اور ترجمہ

خطبہ کا متنترجمہ:مفتی جعفر حسین
رُوی أنّ صاحِباً لأَمیرالمُؤمنِینَ(علیہ السلام) یُقالَ لَہ ہمّامُ کانَ رَجُلاً عابِداً، فَقالَ لَہ: یا أَمیرالمُؤمنینَ، صِفْ لِی الْمُتَّقینَ حَتّى کَأَنى أَنظُرُ إِلَیْہمْ. فَتَثاقَلَ(علیہ السلام) عَنْ جَوابِہ ثُمَّ قالَ: یا ہمَّام ! اِتَّقِ اللہ وَ أَحْسِنْ: فَـ (ـإِنَّ اللہ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوْا وَّ الَّذینَ ہمْ مُّحْسِنُونَ). فَلَمْ یَقْنَعْ ہمّامُ بِہذَا الْقَولُ حَتّى عَزَمَ عَلَیْہ، فَحَمِداللہ و أَثنى عَلَیہ، وَ صلّى عَلَى النَّبِىِّ(صلى اللہ علیہ وآلہ) ثُمَّ قالَ(علیہ السلام): بیان کیا گیا ہے کہ امیرالمومنین (علیہ السلام) کے ایک 1صحابی نے کہ جنہیں ہمام کہا جاتا ہے اور جو بہت عبادت گذار شخص تھے حضرت سے عرض کیا کہ یا امیرالمومنین مجھ سے پرہیز گاروں کی حالت اس طرح بیان فرمائیں کہ ان کی تصویر میری نظروں میں پھرنے لگے۔حضرت نے جواب دینے میں کچھ تامل کیا۔پھر اتنا فرمایا کہ اے ہمام اللہ سے ڈرو اور اچھے عمل کرو،کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی و نیک کردار ہوں۔ہمام نے آ پ کے اس جواب پر اکتفا نہ کیا اور آپ کو (مزید بیان فرمانے کے ليے) قسم دی جس پر حضرت نے خدا کی حمد و ثنا کی اور نبی پر درود بھیجا اور یہ فرمایا۔
أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللّہ ـ سُبْحَانَہ وَ تَعَالَى ـ خَلَقَ الْخَلْقَ حِینَ خَلَقَہمْ غَنِیًّا عَنْ طَاعَتِہمْ، آمِناً مِنْ مَعْصِیَتِہمْ، لاَِنَّہ لاَ تَضُرُّہ مَعْصِیَةُ مَنْ عَصَاہ، وَ لاَ تَنْفَعُہ طَاعَةُ مَنْ أَطَاعَہ. فَقَسَمَ بَیْنَہمْ مَعَایِشَہمْ، وَ وَضَعَہمْ مِنَ الدُّنْیَا مَوَاضِعَہمْ. اللہ سبحانہ، نے جب مخلوقات کو پیدا کیا تو ان کی اطاعت سے بے نیاز اور ان کے گناہوں سے بے خطر ہو کر کار گا ہ ہستی میں انہیں جگہ دی کیونکہ اسے نہ کسی معصیت کار کی معصیت سے نقصا ن ہے اور نہ کسی فرمانبردار کی اطاعت سے فائد ہ پہنچتا ہے۔اس نے زندگی کا سرو سامان ان میں بانٹ دیا ہے اور دنیا میں ہر ایک کو اس کے مناسب حال محل و مقام پہ رکھا ہے۔
فَالْمُتَّقُونَ فِیہا ہمْ أَہلُ الْفَضَائِلِ: مَنْطِقُہمُ الصَّوَابُ، وَ مَلْبَسُہمُ الاِقْتِصَادُ، وَ مَشْیُہمُ التَّوَاضُعُ. غَضُّوا أَبْصَارَہمْ عَمَّا حَرَّمَ اللّہ عَلَیْہمْ، وَ وَقَفَوا أَسْمَاعَہمْ عَلَى الْعِلْمِ النَّافِعِ لَہمْ. نُزِّلَتْ أَنْفُسُہمْ مِنْہمْ فِی الْبَلاَءِ کَالَّتِی نُزِّلَتْ فِی الرَّخَاءِ. چنانچہ فضیلت ان کے ليے ہے جو پرہیزگار ہیں کیو نکہ ان کی گفتگو جچی تلی ہو ئی، پہناوا میانہ روی اور چال ڈھال عجز وفروتنی ہے۔اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور فائدہ مندعلم پر کا ن دھر ليے ہیں ان کے نفس زحمت و تکلیف میں بھی ویسے ہی رہتے ہیں جیسے آرام و آسائش میں۔ ۔
وَ لَوْلاَ الاَْجَلُ الَّذِی کَتَبَ اللّہ عَلَیْہمْ لَمْ تَسْتَقِرَّ أَرْوَاحُہمْ فِی أَجْسَادِہمْ طَرْفَةَ عَیْن، شَوْقاً إِلَى الثَّوَابِ، وَ خَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ. عَظُمَ الْخَالِقُ فِی أَنْفُسِہمْ فَصَغُرَ مَادُونَہ فِی أَعْیُنِہمْ، فَہمْ وَ الْجَنَّةُ کَمَنْ قَدْ رَآہا، فَہمْ فِیہا مُنَعَّمُونَ، وَ ہمْ وَ النَّارُ کَمَنْ قَدْ رَآہا، فَہمْ فِیہا مُعَذَّبُونَ.اگر (زندگی مقررہ) مدت نہ ہوتی جو اللہ نے ان کے ليےلکھ دی ہے توثواب کے شوق اور عتاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے جسموں میں چشم زدن کے ليے بھی نہ ٹھہرتیں۔ خالق کی عظمت ان کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔اس ليےکہ اس کے ماسوا ہر چیز ان کی نظروں میں ذلیل و خوار ہے۔ان کو جنت کا ایسا ہی یقین ہے جیسے آنکھوں دیکھی چیز کا ہوتاہے تو گویا وہ اسی وقت جنت کی نعمتوں سے سر فراز ہیں اور دوزخ کا بھی ایسا ہی یقین ہے جیسے کہ وہ دیکھ رہے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہو تا ہے کہ جیسے وہاں کا عذاب ان کے گردو پیش موجود ہے۔
قُلُوبُہمْ مَحْزُونَةٌ، وَ شُرُورُہمْ مَأْمُونَةٌ، وَ أَجْسَادُہمْ نَحِیفَةٌ، وَ حَاجَاتُہمْ خَفِیفَةٌ، وَ أَنْفُسُہمْ عَفِیفَةٌ. صَبَرُوا أَیَّاماً قَصِیرَةً أَعْقَبَتْہمْ رَاحَةً طَوِیلَةً. تِجَارَةٌ مُرْبِحَةٌ یَسَّرَہا لَہمْ رَبُّہمْ. أَرَادَتْہمُ الدُّنْیَا فَلَمْ یُرِیدُوہا، وَ أَسَرَتْہمْ فَفَدَوْا أَنْفُسَہمْ مِنْہا. ان کے دل غمزدہ، مخزون اور لوگ ان کے شر و ایذا سے محفوظ و مامون ہیں۔ ان کے بدن لاغر،ضروریا ت کم اور نفس نفسانی خواہشوں سے بری ہیں۔انہوں نے چند مختصر سے دلوں کی ( تکلیفوں پر) صبر کیا جس کے نتیجہ میں دائمی آسائش حاصل کی۔یہ ایک فائدہ مند تجارت ہے جو اللہ نے ان کے ليےمہیا کی،دنیا نے انہیں چاہا مگر انہوں نے دنیا کو نہ چاہا اس نے تمہیں قیدی بنایا تو انہوں نے اپنے نفسوں کا فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لیا۔
أَمَّا اللَّیْلُ فَصَافُّونَ أَقْدَامَہمْ، تَالِینَ لاَِجْزَاءِ الْقُرْآنِ یُرَتِّلُونَہا تَرْتِیلاً. یُحَزِّنُونَ بِہ أَنْفُسَہمْ وَ یَسْتَثِیرُونَ بِہ دَوَاءَ دَائِہمْ. فَإِذَا مَرُّوا بِآیَة فِیہا تَشْوِیقٌ رَکَنُوا إِلَیْہا طَمَعاً، وَ تَطَلَّعَتْ نُفُوسُہمْ إِلَیْہا شَوْقاً، وَ ظَنُّوا أَنَّہا نُصْبَ أَعْیُنِہمْ. رات ہوتی ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے ہیں،جس سے اپنے دلوں میں غم و اندوہ تازہ کرتے ہیں اور اپنے مرض کا چارہ ڈھونڈتے ہیں۔جب کسی ایسی آیت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس میں جنت کی ترغیب دلائی گئی ہو،تو ا س کے طمع میں ادھر جھک پڑتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھنچتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ (پر کیف ) منظر ان کی نظروں کے سامنے ہے۔
وَ إِذَا مَرُّوا بِآیَة فِیہا تَخْوِیفٌ أَصْغَوْا إِلَیْہا مَسَامِعَ قُلُوبِہمْ، وَ ظَنُّوا أَنَّ زَفِیرَ جَہنَّمَ وَ شَہیقَہا فِی أُصُولِ آذَانِہمْ، فَہمْ حَانُونَ عَلَى أَوْسَاطِہمْ، مُفْتَرِشُونَ لِجِبَاہہمْ وَ أَکُفِّہمْ وَ رُکَبِہمْ، وَ أَطْرَافِ أَقْدَامِہمْ، یَطْلُبُونَ إِلَى اللّہ تَعَالَى فِی فَکَاکِ رِقَابِہمْ. اور جب کسی ایسی آیت پر ان کی نظر پڑتی ہے کہ جس میں (دوزخ سے )ڈرایا گیا ہو،تو اس کی جانب دل کے کانوں کو جھکا دیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ و پکار ان کے کانوں کے اندر پہنچ رہی ہے،وہ (رکوع میں) اپنی کمریں جھکائے اور (سجدہ میں) اپنی پیشانیاں ہتھیلیاں گھٹنے اور پیروں کے کنارے (انگھوٹھے) زمین پر بچھائے ہوئے ہیں اور اللہ سے گلو خلاصی کے ليےالتجائیں کرتے ہیں۔
وَ أَمَّا النَّہارَ فَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ، أَبْرَارٌ أَتْقِیَاءُ. قَدْ بَرَاہمُ الْخَوْفُ بَرْیَ الْقِدَاحِ یَنْظُرُ إِلَیْہمُ النَّاظِرُ فَیَحْسَبُہمْ مَرْضَى، وَ مَا بِالْقَوْمِ مِنْ مَرَض; وَ یَقُولُ: لَقَدْ خُولِطُوا!.

وَ لَقَدْ خَالَطَہمْ أَمْرٌ عَظِیمٌ! لاَ یَرْضَوْنَ مِنْ أَعْمَالِہمُ الْقَلِیلَ، وَ لاَ یَسْتَکْثِرُونَ الْکَثِیرَ. فَہمْ لاَِنْفُسِہمْ مُتَّہمُونَ، وَ مِنْ أَعْمَالِہمْ مُشْفِقُونَ إِذَا زُکِّیَ أَحَدٌ مِنْہمْ خَافَ مِمَّا یُقَالُ لَہ، فَیَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِی مِنْ غَیْرِی، وَ رَبِّی أَعْلَمُ بِی مِنِّی بِنَفْسِی! اللَّہمَّ لاَ تُؤَاخِذْنِی بِما یَقُولُونَ، وَ اجْعَلْنِی أَفْضَلَ مِمَّا یَظُنُّونَ، وَاغْفِرْ لی مَا لاَ یَعْلَمُونَ!

دن ہو تا ہے تو وہ دانشمند عالم،نیکو کار اور پرہیز گار نظر آتے ہیں۔خوف نے انہیں تیروں کی طرح لاغر کر چھوڑا ہے۔ دیکھنے والا انہیں دیکھ کر مریض سمجھتا ہے،حالانکہ انہیں کوئی مرض نہیں ہوتا اور جب ان کی باتوں کو سنتا ہے تو کہنے لگتا ہے کہ ا ن کی عقلوں میں فتو ر ہے (ایسا نہیں ) بلکہ انہیں تو ایک دوسرا ہی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کی کم مقدار سے مطمئن نہیں ہوتے اور زیادہ کو زیادہ نہیں سمجھتے وہ اپنے ہی نفسوں پر (کو تا ہیوں ) کا الزام رکھتے ہیں اور اپنے اعمال سے خوف زدہ رہتے ہیں،جب ان میں سے کسی ایک کو (صلاح و تقویٰ کی بنا پر) سراہا جاتا ہے تو وہ اپنے حق میں کہی ہوئی باتوں سے لرز اٹھتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں دوسروں سے زیادہ اپنے نفس کو جانتا ہوں، اور یہ کہ میرا پروردگار مجھ سے بھی زیادہ میرے نفس کو جانتا ہے۔خدایا ان کی باتوں پر میری گرفت نہ کرنا اور میرے متعلق جو یہ حسن ظن رکھتے ہیں مجھے اس سے بہتر قرار دینا اور میرے ان گناہوں کو بخش دینا جو ان کے علم میں نہیں۔
فَمِنْ عَلاَمَةِ أَحَدِہمْ أَنَّکَ تَرَى لَہ قُوَّةً فِی دِین، وَ حَزْماً فِی لِین، وَ إِیماناً فِی یَقِین، وَ حِرْصاً فِی عِلْم، وَ عِلْماً فِی حِلْم، وَ قَصْداً فی غِنىً، وَ خُشُوعاً فِی عِبَادَة، وَ تَجَمُّلاً فِی فَاقَة، وَ صَبْراً فِی شِدَّة، وَ طَلَباً فِی حَلاَل، وَ نَشَاطاً فِی ہدًى، وَ تَحَرُّجاً عَنْ طَمَع.

یَعْمَلُ الاَْعْمَالَ الصَّالِحَةَ وَ ہوَ عَلَى وَجَل. یُمْسِی وَ ہمُّہ الشُّکْرُ، وَ یُصْبِحُ وَہمُّہ الذِّکْرُ.

یَبِیتُ حَذِراً وَ یُصْبِحُ فَرِحاً; حَذِراً لَمَّا حُذِّرَ مِنَ الْغَفْلَةِ، وَ فَرِحاً بِمَا أَصَابَ مِنَ الْفَضْلِ وَ الرَّحْمَةِ. إِنِ اسْتَصْعَبَتْ عَلَیْہ نَفْسُہ فِیما تَکْرَہ لَمْ یُعْطِہا سُؤْلَہا فِیمَا تُحِبُّ. قُرَّةُ عَیْنِہ فِیمَا لاَ یَزُولُ، وَ زَہادَتُہ فِیمَا لاَ یَبْقَى، یَمْزُجُ الْحِلْمَ بِالْعِلْمِ، وَ الْقَوْلَ بِالْعَمَلِ.
ان میں سے ایک کی علامت یہ ہے کہ تم ا س کے دین میں استحکام،نرمی و خوش خلقی کے ساتھ دور اندیشی،ایمان میں یقین و استواری،بردباری کے ساتھ دانائی،خوش حالی میں میانہ روی،عبادت میں عجزو نیاز مندی، فقر و فاقہ میں آن بان،مصیبت میں صبر،طلب رزق میں حلال پرنظر، ہدایت میں کیف و سرور اور طمع سے نفرت و بے تعلقی دیکھو گے۔ وہ نیک اعمال بجالانے کے باوجود خائف رہتا ہے۔شام ہوتی ہے تو اس کے پیش نظر اللہ کا شکر اور صبح ہو تی ہے تو اس کا مقصد یا د خدا ہوتا ہے۔رات خوف و خطر میں گزارتا ہے اور صبح کو خوش اٹھتا ہے۔ خطرہ اس کا کہ رات غفلت میں نہ گز ر جائے اور خوشی ا س فضل و رحمت کی دولت پر جو اسے نصیب ہوئی ہے۔اگر اس کا نفس کسی ناگوار صورت حال کے برداشت کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ ا س کی من مانی خواہش کو پورا نہیں کرتا،جاودانی نعمتوں میں ا س کے ليے آنکھو ں کا سرور ہے اور دار فانی کی چیزوں سے بے تعلقی و بیزاری ہے۔اس نے علم میں حلم اور قول میں عمل کو سمو دیا ہے
تَرَاہ قَرِیباً أَمَلُہ، قَلِیلاً زَلَلُہ، خَاشِعاً قَلْبُہ، قَانِعَةً نَفْسُہ، مَنْزُوراً أَکْلُہ، سَہلاً أَمْرُہ، حَرِیزاً دِینُہ، مَیِّتَةً شَہوَتُہ، مَکْظُوماً غَیْظُہ. اَلْخَیرُ مِنْہ مَأْمُولٌ، وَ الشَّرُّ مِنْہ مَأْمُونٌ، إِنْ کَانَ فِی الْغَافِلِینَ کُتِبَ فِی الذَّاکِرِینَ، وَ إِنْ کانَ فی الذَّاکِرِینَ لَمْ یُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِینَ. تم دیکھو گے اس کی امیدوں کا دامن کوتاہ، لغزشیں کم، دل متواضع اور نفس قانع،غذا قلیل، رویہ بے زحمت، دین محفوظ، خواہشیں مردہ اور غصہ نا پید ہے اس سے بھلائی ہی کی توقع ہو سکتی ہے اور اس سے گزند کا کوئی اندیشہ نہیں ہو تا۔جس وقت ذکر خدا سے غافل ہو نے والوں میں نظر آتا ہے جب بھی ذکر کرنے والوں میں لکھا جا تا ہے چونکہ اس کا دل غافل نہیں ہوتا او ر جب ذکر کرنے والوں میں ہوتا ہے تو ظاہر ہی ہے کہ اسے غفلت شعاروں میں شمار نہیں کیا جاتا۔
یَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَہ، وَ یُعْطِی مَنْ حَرَمَہ، وَ یَصِلُ مَنْ قَطَعَہ، بَعِیداً فُحْشُہ، لَیِّناً قَوْلُہ، غَائِباً مُنْکَرُہ، حَاضِراً مَعْرُوفُہ، مُقْبِلاً خَیْرُہ، مُدْبِراً شَرُّہ. فِی الزَّلاَزِلِ وَ قُورٌ، وَ فِی الْمَکَارِہ صَبُورٌ، وَ فِی الرَّخَاءِ شَکُورٌ. لاَ یَحِیفُ عَلَى مَنْ یُبْغِضُ، وَ لاَ یَأْثَمُ فِیمَنْ یُحِبُّ. یَعْتَرِفُ بِالْحَقِّ قَبْلَ أَنْ یُشْہدَ عَلَیْہ، لاَ یُضِیعُ مَا اسْتُحْفِظَ، وَ لاَ یَنْسَى مَا ذُکِّرَ، وَ لاَ یُنَابِزُ بِالاَْلْقَابِ، وَ لاَ یُضَارُّ بِالْجَارِ، وَ لاَ یَشْمَتُ بِالْمَصَائِبِ، وَ لاَ یَدْخُلُ فِی الْبَاطِلِ، وَ لاَ یَخْرُجُ مِنَ الْحَقِّ.جو اس پر ظلم کرتا ہے اس سے درگزر کر جاتا ہے جو اسے محروم کرتا ہے اس کا دامن اپنی عطا سے بھر دیتاہے جو اس سے بگاڑتا ہے یہ اس سے بناتا ہے بیہودہ بکواس اس کے قریب نہیں پھٹکتی اس کی باتیں نرم، برائیاں ناپید اور اچھائیاں نمایا ں ہیں۔خوبیاں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔یہ مصیبت کے جھٹکوں میں کوہ حلم و وقار سختیوں پر صابر اور خوش حالی میں شاکر رہتاہے جس کا دشمن بھی ہو اس کے خلاف بے جا زیادتی نہیں کرتا اور جس کا دوست ہو تا ہے اس کی خاطر بھی کوئی گناہ نہیں کرتا۔قبل اس کے کہ اس کی کسی بات کے خلاف گواہی کی ضرورت پڑے وہ خود ہی اعتراف کر لیتا ہے۔ امانت کو ضائع و برباد نہیں کرتا جو اسے یا د دلایا گیا ہے اسے فراموش نہیں کرتا۔نہ دوسرو ں کو برے ناموں سے یا د کرتا ہے نہ ہمسایوں کو گزند پہنچاتا ہے،نہ دوسرو ں کی مصیبتو ں پر خوش ہوتا ہے،نہ باطل کی سرحد میں داخل ہوتا ہے اور نہ جادہ حق سے قدم با ہر نکالتا ہے۔
إِنْ صَمَتَ لَمْ یَغُمَّہ صَمْتُہ، وَ إِنْ ضَحِکَ لَمْ یَعْلُ صَوْتُہ، وَ إِنْ بُغِیَ عَلَیْہ صَبَرَ حَتَّى یَکُونَ اللّہ ہوَ الَّذِی یَنْتَقِمُ لَہ. نَفْسُہ مِنْہ فِی عَنَاء. وَ النَّاسُ مِنْہ فِی رَاحَة. أَتْعَبَ نَفْسَہ لاِخِرَتِہ، وَ أَرَاحَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِہ. بُعْدُہ عَمَّنْ تَبَاعَدَ عَنْہ زُہدٌ وَ نَزَاہةٌ، وَ دُنُوُّہ مِمَّنْ دَنَا مِنْہ لِینٌ وَ رَحْمَةٌ. لَیْسَ تَبَاعُدُہ بِکِبْر وَ عَظَمَة، وَلاَ دُنُوُّہ بِمَکْر وَ خَدِیعَة.اگر چپ سادھ لیتا ہے تو اس کی خاموشی سے اس کا دل نہیں بجھتا،اور اگر ہنستا ہے تو آواز بلند نہیں ہوتی۔اگر اس پر زیادتی کی جائے تو سہہ لیتا ہے تاکہ اللہ ہی ا س کا انتقام لے۔اس کا نفس اس کے ہاتھوں مشقت میں مبتلا ہے اور دوسرے لوگ اس سے امن و راحت میں ہیں۔اس نے آخرت کی خاطر اپنے نفس کو زحمت میں اور خلق خدا کو اپنے نفس (کے شر) سے راحت میں رکھا ہے جن سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ زہد و پاکیزگی کے ليےہو تی ہے اور جن سے قریب ہوتا ہے تو یہ خوش خلقی و رحم دلی کی بنا پر ہے نہ اس کی دوری غرور و کبرکی وجہ سے نہ اس کا میل جول کسی فریب اور مکر کی بنا پر ہوتا ہے۔
فَقَالَ أَمِیرُالْمُؤْمِنِینَ(ع): أَمَا وَ اللّہ لَقَدْ کُنْتُ أَخَافُہا عَلَیْہ. ثُمَّ قَالَ: ہکَذَا تَصْنَعُ الْمَوَاعِظُ الْبَالِغَةُ بِأَہلِہا(راوی کا بیان ہے کہ ا ن کلمات کو سنتے سنتے ہمام پر غشی طاری ہوئی اور اسی عالم میں اس کی روح پر واز کر گئی۔)امیرالمومنین نے فرمایا،کہ خدا کی قسم مجھے اس کے متعلق یہی خطرہ تھا۔پھر فرمایا کہ موثر نصیحتیں نصیحت پذیر طبیعتوں پر یہی اثر کیا کر تی ہیں۔
وَیْحَکَ، إِنَّ لِکُلِّ أَجَلٍ وَقْتاً لاَیَعْدُوہ، وَ سَبَباً لاَ یَتَجَاوَزُہ. فَمَہلاً ! لاَ تَعُدْ لِمِثْلِہا، فَإِنَّمَا نَفَثَ الشَّیْطَانُ عَلَى لِسَانِکَ!(اس وقت ایک کہنے والے نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام! پھر کیا بات ہے کہ خود آپ پر ایسا اثر نہیں ہو تا؟)حضرت نے فرمایا کہ بلاشبہ موت کے ليےایک وقت مقرر ہوتا ہے کہ وہ اس سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتا اور ا س کا ایک سبب ہوتا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا۔ایسی (بے معنی ) گفتگو سے جو شیطان نے تمہاری زبان پر جاری کی ہے۔باز آؤ اور ایسی بات پھر زبا ن پر نہ لانا

حوالہ جات

  1. محمدی، دشتی، المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ، جدول اختلاف نسخ انتہای کتاب، ۱۳۶۹ش، ص ۲۳۵.
  2. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ۱۰، ص ۱۳۳.
  3. شہیدی، ترجمہ نہج البلاغہ، ۱۳۷۷ش، ص ۲۲۴.
  4. شہیدی، ترجمہ نہج البلاغہ، ۱۳۷۷ش، ص ۲۲۷.