مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

سید دلدار علی نقوی

سید دلدار علی نقوی
سید دلدار علی (غفران مآب).jpg
غفران مآب سے منسوب تصویر
کوائف
مکمل نام سید دلدار علی نقوی
لقب/کنیت غفران مآب
نسب نقوی سادات
تاریخ ولادت 17 ربیع الثانی 1166 ھ
آبائی شہر نصیر آباد
رہائش لکھنؤ
تاریخ وفات 19 رجب 1235 ھ
مدفن لکھنؤ
نامور اقرباء سید محمد نقوی (والد)، سید محمد سلطان العلما، سید مہدی و سید حسین علیین (فرزند)
اولاد پانچ بیٹے
جانشین سلطان العلما سید محمد رضوان مآب
علمی معلومات
مادر علمی لکھنؤ، نجف، کربلا اور مشہد
اساتذہ وحید بہبہانی، صاحب ریاض، سید بحر العلوم، سید محمد مہدی شہرستانی
شاگرد سید احمد علی محمد آبادی، سید محمد قلی، میرزا جعفر، سید یاد علی، میر مرتضیٰ ...
اجازہ روایت از صاحب ریاض، سید بحر العلوم، سید محمد مہدی شہرستانی
اجازہ اجتہاد از سید بحر العلوم
اجازہ اجتہاد بہ سلطان العلماء
تالیفات حاشیہ شرح ہدایۃ الحکمہ، منتہی الافکار، اساس الاصول، شرح حدیقۃ المتقین، صوارم الٰہیات ...
خدمات
سماجی نصیر آباد میں ایک مسجد اور لکھنؤ میں ایک امام بارگاہ کا قیام


سید دلدار علی نقوی (1166_1235 ھ) غفران مآب کے لقب سے مشہور، برصغیر کے معروف شیعہ عالم، مجتہد، فقیہ اور متکلم ہیں۔ آپ کا شمار پاک و ہند میں مذہب اثنا عشریہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے والے علما میں ہوتا ہے اسی لئے آپ کو ہندوستان میں مجدّد الشریعہ کا لقب دیا گیا۔ ہندوستان کے علما میں اخباریوں کے مقابلے میں آپ پیش پیش تھے اور اسی وجہ سے آپ کو برصغیر میں اصولی مکتب کا بانی اور مؤسس بھی سمجھا جاتا ہے۔ دینی علوم کے حصول میں آپ نے عراق اور ایران کا بھی سفر کیا۔ آپ کو برصغیر میں سب سے پہلے نماز جمعہ قائم کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ مختلف علوم میں آپ کی کئی تالیفات بھی ہیں جن میں منتہی الافکار، مسکن القلوب، حسام الاسلام، دعائم الاسلام، آثارۃ الاحزان و شہاب ثاقب زیادہ اہم تصنیفات ہیں۔

فہرست

سوانح حیات

ولادت و نسب

آیت اللہ سید دلدار علی نقوی ولد محمد معین نقوی سنہ 1166 ھ میں لکھنؤ سے قریب واقع[1] قصبہ نصیر آباد میں پیدا ہوئے۔[2] آپ کی تاریخ ولادت معین تو نہیں لیکن کتاب ورثۃ الانبیاء[3] میں دی گئی تصویر کے مطابق تاریخ ولادت 17 ربیع الثانی 1166 ھ ہے۔[4]آپ کے والد بھی ہندوستان کے معروف علما میں شمار ہوتے تھے۔[5] آپ کا نسب 22 واسطوں سے امام علی النقیؑ سے ملتا ہے۔[6] تاریخ لکھنؤ کے مطابق سید دلدار علی کو 1235ھ میں ان کی وفات کے بعد امجد علی شاہ نے غفران مآب کہنا اور لکھنا شروع کیا اس وقت سے وہ غفران مآب کے نام سے مشہور ہوئے۔[7] آپ کے اجداد میں سے نجم الدین پہلے شخص ہیں جو ایران کے شہر سبزوار سے سلطان محمود غزنوی کے سپہ سالار مسعود غازی کی مدد کیلئے ہندوستان آئے اور لکھنؤ سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر جای عیش نامی جگہ کو اپنا مسکن قرار دیا جو بعد جایس کے نام سے مشہور ہو گئی۔[8]۔ آپ کے اجداد میں سے سید زکریا نے تباک پور یا پتاک پور کو اپنے قبضے میں لیا اور اس کا نام اپنے جد نصیر الدین کے نام سے نصیر آباد رکھ دیا۔[9]

وفات

اودھ کے حاکم غازی الدین حیدر شاہ کی حکومت کے دوران 1235 ھ کے ماہ رجب کی 19 ویں شب بمطابق 3 مئی 1820 ء کو لکھنؤ میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔[10] اور لکھنؤ میں اپنے تعمیر کردہ امام بارگاہ دار التعزیہ میں دفن ہوئے جسے آج کل امام بارگاہ غفران مآب کہا جاتا ہے۔ مذکورہ تاریخ وفات کے مطابق آپ کی عمر 69 سال ہونی چاہیے لیکن مشہور یہ ہے کہ آپ نے 74 سال کی عمر میں وفات پائی اس کی بنا پر آپ کی وفات سنہ 1166 ھ میں ہوئی ہے۔[11] اور آپ کے بیٹے سید محمد سلطان العلماء نے نماز جنازہ پڑھائی۔

امام بارگاہ غفران مآب میں آیت اللہ سید دلدار علی کی آرامگاہ

اولاد

آپ کے پانچ فرزندوں کے اسما درج ذیل ہیں:

  • سلطان العلما سید محمد نقوی (1199-1284ھ): آپ کا شمار ہندوستان کے مشہور شیعہ علما میں ہوتا ہے۔ آپ مسلّم مجتہد اصولی فقیہ اور متکلم حکیم تھے۔ اور 19 سال کی عمر میں اجتہاد پر فائز ہوئے۔[12] اور مختلف کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے احياء الاجتہاد، بضاعۃ مزجاۃ، گوہر شاہوار (اصول و فقہ) و مناقب ائمہ اطہارؑ اہم تصنیفات ہیں۔ آپ نے سنہ 1284 ھ کو لکھنو میں 85 سال کی عمر میں وفات پائی۔[13]
  • سید علی (1200۔1259 ھ): آپ اپنے زمانے کے منفرد قاری تھے تجوید اور سید الشہداء کے مرثیوں پر مشتمل آپ کے آثار ہیں۔ 1259 ھ میں کربلا میں وفات پائی۔[14]
  • سید حسن (1205-1273ھ): آپ کا شمار لکھنو کے علما میں ہوتا ہے۔ آپ کی متعدد تالیفات میں سے باقيات الصالحات، تذکرۃ الشيوخ، تحرير اقلديس جیسی کتابیں قابل ذکر ہیں۔ آپ نے 1273 ھ میں ہندوستان میں وفات پائی۔[15]
  • سید مہدی: سید دلدار علی کی زندگی میں ہی 23 سال کی عمر میں وفات پائی۔[16]
  • سید العلماء سید حسین علیین (1211-1273 ھ)[17] کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ فقیہ، مفسر اور محدث تھے اور سترہ سال کی عمر میں اجتہاد کے درجہ پر فائز ہوگئے تھے۔[18]

علمی زندگی

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے پاس حاصل کی۔ مزید علم کے حصول کے لیے رائے بریلی میں مولوی باب اللہ اور الہ آباد میں سید غلام حسین دکنی کے پاس گئے۔ لکھنو میں حیدر علی بن ملا حمداللہ سے علوم منقول اور معقول حاصل کئے۔[19] اور خود ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں رائج دروس نظامی اور عقلی علوم کو اکثر مذہبی لحاظ سے حنفی اور عقیدتی لحاظ سے ماتریدی مکتب فکر کے علماء سے حاصل کیا۔ علوم عقلیہ سے دلچسپی کا یہ عالَم تھا کہ جہاں بھی علم منطق کے کسی مشہور عالم کی خبر ملتی اسکے پاس چلے جاتے اور اس سے بحث و مباحثہ کرتے۔ اسی سبب سے مختلف مقامات کا سفر کیا۔[20] ہندوستان سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مزید علم کے حصول کے لیے عراق و ایران کا رخ کیا۔ عراق میں آپ نے وقت کے مشہور اساتذہ و فقہاء آیت اللہ وحید بہبہانی، صاحب ریاض، سید بحر العلوم اور سید محمد مہدی شہرستانی سے کسب فیض کیا۔[21]

اخباریت سے اصولی مکتب تک

محمد امین استر آبادی کی کتاب الفوائد المدنیہ کے بر صغیر میں آنے اور یہاں اصولی کتب کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاک و ہند کی شیعیت میں اخباریت رائج تھی اور آپ بھی ابتدائی طور پر اخباری تھے۔ لیکن ایران و عراق کی طرف سفر کرنے اور نجف میں شیخ جعفر کاشف الغطا اور آیت اللہ سید محسن بغدادی سے ملاقات اور بحث و مباحثے کے بعد کربلا جاکر دونوں مکاتب کا تقابلی جائزہ لینے کا عزم کیا اور یوں اس مطالعے سے امین استر آبادی کے بعض نظریات کا غلط ہونا ثابت ہوا اور یوں مکتب اصولی کی حقانیت کو جان گئے اور لکھنؤ واپسی پر سب سے پہلے اساس الاصول کے نام سے فوائد مدنیہ کا استدلالی جواب لکھا کہ کافی عرصے تک اخباریوں میں سے کوئی اس کا جواب نہ لکھ سکا۔ اور ساتھ ہی یہ کتاب ہندوستان کے مدارس میں پڑھائی جانے لگی۔ اس طرح سے لکھنؤ اور اس کے گرد و نواح میں اخباریت کا خاتمہ ہوا اور اصولی مکتب رائج ہوا۔ مرزا محمد اکبر آبادی (ہندی) اخباری (1233 ھ) نے آپ کی کتاب اساس الاصول کے رد میں معاول العقول لقطع اساس الاصول کے نام سے بہت ہی سخت لہجے میں حاشیہ لکھا اور اسے لکھنؤ بھیجا۔ اس کتاب کو قلع الاساس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ کے شاگردوں نے مطارق الحق و الیقین لکسر معاول الشیاطین کے نام سے اس کا جواب لکھا۔[22]

ہندوستان کا اصولی مجتہد

نجف، کربلا اور سامرا کے اساتذہ سے اجتہاد کی اجازت حاصل کرنے کے بعد 1194 ھ میں مشہد پہنچے اور مشہد میں میرزا مہدی اصفہانی سے کسب فیض کیا اور ان سے بھی اجتہاد کی اجازہ کسب کیا۔[23] سید دلدار علی سنہ 1200 ھ میں ہندوستان واپس لوٹے[24] اور نصیر آباد میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اصول فقہ کا درس بھی شروع کیا۔ صاحب اعیان الشیعہ محسن امین عاملی لکھتے ہیں کہ جب اودھ حکومت کے وزیر کو یہ خبر ملی تو آپ کو نصیر آباد سے لکھنو بلایا۔[25] آپ ہندوستان میں مجتہد سے مشہور ہوئے اور امامیہ اصولی مذہب کی ترویج کی۔[26] آپ ہندوستان میں حوزہ علمیہ کے موسس اور پہلے شیعہ مجتہد کے عنوان سے جانے جاتے ہیں۔[27]

اساتذہ

برصغیر پاک و ہند

آپ کے شاگردوں کے بیان کئے گئے احوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہندوستان کے فاضل علما سے علوم عقلیہ کو حاصل کیا۔ جن میں سید غلام حسین حسینی دکنی الہ آبادی، مولوی باب اللہ اور مولوی حیدر علی سندیلوی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔[28]

ایران و عراق

نجف میں آپ نے وقت کے مشہور اور جید فقہا اور علماء جیسے وحید بہبہانی، سید بحر العلوم، سید صاحب ریاض، میرزا مہدی شہرستانی و حوزہ علمیہ کے دیگر اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ مشہد میں سید مہدی بن ہدایت اللہ اصفہانی کے شاگرد رہے۔[29]

شاگرد

آپ کے شاگردوں میں بہت سارے علماء شامل ہیں جن میں سید احمد علی محمد آبادی، سید محمد بن محمد حامد کنتوری معروف سید محمد قلی، امیر سبحان علی خان، سید حمایت حسین نیشابوری کنتوری، مرزا زین العابدین، سید یاد علی مؤلف تفسیر قرآن (فارسی)، میر مرتضیٰ محمد کشمیری مؤلف اسرار الصلات و اوزان شرعیہ [30] وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

دوسروں کی نظر میں آپ کا علمی مقام

بہت سارے بزرگ شیعہ علما کے آثار میں سید دلدار علی نقوی کی تعریفیں ملتی ہیں جن میں سے بعض کو ذکر کرتے ہیں:

  • صاحب جواہر آپ کو علامہ فائق، خاتم المجتہدین، آیت الله العظمی فی الاولین و الاخرین جیسے القاب سے یاد کرتے ہیں۔[31]
  • آقا بزرگ تہرانی آپ کے بارے میں یوں لکھتے ہیں: آپ اپنے عصر کے شیعہ بزرگ علما میں سے ہیں اور ہندوستان کے مشہور علما میں سے ہیں۔[32]
  • آپ کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ صاحب ریاض اور سید بحر العلوم نے آپ کی اساس الاصول اور الموعظ الحسینیہ نامی کتابوں پر تقریظ لکھی اور آقا بزرگ تہرانی اپنی کتاب الذریعہ میں جب بھی آپ کا تذکرہ کرتے ہیں تو المجاز من آیت اللہ بحر العلوم (سید بحرالعلوم سے اجتہاد کی سند لینے والے) سے یاد کرتے ہیں۔[33]

روایت اور اجتہاد کی اجازت

آپ نے سید بحر العلوم سے دو مرتبہ اجتہاد اور روایت کرنے کی اجازت حاصل کی ہے۔[34] اور اسی طرح اپنے استاد ميرزا مہدى بن ابو القاسم شہرستانى (1130 ـ 1216 ھ) سے بھی اجازت حاصل کی ہے۔ [35] اعیان الشیعہ میں لکھا گیا ہے کہ آپ نے اپنی بعض تالیفات نجف اپنے اساتذہ کی خدمت میں بھیج دیا تو تمام اساتذہ نے انہیں اجازت دی لیکن آیت اللہ وحید بہبہانی اس وقت وفات پاچکے تھے۔[36]

دینی خدمات

امام باڑہ سید دلدار علی غفران مآب (لکھنؤ)

سید دلدار علی نے درس و تدریس و تبلیغ کے علاوہ دیگر دینی و سماجی خدمات بھی انجام دیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • ایک بڑا کتاب خانہ اور دو مساجد نصیر آباد اور لکھنو میں تعمیر کرائیں۔ لکھنو و نصیر آباد میں آپ کے بنائے ہوئے امام بارگاہ اب بھی موجود ہیں۔[37]
  • اودھ کے نواب کے ذریعے کربلا میں حرم امام حسینؑ کی مرمت کروائی۔[38]
  • اپنی ذاتی زمین پر رفاہ عامہ کے لیے کنواں کھودا۔[39]

نماز جمعہ کا قیام

کہا جاتا ہے کہ لکھنو کے شیعوں نے آپ سے نماز جمعہ قائم کرنے کی درخواست کی اور اصرار کرنے پر آپ نے قبول کیا۔ جبکہ اس سے پہلے آپ امام زمانہ کی غیبت میں نماز جمعہ کے اثبات کو ائمہ طاہرین کی تعلیمات کی روشنی میں تحریری صورت میں لکھ چکے تھے۔ اس کار خیر کے موجب نواب شجاع الدولہ کے فرزند نواب آصف الدولہ، نواب مرزا حسن رضا خان، ملا محمد علی فیض آبادی اور علی اکبر صوفی بنے۔ انہی دنوں محمد علی کشمیری نے نماز جماعت کی فضیلت پر ایک کتاب لکھی جس کی وجہ سے نواب آصف الدولہ نے نماز جماعت قائم کرنے پر زور دیا تو 1200 ھ کے ماہ رجب کی تیرھویں کو وزیر اعظم حسن رضا خان کے محل میں پہلی نماز جماعت پڑھی گئی اور رجب کی 27ویں تاریخ کو لکھنؤ میں مذہب شیعہ کی پہلی نماز جمعہ آیت اللہ سید دلدار علی نقوی کی اقتدا میں پڑھی گئی۔[40]

آثار اور تالیفات

سید دلدار علی نقوی نے مختلف علوم میں قلم فرسائی کی ہے اور تصنیفات میں زیور طبع سے آراستہ یا طبع نشدہ کئی کتابیں شامل ہیں۔[41]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری، ص242۔
  2. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص425
  3. سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری،500۔
  4. بائیو گرافی سید دلدار علی
  5. پایگاہ خبری جامعہ المصطفی العالمیہ، تاریخ درج؛22 خرداد 1391، تاریخ اخذ؛ 23 اپریل 2019
  6. سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری، ص 37 و پایگاہ خبری جامعہ المصطفی العالمیہ، تاریخ درج؛22 خرداد 1391، تاریخ اخذ؛ 23 اپریل 2019
  7. سید آغا مہدی لکھنوی، تاریخ لکھنؤ، کتب پرنٹر اینڈ پبلیشرز کراچی، 1396ھ، ص319 تاریخ لکھنو۔ ویب سائٹ مرکز احیاء آثار برصغیر
  8. محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ6/425۔
  9. سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری، ص37
  10. مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مطلع انوار؛ احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند؛ مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مترجم: محمد ہاشم؛ ۱۳۷۴ ہجری شمسی، ص250
  11. سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری، ص239۔
  12. مدرس تبریزی، محمدعلی ، ریحانۃ الادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب ، ج3 ص 59
  13. مدرس تبریزی، محمدعلی ، ریحانۃ الادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب ، ج3 ص 59
  14. محمدعلی مدرس تبریزی؛ ریحانۃالادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب؛ کتابفروشی خیام تہران، 1369 ہجری شمسی ج6 ص232
  15. محمدعلی مدرس تبریزی؛ ریحانۃالادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب؛ کتابفروشی خیام تہران، 1369 ہجری شمسی ج6 ص233
  16. سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری، ص 97۔
  17. سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری، ص 52
  18. سید احمد و سید مہدی ،ورثہ الانبیاء با ہمراہ تذکرۃ العلماء،مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم،ص204/205
  19. مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مطلع انوار؛ احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند؛ مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مترجم: محمد ہاشم؛ چاپ: بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۳۷۴ ہجری شمسی؛ ص246
  20. سید احمد نقوی،آئینۂ حق نما۔
  21. پایگاہ خبری جامعہ المصطفی العالمیہ، تاریخ درج؛22 خرداد 1391، تاریخ اخذ؛ 23 اپریل 2019
  22. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ إلى تصانيف الشيعۃ، اسماعيليان قم؛ 1408ھ ج17، ص167.
  23. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص425
  24. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص425
  25. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص425
  26. سید سبط حیدر زیدی، نقش دلدار علی نقوی در گرایش شیعیان شبہ قارہ ہند بہ مسلک اصولی، مجلہ سفیر- سال۱۳۸۵- ویژہ نامہ شمارہ 3 ناشر: موسسہ فرہنگی قدس، مشہد، ص219
  27. سید سبط حیدر زیدی، نقش دلدار علی نقوی در گرایش شیعیان شبہ قارہ ہند بہ مسلک اصولی، ص220
  28. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص426
  29. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص425
  30. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص425
  31. سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص:426
  32. آقا بزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعہ: الکرام البررۃ فی القرن الثالث بعد العشرۃ، دار المرتضی للنشر، مشہد ایران، ج:2، ص:519
  33. سید سبط حیدر زیدی، نقش دلدار علی نقوی در گرایش شیعیان شبہ قارہ ہند بہ مسلک اصولی، ص220
  34. آقا بزرگ تہرانی، إجازات الروايۃ و الوراثۃ في القرون الأخيرۃ الثلاثہ، ج 1 ص542
  35. أعيان الشيعۃ، ج 10، ص 163 ؛ معارف، ج 3، ص 84؛ موسوعۃ طبقات الفقہاء، ج 13، ص 628
  36. الأمين، السيد محسن ، أعيان الشيعہ، ج 6 ص 425
  37. مطلع الانوار، ص 250 و 251، سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406 ج6 ص425
  38. مراجعہ کریں:مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مطلع انوار؛ احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند؛ مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مترجم: محمد ہاشم؛ ۱۳۷۴ ہجری شمسی، ص 250 و 251
  39. مراجعہ کریں: مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مطلع انوار؛ احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند؛ مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مترجم: محمد ہاشم؛ ۱۳۷۴ ہجری شمسی، ص 250 و 251، احمد نقوی،ورثہ الانبیاء41
  40. نماز جمعہ کی تفصیل کیلئے دیکھیں: سید احمد نقوی، ورثہ الانبیاء، مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری، ص252و253...
  41. مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مطلع انوار؛ احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند؛ مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مترجم: محمد ہاشم؛ ۱۳۷۴ ہجری شمسی، ص 251


مآخذ

  • سید احمد نقوی معروف بہ علامہ ہندی، ورثہ الانبیاء حصۂ تذکرۃ العلماء؛ مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ قم، 1389شمسی ہجری
  • محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، دار التعارف للمطبوعات - بيروت - لبنان
  • آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، ناشر: دار الأضواء - بيروت - لبنان
  • سید آغا مہدی لکھنوی، تاریخ لکھنؤ، کتب پرنٹر اینڈ پبلیشرز کراچی، 1396ھ
  • خلیل الرحمان نعمانی، تحفۂ اثنا عشریہ
  • سید سبط حیدر زیدی، نقش دلدار علی نقوی در گرایش شیعیان شبہ قارہ ہند بہ مسلک اصولی، مجلہ سفیر- سال۱۳۸۵- ویژہ نامہ شمارہ 3 ناشر: موسسہ فرہنگی قدس، مشہد
  • آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ إلى تصانيف الشيعۃ، اسماعيليان قم؛ 1408ھ ج17۔
  • آقا بزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعہ: الکرام البررۃ فی القرن الثالث بعد العشرۃ، دار المرتضی للنشر، مشہد ایران، ج: 2،
  • مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مطلع انوار؛ احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند؛ مترجم: محمد ہاشم؛ چاپ:بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی ، ۱۳۷۴ ہجری شمسی
  • محمدعلی مدرس تبریزی؛ ریحانۃالادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب؛ کتابفروشی خیام تہران، 1369 ہجری شمسی
  • مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مطلع انوار؛ احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند؛ مرتضی حسین صدر الافاضل؛ مترجم: محمد ہاشم؛ چاپ: بنیاد پژوہشہای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۳۷۴ ہجری شمسی
  • سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، چاپ دار التعارف بیروت، 1406ھ
  • سید سبط حیدر زیدی، نقش دلدار علی نقوی در گرایش شیعیان شبہ قارہ ہند بہ مسلک اصولی، مجلہ سفیر- سال۱۳۸۵- ویژہ نامہ شمارہ 3 ناشر: موسسہ فرہنگی قدس، مشہد