مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

نساء سورۂ مائدہ انعام
سوره مائده.jpg
ترتیب کتابت: 5
پارہ : 6 و 7
نزول
ترتیب نزول: 112
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 120
الفاظ: 2842
حروف: 12207

سورہ مائدہ قرآن کریم کی پانچویں اور مدنی سورتوں میں سے ہے جو چھٹے اور ساتویں پارے میں واقع ہے۔ مائدہ کے معنی غذا یا دسترخوان کے ہیں۔ اس سورت میں حضرت عیسیؑ کے حواریوں کی درخواست پر آسمان سے مائدہ اترنے کے واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "مائدہ" رکھا گیا ہے۔ سورہ مائدہ میں بہت سارے فقہی احکام جیسے حلال و حرام، وضو اور تیمم وغیرہ کے بیان کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر بھی بحث ہوئی ہے جن میں اسلام میں مسئلۂ ولایت، مسیحیت میں تثلیث، قیامت و معاد، وفای بہ عہد، عدالت اجتماعی، عدالت کے ساتھ گواہی دینا اور انسانوں کے قتل کا حرام ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

آیت اکمال اور آیت تبلیغ اس سورت کے مشہور آیات میں سے ہیں جو شیعہ نقطہ نگاہ سے واقعہ غدیر اور حضرت علیؑ کی جانشینی کے اعلان سے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ اسی طرح آیت ولایت بھی اس سورت کے مشہور آیات میں سے ہے جس کے بارے میں شیعہ سنی دونوں متفق ہیں کہ یہ آیت امام علیؑ کی شأن میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اس سورت میں بہت سارے تاریخی واقعات کا تذکرہ بھی ہوا ہے جن میں بنی‌اسرائیل کی رویداد، ہابیل و قابیل کی داستان، حضرت عیسی کی رسالت اور آپ کے معجزات وغیرہ شامل ہیں۔ اس سورت کی تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ مائدہ کی تلاوت کرے اسے دنیا میں موجود یہودیوں اور عیسائیوں کی تعداد کے دس گنا ثواب دیا جائے گا اور دس گنا اس کے گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس کے درجات میں دس گنا اضافہ کیا جائے گا۔

فہرست

تعارف

  • نام

مائدہ غذا یا دسترخوان کے معنی میں ہے۔[1] اس سورت میں حضرت عیسیؑ کے حواریوں کی درخواست پر آسمان سے مائدہ اترنے کے واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "مائدہ" رکھا گیا ہے۔[2] یہ لفظ اس سورت میں دو دفعہ آیا ہے۔ اس کے دوسرے اسامی میں سورہ عقود‌ عہد و پیمان‌ اور قرارداد کے معنی میں اور سورہ مُنقِذہ‌ آزاد کنندہ اور نجات‌دہندہ کے معنی میں، شامل ہے۔[3]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ مائدہ مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 113ویں جبکہ مُصحَف شریف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے پانچویں سورہ ہے[4] اور قرآن کے چھٹے اور ساتویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ مائدہ 120 آیات، 2842 کلمات اور 12207 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سَبعُ طِوال میں ہوتا ہے۔[5]

مضامین

سورہ مائدہ میں بہت سارے فقہی احکام اور شرعی وظایف کے ساتھ ساتھ بعض اسلامی اعتقادات کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کے بعد آپ کی جانشینی کا مسئلہ، مسیحیت میں تثلیث کا مسئلہ، قیامت اور معاد سے مربوط بعض مسائل، وفای بہ عہد، عدالت اجتماعی، ہابیل اور قابیل کی داستان وغیرہ ان مسائل میں سے ہیں جن کے بارے میں اس سورت میں بحث ہوئی ہے۔ اسی طرح وضو، تیمم، قصاص، چوری اور مُحرِم کے احکام من جملہ فقہی مباحث ہیں جن کے بارے میں اس سورت میں بحث ہوئی ہے[6] تفسیر المیزان کے مطابق اس سورت کا اصلی مقصد عہد پیمان کی پاسداری ہے۔ اس سورت کے مطابق خدا کی سنت یہ رہی ہے کہ پرہیزگاروں اور لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والوں کے اوپر اپنی رحمتیں نازل کرے اور اپنے امام کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کی پاسداری نہ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔[7]

سورہ مائدہ کے مضامین[8]
 
 
 
 
 
 
الہی عہد و پیمان پر پابندی کی اہمیت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا حصہ: آیہ ۱۰۹ـ۱۲۰
قیامت کے دن الہی وعدوں کا جواب
 
تیسرا حصہ: آیہ ۸۷ـ۱۰۸
مسلمانوں کو اسلامی احکام پر پابندی کی دعوت
 
دوسرا حصہ: آیہ ۱۲ـ۸۶
اہل کتاب کو الہی عہد و پیمان پر پابندی کی دعوت
 
پہلا حصہ: آیہ ۱ـ۱۱
مسلمانوں کو دینی احکام پر پابندی کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۰۹
قیامت کے دن پیغمبر سے ان کی امت کے بارے میں سوال
 
پہلا حکم: آیہ ۸۷ـ۸۸
حلال کھانوں کو حرام قرار دینے سے منع
 
پہلا گفتار: آیہ ۱۲ـ۱۴
اہل کتاب کو ان کی عہد شکنی کی یادآوری
 
پہلا حکم: آیہ ۱ـ۲
احکامِ حج کی رعایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۱۰
بنی اسرائیل کا حضرت عیسی کی مخالفت
 
دوسرا حکم: ۸۹
قسم کا کفارہ ادا کرنا
 
دوسرا گفتار: آیہ ۱۵ـ۱۹
اہل کتاب کی پیغمبر اسلام پر ایمان لانے کی ذمہ داری
 
دوسرا حکم: آیہ ۳ـ۴
کھانے کے احکام کی رعایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۱۱۱ـ۱۱۵
اللہ کے عہد پر حواریوں کی پایبندی
 
تیسرا حکم: آیہ ۹۰ـ۹۳
شراب اور قمار سے دوری
 
تیسرا گفتار: آیہ ۲۰ـ۴۰
اہل کتاب کا فرمان الہی کی مخالفت کا سابقہ
 
حکم سوم: آیہ ۵
شریک حیات کے انتخاب میں الہی قانون کی رعایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب: آیہ ۱۱۶ـ۱۱۸
حضرت عیسی کے پیروکاروں کا توحید سے انحراف
 
چوتھا حکم: آیہ ۹۴ـ۱۰۰
احرام کی حالت میں شکار کرنے سے منع
 
چوتھا گفتار: آیہ ۴۱ـ۵۰
اہل کتاب کی نافرمانیوں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داری
 
حکم چہارم: آیہ ۶ـ۷
طہارت کے احکام کی رعایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب: آیہ ۱۱۹ـ۱۲۰
الہی عہد و پیمان پر پابندی کی اخروی جزا
 
پانچواں حکم: آیہ ۱۰۱ـ۱۰۵
الہی کام میں کچھ اور حکم اضافہ نہ کرنا
 
پانچواں گفتار: آیہ ۵۱ـ۵۸
اہل کتاب کے مقابلے میں مومنوں کی ذمہ داری
 
حکم پنجم: آیہ ۸
زندگی میں عدالت اور تقوی کی رعایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا حکم: آیہ ۱۰۶ـ۱۰۸
وصیت پر گواہ رکھنا
 
چھٹا گفتار: آیہ ۵۹ـ۶۴
مسلمانوں سے دشمنی نہ کرنے میں اہل کتاب کی ذمہ داری
 
تذکر: آیہ ۹ـ۱۱
الہی عہد و پیمان پر پابندی کے نتائج
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ساتواں گفتار: آیہ ۶۵ـ۶۹
اہل کتاب کا آسمانی کتابوں پر عمل کرنے کی ذمہ داری
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آٹھواں گفتار: آیہ ۷۰ـ۸۶
باطل رہبروں کی پیروی نہ کرنے میں اہل کتاب کی ذمہ داری

آیات مشہورہ

آیت اکمال

آیت اکمال، واقعہ غدیر خم سے مربوط آیات میں سے ہے
تفصیلی مضمون: آیت اکمال
  • الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ(ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے۔) (آیت نمبر 3)

ترجمه: امروز دين شما را برايتان كامل و نعمت خود را بر شما تمام گردانيدم، و اسلام را براى شما [به عنوان‌] آيينى برگزيدم.

شیعہ علماء کا اس بات پر اتفاق نظر ہیں کہ یہ واقعہ غدیر خم اور حضرت علیؑ کی ولایت اور امامت کے سلسلے میں 18 ذی‌الحجہ کو نازل ہوئی ہے۔[9] اہل سنت بعض منابع میں اس آیت کو عرفہ کے دن نازل ہونے کے بارے میں آیا ہے۔[10] علامہ امینی کتاب الغدیر میں اور میر حامد حسین کتاب عبقات الانوار نے اہل سنت کی کتابوں سے بہت سارے ایسے قرائن و شواہد جمع کئے ہیں جو اس بات کے اوپر دلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت حضرت علیؑ کی شأن میں غدیر خم کے واقعے میں نازل ہوئی ہے۔[11]

آیت حرمت قتل

  • مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ(ترجمہ: جس نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو، یا زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک جان کو بچا لیا، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا)(آیت نمبر 32)

اس بات کی توضیح میں کہ کیوں ایک آدمی کے قتل کو تمام انسانوں کے قتل نیز ایک انسان کی نجات کو تمام انسانوں کی نجات کے مساوی قرار دی گئی، مفسرین کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ علامہ طباطبایی لکھتے ہیں کہ کسی انسان کو قتل کرنا حقیقت میں خدا کی ربوبیت اور خلقت کے منافی ہے اس بنا پر یہ کام تمام انسانوں کا قتل محسوب ہو گا۔[12] مجمع البیان میں بھی اس حوالے سے مختلف اقوال ذکر کئے ہیں من جملہ یہ کہ قاتل جب ایک انسان کو قتل کرتا ہے تو گویا اس نے تمام انسانوں کے قتل کا عزم کیا ہے یا یہاں پر انسان سے مراد کوئی عام آدمی نہیں بلکہ کسی نبی یا امام کا قتل مراد ہے یا چونکہ قاتل نے قتل کی بنیاد رکھی ہے پس اس کا گناہ تمام انسانوں کے قتل کے برابر ہے۔[13] تفسیر نمونہ میں آیا ہے کہ یہ شخص جس نے ایک انسان کو قتل کیا ہے وہ دوسرے انسانوں کے قتل پر بھی تیار ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ انسانی معاشرہ گویا ایک اکائی کی طرح ہے اور اس معاشرے میں موجود تمام افراد اس اکائی کے اعضاء کی مانند ہیں جب ان میں سے کسی ایک عضوء کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا اثر دوسرے اعضاء پر بھی پڑتا ہے۔ بعض احادیث میں آیا ہے کہ اس آیت میں موت اور حیات سے مراد گمراہی اور ہدایت ہے۔[14]

آیت وسیلہ

تفصیلی مضمون: آیت وسیلہ
  • يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(ترجمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو! اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ اور اس کی راہ میں جہاد کرو۔ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔) (آیت نمبر 35)

شیعوں کے مطابق یہ آیت اولیا اور انبیا سے توسل جائز ہونے کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے؛ کیونکہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ مؤمنوں کو توسل (وسیلہ تلاش) کرنے کی سفارش کر رہا ہے۔ شیعہ نطقہ نگاہ سے وسیلہ ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے جس میں واجبات و مستحبات سے لے کر صالحین، مؤمنین نیز اولیاء الہی سے دعا و مناجات سب شامل ہیں۔[15] حدیثی منابع میں توسل سے متعلق اہل بیتؑ سے بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں توسل کی حقیقت، اس کے مطادیق نیز اس کے آثار اور نتائج بیان ہوئی ہیں۔[16]

آیت ولایت

تفصیلی مضمون: آیت ولایت
  • إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ(ترجمہ: اے ایمان والو! تمہارا حاکم و سرپرست اللہ ہے۔ اس کا رسول ہے اور وہ صاحبان ایمان ہیں۔ جو نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔) (آیت نمبر 55)

تمام شیعہ منابع نیز بعض اہل سنت منابع کے مطابق یہ آیت حضرت علیؑ کی شأن میں نازل ہوئی ہے۔[17] احادیث میں آیا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک فقیر آیا اور مدد کرنے کی درخواست کی لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس موقع پر حضرت علیؑ جو اس وقت رکوع کی حالت میں تھے، نے اپنی انگوٹھی کی طرف اشارہ فرمایا اور فقیر نے اسے آپؑ کی انگلی سے اتار دیا۔[18] شیعہ اس آیت سے حضرت علیؑ کی امامت و ولایت پر استدلال کرتے ہیں۔[19]

آیت تبلیغ

تفصیلی مضمون: آیت تبلیغ
  • يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ(ترجمہ: اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ اسے (لوگوں تک) پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو (پھر یہ سمجھا جائے گا کہ) آپ نے اس کا کوئی پیغام پہنچایا ہی نہیں۔ اور اللہ آپ کی لوگوں (کے شر) سے حفاظت کرے گا بے شک خدا کافروں کو ہدایت نہیں کرتا۔) (آیت نمبر 67)

شیعہ مفسرین تصریح کرتے ہیں کہ آیت تبلیغ پیغمبر اکرمؐ کی حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر غدیر خم کے مقام پر 18 ذی‌الحجہ کو نازل ہوئی۔[20] اہل سنت منابع میں بھی ایسی احادیث موجود ہیں جو اس آیت کی غدیر خم میں نازل ہونے کے بارے میں تصریح کرتی ہیں۔[21] شیعہ علماء ائمہ معصومینؑ نیز پیغمبر اکرمؐ کے بعض اصحاب سے منقول احادیث پر استناد کرتے ہوئے اس آیت کو واقعہ غدیر اور امام علیؑ کی خلافت و جانشینی کے اعلان سے مربوط جانتے ہیں۔[22]

آیت وضو

تفصیلی مضمون: آیت وضو
  • یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَ أَیدِیكُمْ إِلَی الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ إِلَی الْكَعْبَین..(ترجمہ: اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔ اور سروں کے بعض حصہ کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔) (آیت نمبر 6)

یہ آیت قرآن کی واحد آیت ہے جس میں وضو کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ اس آیت کے مفہوم اور مصادیق میں شیعہ اور اہل سنت فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ سر کی طرح پاؤوں پر بھی مسح کرنا چاہئیے جبکہ اہل سنت پاؤوں کو ہاتھ اور چہرے کے ساتھ ملحق کرتے ہوئے اس کے دھونے کے قائل ہیں۔[23] کہا جاتا ہے کہ شیعہ وضو اور اس کی جزئیات سے متعلق آیت وضو کے علاوہ تقریبا 560 سے بھی زاید احادیث سے استناد کرتے ہیں۔[24]

تاریخی واقعات اور داستانیں

آیات الاحکام

سورہ مائدہ کی تقریبا 30 آیتوں کو آیات الاحکام میں شمار کیا جاتا ہے۔[25] اس سورت میں ذکر ہونے والے مشہور فقہی احکام یہ ہیں: حج کے دوران مُحرِم پر شکار کا حرام‌ ہونا (آیت 1، 2، 5 اور97)،[26] مُردار کا حرام ہونا، سور کے خون اور گوشت کا حرام ہونا (آیت 3)،[27] وضو اور اس کی کیفیت (آیت 6)،[28] قصاص (آیت 32 اور 45)،[29] چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم(آیت 38 اور 39)،[30] قسم توڑنے کا کَفّارہ (آیت 89)،[31] شراب اور قمار کا حرام ہونا(آیت 90)۔[32]

فضیلت و خواص

اس سورت کی تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ مائدہ کی تلاوت کرے اسے دنیا میں موجود یہودیوں اور عیسائیوں کی تعداد کے دس گنا ثواب دیا جائے گا اور دس گنا اس کے گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس کے درجات میں دس گنا اضافہ کیا جائے گا۔[33] ابوحمزہ ثمالی امام صادقؑ سے نقل کرتے ہیں کہ سورہ مائدہ ایک بار پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی اس موقع پر ستر ہزار فرشتے بھی نازل ہوئے۔[34]

حدیثی منابع میں اس سورت کی قرائت کے مختلف خواص بیان ہوئی ہیں جن میں ایمان میں اضافہ (اگر ہر جمعرات کو پڑھے)[35] مال و دولت کے چوری ہونے سے محفوظ (اگر اسے اسی صندوق یا اس جگہے پر رکھی جائے جہاں پر مذکورہ مال ہے)۔[36]

متن اور ترجمہ

سورہ مائدہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ‌ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُ‌مٌ ۗ إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ مَا يُرِ‌يدُ ﴿1﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ‌ اللَّـهِ وَلَا الشَّهْرَ‌ الْحَرَ‌امَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّ‌بِّهِمْ وَرِ‌ضْوَانًا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا ۚ وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ أَن تَعْتَدُوا ۘ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿2﴾حُرِّ‌مَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ‌ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ‌ اللَّـهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَ‌دِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ‌ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ‌ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿3﴾ يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِ‌حِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّـهُ ۖ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَرِ‌يعُ الْحِسَابِ ﴿4﴾ الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ‌ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ وَمَن يَكْفُرْ‌ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ ﴿5﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَ‌افِقِ وَامْسَحُوا بِرُ‌ءُوسِكُمْ وَأَرْ‌جُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُ‌وا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْ‌ضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِ‌يدُ اللَّـهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَ‌جٍ وَلَـٰكِن يُرِ‌يدُ لِيُطَهِّرَ‌كُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿6﴾ وَاذْكُرُ‌وا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ‌ ﴿7﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ‌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿8﴾ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَأَجْرٌ‌ عَظِيمٌ ﴿9﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿10﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُ‌وا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿11﴾ وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ‌ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّـهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُ‌سُلِي وَعَزَّرْ‌تُمُوهُمْ وَأَقْرَ‌ضْتُمُ اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَ‌نَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ ۚ فَمَن كَفَرَ‌ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ﴿12﴾ فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ۖ يُحَرِّ‌فُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ۙ وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُ‌وا بِهِ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿13﴾ وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَ‌ىٰ أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُ‌وا بِهِ فَأَغْرَ‌يْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّـهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ﴿14﴾ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَ‌سُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرً‌ا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ‌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿15﴾ يَهْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِ‌ضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِ‌جُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‌ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿16﴾ لَّقَدْ كَفَرَ‌ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْ‌يَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا إِنْ أَرَ‌ادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْ‌يَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿17﴾ وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَ‌ىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ‌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ‌ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ‌ ﴿18﴾ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَ‌سُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَ‌ةٍ مِّنَ الرُّ‌سُلِ أَن تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ‌ وَلَا نَذِيرٍ‌ ۖ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ‌ وَنَذِيرٌ‌ ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿19﴾ وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُ‌وا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ ﴿20﴾ يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْ‌ضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَرْ‌تَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِ‌كُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِ‌ينَ ﴿21﴾ قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِ‌ينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا فَإِن يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ ﴿22﴾ قَالَ رَ‌جُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ۚ وَعَلَى اللَّـهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿23﴾ قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَ‌بُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ﴿24﴾ قَالَ رَ‌بِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُ‌قْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴿25﴾ قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّ‌مَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْ‌بَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴿26﴾ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّ‌بَا قُرْ‌بَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ‌ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿27﴾ لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَ‌بَّ الْعَالَمِينَ ﴿28﴾ إِنِّي أُرِ‌يدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ‌ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ﴿29﴾ فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ ﴿30﴾ فَبَعَثَ اللَّـهُ غُرَ‌ابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْ‌ضِ لِيُرِ‌يَهُ كَيْفَ يُوَارِ‌ي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَىٰ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـٰذَا الْغُرَ‌ابِ فَأُوَارِ‌يَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ ﴿31﴾ مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ‌ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْ‌ضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُ‌سُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرً‌ا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْ‌ضِ لَمُسْرِ‌فُونَ ﴿32﴾ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِ‌بُونَ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْ‌ضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْ‌جُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْ‌ضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿33﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُ‌وا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿34﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿35﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿36﴾ يُرِ‌يدُونَ أَن يَخْرُ‌جُوا مِنَ النَّارِ‌ وَمَا هُم بِخَارِ‌جِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿37﴾ وَالسَّارِ‌قُ وَالسَّارِ‌قَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿38﴾ فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّـهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿39﴾ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَيَغْفِرُ‌ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿40﴾ يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِ‌عُونَ فِي الْكُفْرِ‌ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا ۛ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِ‌ينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّ‌فُونَ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُ‌وا ۚ وَمَن يُرِ‌دِ اللَّـهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِ‌دِ اللَّـهُ أَن يُطَهِّرَ‌ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿41﴾ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّ‌وكَ شَيْئًا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿42﴾ وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ التَّوْرَ‌اةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّـهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَـٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴿43﴾ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَ‌اةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ‌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّ‌بَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ‌ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُ‌وا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُ‌ونَ ﴿44﴾ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُ‌وحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَ‌ةٌ لَّهُ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿45﴾ وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِ‌هِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْ‌يَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَ‌اةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ‌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَ‌اةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ﴿46﴾ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿47﴾ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْ‌عَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَ‌اتِ ۚ إِلَى اللَّـهِ مَرْ‌جِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿48﴾ وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْ‌هُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِ‌يدُ اللَّـهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرً‌ا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ﴿49﴾ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿50﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَ‌ىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿51﴾ فَتَرَ‌ى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ يُسَارِ‌عُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَ‌ةٌ ۚ فَعَسَى اللَّـهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ‌ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّ‌وا فِي أَنفُسِهِمْ نَادِمِينَ ﴿52﴾ وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِ‌ينَ ﴿53﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْ‌تَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِ‌ينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ﴿54﴾ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَ‌اكِعُونَ ﴿55﴾ وَمَن يَتَوَلَّ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ﴿56﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ‌ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿57﴾وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ ﴿58﴾ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَ‌كُمْ فَاسِقُونَ ﴿59﴾ قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ‌ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَ‌دَةَ وَالْخَنَازِيرَ‌ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۚ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ‌ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ ﴿60﴾ وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَد دَّخَلُوا بِالْكُفْرِ‌ وَهُمْ قَدْ خَرَ‌جُوا بِهِ ۚ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ ﴿61﴾ وَتَرَ‌ىٰ كَثِيرً‌ا مِّنْهُمْ يُسَارِ‌عُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿62﴾ لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّ‌بَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ‌ عَن قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ﴿63﴾ وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّـهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرً‌ا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرً‌ا ۚ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارً‌ا لِّلْحَرْ‌بِ أَطْفَأَهَا اللَّـهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْ‌ضِ فَسَادًا ۚ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ﴿64﴾ وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْ‌نَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿65﴾ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَ‌اةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّ‌بِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْ‌جُلِهِم ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۖ وَكَثِيرٌ‌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ ﴿66﴾ يَا أَيُّهَا الرَّ‌سُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِ‌سَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿67﴾ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَ‌اةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرً‌ا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرً‌ا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿68﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَ‌ىٰ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿69﴾ لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ وَأَرْ‌سَلْنَا إِلَيْهِمْ رُ‌سُلًا ۖ كُلَّمَا جَاءَهُمْ رَ‌سُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُهُمْ فَرِ‌يقًا كَذَّبُوا وَفَرِ‌يقًا يَقْتُلُونَ ﴿70﴾ وَحَسِبُوا أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُوا وَصَمُّوا ثُمَّ تَابَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا وَصَمُّوا كَثِيرٌ‌ مِّنْهُمْ ۚ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ‌ بِمَا يَعْمَلُونَ ﴿71﴾ لَقَدْ كَفَرَ‌ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْ‌يَمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَ‌بِّي وَرَ‌بَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّ‌مَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ‌ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ‌ ﴿72﴾ لَّقَدْ كَفَرَ‌ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿73﴾ أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُ‌ونَهُ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿74﴾ مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْ‌يَمَ إِلَّا رَ‌سُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّ‌سُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ انظُرْ‌ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ‌ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ﴿75﴾ قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّ‌ا وَلَا نَفْعًا ۚ وَاللَّـهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿76﴾ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ‌ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرً‌ا وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ ﴿77﴾ لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِن بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْ‌يَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ ﴿78﴾ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ‌ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿79﴾ تَرَ‌ىٰ كَثِيرً‌ا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ ﴿80﴾ وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَـٰكِنَّ كَثِيرً‌ا مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿81﴾ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَ‌بَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَ‌ىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُ‌هْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ ﴿82﴾ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّ‌سُولِ تَرَ‌ىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَ‌فُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿83﴾ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَ‌بُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ ﴿84﴾ فَأَثَابَهُمُ اللَّـهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ ﴿85﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿86﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّ‌مُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ﴿87﴾ وَكُلُوا مِمَّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّـهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ ﴿88﴾ لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَ‌تُهُ إِطْعَامُ عَشَرَ‌ةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِ‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَ‌ةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿89﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ‌ وَالْمَيْسِرُ‌ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِ‌جْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿90﴾ إِنَّمَا يُرِ‌يدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ‌ وَالْمَيْسِرِ‌ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ‌ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ ﴿91﴾ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَاحْذَرُ‌وا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَ‌سُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿92﴾ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا ۗ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿93﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّـهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِ‌مَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿94﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُ‌مٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَ‌ةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِ‌هِ ۗ عَفَا اللَّـهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ اللَّـهُ مِنْهُ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ ﴿95﴾ أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ‌ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَ‌ةِ ۖ وَحُرِّ‌مَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ‌ مَا دُمْتُمْ حُرُ‌مًا ۗ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُ‌ونَ ﴿96﴾ جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ‌ الْحَرَ‌امَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ وَأَنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿97﴾ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿98﴾ مَّا عَلَى الرَّ‌سُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ﴿99﴾ قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَ‌ةُ الْخَبِيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّـهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿100﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْ‌آنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ حَلِيمٌ ﴿101﴾ قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِ‌ينَ ﴿102﴾ مَا جَعَلَ اللَّـهُ مِن بَحِيرَ‌ةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَـٰكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴿103﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّ‌سُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ﴿104﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّ‌كُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى اللَّـهِ مَرْ‌جِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿105﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ‌ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَ‌انِ مِنْ غَيْرِ‌كُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَ‌بْتُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ۚ تَحْبِسُونَهُمَا مِن بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ إِنِ ارْ‌تَبْتُمْ لَا نَشْتَرِ‌ي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ‌بَىٰ ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّـهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ ﴿106﴾ فَإِنْ عُثِرَ‌ عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَ‌انِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِن شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ ﴿107﴾ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا أَوْ يَخَافُوا أَن تُرَ‌دَّ أَيْمَانٌ بَعْدَ أَيْمَانِهِمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاسْمَعُوا ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿108﴾ يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّ‌سُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴿109﴾ إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْ‌يَمَ اذْكُرْ‌ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُ‌وحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَ‌اةَ وَالْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ‌ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرً‌ا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِ‌ئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَ‌صَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِ‌جُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِنْهُمْ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿110﴾ وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِ‌يِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَ‌سُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ ﴿111﴾ إِذْ قَالَ الْحَوَارِ‌يُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْ‌يَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَ‌بُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ ۖ قَالَ اتَّقُوا اللَّـهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿112﴾ قَالُوا نُرِ‌يدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّاهِدِينَ ﴿113﴾ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْ‌يَمَ اللَّـهُمَّ رَ‌بَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِ‌نَا وَآيَةً مِّنكَ ۖ وَارْ‌زُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ ﴿114﴾ قَالَ اللَّـهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ‌ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ ﴿115﴾ وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْ‌يَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴿116﴾ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْ‌تَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَ‌بِّي وَرَ‌بَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّ‌قِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿117﴾ إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ‌ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿118﴾ قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ رَّ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿119﴾ لِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿120﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اے ایمان والو! اپنے عہدوں کو پورا کرو تمہارے لئے چوپائے، مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں۔ سوائے ان کے جن کا ذکر تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا۔ ہاں جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ سمجھو۔ بے شک اللہ جو چاہتا ہے وہ حکم دیتا ہے۔ (1) اے ایمان والو! خدا کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو۔ اور نہ حرمت والے مہینہ کی اور نہ قربانی والے جانور کی اور نہ گلے میں پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کی اور نہ ان لوگوں کی (بے حرمتی کرو) جو اپنے پروردگار کا فضل و کرم اور اس کی رضامندی کے طلبگار بن کر بیت الحرام (مقدس گھر) کی طرف جا رہے ہیں اور جب احرام ختم ہو جائے (یا حرم سے باہر نکل جاؤ) تو شکار کر سکتے ہو۔ اور خبردار، تمہیں کسی قوم سے عداوت کہ اس نے تمہیں مسجد الحرام سے روک دیا تھا۔ اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (اس پر) ظلم و زیادتی کرو۔ اور نیکی و پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (2) تم پر حرام کیا گیا ہے۔ مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا جائے۔ اور گلا گھوٹا ہوا، یا جو چوٹ لگنے سے یا بلندی سے گر کر، یا سینگ لگنے سے مر جائے یا جسے کسی درندہ نے کھایا ہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا ہو۔ اور وہ (بھی حرام ہے) جو قربان کیا جائے بتوں پر (یا کسی آستانے پر) نیز (وہ بھی حرام ہے) جو قرعہ کے تیروں سے تقسیم کیا جائے۔ یہ سب کام فسق (گناہ) ہیں۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے ہاں جو بھوک کی شدت سے مجبور ہو جائے (اور حرام چیزوں سے کوئی کھا لے) جبکہ گناہ کی طرف راغب نہ ہو تو اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (3) لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ کہہ دیجیئے کہ تمہارے لئے سب پاک و پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو جن کو خدا کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق (شکار پکڑنے کا) طریقہ سکھایا ہو تو جسے وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں۔ اس میں سے بھی کھا سکتے ہو۔ اور اس پر (شکار پر چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لو۔ اور اللہ سے (اس کی معصیت کاری سے) ڈرو۔ بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ (4) آج تمہارے لئے سب پاک و پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اور اہل کتاب کا طعام (اناج) تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا طعام (اناج) ان کے لئے حلال ہے اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں (اہل کتاب) کی پاکدامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے۔ (وہ تمہارے لئے حلال ہیں) بشرطیکہ تم ان کی اجرتیں (حق مہر) دے دو۔ اور وہ بھی اپنی پاکدامنی کے تحفظ کی خاطر نہ کہ آزاد شہوت رانی کی خاطر اور نہ ہی چوری چھپے ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لیے۔ اور جو ایمان کا انکار کرے (اور کفر اختیار کرے) تو اس کے سب عمل اکارت ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔ (5) اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔ اور سروں کے بعض حصہ کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو پھر غسل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو۔ یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو۔ اور پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو (مَل لو) اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی سختی کرے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں پاک صاف رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ (6) اور یاد کرو اللہ کا وہ احسان جو اس نے تم پر کیا۔ اور اس کے عہد و پیمان کو جو اس نے تم سے لیا۔ جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا۔ اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ دلوں کے رازوں کو خوب جانتا ہے۔ (7) اے ایمان والو! اللہ کے لیے پوری پابندی کرنے والے اور راستی پر قائم رہنے والے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو (خبردار) کسی قوم سے دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ اور عدل سے پھر جاؤ۔ عدل کرو۔ کہ وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ سے ڈرو بے شک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ (8) اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر و ثواب ہے۔ (9) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی دوزخ والے ہیں۔ (10) اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے اس وقت تم پر کیا جب ایک گروہ نے ارادہ کیا تھا کہ وہ تمہاری طرف دست درازی کرے مگر اللہ نے (اپنی قدرت کاملہ سے) ان کو تم سے روک دیا۔ اللہ سے ڈرو۔ اور اہل ایمان کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ (11) اور بلاشبہ اللہ نے بنی اسرائیل سے عہدوپیمان لیا تھا اور ہم نے بھی بارہ نقیب (سردار) مقرر کئے تھے۔ اور اللہ نے (ان سے) کہا تھا کہ بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تو اگر تم نماز قائم رکھوگے، اور زکوٰۃ دیتے رہوگے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہوگے، اور ان کی مدد کرتے رہوگے اور اللہ کو قرضہ حسنہ دیتے رہوگے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کر دوں گا۔ (معاف کر دوں گا) اور تمہیں ان بہشتوں میں داخل کروں گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی مگر تم میں سے جس نے اس کے بعد کفر اختیار کیا وہ ضرور سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ (12) ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (اپنی رحمت سے دور کر دیا) اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ اب کلامِ (الٰہی) کو اس کی اصلی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں (تحریف کرتے ہیں) اور جس چیز کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے ہیں (اے پیغمبر(ص)) ان کے معدودے چند آدمیوں کے سوا برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے لہٰذا انہیں معاف کر دیجیے اور ان سے درگزر کیجیے بے شک اللہ معاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (13) اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں ان سے بھی پختہ عہد لیا تھا۔ سو جو کچھ بھی انہیں نصیحت کی گئی تھی، جب وہ اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے۔ تو ہم نے (بطورِ سزا) قیامت تک ان کے درمیان بغض و عناد ڈال دیا۔ اور عنقریب اللہ ان کو بتائے گا کہ وہ (دنیا میں کیا کرتے تھے)۔ (14) اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا وہ پیغمبر آگیا ہے جو بہت سی ان باتوں کو کھول کر بیان کر رہا ہے۔ جنہیں تم اس کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو اور بہت سی باتوں کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور (روشنی) اور واضح کتاب آگئی ہے۔ (15) جس کے ذریعہ سے خدا ان لوگوں کو سلامتی کے راستوں پر چلاتا ہے جو اس کی رضا کی اتباع و پیروی کرتے ہیں اور ان کو تاریکیوں (گمراہی) سے اپنے اذن و توفیق سے نور (ہدایت) کی طرف لاتا ہے اور انہیں سیدھے راستہ پر لگاتا ہے۔ (16) یقینا وہ لوگ (نصرانی) کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے۔ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ مسیح مریم کو ان کی ماں اور تمام اہل زمین کو ہلاک کرنا چاہے۔ تو اس کے آگے کس کا ذرا بھی بس چل سکتا ہے (کہ اسے روک دے) آسمانوں پر، زمین پر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ ان سب پر، اللہ ہی کی حکومت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے اور اللہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (17) یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے کہو (پوچھو) پھر خدا تمہیں تمہارے گناہوں پر سزا کیوں دیتا ہے؟ (نہیں) بلکہ تم بھی اس کی مخلوقات میں سے محض بشر (انسان) ہو۔ وہ جسے چاہتا ہے، بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے۔ سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لئے ہے، سلطنت آسمانوں کی، زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔ (18) اے اہلِ کتاب، ہمارا رسول جو کھول کر (ہمارے احکام) بیان کرتا ہے۔ ایسے وقت تمہارے پاس آیا کہ جب کچھ عرصہ سے رسولوں کی آمد کا سلسلہ بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا، تو لو تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (19) وہ وقت یاد کرو۔ جب جناب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم اللہ کا وہ احسان یاد کرو۔ جو اس نے تم پر کیا۔ اس نے تم میں نبی بنائے اور تمہیں فرمانروا اور خودمختار بنایا۔ اور تمہیں وہ کچھ دیا جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔ (20) اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور (مقابلہ کے وقت) پیٹھ دکھا کر نہ بھاگنا۔ ورنہ نقصان اٹھا کر لوٹو گے۔ (21) انہوں نے (جواب میں) کہا: اے موسیٰ اس زمین میں تو بڑے زبردست (جابر) لوگ رہتے ہیں اور ہم وہاں ہرگز داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں البتہ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم ضرور داخل ہو جائیں گے۔ (22) اس وقت دو شخصوں نے جو (اللہ سے) ڈرنے والوں میں سے تھے۔ جنہیں اللہ نے (خصوصی) نعمت سے نوازا تھا۔ کہا۔ کہ تم ان (جباروں) پر چڑھائی کرکے دروازہ کے اندر گھس جاؤ اور جب تم اس کے اندر داخل ہوگے (تو وہ بھاگ کھڑے ہوں گے اور) تم غالب آجاؤگے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان دار ہو۔ (23) انہوں نے کہا موسیٰ! ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ جب تک وہ اس میں ہیں۔ لہٰذا آپ اور آپ کا خدا دونوں چلے جائیں اور جا کر لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ (24) موسیٰ نے کہا پروردگار! میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر کوئی قابو (اختیار) نہیں رکھتا۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان فیصلہ کر دے۔ (25) ﷲ نے فرمایا! پھر اب وہ (زمین) چالیس سال تک حرام ہے وہ لق و دق صحراء میں سرگردان پھرتے رہیں گے پس آپ اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کریں۔ (26) (اے رسول(ص)) آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا سچا قصہ پڑھ کر سنائیے۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس (دوسرے) نے کہا میں تمہیں ضرور قتل کروں گا۔ پہلے نے کہا اللہ تو صرف متقیوں (پرہیزگاروں) کا عمل قبول کرتا ہے۔ (27) اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گا۔ تو میں تمہیں قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ (کیونکہ) میں تو ڈرتا ہوں اس اللہ سے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ (28) میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ سمیٹ لے جائے اور پھر دوزخیوں میں سے ہو جائے کہ ظالموں کی یہی سزا ہے۔ (29) تو (بالآخر) اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل کو اس کے لئے آسان بنا دیا۔ چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ (30) پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودتا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے اس پر اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں اس کوے سے بھی زیادہ گیا گزرا ہوں؟ کہ اپنے بھائی کی لاش چھپاؤں اب وہ پشیمان ہونے والوں میں سے ہوگیا۔ (31) اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو، یا زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک جان کو بچا لیا، تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا اور بے شک ان (بنی اسرائیل) کے پاس ہمارے رسول کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے۔ پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں ظلم و تعدی کرنے والے ہی رہے۔ (32) بے شک جو لوگ خدا اور رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ (۱) انہیں قتل کر دیا جائے۔ (۲) یا سولی پر چڑھا دیا جائے۔ (۳) یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں۔ (۴) یا جلا وطن کر دیئے جائیں۔ یہ تو ہوئی ان کی رسوائی دنیا میں اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (33) مگر وہ لوگ جو توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ تو جان لو کہ اللہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ (34) اے ایمان والو اللہ سے ڈرو! اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ اور اس کی راہ میں جہاد کرو۔ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ (35) بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا اور بھی ہو، تاکہ اسے بطور فدیہ دیں اور قیامت کے دن عذاب سے بچ جائیں، تو وہ بھی ان سے قبول نہ کیا جائے گا۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (36) وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، مگر وہ اس سے کبھی نہیں نکل پائیں گے۔ اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔ (37) اور چور مرد ہو یا چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ ان کے کرتوتوں کے عوض میں اللہ کی طرف سے بطور عبرتناک سزا کے اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔ (38) پھر جو شخص توبہ کرلے اپنے ظلم سے اور (اپنی) اصلاح کر لے، تو یقینا اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (39) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت ہے۔ جسے چاہتا ہے، سزا دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (40) اے رسول! وہ لوگ آپ کو غمگین نہ کریں جو کفر کی طرف تیزگامی سے بڑھ رہے ہوں۔ خواہ یہ ان لوگوں میں سے ہوں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے اور یا ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں اور سن گن لیتے ہیں دوسرے لوگوں کے لئے جو آپ کے پاس نہیں آئے۔ وہ (کتاب خدا کے) کلمات کو ان کے صحیح موقعوں سے ہٹا دیتے ہیں اور (تحریف کرنے کے بعد) کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو قبول کرو۔ اور اگر یہ نہ دیا جائے تو پرہیز کرو۔ اور اللہ جسے عذاب کرنا چاہے، تو آپ اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ اللہ کے ہاں یہ وہ ہیں کہ اللہ نے (زبردستی) ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔ (41) جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں، حرام مال کے بڑے کھانے والے ہیں اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو (آپ کو اختیار ہے) خواہ ان کا فیصلہ کریں یا ان سے روگردانی کریں اور اگر آپ ان سے روگردانی کریں۔ تو وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اگر فیصلہ کریں تو پھر انصاف کے ساتھ کریں کیونکہ اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (42) اور یہ لوگ آپ کو کس طرح حَکَم (ثالث) بناتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس توراۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ (آپ کے فیصلہ کے) بعد اس سے منہ موڑ لیتے ہیں (بات دراصل یہ ہے کہ) یہ مؤمن ہی نہیں ہیں (ہرگز ماننے والے نہیں ہیں)۔ (43) ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور نور (روشنی) تھی اس کے مطابق یہودیوں کے لئے فیصلے کرتے تھے۔ وہ تمام نبی جو اللہ کے مطیع و فرمانبردار تھے اللہ والے علماء و احبار بھی اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے جس کی حفاظت کے وہ ذمہ دار بنائے گئے تھے اور جس کے وہ گواہ تھے۔ پس تم لوگوں سے نہ ڈرو۔ بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور میری آیات کو تھوڑی سی قیمت کے عوض فروخت نہ کرو اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ کافر ہیں۔ (44) اور ہم نے اس (توراۃ) میں ان (یہودیوں) پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ ہے۔ پھر جو (قصاص) معاف کر دے، تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا اور جو قانونِ خدا کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ ظالم ہیں۔ (45) ہم نے ان (انبیاء) کے نقش قدم پر عیسیٰ کو بھیجا اپنے سے پہلے موجود کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔ جس میں ہدایت ہے اور نور بھی جو تصدیق کرنے والی تھی۔ اپنے سے پہلے موجود کتاب یعنی تورات کی اور یہ (انجیل) صحیح رہنمائی اور نصیحت تھی پرہیزگاروں کے لیے۔ (46) چاہیے کہ انجیل والے (نصرانی) اس (قانون) کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے اس (انجیل) میں نازل کیا ہے اور جو اللہ کے نازل کردہ (قانون) کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی فاسق (نافرمان) ہیں۔ (47) اور (اے رسول(ص)) ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے۔ جو تصدیق کرتی ہے۔ ان (آسمانی) کتابوں کی جو اس سے پہلے موجود ہیں اور ان کی محافظ و نگہبان ہے۔ لہٰذا آپ ان کے درمیان وہی فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور اس حق سے منہ موڑ کر جو آپ کے پاس آگیا ہے۔ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کی ہے اور اگر خدا (زبردستی) چاہتا، تو تم سب کو ایک ہی (شریعت) کی ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں آزمائے (ان احکام میں) جو (مختلف اوقات میں) تمہیں دیتا رہا ہے بس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم سب کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وہ تمہیں آگاہ کرے گا۔ ان باتوں سے جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ (48) اور ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے تم پر نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں کہ کہیں وہ آپ کو اللہ کے نازل کردہ کسی حکم سے بھٹکا نہ دیں اور اگر وہ روگردانی کریں، تو جان لیجیے کہ اللہ بس یہ چاہتا ہے کہ وہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے۔ بے شک زیادہ تر لوگ فاسق (نافرمان ہیں)۔ (49) کیا وہ دورِ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ حالانکہ یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے؟ (50) اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔ بے شک خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔ (51) (اے رسول(ص)) آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے۔ وہ دوڑ دوڑ کر ان (یہود و نصاریٰ) کی طرف جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہم پر کوئی گردش زمانہ نہ آجائے سو قریب ہے کہ اللہ (تمہیں) فتح سے ہمکنار کر دے یا (کامیابی کی) کوئی اور صورت اپنی طرف سے ظاہر کر دے، تو پھر وہ اس پر جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے نادم و پشیمان ہوں گے۔ (52) اور جو ایمان والے ہیں۔ وہ (حیرت سے) کہیں گے کیا یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے بڑی سخت قسمیں کھائی تھیں کہ بے شک وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے سب عمل ضائع ہوگئے اور وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔ (53) اے ایمان والو! جو تم میں سے اپنے دین سے مرتد ہو جائے (پھر جائے) تو خدا کو کیا پروا؟ ﷲ عنقریب ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ مؤمنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا بڑا جاننے والا ہے۔ (54) اے ایمان والو! تمہارا حاکم و سرپرست اللہ ہے۔ اس کا رسول ہے اور وہ صاحبان ایمان ہیں۔ جو نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ (55) اور جو تولاّ رکھے، اللہ سے، اس کے رسول سے اور صاحبانِ ایمان سے (وہ اللہ کا گروہ ہے) اور بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔ (56) اے ایمان والو! وہ لوگ جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور انہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے۔ ان کو اور دوسرے عام کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم مؤمن ہو۔ (57) اور جب تم (اذان دے کر لوگوں کو) نماز کی طرف بلاتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ بے وقوف ہیں، عقل سے کام نہیں لیتے۔ (58) (اے رسول(ص)) کہیے! اے اہل کتاب تم ہم پر کیا عیب لگاتے ہو؟ یہی کہ ہم اللہ پر، جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے۔ اس پر اور جو اس سے پہلے اتارا گیا، اس پر ایمان لائے ہیں (حقیقت یہ ہے کہ) تم میں سے زیادہ تر فاسق (نافرمان) ہیں۔ (59) کہیئے! کیا میں بتاؤں؟ کہ اللہ کے نزدیک انجام کے اعتبار سے زیادہ بُرا کون ہے؟ وہ ہے جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر وہ غضبناک ہے۔ اور جس میں سے اس نے بعض کو بندر اور بعض کو سور بنایا ہے اور جس نے شیطان (معبود باطل) کی عبادت کی ہو یہی وہ لوگ ہیں جوکہ درجہ کے لحاظ سے بدترین ہیں اور راہِ راست سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ (60) اور وہ جب آپ لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں حالانکہ وہ یہاں داخل ہوئے تو بھی کفر کے ساتھ اور یہاں سے نکلے تو بھی کفر کے ساتھ اور وہ لوگ جو (نفاق) چھپائے ہوئے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (61) تم ان میں سے بہتوں کو دیکھوگے کہ وہ گناہ، ظلم و تعدی کرنے اور حرام خوری میں بڑی تیزی دکھاتے ہیں، کتنا برا ہے، وہ کام جو یہ کرتے ہیں۔ (62) خدا والے فضلاء اور علماء ان کو گناہ کی بات کرنے (جھوٹ بولنے) اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ کتنا برا ہے وہ کام جو یہ (علماء) کر رہے ہیں۔ (63) یہودی کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (کچھ نہیں کر سکتا) ان کے ہاتھ بندھیں اور اس (بے ادبانہ) قول کی وجہ سے ان پر لعنت ہو۔ بلکہ اس کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرتا ہے اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک دشمنی اور بغض و کینہ ڈال دیا ہے۔ وہ جب بھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ تو اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ زمین میں فساد برپا کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اور اللہ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (64) اور اگر اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے، تو ہم ان کی برائیاں دور کر دیتے اور انہیں نعمت و راحت والے بہشتوں میں داخل کرتے۔ (65) اور اگر وہ (اہلِ کتاب) تورات، انجیل اور جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان کی طرف نازل کیا گیا تھا کو قائم رکھتے، تو وہ اپنے اوپر اور نیچے سے کھاتے پیتے۔ ان میں سے ایک گروہ تو میانہ رو ہے۔ مگر ان میں سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو بہت برا کر رہے ہیں۔ (66) اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ اسے (لوگوں تک) پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو (پھر یہ سمجھا جائے گا کہ) آپ نے اس کا کوئی پیغام پہنچایا ہی نہیں۔ اور اللہ آپ کی لوگوں (کے شر) سے حفاظت کرے گا بے شک خدا کافروں کو ہدایت نہیں کرتا۔ (67) اے اہلِ کتاب تم کسی راہ (حق) پر نہیں ہو جب تک کہ تورات، انجیل کو اور جو کچھ پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کو قائم نہ رکھو اور جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے (قرآن) وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا آپ کافروں پر افسوس نہ کریں۔ (68) بے شک جو لوگ مؤمن، یہودی، نصرانی اور صابی (ستارہ پرست) کہلاتے ہیں (غرض) جو کوئی بھی واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ان (سب) کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر و ثواب (محفوظ) ہے اور ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے۔ اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ (69) ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے جب بھی کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسی بات لے کر آتا جسے ان کے نفوس پسند نہیں کرتے تھے تو بعضوں کو جھٹلا دیتے تھے اور بعضوں کو قتل کر دیتے تھے۔ (70) اور خیال کرتے تھے کہ (انہیں) کوئی سزا نہیں ملے گی۔ اس لئے وہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی (لیکن) اس کے بعد پھر ان میں سے بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ (71) یقینا وہ لوگ کافر ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے حالانکہ خود عیسیٰ نے یہ کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو۔ جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے۔ بے شک جو شخص کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا۔ تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی یار و مددگار نہیں ہے۔ (72) یقینا وہ لوگ (بھی) کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو جو ان میں سے کفر پر برقرار رہیں گے تو انہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا۔ (73) یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں توبہ کیوں نہیں کرتے اور اس سے (اپنے گناہوں کی) معافی کیوں نہیں مانگتے؟ درآنحالیکہ اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (74) مسیح گزر چکے ہیں ان کی ماں صدیقہ (راست باز خاتون) تھیں وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے واضح دلائل بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں۔ (75) (اے رسول(ص)) ان سے کہیئے! کیا تم اللہ کو کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان (نہ سود نہ زیاں؟) اور اللہ وہ ہے جو ہر بات کا سننے والا ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (76) کہیئے! اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔ اور ان لوگوں کی خواہشات اور ذاتی خیالات کی پیروی نہ کرو جو پہلے خود گمراہ ہو چکے ہیں۔ اور بہت سوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور راہ راست سے بھٹک گئے ہیں۔ (77) بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ انہوں نے برابر نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔ (78) جو برائی وہ کرتے تھے۔ اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ کیسا برا تھا۔ وہ کام جو وہ کرتے تھے۔ (79) آپ ان میں سے بہتوں کو دیکھیں گے کہ وہ اہلِ اسلام کے بالمقابل کافروں سے دوستی رکھتے ہیں بہت ہی برا ہے وہ (سامان) جو ان کے نفسوں نے ان کے لئے آگے بھیجا ہے۔ (جس سے) اللہ ان پر غضبناک ہوگیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ (80) اور اگر وہ خدا پر، رسول(ص) پر اور جو کچھ اس (رسول(ص)) پر نازل کیا گیا ہے۔ اس پر ایمان لاتے، تو ان کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے۔ لیکن (بات دراصل یہ ہے کہ) ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق و فاجر (نافرمان) ہیں۔ (81) اے پیغمبر(ص)! آپ اہل ایمان سے دشمنی کرنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ترین دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور اہل ایمان سے دوستی کرنے میں آپ سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں یہ اس لئے ہے کہ ان میں پادری اور تارک الدنیا عابد پائے جاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔ (82) اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو (ہمارے) پیغمبر پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھوگے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے چھلک رہی ہوتی ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے وہ کہتے ہیں پروردگار ہم ایمان لائے سو تو ہم کو (صداقتِ اسلام کی) گواہی دینے والوں میں درج فرما۔ (83) اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے ایمان نہ لائیں حالانکہ ہم خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہمیں (اپنے) نیک بندوں میں شامل کرے۔ (84) اللہ نے ان کو ان کے اس قول کے صلہ میں ایسے بہشت عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ نیکوکاروں کا معاوضہ ہے۔ (85) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو وہی دوزخ والے ہیں۔ (86) اے ایمان والو! (اپنے اوپر) حرام نہ کرو ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اور (حد سے) تجاوز نہ کرو بے شک اللہ (حد سے) تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (87) اور اللہ نے تمہیں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ اور اسی اللہ سے ڈرو (اس کی نافرمانی سے بچو) جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ (88) اللہ تم سے تمہاری لایعنی قَسموں پر مواخذہ (بازپرس) نہیں کرے گا۔ مگر جو قسمیں تم نے قصداً کھائی ہیں (اور اس طرح مضبوط کی ہیں) تو ان پر ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ اور (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے: (۱)دس مسکینوں کو کھانا کھلانا اوسط درجے کا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔ (۲) یا انہیں کپڑے پہناؤ۔ (۳) یا پھر ایک غلام آزاد کرو۔ اور جس کو اس کا مقدور نہ ہو تو وہ تین روزہ رکھے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفارہ ہے جب تم قَسم کھاؤ اور اپنی قَسموں کی حفاظت کرو (خیال رکھو) اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنے آیات و احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (89) اے ایمان والو! شراب، جوا، بت (یا آستانے، اور پانسے) سب گندے اور شیطانی کام ہیں ان سے اجتناب کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (90) شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعہ سے بغض و عداوت ڈالے۔ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے باز رکھے (روکے)۔ کیا اب تم (ان چیزوں سے) باز آؤگے؟ ۔ (91) اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور (نافرمانی سے) بچتے رہو اور اگر تم نے روگردانی کی تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف واضح طور پر (ہمارا پیغام) پہنچا دینا ہے اور بس۔ (92) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ جو وہ (پہلے) کھا پی چکے ہوں۔ جبکہ (اب) پرہیز کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ اور پھر اس ایمان و پرہیز پر قائم و ثابت قدم بھی رہیں اور پھر تمام برے کاموں سے پرہیز کرتے رہیں اور نیکیاں کرتے رہیں اور اللہ نیک عمل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (93) اے ایمان والو! خدا تمہیں ضرور اس شکار کے ذریعہ سے آزمائے گا جسے تمہارے یہ ہاتھ اور نیزے پا جائیں (تمہاری زد میں ہو) تاکہ وہ (حسب ظاہر) یہ دیکھے کہ غائبانہ طور پر کون اس سے ڈرتا ہے؟ اور جس نے تنبیہ کے بعد بھی حد سے تجاوز کیا تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (94) اے ایمان والو! شکار کو نہ مارو جبکہ تم احرام باندھے ہوئے ہو اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے گا تو اس کا جرمانہ مویشیوں سے کوئی جانور ہوگا۔ جو اس جانور کا ہم پلہ ہو جو اس نے مارا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل شخص کریں گے اور یہ جرمانہ بطور قربانی و نذرانہ خانہ کعبہ پہنچایا جائے گا۔ اس کا کفارہ چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا یا پھر اس کے برابر روزے رکھے جائیں گے۔ تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا کا مزہ چکھے۔ تو پہلے جو ہو چکا اسے تو اللہ نے معاف کر دیا۔ اور جو پھر ایسا کرے گا تو اس سے اللہ انتقام (بدلہ) لے گا۔ اور اللہ غالب ہے (زبردست ہے) اور بدلہ لینے والا ہے۔ (95) تمہارے لئے سمندری شکار (تری والا) اور اس کا کھانا اور قافلہ والوں (مسافروں) کے فائدہ کے لئے حلال قرار دیا گیا ہے اور جب تک تم حالت احرام میں ہو خشکی کا شکار تم پر حرام کیا گیا ہے اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو۔ جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔ (96) خدا نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے۔ حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کے جانوروں کو اور گلے میں پٹہ بندھے جانوروں کو لوگوں کی بقاء و فلاح کا سبب اور مرکز بنایا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ (97) جان لو کہ اللہ (مقامِ عقاب میں) سخت سزا دینے والا بھی ہے اور مقامِ عفو و صفح میں بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا بھی ہے۔ (98) پیغمبر کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچانا ہے اور بس۔ اور اللہ اسے بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور اسے بھی جسے تم چھپاتے ہو۔ (99) کہہ دیجیے کہ خبیث (ناپاک) اور طیب (پاک) برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث (ناپاک) کی کثرت اور بہتات تمہیں تعجب میں بھی ڈال دے (تمہیں بھلی لگے) اے عقل والو! خدا کی نافرمانی سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (100) اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو۔ کہ جو اگر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر ان کے متعلق ایسے وقت میں سوال کروگے جبکہ قرآن اتر رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی اللہ نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے (یا اللہ نے تمہیں معاف کر دیا ہے) اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔ (101) تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے اس قسم کے سوال (اپنے نبیوں سے) کئے تھے۔ پھر انہیں کی وجہ سے کافر (منکر) ہوگئے۔ (102) اللہ تعالیٰ نے کوئی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیا مگر کافر اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر عقل و شعور نہیں رکھتے۔ (103) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس (قرآن) کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آؤ پیغمبر(ص) کی طرف تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے تو وہی (طریقہ) کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے اگرچہ ان کے باپ دادا نہ علم رکھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں (تو بھی وہ انہی کے طریقہ کو کافی جانیں گے؟) (104) اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنی جانوں کی فکر کرو۔ جو گمراہ ہے وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا جب کہ تم ہدایت یافتہ ہو (راہِ راست پر ہو) تم سب کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم دنیا میں کیا کرتے تھے؟ ۔ (105) اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے جبکہ وہ وصیت کر رہا ہو تو تمہارے درمیان گواہی کا ضابطہ یہ ہے کہ تم مسلمانوں میں سے دو عادل گواہ ہونے چاہئیں۔ ہاں البتہ اگر تم سفر میں ہو اور تم پر موت کی مصیبت آپڑے (اور مسلمان گواہ نہ مل سکیں) تو پھر دو گواہ غیروں میں سے ہی لے لئے جائیں۔ اور اگر تمہیں شک پڑ جائے تو ان دونوں کو نماز کے بعد روک رکھو اور وہ دونوں ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی قَسم کھائیں کہ ہم اس قَسم کے عوض کوئی قیمت (فائدہ) حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور ہم اللہ واسطے کی گواہی نہیں چھپائیں گے ورنہ یقینا ہم گنہگاروں میں سے ہوں گے۔ (106) اور اگر بعد میں پتہ چلے کہ وہ (جھوٹی گواہی دے کر) گناہ کے مستوجب ہوئے ہیں تو پھر ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں (جو مرنے والے کے زیادہ) قریبی رشتہ دار ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہے اور اللہ کی قَسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان (پہلے) دونوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ورنہ ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔ (107) یہ طریقہ کار زیادہ قریب ہے اس کے کہ گواہ ٹھیک طریقہ پر گواہی دیں گے یا کم از کم وہ اس بات کا خوف تو کریں گے کہ ان کی قَسموں کے بعد کہیں اور قَسموں سے ان کی تردید نہ ہو جائے (یا انہیں یہ اندیشہ تو ہوگا کہ ان کی قَسموں کے بعد دوسرے گواہوں سے بھی قَسمیں لی جا سکتی ہیں) اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور سنو۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔ (108) (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ تمام رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں (اپنی امتوں کی طرف سے) کیا جواب ملا تھا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں تو کچھ علم نہیں ہے۔ تو ہی غیب کی تمام باتوں کا بڑا جاننے والا ہے۔ (109) (اور وہ وقت یاد کرو) جب خدا فرمائے گا اے مریم کے فرزند عیسیٰ میرا وہ انعام یاد کرو۔ جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا تھا۔ جب میں نے روح القدس سے تمہاری تائید کی (جس کی وجہ سے) تم گہوارے میں اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے (یکساں) باتیں کرتے تھے اور جب میں نے تمہیں کتاب (لکھنے) حکمت (دانائی)، توراۃ اور انجیل کی تعلیم دی تم میرے حکم سے مٹی سے پرندہ کی شکل (پتلا) بناتے تھے اور پھر اس میں پھونک مارتے تھے اور وہ میرے حکم سے (سچ مچ) پرندہ بن جاتا تھا۔ اور تم میرے حکم سے پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دیتے تھے اور تم میرے حکم سے مردوں کو (زندہ کرکے قبروں سے) نکالا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکا تھا۔ جب تم ان کے پاس بینات و معجزات لائے تھے تو ان میں سے جو کافر (منکر حق) تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ نہیں ہے، مگر کھلا ہوا جادو۔ (110) اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب میں نے حواریون کو الہام کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور گواہ رہنا کہ ہم مسلمان (تیرے فرمانبردار بندے) ہیں۔ (111) (حواریوں) کے بارے میں یہ قصہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ انہوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم(ع) کیا آپ کا پروردگار اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتارے عیسیٰ نے کہا اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اگر تم مؤمن ہو؟ ۔ (112) کہنے لگے ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں اور ہمیں یقین ہو جائے کہ آپ نے ہم سے سچ کہا تھا۔ اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہو جائیں۔ (113) عیسیٰ بن مریم(ع) نے (دعا کرتے ہوئے) کہا اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے عید قرار پائے اور تیری طرف سے قدرتی نشانی بن جائے۔ اور ہمیں روزی عطا فرما تو بہترین روزی عطا کرنے والا ہے۔ (114) اللہ تعالیٰ نے فرمایا بے شک میں وہ (خوان) تم پر اتارنے والا ہوں اب اس کے بعد جو کفر اختیار کرے گا تو میں اسے ایسی سزا دوں گا جیسی دنیا جہان میں کسی کو بھی نہیں دی ہوگی۔ (115) وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو۔ عیسیٰ کہیں گے پاک ہے تیری ذات بھلا میں وہ بات کس طرح کہہ سکتا ہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوتی تو تجھے ضرور اس کا علم ہوتا۔ کیونکہ تو وہ سب کچھ جانتا ہے جو میرے دل میں ہے مگر میں تیرے اسرارِ نہانی کو نہیں جانتا۔ بلاشبہ تو غیب کی تمام باتوں کا بڑا جاننے والا ہے۔ (116) میں نے ان سے کچھ نہیں کہا تھا سوائے اس بات کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور میں اس وقت تک ان پر گواہ تھا جب تک ان میں تھا پھر جب تو نے مجھے (دنیا سے) اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (117) اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تُو غالب ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔ (118) ارشادِ قدرت ہوگا یہ وہ دن ہے کہ جس میں سچوں کی سچائی ان کو فائدہ پہنچائے گی۔ ان کے لئے ایسے بہشت ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی (دونوں ایک دوسرے سے خوش) یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ (119) اللہ ہی کے لئے ہے حکومت آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہے اس سب کی اور وہ ہر شی پر قادر ہے۔ (120)

پچھلی سورت: سورہ نساء سورہ مائدہ اگلی سورت:سورہ انعام

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. راغب اصفہانی، مفردات، ذیل واژہ «مید»، ص۷۸۲۔
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۴،ص۲۴۱۔
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، ص۱۲۳۷۔
  4. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸۔
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، ص۱۲۳۷۔
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۴، ص۲۴۱.
  7. طباطبایی، المیزان، ترجمہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۲۵۶.
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۴۴۷۔ اس سلسلے میں مربوطہ احادیث کو دیکھنے کیلئے مراجعہ فرمائیں: حویزی، نور الثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۵۸۷. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۲۲۳.
  10. بیضاوی، انوار التنزیل، ج۱، ص۲۵۵؛ آلوسی، روح المعانی، ج۴، ص۹۱ ـ ۹۰؛ سید بن طاووس، الیقین، باب۱۲۷، ص۳۴۴
  11. ر.ک: امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۴۴۸-۴۵۶؛ حسینی میلانی، نفحات الازهار فی خلاصۃ عبقات الانوار، ۱۴۲۳ق، ج۸، ص۲۶۱.
  12. طباطبایی، المیزان، ترجمہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۵۱۵.
  13. طبرسی، مجمع البیان، ترجمہ، ج۷، ص۱۳.
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۴، ص۳۵۵.
  15. نہج البلاغہ، خطبہ ۱۱۰.
  16. ابن طیفور، بلاغات النساء، ۱۴۱۳ق، ص۱۴، شرح نہج البلاغہ، ج۲، ص۲۶۷.
  17. شرف الدین، المراجعات، ۱۳۵۵ق، ص۲۲۶ و ۲۲۹.
  18. شوشتری، احقاق الحق، ۱۴۰۹ق، ج ۲، ص۴۰۰؛ حاکم حسکانی، شواہدالتنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۲۰۹-۲۳۹.
  19. شیخ مفید، الافصاح فی الامامہ، ۱۴۱۴ق، ص۱۳۴ و ۲۱۷؛ شیخ طوسی، التبیان، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۵۹؛ روح المعانی، مج۴، ج۶، ص۲۴۵.
  20. قمی، تفسیر القمی، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۱۷۹؛ عیاشی، تفسیر العیاشی، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۳۳۱-۳۳۲؛ فیض کاشانی، تفسیر الصّافی، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۵۱؛ حویزی، تفسیر نور الثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۶۵۳-۶۵۵.
  21. سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۲۹۸؛ آلوسی، روح المعانی، دار احیاء التراث، ج۶، ص۱۹۴.
  22. کلینی، الکافی، ۱۴۰۱ق، ج‌۱، ص‌۲۹۰، ح‌۶؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۵۷؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، ۱۳۸۲-۱۳۸۷ش، ج۴، ص۲۷۵-۲۸۱؛ فیض کاشانی، تفسیر الصّافی، ۱۴۱۵ق، ج‌۲، ص‌۵۱؛ حویزی، تفسیر نور الثقلین، ۱۴۱۵ق، ج‌۱، ص‌۶۵۳-۶۵۵؛ قمی مشہدی، کنز الدقایق و بحر الغرائب، ۱۳۶۸ش، ج۴، ص۱۶۷.
  23. حسینی و نجفی یزدی، «حکم رجلین در آیہ وضو از دیدگاه فریقین»، ص۱۴۶.
  24. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۱، ابواب الوضوء، باب ۱۹/ح۱.
  25. ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱ و ۲، فہرست آیات۔
  26. ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۲۱۵-۲۱۷۔
  27. ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۶۱۳۔
  28. ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۴۸ و ۵۱۔
  29. ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۵۹۹ و ۶۰۵۔
  30. ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۵۷۹۔
  31. ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۴۵۶۔
  32. ر۔ک: ایروانی، دروس تمہیدیہ فی تفسیر آیات الاحکام، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۶۲۳۔
  33. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۳، ص۲۳۱.
  34. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۳، ص۲۳۱.
  35. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۵.
  36. سید بن طاووس، الامان من اخطار الاسفار، ۱۴۰۹، ص۸۹.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • آلوسی، محمودبن عبداللّہ، روح المعانی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، (بی‌تا)۔
  • آلوسی، محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، تصحیح محمدحسین العرب، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق۔
  • ابوالفتوح رازی، تفسیر روح الجنان و روح الجنان، چاپ ابوالحسن شعرانی و علی اکبر غفاری، تہران ۱۳۸۲-۱۳۸۷ش۔
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، قم، مرکزالغدیر للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۶ق۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ البعثۃ، چاپ اول، ۱۴۱۵ق۔
  • بیضاوی، عبداللہ، انوار التنزیل واسرار التأویل (تفسیر بیضاوی)، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۰۸ق۔
  • ثعالبی، عبدالرحمان بن احمد، الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن، چاپ ابومحمد غماری ادریسی حسنی، بیروت، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶م۔
  • حاکم حسکانی، عبید اللہ، شواہدالتنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق محمد باقر المحمودی، قم، مجمع احیاءالثقافۃ الاسلامیۃ، چاپ دوم، ۱۴۱۱ق۔
  • حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ق۔
  • حسینی، سیداحمد و سیدمحمد نجفی یزدی، «حکم رجلین در آیہ وضو از دیدگاہ فریقین»، مجلہ پژوہش‌ہای حکمت و فلسفہ اسلامی، شمارہ ۳۷، پاییز ۱۳۹۰ش۔
  • حسینی میلانی، علی، نفحات الازہار فی خلاصۃ عبقات الانوار، قم، مرکز تحقیق و ترجمہ و نشر آلاء، ۱۴۲۳ق۔
  • حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، چاپ چہارم، ۱۴۱۵ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، بہ کوشش بہاء الدین خرمشاہی، ج۲، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، بہ تحقیق صفوان عدنان داوودی، بیروت، دار الشامیہ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق۔
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، الأمان من أخطار الأسفار و الأزمان، قم، مؤسسۃ آل البیت، ۱۴۰۹ ق۔
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، الیقین باختصاص مولانا علی بإمرۃ المؤمنین، تحقیق انصاری، قم، دارالکتاب، ۱۴۱۳ق۔
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۴ق۔
  • شوشتری، نوراللہ بن شریف الدین، إحقاق الحق و إزہاق الباطل، قم، مکتبۃ آیت اللہ المرعشی، ۱۴۰۹ق۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمہ محمدباقر موسوی ہمدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۷۴ش۔
  • طباطبائی، محمد حسین، المیزان، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۷ق۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، مشہد، نشر المرتضی، چاپ اول، ۱۴۰۳ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمہ بیستونی، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰ش۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بہ تصحیح فضل‌اللہ یزدی طباطبایی، ہاشم رسولی، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • طبری، محمد بن جریر بن یزید، الجامع البیان عن تأویل آی القرآن، بہ تحقیق عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی، [بی‌جا]، دار ہجر للطباعۃ و النشر، چاپ اول، ۱۴۲۲ق/۲۰۰۱م۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، مکتبۃ الاعلام الاسلامی، ۱۴۰۹ ہ ق۔
  • عیاشی، محمد بن‏ مسعود، تفسیر العیاشی، بہ کوشش رسولی محلاتی، تہران، المکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ، ۱۳۸۰ق۔
  • فیض کاشانی، محمدبن شاہ مرتضی، تفسیر الصّافی، با مقدمہ و تصحیح حسین اعلمی، تہران، مکتبۃ الصدر، ۱۴۱۵ق۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، بیروت، [بی‌نا]، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۱م۔
  • قمی مشہدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقایق و بحر الغرائب، بہ تحقیق حسین درگاہی، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، چاپ اول، ۱۳۶۸ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، بہ کوشش علی اکبر غفاری، بیروت، دار التعارف، ۱۴۰۱ق۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مفید، محمد بن نعمان، الافصاح، بیروت، دارالامفید، ۱۴۱۴ق۔
  • مكارم شيرازی، ناصر، تفسیر نمونہ،‌ تہران، دارالکتاب الاسلامیہ،‌ ۱۳۷۱ش۔

بیرونی روابط