مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

اسلام
اللہ
اصول دین توحید • عدل  • نبوت  • امامت  • قیامت
فروع دین نماز  • روزہ  • حج  • زکٰوۃ  • خمس  • جہاد  • امر بالمعروف  • نہی عن المنکر  • تولی  • تبری
اسلامی احکام کے مآخذ قرآن  • سنت  • عقل  • اجماع  • قیاس(اہل سنت)
اہم شخصیات پیغمبر اسلامؐ  • اہل بیت  • ائمہؑ  • خلفائے راشدین(اہل سنت)
اسلامی مکاتب شیعہ: امامیہ  • زیدیہ  • اسماعیلیہ  •
اہل سنت: سلفیہ  • اشاعرہ  • معتزلہ  • ماتریدیہ  • خوارج
ازارقہ  • نجدات  • صفریہ  • اباضیہ
مقدس شہر مکہ  • مدینہ  • قدس  • نجف  • کربلا  • کاظمین  • مشہد  • سامرا  • قم
مقدس مقامات مسجد الحرام  • مسجد نبوی  • مسجد الاقصی  • مسجد کوفہ  • حائر حسینی
اسلامی حکومتیں خلافت راشدہ  • اموی  • عباسی  • قرطبیہ  • موحدین  • فاطمیہ  • صفویہ  • عثمانیہ
اعیاد عید فطر  • عید الاضحی  • عید غدیر  • عید مبعث
مناسبتیں پندرہ شعبان  • تاسوعا  • عاشورا  • شب قدر  • یوم القدس


دین حنیف ـ یعنی وہ دین جو فطرت کے مطابق ہے ـ اس الہی دین کا عمومی عنوان ہے جس کی تبلیغ آدم(ع) سے خاتم(ص) تک، سارے پیغمبروں کا فرض اول تھی۔

حنیف اصطلاحا اللہ کے اس دین کی ایک صفت ہے جو مستقیم اور باطل راستوں اور مذاہب سے دور ہے اور ایک خاص اصطلاح میں لفظ حنیف حضرت ابراہیم(ع) اور آن جناب کے دین کی توصیف میں بروئے کار آیا ہے۔

فہرست

حنیف لغت میں

حنف لغت میں، ٹیڑھا، خم اور مائل ہونے کے معنی میں آیا ہے۔[1][2] اور ایسا اسم ہے جو مضاف یا موصوف یا جار و مجرور کے ساتھ مل کے کامل ہوجاتا ہے۔

اس کی صفت مشبہہ، "حنیف" (بر وزن فعیل} ہے بمعنی مائل ہونے والا[3][4][5] اور اس شخص کو "احنف" کہا جاتا ہے جس کی انگلیاں باہر کی طرف مائل ہیں یا وہ جس کی پاؤں ٹیڑھے ہیں[6][7]، لیکن بعض علماء کے نزدیک، حنیف کے معنی مستقیم اور سیدھے کے ہیں۔[8][9][10]

چنانچہ احنف اس شخص کو کہتے ہیں جس کا پاؤں سیدھا اور مضبوط ہو اور اس کا پورا قدم کھڑے ہوتے وقت، زمین پر پڑے یعنی یہ کہ ہم اپنے دین پر استقامت کے ساتھ کاربند ہیں۔[11] اور اگر ٹیڑھے پاؤں یا ٹیڑھی ٹانگوں والے کو احنف کہا جاتا ہے تو یہ اچھے شگون کے عنوان سے ہے؛ جس طرح کے مریض کو سلیم کہا جاتا ہے۔[12][13]

حنیف کی مختلف اصطلاحات

لفظ حنیف علم تفسیر، علم حدیث اور عصر جاہلیت کی تاریخ میں مختلف استعمالات کی وجہ سے مختلف اصطلاحات میں بروئے کار آتا ہے:

دین ابراہیم خلیل(ع)

جاہلیت کے زمانے میں جو بھی حضرت ابراہیم(ع) کے دین پر تھا، حنیف کہلاتا تھا۔[14][15]

آیات قرآنی بھی اس اصطلاح کی تائید کرتی ہیں:

"مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيّاً وَلاَ نَصْرَانِيّاً وَلَكِن كَانَ حَنِيفاً مُّسْلِماً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛
(ترجمہ: ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو نرے کھرے مسلم [یا حق پرست فرمانبردار] تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے)"۔[16]

حنفاء شرک اور بت پرستی سے روگرداں ہوکر دین ابراہیم(ع) کی پیروی کرتے ہیں:

"وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لله وَهُوَ مُحْسِنٌ واتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفاً وَاتَّخَذَ اللّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً؛
(ترجمہ: اور اس سے بہتر کس کا دین ہوگا، جو اپنے کو اللہ کے سپرد کردے درانحالیکہ وہ نیک کام کرنے والا ہے اور حق کی طرف مائل ابراہیم (حنیف) کے دین کا پیرو ہو اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا خلیل (دوست) بنایا تھا)"۔[17]

دین حنیف ایک دینی اور اصلاحی تحریک کا نام تھا جس کے پیروکار "دین ابراہیم کے پیرو "حنفی" کہلاتے تھے۔ حُنَفاء شرک اور بت پرستی کی روش پر سوال اٹھاتے تھے اور اس سے دوری کرتے تھے، عبادت کے لئے غاروں میں پناہ لیتے تھے اور لوگوں کو ابراہیم(ع) کا دین اختیار کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ ان تفکرات نے جزیرہ نمائے عرب میں بت پرستی کی بنیادیں متزلزل اور ویراں کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور رفتہ رفتہ لوگوں کی خود آگہی پر منتج ہوئے؛ اسی رو سے ظہور اسلام سے قبل کے برسوں میں جھوٹے خداؤں کی مخالفت میں شدت آئی تھی۔[18]

بعض عربوں کا دین

عصر جاہلیت میں بعض عرب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین سے باقیماندہ صرف بعض عملی احکام ـ جیسے مناسک حج، لڑکوں کا ختنہ کرنے اور غسل جنابت ـ پر عمل پیرا تھے، اور ان کے دین کو دین حنیف کہا جاتا تھا۔[19][20]

مشرکین کا لقب!

اہل کتاب نے مشرکین کو "حنفاء" کا لقب دیا تھا اور جب بھی لفظ "حنیفیت" کو استعمال میں لایا جاتا تھا، اہل کتاب اس سے شرک اور بت پرستی سمجھتے تھے۔[21][22]

دین حق کی طرف رغبت

بعض صاحبان قلم نے لکھا ہے کہ حنیف اس شخص کو کہا جاتا ہے جو باطل ادیان سے دین حق کی طرف راغب و مائل ہوجائے۔[23] یہ اصطلاح لفظ حنیف کے لغوی معنی کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو بعد میں بعض مفسرین کی ایجاد کردہ ہے۔

مسلمان کے معنی میں

حنیف کے معنی مسلمان کے ہیں، یعنی حنیفیت در حقیقت اسلام ـ بمعنی تسلیم ـ کے مترادف ہے؛ جیسا کہ قرآن کریم میں خداوند متعال کا ارشاد ہے:

"مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيّاً وَلاَ نَصْرَانِيّاً وَلَكِن كَانَ حَنِيفاً مُّسْلِماً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ(ترجمہ: ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ جو حنیف اور مسلم تھے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہیں تھے)"؛ اور امام صادق(ع) نے فرمایا: "إنَّ الحَنِيفِيَّةَ هِيَ الإِسلَامُ(ترجمہ: حنیفیت اسلام ہی ہے)"؛۔[24][25] اور امام باقر(ع) نے فرمایا ہے: "اَلقَانِتُ المُطِیعَ وَالحَنِیفَ المُسلِمُ(ترجمہ: یعنی اللہ سے لولگانے والا، فرمانبردار اور حنیف و مسلمان)؛۔[26]

توضیح آں کہ: اسلام کے دو معنی ہیں: ایک لغوی معنی، یعنی لولگانا اور سرتسلیم خم کرنا، اور ایک اصطلاحی معنی، یعنی قرآن کی شریعت؛ اور یہ معنی نزول قرآن اور دین اسلام کے فروغ کے بعد معرض وجود میں آئے ہیں۔ بعض آیات میں حضرت محمد(ص) سے قبل کے انبیاء کو مسلم کہا جاتا ہے۔ [27][28] جہاں اسلام کے معنی لغوی ہیں۔

دین الہی کی صفت

حنیف، صفت ہے دین الہی کے لئے، اور اللہ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے تمام انبیاء کو اس کی تبلیغ کی ذمہ داری سپرد کی ہے اور اس کا نام اسلام ـ بمعنی اللہ کے آگے تسلیم ہونا ـ ہے؛ جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
"إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ(ترجمہ: بلاشبہ حقیقی دین اللہ کے نزدیک اسلام (اور اللہ کے آگے تسلیم) ہے)" نیز
"وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِيناً فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ(ترجمہ: اور جو اسلام کے علاوہ کوئی دین تلاش کرے وہ اس سے ہرگز قبول نہ ہو گا)[29] اور چونکہ یہ دین، دین فطرت ہے، مستقیم اور افراط و تفریط (یعنی دو انتہاؤں = Two Extremes) سے دور اور خاص عملی احکام کا حامل ہے، اس کو "حنیف" کی صفت سے متصف کیا گیا ہے؛ چنانچہ "ملت ابراہیم" یعنی ابراہیم(ع) کا دین، جس کو صفت حنیفیت سے توصیف کیا گیا ہے۔[30][31] اور قرآن کریم دین کی توصیف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ(ترجمہ: اور یہ (مجھ سے کہا گیا ہے) کہ تم اپنے چہرہ کو ادھر ادھر سے ہٹا کر اس دین کی طرف سیدھا رکھو اور مشرکوں میں سے نہ ہو)؛ نیز
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا(ترجمہ: تو اپنا رخ سیدھا رکھو دین حق کے لیے سب راستوں سے ہٹ کر، اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے)[32]
حدیث کی کتب میں مروی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے بھی دین کی توصیف صفت حنیف سے کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ "ان الله تعالى امرني ان ادعو الى دينه الحنيفية(ترجمہ: خداوند متعال نے مجھے امر کیا ہے کہ (لوگوں کو) اس کے دین حنیف کی طرف بلاؤں)[33]

حنیف قرآن میں

لفظ حنیف 10 مرتبہ قرآن کریم میں دہرایا گیا ہے اور اس کی جمع لفظ "حنفاء" دو بار آیا ہے۔[34] 10 بار میں سے 2 بار لفظ "دین" کی توصیف میں[35] 5 بار، ابراہیم(ع) کے دین اور ملت کی توصیف، میں آیا ہے۔[36][37][38][39] ان آیات کریمہ میں حضرت ابراہیم(ع) کے دین کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، جو خود تمام باطل ادیان سے دین حق کی طرف مائل تھے۔

لفظ حنیف دو بار حضرت ابراہیم(ع) کی ذات کی توصیف میں آیا ہے: بطور مثال خداوند متعال آپ(ع) کے عقائد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
"مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيّاً وَلاَ نَصْرَانِيّاً وَلَكِن كَانَ حَنِيفاً مُّسْلِماً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ(ترجمہ: ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو نرے کھرے مسلم [یا حق پرست فرمانبردار] تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے)؛
"إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتاً لِلّهِ حَنِيفاً وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ(ترجمہ: بلاشبہ ابراہیم ایک امت تھے جو خالص اللہ سے لو لگانے والے، غلط راستے سے ہٹے ہوئے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے)

قرآن مجید میں لفظ "حنیف" کے استعمالات سے نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد فطری توحید اور انبیاء علیہم السلام ـ بالخصوص حضرت ابراہیم(ع) ـ کی روش اور نگاہ، ہے اور ایک طرح سے شرک اور مشرکین کا نقطۂ مقابل سمجھا جاتا ہے۔ سورہ انعام کی آیت 79 اور سورہ روم کی آیت 30 اور دوسرے آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حنیفیت اور فطرت ـ یعنی خالق عالم کے بارے میں پاکیزہ اور بےداغ نقطۂ نگاہ اور جبلی و فطری رجحان، کے درمیان گہرا پیوند پایا جاتا ہے۔ نیز ابراہیم(ع) کو کئی بار حنیف قرار دیا گیا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 135 اور سورہ آل عمران کی آیت 67 سے دو نکتے واضح ہوجاتے ہیں:

الف: حنیفیت، نہ یہودیت ہی اور نہ ہی عیسائیت،

ب: حنیفیت، ظہور اسلام سے قبل مصطلح اسلام کے ہم معنی ہے۔[40]

احادیث میں

احادیث میں "حنیف اور حنیفیت" کے الفاظ بکثرت اسعمال ہوئے ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ اس کا سرچشمہ فطرت ہے۔ امام باقر(ع) فرماتے ہیں:
"الحنيفية من الفطرة التي فطر الناس عليها ولا تبديل لخلق الله۔۔۔(ترجمہ: حنیفیت اس فطرت سے ہے جس پر اس (خدا) نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی)[41][42]

احادیث میں حنیفیت کا اہم ترین کا اطلاق، [فردی اور سماجی] صحت کی ان سنتوں پر ہوا ہے جو خداوند متعال نے حضرت ابراہیم(ع) پر نازل فرمایا ہے اور بعد کے اعصار و قرون میں جاہلی عربوں نے بھی ان پر عمل کیا[43][44] یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے ان کو ایک بار زندہ کیا۔[45]

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ج3، ص362۔
  2. طریحی، مجمع البحرین، ج5، ص40۔۔
  3. ابن منظور، لسان العرب، ج3، ص362۔
  4. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج2، ص402۔
  5. ابن عاشور، التحریر والتنویر، ج1، ص716۔
  6. ابن منظور، لسان العرب، ج3، ص362۔
  7. رازی، ابوالفتوح، روض الجنان وروح الجنان فی تفسیر القرآن، ج2، ص184۔
  8. ماوردی، النکت والعیون، ج1، ص194۔
  9. طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، ج1، ص479۔
  10. طبری، جامع البیان، ج1، ص740 و 741۔
  11. رازی، ابوالفتوح، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، ج2، ص184۔
  12. فخر رازی، تفسیر کبیر، ج3، ص81۔
  13. ماوردی، النکت والعیون، ج1، ص194۔
  14. طریحی، مجمع البحرین، ج5، ص40۔
  15. النووی، شرح صحیح مسلم، ج6، ص57۔
  16. سورہ آل عمران، آیت 67؛ نیز دیکھیں: بقرہ، آیت 37؛ آل عمران، آیت 95؛ نساء، آیت 124؛ انعام، آیات 79 و 162؛ یونس، آیت 105۔
  17. نساء، آیت 125۔
  18. عبدالعزیز سالم، (فارسی مترجم: صدری نیا)، تاریخ عرب قبل از اسلام، ص396۔
  19. طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، ج1، ص479ـ480۔
  20. ابن عبدالبر، الاستذکار، ج3، ص104۔
  21. التبیان فی تفسیر القرآن، ج1، ص479ـ 480۔
  22. تفسیر المنار، ج1، ص480 481۔
  23. مشهدی، کنزالدقائق، ج1، ص350۔
  24. البحرانی، البرهان فی تفسیر القرآن، ج1، ص560۔
  25. مشهدی، کنز الدقائق، ج1، ص350۔
  26. مجلسی، بحارالانوار، ج66، ص357۔
  27. یوسف، آیت 101۔
  28. آل عمران، آیت 67۔
  29. آل عمران، آیات 19 و 85۔
  30. طبرسی، مجمع البیان، ج2، ص71۔
  31. کاشانی، منهج الصادقین، ج1، ص326۔
  32. یونس، آیت 105؛ روم، آیت 30۔
  33. ابن شهر آشوب، المناقب، ج1، ص58۔
  34. حج، آیت 31، اور بینہ، آیت 5۔
  35. یونس، آیت105 و روم، آیت 30۔
  36. بقرہ، آیت 135۔
  37. آل عمران، آیت 95۔
  38. نساء، آیت 125۔
  39. انعام، آیت 161 اور نحل، آیت 123۔
  40. قرآن کریم، ترجمه، توضیحات و واژه نامه: بهاءالدین خرمشاهی، ص21.۔
  41. کلینی، الکافی، ج2، ص12۔
  42. مجلسی، بحارالانوار، ج3، ص281۔
  43. حر عاملی، وسائل الشیعه، ج13، ص237۔
  44. صدوق، من لا یحضره الفقیه، ج1، ص53۔
  45. مجلسی، بحارالانوار، ج12، ص56۔


مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • ابن شهر آشوب، المناقب مؤسسه انتشارات علامه، قم، 1379ھ ش۔
  • ابن عبدالبر، الاستذکار، تحقیق سالم محمد عطا، دارالکتب العلمیه، بیروت، 2000ع‍۔
  • ابن عاشور، محمد طاهر، التحریر والتنویر مؤسسه تاریخ، بیروت.
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل، تفسیر القرآن العظیم مکتب النشر الثقافة الاسلامیه، 1408ھ ق۔
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب دار صادر، بیروت.
  • بحرانی، سید هاشم، البرهان فی تفسیر القرآن تحقیق قسم الدراسات الاسلامیه، مؤسسه البعثة.
  • حرّ عاملی، شیخ محمد، وسائل الشیعه مؤسسه آل البیت، قم، 1409ھ ق۔
  • فخر رازی، تفسیر الکبیر دارالکتب العلمیه، طهران.
  • سالم، عبدالعزیز، [عنوان اصلی:] تاریخ العرب قبل الاسلام (مترجم: صدری نیا، باقر، عنوان فارسی: "تاریخ عرب قبل از اسلام")، انتشارات علمی فرهنگی، تهران 1380ھ ش۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان دار ابن حزم و دار الاعلام.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان انتشارات فراهانی، تهران، 1360ـ 1350ھ ش۔
  • طریحی، فخرالدین بن محمد، مجمع البحرین مکتب النشر الثقافة الاسلامیه، 1408ھ ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن دار احیاء التراث العربی، بیروت.
  • رازی، ابوالفتوح حسین بن علی، روض الجنان وروح الجنان فی تفسیر القرآن بنیاد پژوهش‌های اسلامی آستان قدس رضوی، مشهد، 1374ـ 1366ھ ش۔
  • رشید رضا، محمد، المنار دارالفکر للطباعة والنشر والتوزیع.
  • صدوق، من لا یحضره الفقیه انتشارات جامعه مدرسین، قم 1413ھ ق۔
  • کاشانی، ملا فتح اللّه، منهج الصادقین فی الزام المخالفین، کتابفروشی اسلامیه، تهران، 1344ھ ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی دارالکتب الاسلامیه، 1365ھ ش۔
  • ماوردی، علی بن محمد بن حبیب، النکت والعیون دارالکتب العلمیه، بیروت.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار مؤسسه الوفاء، بیروت، 1404ھ ق۔
  • مشهدی، میرزا محمد، کنز الدقائق مؤسسة النشر الاسلامی، قم.
  • النووی، شرح مسلم دار الکتب العربی، بیروت، 1407ھ ق۔

بیرونی ربط