مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


غسل جِنابَت وہ غسل ہے جو جنابت کی وجہ سے انجام دیا جاتا ہے۔ یہ غسل ان واجبات کے لئے انجام دینا واجب ہے جن کے لئے طہارت شرط ہے جیسے؛ نماز اور طواف وغیرہ۔ اور جس نے غسل جنابت انجام دیا ہو تو نماز کے لیے وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن دوسرے غسلوں کے بعد نماز پڑھنے کے لیے وضو کرنا ضروری ہے یا نہیں، اس بارے میں نظریات مختلف ہیں۔

قرآن مجید میں مجنب شخص کے لئے نماز پڑھنے سے منع کی گئی ہے۔

فہرست

جنابت کے اسباب

تفصیلی مضمون: جنابت

انسان دو طرح سے جنب ہوجاتا ہے: یا تو منی خارج ہوجائے یا جنسی رابطے میں دخول واقع ہوجائے۔

غسل جنابت قرآن و سنت میں

قرآن کریم میں مجنب شخص کو غسل کئے بغیر نماز پڑھنے سے منع ہوئی ہے: یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَقْرَ‌بُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُکارَ‌یٰ حَتَّیٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِی سَبِیلٍ حَتَّیٰ تَغْتَسِلُوا ترجمہ: اے ایمان والو خبر دار نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور جنابت کی حالت میں بھی مگر یہ کہ راستہ سے گزر رہے ہو جب تک غسل نہ کرلو؛[1]

کتاب وسائل الشیعہ اور مستدرک وسائل الشیعہ کے باب طہارت میں جنابت اور غسل جنابت کے بارے میں 397 روایات ذکر ہوئی ہیں۔

مستحب یا واجب

مشہور قول کے مطابق جنابت حاصل ہونے کے بعد غسل جنابت مستحب ہے لیکن طہارت سے مشروط کوئی واجب عمل انجام دینے کے لئے ہو جیسے؛ واجب طواف، یا پنجگانہ نمازیں، یا روزہ وغیرہ تو ایسی صورت میں واجب ہے۔ اور اس غسل کا واجب ہونا فقہی اصطلاح میں واجب غیری کہلاتا ہے یعنی کسی کی وجہ سے واجب ہونا۔[2]اور جنابت حاصل ہوئے بغیر صرف اس خیال سے کہ غسل جنابت مستحب ہے، غسل جنابت انجام دے تو اسی غسل کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں۔

غسل جنابت کا طریقہ

تفصیلی مضمون: غسل

دوسرے غسلوں کی طرف غسل جنابت کو بھی دو طریقے یعنی ترتیبی یا ارتماسی طریقے سے انجام دیا جاسکتا ہے۔[3]

احکام

  • اگر جنابت صرف منی خارج ہونے سے ہو تو مشہور قول کے مطابق غسل سے پہلے استبراء کرنا مستحب ہے۔[4]
  • غسل سے پہلے ہاتھ دھونا، منہ میں کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور غسل کے دوران «بسم اللّہ» اور ماثور دعائیں پڑھنا مستحب ہے۔[5]
  • غسل جنابت وضو کے لئے کافی ہے اور مشہور قول کے مطابق غسل جنابت کے بعد وضو مستحب نہیں ہے۔[6] و بعض فقہاء اس وضو کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔
  • اگر غسل جنابت کے دوران کوئی پھر سے جنب ہوجاطے تو اس کا غسل باطل ہے اور دوبارہ شروع سے غسل کرنا واجب ہے۔ لیکن اگر حدث اصغر (پیشاب یا ریح وغیرہ) سرزد ہوجائے تو غسل باطل ہونے اور دوبارہ پھر سے انجام دینے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ غسل صحیح ہونے کا قائل قول کے مطابق کیا وضو بھی واجب ہے یا نہیں اس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
  • پانی نہ ملنے کا یقین ہوتے ہوئے بیوی سے ہمبستری کرنا اگرچہ غسل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو اور نماز کا وقت بھی شروع ہوچکا ہو تب بھی جائز ہے لیکن اگر تیمم پر بھی قدرت نہیں رکھتا ہو تو پھر جائز نہیں ہے[7]

روزے کی صحت غسل جنابت پر موقوف

مشہور قول کے مطابق ماہ رمضان المبارک کے روزے کے لئے صبح کی اذان سے پہلے غسل کرنا چاہیے؛ اور جس پر غسل واجب ہوا ہو جان بوجھ کر اذان سے پہلے غسل بجا نہ لائے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہونگے۔ اس فقہی کو جنابت پر باقی رہنا کہا جاتا ہے۔

غسل کے بعد وضو

غسل جنابت کا وضو کے لئے کافی ہونے میں شیعہ فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور بہت ساروں نے اس بارے میں اجماع کا ادعا کیا ہے۔[8] اس سے بڑھ کر بعض نے تو غسل جنابت کے بعد وضو کرنے کو نامشروع قرار دیا ہے۔[9]شیخ طوسی نے غسل جنابت کے ساتھ وضو کرنے کو مستحب سمجھا ہے۔[10] لیکن دوسرے غسلوں کا وضو کے لئے کافی ہونے اور نہ ہونے میں مراجع تقلید کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے لیکن مشہور فقہاء نے وضو کے لیے کافی نہ ہونے کا فتوی دیا ہے۔[11]سیدمرتضی، ابن جنید،[12] اور سید محسن حکیم نے اسے بعید نہیں سمجھا ہے۔[13]اور معاصر فقہاء میں اس نظریے کے موافق زیادہ نظر آتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. سورہ نساءآیہ:۴۳
  2. العروة الوثقی، ج۱، ص۴۹۲.
  3. العروة الوثقی، ج۱، ص۴۹۴
  4. جواہر الکلام، ج۳، ص۱۰۸
  5. العروة الوثقی، ج۱، ص۵۱۲-۵۱۳
  6. الحدائق الناضرة، ج۳، ص۱۱۸
  7. العروة الوثقی، ج۱، ص۴۷۸.
  8. الخلاف، ص۱۳۱، مسألہ ۷۴مختلف الشیعہ، ج۱، ص۳۳۹ جواہر الکلام، ج۳، ص۲۴۰
  9. جواہر الکلام، ج۳، ص۲۴۰ التنقیح، ج۶، ص۴۹۷
  10. مختلف الشیعہ، ج۱، ص۳۴۰
  11. جواہر الکلام، ج۳، ص۲۴۰
  12. مختلف الشیعہ، ج۱، ص۳۴۰
  13. مستمسک العروہ، ج۳، ص۳۴۵.


مآخذ

  • مختلف الشیعۃ فی احکام الشریعہ، حسن بن یوسف العلامۃ الحلی (م. ۷۲۶ ق.)، بہ کوشش مرکزالابحاث والدراسات الاسلامیۃ، اول، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۴۱۲ ق.
  • العروة الوثقی، سید محمد کاظم یزدی (م. ۱۳۳۷ ق.)، پنجم، قم،‌دار التفسیر، اسماعیلیان، ۱۴۱۹ ق.
  • المبسوط فی فقہ الامامیہ، محمد بن الحسن الطوسی (م. ۴۶۰ ق.)، بہ کوشش محمد باقر بہبودی، تہران، مکتبۃ المرتضویۃ،[بی تا].
  • جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، محمد حسن نجفی (م. ۱۲۶۶ ق.)، ہفتم، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی.
  • مستند العروة الوثقی، تقریرات آیۃ اللہ خوئی (م. ۱۴۱۳ ق.)، مرتضی بروجردی، قم، مدرسۃدار العلم، [بی تا].
  • الحدائق الناضرة فی احکام العترۃ الطاہرہ، یوسف بحرانی (م. ۱۱۸۶ ق.)، بہ کوشش علی آخوندی، قم، نشر اسلامی، ۱۳۶۳ ش.