مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

سید صدر الدین صدر
سید صدرالدین صدر.jpg
کوائف
مکمل نام سید محمد علی بن اسماعیل صدر
تاریخ ولادت ۱۲۹۹ ھ
تاریخ وفات ۱۳۷۳ ھ
مدفن حرم حضرت معصومہ (ع)
نامور اقرباء والد: سید اسماعیل صدر • فرزند: سید موسی صدر • فرزند: سید رضا صدر • سید محمد باقر صدر • بنت‌ الہدی صدر۔
علمی معلومات
اساتذہ محمد حسین نائینی، شیخ حسن کربلائی، آقا ضیاء الدین عراقی، ان کے والد سید اسماعیل صدر، آخوند خراسانی، سید محمد کاظم طباطبایی یزدی و میرزا فتح اللہ شریعت اصفہانی۔
شاگرد سید محمد باقر سلطانی، سید موسی شبیری زنجانی، سید مہدی غضنفری خوانساری، میرزا علی مشکینی، شہید محمد صدوقی، سید موسی صدر، سید رضا صدر، سید حسن مدرسی یزدی۔
تالیفات المہدی، الحقوق • مختصر تاریخ اسلام • حاشیہ بر عروہ الوثقی • حاشیہ بر وسیلہ النجاہ • اثبات عدم تحریف قرآن پر رسالہ • وہابیوں کے جواب میں رسالہ • لواء محمد (۱۲ جلد) • مدینہ العلم (۶ جلد) • دیوان اشعار۔
خدمات
سماجی مرجع تقلید


سید صدر الدین صدر (۱۲۹۹۔۱۳۷۳ ھ) مشہور شیعہ مرجع تقلید اور اصول فقہ، رجال اور تفسیر کے ماہر اور متخصص تھے ۔ آپ کا نام سید محمد علی بن اسماعیل صدر تھا۔سید صدر الدین صدر مؤسس حوزہ علمیہ قم شیخ عبد الکریم حائری کے وصی تھے۔ اپنے استاد کی وفات کے بعد انہوں نے سید محمد تقی خوانساری اور سید محمد حجت کے ہمراہ حوزہ علمیہ قم کی سر پرستی کی ذمہ داری سنبھالی اور انہوں نے حوزہ علمیہ کے تحفظ کی راہ میں سعی کی۔ وہ امام موسی صدر اور سید رضا صدر کے والد ہیں۔

فہرست

نسب و تعلیم

  • نام: محمد علی
  • کنیت: ابو الرضا
  • لقب: صدر الدین

ان کا نام محمد علی، کنیت ابو الرضا اور لقب صدر الدین تھا۔اسکے باوجود انہوں نے اپنے لقب سے شہرت حاصل کی اور وہ خود بھی اپنا تعارف صدر الدین کے نام سے کرواتے تھے۔ ان کی ولادت کاظمین میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام آیت اللہ سید اسماعیل صدر اور والدہ کا نام صفیہ تھا جو آیت اللہ سید ہادی صدر کی بیٹی تھیں۔ طفولیت اور نوجوانی کا زمانہ والد اور خانوادہ کی معیت میں سامرا میں گذرا۔ ریاضیات، ادبیات، منطق، فقہ اور اصول فقہ کے اکثر دروس انہوں نے وہیں اپنے بڑے بھائی سید مہدی کے اساتذہ کے پاس پڑھے۔ جس وقت ان کے والد سید اسماعیل صدر نے سن ۱۳۱۴ ھ میں سامرا سے کربلا ہجرت کی وہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کربلا میں اپنے والد اور وہاں کے دیگر اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ اس کے بعد وہ اپنے والد کی خواہش پر کربلا سے نجف چلے گئے اور وہاں انہوں نے حوزہ کے دروس سطح اور خارج میں شرکت کی۔[1]

اساتید

تلامذہ

آیت اللہ صدر حوزہ علمیہ کے اساتذہ میں سے تھے اور انہوں نے بہت سے شاگرد تربیت کئے۔ جن میں سے بعض کے اسماء ذیل میں ذکر کئے جا رہے ہیں:

  • جعفر صبوری قمی
  • سید مرتضی مبرقع فقیہ
  • سید محمد علی قاضی طباطبایی
  • عطاءاللہ اشرفی اصفہانی
  • علی پناہ اشتہاردی
  • مرتضی مطہری
  • محمد کرمی حویزی
  • علی سبط‌ الشیخ انصاری
  • سید عز الدین زنجانی
  • حسین علی منتظری
  • لطف اللہ صافی
  • ابراہیم رمضانی فردویی
  • مسلم ملکوتی
  • سید احمد روضاتی
  • عباس زریاب خویی
  • سید محمد باقر سلطانی
  • سید موسی شبیری زنجانی
  • سید مہدی غضنفری خوانساری
  • علی مشکینی
  • محمد صدوقی
  • سید موسی صدر
  • سید رضا صدر
  • مرتضی فقیہی
  • سید حسن مدرسی یزدی
  • سید حسین موسوی کرمانی[2]

مشہد کا سفر

صدر الدین نے سن ۱۳۳۹ ھ میں ایران کا سفر کیا اور تقریبا ۶ سال مشہد میں تدریس میں مشغول رہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے تدریس کے علاوہ عوام کو وعظ و نصیحت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ وہ خشک سالی کا زمانہ تھا اس میں انہوں نے مالی امداد جمع کرنے کی سعی و کوشش کی اور بہت سے ضرورت مندوں کو موت سے نجات دلائی۔

قم کا سفر

حوزہ علمیہ قم کے مؤسس شیخ عبد الکریم حائری اپنی ضعیفی کے دور میں اپنے نئے تاسیس شدہ حوزہ اور اس کے مستقبل کے لئے فکر مند تھے۔ انہوں نے حوزہ علمیہ قم کو مضبوط کرنے اور اس کے مستقبل کے سلسلے میں ایک گروہ کو مشہد بھیجا تا کہ وہ صدر الدین صدر کو قم منتقل ہونے کی دعوت دے۔ انہوں نے حوزہ علمیہ کے مؤسس شیخ عبد الکریم حائری کی دعوت کو قبول کرکے قم کا ارادہ کر لیا۔

صدر الدین صدر آیت اللہ حائری کے مورد توجہ رہے اور وہ سطوح عالیہ کی تدریس کے علاوہ ان کے مشاورین میں شمار ہوتے تھے اور حوزہ کے امور میں بھی ان کی مدد کرتے تھے۔ آیت اللہ حائری نے صدر کو اپنا وصی قرار دیا اور ان کی رائے کی وجہ سے سید محمد حجت کو بھی ان کا وصی مقرر کیا گیا۔[3]

مرجعیت

حوزہ علمیہ قم کے مؤسس شیخ عبد الکریم حائری کی رحلت کے بعد حوزہ کی زعامت آیت اللہ سید محمد حجت، آیت اللہ خوانساری اور آیت اللہ صدر الدین صدر تک پہچی اور یہ تینوں حضرات تین مراجع کے نام سے مشہور ہو گئے۔ جس وقت آیت اللہ بروجردی علاج کے لئے تہران آئے۔ صدر نے ان سے درخواست کی کہ وہ قم تشریف لائیں۔ ان کے قم آنے کے بعد انہوں نے حرم حضرت معصومہ (ع) کی نماز جماعت ان کے حوالے کر دی اور حوزہ علمیہ کی ریاست و زعامت سے دوری اختیار کر کے بڑے پیمانے پر آیت اللہ بروجردی کی حمایت پر تمرکز کر لیا۔ انہوں نے اپنے اس کام کی حکمت بیان کرتے ہوئے قرآن مجید کی اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی: تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ[4] ترجمہ: یہ دار آخرت وہ ہے جسے ہم ان لوگوں کے لئے قرار دیتے ہیں جو زمین میں بلندی اور فساد کے طلبگار نہیں ہوتے ہیں اور عاقبت تو صرف صاحبانِ تقوی کے لئے ہے۔[5]

اولاد

اپنے بیٹوں موسی صدر و رضا صدر کے ہمراہ

ان کی پہلی بیوی انک کی خالہ زاد تھیں اور ان کا جوانی میں ہی عراق میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ایران لوٹنے کے بعد سن ۱۳۳۹ ھ کے قریب مشہد کے مراجع تقلید میں سےسید حسین طباطبائی قمی کی بیٹی بی بی صفیہ سے شادی کی۔ جن سے ان کے یہاں دس بچے (تین بیٹے، سات بیٹیاں) ہوئے:

  • سید رضا صدر، حوزہ علمیہ قم کے استاد تھے۔
  • سید موسی صدر
  • سید علی صدر
  • صدیقہ صدر، سید محمد باقر سلطانی طباطبائی کی زوجہ۔ ان کے ۴ بچے ہوئے: ۱۔ صادق طباطبایی، ۲۔ فاطمہ طباطبائی، جن کی سید احمد خمینی سے شادی ہوئی ۳۔ مرتضی طباطبائی ۴۔ عبد الحسین طباطبائی
  • طاہرہ صدر، شہید سید مہدی صدر عاملی کی زوجہ
  • بتول صدر، ہادی عبادی کی زوجہ
  • زہرا خانم، حاج مصطفی فیروزان کی زوجہ
  • منصورہ صدر، علی اکبر صادقی کی زوجہ و مادر زہرہ صادقی (سید محمد خاتمی کی زوجہ)
  • فاطمہ صدر، سید محمد باقر صدر کی زوجہ
  • رباب صدر[6]

آثار و تصنیفات

آیت اللہ صدر نے درج ذیل آثار و تالیفات یادگار چھوڑی ہیں:

  • المہدی؛ اس کتاب میں امام مہدی (ع) کے سلسلہ میں اہل سنت کی روایات کو جمع کیا گیا ہے۔ ان کے بعد اس موضوع میں اس خاص نظم و ترتیب کے ساتھ تحریر نہیں ہوئی ہے۔ یہ کتاب عربی میں ہے اور اس کا ترجمہ فارسی زبان میں شائع ہو چکا ہے۔
  • خلاصۃ الفصول؛ کتاب فصول تالیف شیخ محمد حسین اصفہانی، حوزہ کے درسی متون میں شامل تھی۔ لیکن اس کے طولانی ہونے کی وجہ سے معمولا طلاب اس کے کچھ حصے پڑھنے تک اکتفا کرتے تھے۔ صدر نے اس کا خلاصہ کیا تا کہ وہ قوانین و فصول جیسے کتابوں کی جگہ پڑھائی جائے۔
  • الحقوق؛ وہی رسالہ حقوق امام سجاد علیہ السلام ہے جو ان کے مختصر مقدمے کے ساتھ شائع ہوا ہے۔
  • مختصر تاریخ اسلام
  • حاشیہ عروہ الوثقی
  • حاشیہ وسیلہ النجاہ
  • سفینہ النجاہ
  • رسالہ؛ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے موضوع پر
  • رسالہ؛ تقیہ کے بارے میں
  • رسالہ؛ حکم غسالہ کے سلسلہ میں
  • رسالہ؛ حج کے موضوع پر
  • رسالہ؛ شادی کے موضوع پر
  • منظومہ حج؛
  • منظومہ؛ روزہ کے بارے میں منظوم رسالہ
  • رسالہ؛ خواتین کے حقوق کے موضوع پر
  • حاشیہ کفایہ الاصول
  • رسالہ؛ اصول دین کے موضوع پر
  • رسالہ؛ تحریف قرآن نہ ہونے کے موضوع پر
  • رسالہ؛ وہابیوں کے اعتراض کے رد میں
  • لواء محمد (۱۲ جلد)
  • مدینہ العلم (۶ جلد)
  • دیوان اشعار [7] سید صدرالدین صدر؛ غسالہ کے حکم کے سلسلہ میں ان کا رسالہ

وفات

سید صدر الدین صدر نے ۱۹ ربیع الاول ۱۳۷۳ میں وفات پائی۔ آیت اللہ بروجردی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں حرم حضرت معصومہ (ع) میں شیخ عبد الکریم حائری کی قبر کے پاس دفن کیا گیا۔[8]

حوالہ جات

  1. مدرس تبریزی، ریحانہ الادب، ج۲، ص۴۶۶؛ امین، سید حسن، مستدرکات اعیان الشیعہ، ص۵۰
  2. ہزار، دانشوران قم، ص۱۴۹
  3. امین، سید حسن، مستدرکات اعیان الشیعہ، ص۴۹-۵۰
  4. قصص 83
  5. امین، سید حسن، مستدرکات اعیان الشیعہ، ص۵۰؛ ہزار، علی رضا، دانشوران قم، ص۱۴۹
  6. شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، ج۱، ص۳۳۲
  7. رضایی، سید صدر الدین صدر قلعہ تواضع، ۱۳۷۷ش، ص۵۸-۵۹
  8. ہزار، دانشوران قم، ص۱۴۹-۱۵۰.


مآخذ

  • امین، سید حسن، مستدرکات اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۸ق
  • شریف رازی، محمد، گنجینہ دانشمندان، تہران، نشر اسلامیہ، ۱۳۵۲ش
  • مدرس تبریزی، ریحانة الادب، تہران، نشر خیام، ۱۳۶۹ش
  • ہزار، علی رضا، دانشوران قم، قم، انتشارات زائر، ۱۳۸۴ش
  • رضایی، محمد، «سید صدر الدین صدر قلعہ تواضع»، فرہنگ کوثر، شمارہ ۱۶، ۱۳۷۷ش
  • پایگاہ صدر پژوہی