مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

غاشیہقیامت کا ایک نام ہے جس کا معنی ایسا واقعہ ہے جو ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ غاشیہ، کا مصدر "غشاوہ" جس کا معنی چھپانا ہے۔ [1]

غاشیہ قرآن کی اٹھاسی سورہ ہے۔ یہ لفظ سورہ غاشیہ کی پہلی آیت میں آیا ہے: "هل أتیک حدیث الغاشیة" ترجمہ: بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہے۔ [2] مفسرین معتقد ہیں کہ اس سورہ میں قیامت کے ذکر کی وجہ سے، قیامت کا ایک نام غاشیہ ہو گیا۔ [3] قیامت کے لئے اس نام کے انتخاب کی وجہ وہ واقعات ہیں جو ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ بعض نے کہا ہے: روز قیامت کو غاشیہ کا نام دینے کی وجہ، وہ آگ ہے جو کافروں اور مجرموں کے چہروں کو چھپائے گی۔ [4]

بعض روایات میں، لفظ "غاشیہ" کی تفسیر کے بارے میں آیا ہے کہ اس "هل أتیک حدیث الغاشیة" [5] سے مراد یہ ہے کہ (آخری زمانے اور امام زمان(ع) کے قیام کے بعد) امام مہدی(ع) کی تلوار دشمنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ [6] امام صادق(ع) سے ایک روایت ہے، "هل أتیک حدیث الغاشیة" کہ اس سے مراد وہ ہیں جو امام مہدی(ع) کے زمانے میں ہوں گے، لیکن نہ ہی ان کی طرف داری امام(ع) کو فائدہ پہنچائے گی اور نہ ان کی ضروریات پوری ہوں گی۔[7]

تفسیر اطیب البیان میں سورہ نباء کی آیت ٢١ اور سورہ نازعات کی آیت ٣٦ کے ذیل میں آیا ہے کہ جہنم کے ایک سانپ کا نام غاشیہ ہے اور فرشتے اس کے عذاب کو محشر کے میدان میں لائیں گے۔ یہ سانپ کافروں کے گھاٹ میں ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے، اپنے منہ کو کھولے گا اور اپنے اہل کو نگل جائے گا۔[8] اس تفسیری کتاب میں، کسی روائی مآخذ کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے۔

فارسی زبان کی کہاوت "از ترس عقرب جرارہ بہ مار غاشیہ پناہ می برد" یعنی بچھو کے خوف سے سانپ کے منہ میں پناہ لینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات انسان ایسی مشکلات میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ بہت بڑی مشکل سے بچنے کے لئے چھوٹی مشکل کا سہارا لیتا ہے۔ [9]

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۱ق، ج۱۵، ص۱۲۷۔
  2. سوره غاشیہ، آیہ ۱۔
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۳
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۳ش، ج۲۶، ص۴۱۴۔
  5. سوره غاشیہ، آیہ ۱۔
  6. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۵۰
  7. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۵۰
  8. طیب، اطیب البیان، ۱۳۷۸ش، ج۱۳، ص۳۵۹ و ۳۸۳
  9. آشنایی با ریشہ ضرب المثل‌ہا، پایگاه خبرنگاران جوان


مآخذ

  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱۴۱۱ق۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • طیب، سیدعبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، چاپ دوم، ۱۳۷۸ش
  • کلینی، محمد بن یعقوب بن اسحاق، الکافی، تحقیق و تصحیح علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۳۷۳ش۔