مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

عبد اللہ بن مسلم بن عقیل

عبد اللہ بن مسلم بن عقیل کربلا کے ان شہیدوں میں سے ہیں جنہوں نے 61 ہجری قمری میں 10 محرم کو عاشورا کے دن کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کی معیت میں شہادت پائی ۔ایک قول کی بنا پر کربلا میں آپ خاندانِ اہل بیت کے پہلے شہید ہیں ۔

گنج شہدا

فہرست

تعارف

آپ حضرت مسلم بن عقیل کے فرزند ہیں طبری کے مطابق آپ کی والدہ کا نام رقیہ بنت علی ہے اور رقیہ کی والدہ ایک کنیز تھیں[1]۔ 61ہجری 10 محرم الحرام کو کربلا میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔شہادت کے وقت آپ کا سن 26 سال تھا[2] جبکہ خود مسلم بن عقیل کا شہادت کے وقت سن 28 سال تھا[3] اور مامقانی نے 14 سال ذکر کیا[4] جبکہ دونوں کا درست ہونا بعید ہے ۔

ابو الفرج اصفہانی نے لکھا ہے :مسلم بن عقیل کی والدہ ام ولد(کنیز) تھی جسے علیۃ کہا جاتا تھا اور اسے عقیل نے شام سے خریدا تھا اسی سے مسلم پیدا ہوئے اور مسلم کی کوئی اولاد نہیں ہے[5] لیکن بہت سے مؤرخین نے آپ کے بیٹے بلکہ بیٹیاں بھی ذکر کی ہیں البتہ ان کے سن و سال اور شہادت میں بہت زیادہ اختلاف مذکور ہے ۔

کربلا

خوارزمی کے مطابق جب تمام اصحاب امام حسین ؑ شہید ہو گئے تو جعفر، عقیل ،حسن اور علی کے فرزند جمع ہوئے، آپس میں خدا حافظی کی اور انہوں نے میدان جنگ میں جانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ پس عبد اللہ بن مسلم بن عقیل سب سے پہلے میدان جنگ میں گئے[6] ۔

طبری نے حمید بن مسلم ازدی سے اور شیخ مفید نے ارشاد میں نقل کیا ہے کہ عمرو بن صبیح صدائی نے ان کی پیشانی پر تیر پیوست کیا پھر بعض افراد نے حملہ ور ہو کے انہیں شہید کیا ۔عمرو بن صبیح صدائی نے تیر پھیکا تو عبد اللہ نے بچانے کی خاطر اپنا ہاتھ آگے کیا تو تیر ہاتھ سے گزرتا ہوا پیشانی میں پیوست ہو گیا ایک اور تیر آیا جو قلب میں پیوست ہو گیا[7]۔نیز طبری نے اضافہ کیا ہے کہ بعض اسید بن مالک کو آپ کا قاتل سمجھتے ہیں[8] پھر ایک اور جگہ زید بن رقاد کو ان کا قاتل کہا کہ جسے بعد میں مختار کے حکم سے قتل کیا گیا[9]۔

قاضی نعمان مغربی نے مسلم کے ایک فرزند عبد اللہ کو نقل کیا اور کہا کہ اس کی والدہ حضرت علی کی بیٹی رقیہ تھی اور یہ کربلا میں شہید ہوئے جن کے قاتل کا نام عمرو بن صبیح تھا نیز اس کے قاتل کے متعلق بعض کے حوالے سے اسید بن مالک کا نام بھی ذکر کیا ہے [10]۔

شیخ طوسی نے بھی اسی نام سے مسلم بن عقیل کے ایک فرزند کا ذکر کیا ہے جو امام کے ہمراہ کربلا میں شہید ہوا[11]۔

بلاذری نے نوجوان کہہ کر عبد اللہ بن مسلم ذکر کیا اور مزید کہا کہ زید بن رقاد جنبی نے اس کی پیشانی اور دل پر تیر مارا جس سے اس کی شہادت واقع ہوئی[12]۔پھر خود ہی بلاذری نے ایک اور جگہ شیخ مفید کی ارشاد کے مطابق شہادت نقل کی ہے[13]۔

رجز خوانی

شیخ صدوق نے حضرت امام سجاد علیہ السلام سے نقل کرتے ہوئے کہا: ہلال بن حجاج کے بعد عبد اللہ بن مسلم درج ذیل رجز پڑھتے ہوئے میدان میں وارد ہوئے :

أقسمتُ لا أُقتل إلاّ حرّا وإنْ رأيتُ الموتَ شيئاً نُكرا
ويجعل الباردَ سُخناً مُرّا رُدَّ شُعاعُ الشمسِ فاسـتقرّا[14]

نیز یہی رجز ابو الفرج اصفہانی نے کچھ تقدم و تاخر کے ساتھ مسلم بن عقیل کے رجز نقل کئے ہیں۔[15]

خوارزمی[16] نے عبد اللہ بن مسلم بن عقیل کے یہ رجز نقل کئے ہیں :

الْیوم الْقی مُسْلِماً وَ هُوَ ابی وَ فِتْیةٌ بادوا عَلی دِینِ النَّبِی
لَیسَ کقَوْمٍ عُرِفُوا بالْکذِبِ لکنْ خِیارٌ وَ کرامُ انْسَبِ


زیارت ناحیہ اور رجبیہ

زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں آپ کا نام آیا ہے ۔

حوالہ جات

  1. طبری، ج ۴، ص۳۵۹
  2. محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع): برپایه قرآن و حدیث، قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸، ص۱۶۰-۱۶۱
  3. شہیدی، سیدجعفر، پس از پنجاہ سال: پژوہشی تازه پیرامون قیام حسین علیه‌السلام، تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۸۰، ص۱۲۲
  4. تنقیح المقال، به نقل محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع) قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸، ص۱۶۰-۱۶۱.
  5. مقاتل الطالبین ص 52
  6. خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، جلد۲، ص۲۶؛ الفتوح، جلد۵، ص۱۱۰؛ المناقب لابن شہرآشوب، جلد ۴، ص۱۰۵؛ به نقل محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع): برپایه قرآن و حدیث، قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸، ص۱۶۰-۱۶۱.
  7. تاریخ طبری، ج ۴، ص۳۴۱؛ مفید، الارشاد، جلد۲، ص۱۰۷
  8. طبری، ج ۴، ص۳۵۹
  9. طبری، ج ۴، ص۵۳۴
  10. القاضی النعمان المغربی، شرح الأخبار، ج ۳، ص۱۹۵
  11. رجال الطوسی، ص۱۰۳
  12. البلاذری، أنساب الأشراف، ج ۶، صص ۴۰۷-۴۰۸
  13. البلاذری، أنساب الأشراف، ج ۳، ص۲۰۰
  14. شیخ صدوق، الامالی، ص۲۲۵؛ و نیز روضه الواعظین، ص۲۰۷؛ به نقل محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع): برپایه قرآن و حدیث، قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸، ص۱۶۲-۱۶۳.
  15. مقاتل الطالبین ص69 مؤسسہ دار الکتاب للطباعۃ و النشر قم ایران۔
  16. خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، جلد ۲، ص۲۶؛ به نقل محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع): برپایه قرآن و حدیث، قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸، ص۱۶۰-۱۶۱


مآخذ

  • البلاذری، أحمد بن یحیی بن جابر، أنساب الأشراف، ج ۲، تحقیق: الشیخ محمد باقر محمودی، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۴/۱۹۷۴.
  • الصدوق، الامالی، قم: مرکز الطباعہ والنشر فی مؤسسہ البعثہ، ۱۴۱۷.
  • القاضی النعمان المغربی، شرح الأخبار، ج ۳، تحقیق: السید محمد الحسینی الجلالی، قم: مؤسسہ النشر الإسلامی، بی‌تا، (جس کا نسخہ مکتب اہل البیت کے سافٹ وئر میں موجود ہے).
  • سیدجعفر شہیدی، پس از پنجاه سال: پژوہشی تازه پیرامون قیام حسین علیه‌السلام، تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۸۰.
  • محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، ۱۹۶۷.
  • المفید، الارشاد، تحقیق: مؤسسہ آل البیت(ع) لتحقیق التراث، بیروت:‌دار المفید، ۱۴۱۴/۱۹۹۳.
  • محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع): (قرآن و حدیث کی روشنی میں)، قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸،