مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

مشہور احکام
220px
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


سَنگْسار یا رَجْم ایک سزا ہے جس میں مجرم کو کمر یا سینے تک زمین میں دفنایا جاتا ہے اور پھر اس پر پتھر مارے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ سنگسار حدود میں شمار ہوتا ہے اور زناء محصنہ یعنی شادی شدہ مرد یا عورت کے زنا کی سزا ہے۔ اسی طرح حاکم کی تشخیص کے مطابق یہ لواط کی بھی سزا ہو سکتی ہے۔ سنگسار ثابت ہونے اور اس کو عملی کرنے کے کچھ شرائط ہیں؛ ان میں سے ایک یہ ہے کہ شریک حیات ہو اور زنا کرنے والے کے لئے زنا کے وقت اس کے ساتھ ہمبستری کا امکان بھی ہو۔

بعض مراجع تقلید نے سنگسار کے اجرا کو آج کل اسلام کے مصلحت میں نہیں سمجھتے ہوئے اس کی جگہ دوسری سزاؤں کو اپنانے کا فتوا دیا ہے۔ اسی طرح توریت میں بعض دیگر جرائم جیسے بتوں کے لیے بچوں کی قربانی، جادو، کفرگوئی، ہفتہ کے دن کی توہین اور زنا کے لیے سنگسار کی سزا قرار دی گئی ہے۔

فہرست

مفہوم‌ شناسی اور اجرا کا طریقہ

اسلامی فقہ میں سنگسار یا رَجْم سزاؤں اور حدود میں شمار ہوتی ہے اور خاص شرائط کے ساتھ زنا جیسے بعض جرائم کے ساتھ مخصوص ہے۔[1] سنگسار میں مجرم کو کمر یا سینہ تک زمین میں گاڑا جاتا ہے اور پھر اس پر پتھر مارا جاتا ہے تاکہ مرجائے۔[2]

محقق حلی کا کہنا ہے کہ سنگسار میں مرد کو کمر تک اور عورت کو سینے تک دفنایا جاتا ہے۔ اگر سنگسار کا جرم گواہی سے ثابت ہوچکا ہو تو واجب ہے کہ پتھر مارنے کو سب سے پہلے گواہ شروع کریں۔ اور اگر اقرار کے ذریعے سے ثابت ہوچکا ہو تو حاکم شرع شروع کرے۔[3]

اگر سنگسار کے دوران مجرم بھاگ جائے اور جرم اقرار سے ثابت ہوچکا ہو تو اسے معاف کیا جائے گا اور دوبارہ سنگسار نہیں ہوگا؛ لیکن اگر گواہی کے ذریعے ثابت ہوچکا ہو تو دوبارہ سنگسار کیا جائے گا۔[4]

سنگسار والے جرائم

فقہا کے فتوؤں کے مطابق زنائے محصنہ کی سزا سنگسار ہے؛[5]یعنی شادی شدہ مرد اگر زنا کرے؛ یا شادی شدہ عورت زنا کرے تو اس کی سزا سنگسار ہے۔ لواط میں بھی سنگسار کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن سنگسار کی سزا یقینی نہیں ہے اور حاکم شرع کو یہ اختیار حاصل ہے کہ سنگسار یا قتل کے دوسرے طریقوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرے۔[6]

عہد قدیم کے مطابق بعض جرائم جیسے؛ بچوں کو بتوں کے لئے قربان کرنا،[7] جادوگری،[8] کفرگوئی،[9] ہفتہ کے دن کی حرمت‌ پامال کرنا،[10] بت پرستی کی دعوت[11] اور زنا[12] کی سزا سنگسار ہے۔

سنگسار کی شرعی دلیلیں

سنگسار کے بارے میں بہت ساری روایات پائی جاتی ہیں۔[13]ان میں سے ایک ابو بصیر کی امام صادقؑ سے منقول روایت ہے کہ جس میں سنگسار کو اللہ تعالی کی عظیم حد قرار دیا ہے اور جو شخص زنائے محصنہ کا مرتکب ہو وہ سنگسار ہو جاتا ہے۔[14]اسی طرح امام باقرؑ کی روایت میں ذکر ہوتا ہے کہ امام علیؑ کے فیصلوں میں زنائے محصنہ میں سنگسار کا حکم دیتے تھے۔[15]

فقہا کے پاس سنگسار کی دلیلوں میں سے ایک اجماع ہے۔[16] شیخ طوسی اپنی کتاب الخلاف میں لکھتے ہیں: تمام اسلامی فقہا سنگسار کو مانتے ہیں لیکن خوارج یہ کہہ کر نہیں مانتے ہیں کہ اس کا ذکر قرآن مجید اور متواترہ احادیث میں نہیں آیا ہے۔[17]

سنگسار قرآن کی نظر میں

شیعہ علما کا کہنا ہے کہ قرآن میں سنگسار کے بارے میں کوئی آیت موجود نہیں ہے[18]اور اس کا حکم احادیث اور اجماع سے اخذ کیا گیا ہے؛[19] لیکن اہل سنت کے بہت سارے اصولی فقہا معتقد ہیں کہ قرآن مجید میں سنگسار کے بارے میں آیت موجود تھی۔[20] اس گروہ کی دلیل بعض ایسی روایات ہیں جو اہل سنت و الجماعت کے روائی مآخذ میں ذکر ہوئی ہیں۔[21]

منجملہ صحیح بخاری میں عمر بن خطاب سے منقول روایت میں ان کا کہنا ہے کہ :مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے کہ کہا جائے کہ قرآن میں سنگسار کا ذکر نہیں ہوا ہے اور لوگ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والے واجب کو ترک کر کے گمراہ ہوجائیں۔[22] اسی طرح مالک بن اَنَس خلیفہ دوم سے نقل کرتا ہے: خبردار! کہیں ایسا نہ ہو کہ آیت سنگسار سے اس وجہ سے غفلت برتیں کہ قرآن میں نہیں ہے؛ کیونکہ پیغمبر اکرمؐ سنگسار کرتے تھے اور ہم بھی سنگسار کیا کرتے تھے۔ یہ آیت قرآن میں تھی اور میں نے یہ آیت اس لئے نہیں لکھی کہ لوگ یہ نہیں کہیں کہ میں نے اپنی طرف سے کوئی چیز قرآن میں درج کیا ہے۔[23]خلیفہ دوم کے مطابق سنگسار کی آیت یوں تھی:«إذا زَنىٰ الشَيخُ و الشَيخَة فَارْجُمُوهما اَلبَتَّة»[24] (اگر بوڑھا مرد اوربوڑھی عورت زنا کرے تو ان دونوں حتماً سنگسار کریں)۔[25]

اہل سنت کے بعض علماء منجملہ ابوبکر باقلانی اور اکثر معتزلہ منجملہ ابو مسلم اصفہانی اس بات کو نہیں مانتے ہیں۔[26]ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ عبارت قرآن کی ہوتی تو عمر بن خطاب لازمی طور پر اسے قرآن میں شامل کردیتے اور لوگوں کی وجہ سے اسے ترک نہ کرتے۔ اسی طرح اس عبارت کو عربی ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھی بلاغت کے اعتبار سے قرآنی ادبیات سے سازگار نہیں ہے۔[27]

معاصر شیعہ فقیہ آیت‌اللہ خوئی اپنی کتاب البیان میں لکھتے ہیں: اگر یہ روایت صحیح ہو تو کہنا پڑے گا کہ قرآن مجید سے ایک آیت حذف ہوگئی ہے[28] اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قرآن مجید میں تحریف ہو چکی ہے۔[29]

سنگسار کے شرائط

فقہا کی نظر میں سنگسار کے لیے اِحصان کا ہونا شرط ہے؛ یعنی جو سنگسار ہوتا ہے اس میں مندرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:

  • دائمی شریک حیات ہو اور اس کے ساتھ ہمبستری ممکن ہو
  • مجرم غلام یا کنیز نہ ہو
  • بلوغ
  • عاقل‌۔[30]

سنگسار اور انسانی حقوق

سنگسار کے حکم پر بعض انتقادات ہوئی ہیں؛ کہا گیا ہے کہ سنگسار ایک غیر عاقلانہ اور انسانی حقوق کے منافی حکم ہے۔[31]اسی طرح سنگسار میں جرم اور سزا میں تناسب نہیں پایا جاتا ہے؛ کیونکہ جو شخص جنسی خواہشات کے دباؤ میں ایک لمحے کے لیے پھسل گیا ہو اس کے لیے یہ سزا بہت سخت ہے کیونکہ اس کے عمل میں مفسدہ نہیں ہے اور کسی کو نقصان بھی نہیں پہنچاتا ہے۔[32]

اس اشکال کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اسلام جرم کو ثابت کرنے اور ثابت ہونے کے بعد اس سزا کو اجرا کرنے میں بہت سختی سے کام لیتا ہے؛ اور یہ حکم ایک قسم کی دھمکی اور تہدید ہے اور بہت کم ہی انجام پاتا ہے۔[33]دوسرے اشکال کا یوں جواب دیا گیا ہے کہ ایسی سزا کا ہونا زنا کے دنیوی اور اخروی آثار جیسے؛ بےدینی، بے عفتی، جنسی بیماریاں، حرم اولاد، اور گھریلو ناچاکیاں سب اسی جرم کے سبب ہیں۔ لہذا اس جرم اور اس کی سزا میں تناسب پایا جاتا ہے۔[34]

سنگسار کے حکم میں تبدیلی

سنہ 2012ء (1391ھ ش) کو مراجع تقلید سے سنگسار کا شرعی حکم تبدیل کرنے کے بارے میں ایک استفتا ہوا جس کے نتیجے میں مختلف جوابات موصول ہوئے۔ اس استفتا میں کہا گیا ہے کہ آج کل سنگسار کی وجہ سے دشمنوں کی طرف سے اسلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو کیا ایسی صورت میں اس کے بدلے کوئی اور سزا دی جاسکتی ہے؟[35]

اس سوال کے جواب میں آیت‌اللہ نوری ہمدانی اور آیت‌اللہ علوی گرگانی نے سنگسار کے حکم کو غیر قابل تغییر قرار دیا ہے، لیکن اس کو معین کرنے کا اختیار ولی فقیہ کو دیا ہے؛ آیت‌اللہ مکارم شیرازی اور آیت‌اللہ سبحانی نے موجودہ حالات میں اس کی جگہ دوسری سزا قرار دینے کی اجازت دی ہے۔ آیت‌اللہ موسوی اردبیلی کا کہنا ہے کہ: سنگسار قابل تبدیل نہیں ہے لیکن اگر اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے منافی ہو تو فقیہ جامع الشرائط اس کو اجرا نہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔[36]

سنگسار اسلام سے پہلے

سنگسار اسلام سے پہلے کتاب مقدس کی تشکیل کے دوران کی رائج سزاؤں میں سے ایک ہے۔[37]اسی طرح کہا جاتا ہے کہ سومریوں سے متعلق لوح (بین النہرین پر مقیم ایک قوم) جو حقوق کے قدیمی ترین نسخے سمجھے جاتے ہیں؛ میں بھی سنگسار کا تذکرہ ملتا ہے۔[38]یہ تختیاں جو حضرت مسیح کی ولادت سے 2400 سال پہلے کی ہیں، ان کے مطابق چوری اور ایک عورت کا دو مردوں کے ساتھ زنا کے لئے سنگسار کی سزا تھی۔[39]

حوالہ جات

  1. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۴۱و۱۴۲.
  2. مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۹ش، ج۴، ص۷۱.
  3. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۴۳و۱۴۴.
  4. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۴۴.
  5. مراجعہ کریں: محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۴۱و۱۴۲؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۱، ص۳۸۱.
  6. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۴۷؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۱، ص۳۸۱.
  7. کتاب مقدس، لاویان، ۲۰ :۲.
  8. کتاب مقدس، لاویان، ۲۰ :۲۷.
  9. کتاب مقدس، لاویان، ۲۴ :۱۶.
  10. کتاب مقدس، اعداد، ۱۵: ۳۵-۳۶، .
  11. کتاب مقدس، تثنیہ، ۱۳: ۱۱.
  12. کتاب مقدس، تثنیہ، ۲۲: ۲۱ و ۲۴.
  13. ایروانی، دروس تمہیدیہ، ۱۴۲۷ق، ج۳، ص۲۷۲؛ تبریزی، اُسَس الحدود و التعزیرات، ۱۴۱۷ق، ص۱۰۷.
  14. حر عاملی، وسایل الشیعہ، ج۲۸، ۱۴۰۹ق، ص۶۱.
  15. حرعاملی، وسایل الشیعہ، ج۲۸، ۱۴۰۹ق، ص۶۱.
  16. مراجعہ کریں: شیخ طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۳۶۵؛‌ تبریزی، اُسَس الحدود و التعزیرات، ۱۴۱۷ق، ص۱۰۷؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۱، ص۳۱۸.
  17. شیخ طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۳۶۵.
  18. مراجعہ کریں: موسوی اردبیلی، فقہ الحدود و التعزیرات، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۴۳۹؛ خویی، البیان، ۱۴۰۱ق، ص۲۰۲.
  19. مراجعہ کریں: تبریزی، اسس الحدود و التعزیرات، ص۱۰۷؛ موسوی اردبیلی، فقہ الحدود و التعزیرات، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۴۳۹.
  20. کردی، کنکاشی فقہی و حقوقی در مجازات اعدام، ص۲۴۲.
  21. کردی، کنکاشی فقہی و حقوقی در مجازات اعدام، ص۲۴۲.
  22. بخاری، صحیح بخاری، ۱۴۲۲ق، ج۸، ص۱۶۸.
  23. مالک بن انس، موطأ ابن مالک، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۸۲۴.
  24. مالک بن انس، موطأ ابن مالک، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۸۲۴؛ خویی، البیان، ۱۴۰۱ق، ص۲۰۲.
  25. کردی، کنکاشی فقہی و حقوقی در مجازات اعدام، ص۲۴۳.
  26. کردی، کنکاشی فقہی و حقوقی در مجازات اعدام، ص۲۴۳و۲۴۴.
  27. کردی، کنکاشی فقہی و حقوقی در مجازات اعدام، ص۲۴۴.
  28. خویی، البیان، ۱۴۰۱ق، ص۲۱۹.
  29. خویی، البیان، ۱۴۰۱ق، ص۲۰۲.
  30. شہید ثانی، الروضۃ البہیہ، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۳۵۲و۳۵۳؛ محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۳۷و۱۳۸.
  31. کدخدایی و باقرزادہ،‌ «بررسی حکم سنگسار از منظر فقہ و حقوق بشر»، ۱۳۹۰ش، ص۴۱.
  32. کدخدایی و باقرزادہ،‌ «بررسی حکم سنگسار از منظر فقہ و حقوق بشر»، ۱۳۹۰ش، ص۶۰.
  33. کدخدایی و باقرزادہ،‌ «بررسی حکم سنگسار از منظر فقہ و حقوق بشر»، ۱۳۹۰ش، ص۶۲.
  34. کدخدایی و باقرزادہ،‌ «بررسی حکم سنگسار از منظر فقہ و حقوق بشر»، ۱۳۹۰ش، ص۶۲و۶۳.
  35. ویب سائٹ ایسنا، «آیا می‌توان بہ‌جای سنگسار حکم دیگری بہ‌اجرا گذاشت؟»، ۲۲ فروردین ۱۳۹۱ش، تاریخ اخذ، ۲۰ فروردین ۱۳۹۷ش.
  36. ویب سائٹ ایسنا، «آیا می‌توان بہ‌جای سنگسار حکم دیگری بہ‌اجرا گذاشت؟»، ۲۲ فروردین ۱۳۹۱ش، تاریخ اخذ، ۲۰ فروردین ۱۳۹۷ش.
  37. کدخدایی، «بررسی حکم سنگسار در اسلام»، ص۱۶.
  38. کدخدایی، «بررسی حکم سنگسار در اسلام»، ص۱۵.
  39. کدخدایی، «بررسی حکم سنگسار در اسلام»، ص۱۵.

مآخذ

  • کتاب مقدس.
  • ایروانی، باقر، دروس تمہیدیہ فی الفقہ الاستدلالی علی المذہب الجعفری، چاپ دوم، ۱۴۲۷ھ۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع المسند الصحیح (صحيح البخاری، تحقیق محمدزہیر بن ناصر الناصر، دار طوق النجاۃ، ۱۴۲۲ھ۔
  • تبریزی، جواد، اسس الحدود و التعزیرات، قم، دفتر مؤلف، چاپ اول، ۱۴۱۷ق
  • حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، قم، مؤسسہ آل‌البیت، چاپ اول، ۱۴۰۹ھ۔
  • خویی، سیدابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، قم، انوار الہدی، ۱۴۰۱ھ۔
  • شہید ثانی، زين‌الدين عاملی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، قم، انتشارات دفتر تبليغات اسلامى حوزہ علمیہ قم‌، چاپ اول، ۱۴۱۲ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، قم، مؤسسہ انتشارات اسلامی، چاپ اول، ۱۴۰۷ھ۔
  • کدخدایی، محمدرضا، «بررسی حکم سنگسار در اسلام (پیشینہ، شرایط، ادلہ)»، فقہ، ش۱ (۶۷)، ۱۳۹۰.
  • کدخدایی، محمدرضا،‌ و محمد باقرزادہ، «بررسی حکم سنگسار از منظر فقہ و حقوق بشر»، در مجلہ اندیشہ‌ہای حقوق عمومی (مؤسسہ امام خمینی)، زمستان ۱۳۹۰ش].
  • کردی، امید عثمان، کنکاشی فقہی و حقوقی در مجازات اعدام، ترجمہ ہاشم موسوی آبگرم، تہران، احسان، ۱۳۹۴شمسی ہجری۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، تحقیق و تصحیح عبدالحسین محمدعلی بقال، قم، اسماعیلیان، چاپ دوم، ۱۴۰۸ھ۔
  • نجفى، محمدحسن، جواہر الكلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، ۱۴۰۴ھ۔
  • مالک بن انس، موطأ ابن مالک، تحقیق محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۶ھ۔
  • موسوی اردبیلی، سید عبد الکریم، فقہ الحدود و التعزیرات، قم، مؤسسۃ النشر لجامعۃ المفید، چاپ دوم، ۱۴۲۷ھ۔
  • مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل‌بیت، قم، مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی،‌ چاپ اول، ۱۳۸۹شمسی ہجری۔
  • ویب سائٹ ایسنا، «آیا می‌توان بہ‌جای سنگسار حکم دیگری بہ‌اجرا گذاشت؟»، ۲۲ فروردین ۱۳۹۱ش، تاریخ اخذہ ۲۰ فروردین ۱۳۹۷شمسی ہجری۔