مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

سِجِّیل، کيچڑ سے بنے ہوے پتھر کو کہا جاتا ہے اور يہ وہ پتھر ہے جس کے ذريعے اللہ تعالى نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر عذاب نازل کیا۔

سِجِّیل، قرآن ميں تين مرتبہ آيا ہے جس ميں سے ايک مرتبہ اصحاب فیل [1] کے واقعے ميں اور دو مرتبہ قوم لوط[2] کے واقعے ميں استعمال ہوا ہے۔ عربى زبان ميں اس کے معنى کيچڑ سے بنے پتھر کے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ يہ لفظ اصل ميں فارسى سے عربى ميں آيا ہے۔[3] (چونکہ فارسى ميں اسے سنگِ گِل کہا جاتا ہے۔) مفسروں نے اس کا ترجمہ کيچڑ سے بنے پتھر سے کيا ہے کہ جس کے ذريعے اللہ تعالى نے قوم لوط اور اصحاب فيل پر عذاب نازل کيا۔[4] علامہ طباطبایی سے منقول ہے کہ بعض نے سجيل کو آگ کے معنى ميں اور بعض نے سجيل کو کتاب کے معنى ميں ليا ہے۔[5] اس صورت ميں قرآن ميں سجيل سے مراد وہ پتھر ہيں جن پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ چونکہ کہا جاتا ہے کہ ہر ابابیل جو پتھر ابرہہ کى فوج پر پھينکتا تھا اس پر اصحاب فيل ميں سے کسى ايک کا نام لکھا ہوا تھا۔[6]

حوالہ جات

  1. سورہ فیل، ۴
  2. هود ۸۲؛ حجر:۷۴
  3. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۱۱، ص۳۲۷.
  4. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۸۲؛ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۰، ص۳۴۴-۳۴۵.
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۰، ص۳۴۴-۳۴۵.
  6. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۲۰، ص۴۱۰.


منابع

  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، تصحیح: احمد فارس صاحب الجوائب، دارالفکر للطباعہ و النشر- دارصادر، بیروت، ۱۴۱۴ق.
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، تحقیق: محمدجعفر یاحقی، محمدمہدی ناصح، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، مشہد، ۱۴۰۸ق.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، قم، ۱۴۱۷ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی، انتشارات ناصر خسرو، تہران، ۱۳۷۲ش.