مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

فلسطین
Palestine map.jpg
عام معلومات
کل آبادی اسی لاکھ لوگ (2002ء)
رقبہ 27 ہزار مربع کلومیٹر
حکومت جمہوری
دار الحکومت بیت المقدس
اہم شہر غزہ، بیت لحم، الخلیل
ادیان اسلام
سرکاری زبان عربی
تشیع کی تاریخ
تاریخی واقعات اسرائیل کا قبضہ، صلیبی جنگیں
پارٹیاں اور شیعہ گروہ
پارٹیاں تحریک جہاد اسلامی، فتح، حماس، صابرین موومنٹ
شیعہ مراکز
زیارتگاہیں حضرت ابراہیمؑ کا مزار
مساجد مسجد الاقصیٰ، مسجد الصخرہ


فلسطین مسلمان ملک اور مسجد الاقصیٰ کا میزبان ہے۔ صابرین موومنٹ، مجلس اعلیٰ شیعہ فلسطین اور انجمن شقاقی اہم ترین شیعہ فلسطینی گروہ ہیں۔ فلسطین کی سرحدیں لبنان، اردن، شام اور مصر سے ملتی ہیں۔ اس ملک کا دار الحکومت بیت المقدس ہے۔ طول تاریخ میں فلسطین کی سرزمین پر مسلمان، عیسائی اور یہودی مقیم رہے ہیں۔ خدا کی وحدانیت پر ایمان کا آغاز حضرت ابراہیمؑ کی فلسطین میں آمد سے ہوا۔ دین اسلام خلیفہ دوم کے زمانہ خلافت سے فلسطین میں داخل ہوا۔ فلسطین میں اسلام کی آمد کے بعد اموی، عباسی، فاطمی اور عثمانی اس سرزمین پر مسلط رہے۔ مسلمانوں پر عیسائیوں کی کامیابی کے بعد صلیبی جنگوں میں کچھ مدت تک حکومت عیسائیوں کے پاس رہی۔ تاہم کچھ عرصے کے بعد مسلمانوں نے عیسائیوں سے حکومت واپس لے لی۔ 1917ء میں فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ جما لیا اور اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کی راہ ہموار کی۔ 1948ء میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور یہ قبضہ ابھی تک جاری ہے۔ اس دوران اس ملک میں کئی جنگیں، عوامی تحریکیں اور بڑے پیمانے پر قتل عام ہوتے رہے ہیں۔ طول تاریخ میں شیعہ فلسطین میں ساکن رہے ہیں اور اس وقت بھی موجود ہیں۔ تاہم جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد چشم گیر نہیں ہے۔ دیگر ممالک کی طرح یہاں پر بھی سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں کہ جن میں سے مشہور ترین حماس، جہاد اسلامی اور فتح ہیں۔

فہرست

جغرافیہ

فلسطین بحیرہ روم کی مشرقی پٹی پر واقع ہے۔ یہ ملک مشرق سے شام و اردن، شمال کی جانب سے لبنان اور کچھ حصہ شام جبکہ جنوب کی طرف سے مصر کا ہمسایہ ہے۔ فلسطین کا رقبہ 27 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔[1] ماضی میں شام کے جنوب مغربی علاقے کو فلسطین کہا جاتا تھا۔ البتہ آج کی فلسطینی سرحدوں کی تشکیلبرطانوی راج کے تحت کی گئی۔[2] فلسطین کی آب و ہوا معتدل ہے۔ اس نوعیت کی آب و ہوا زندگی کیلئے مناسب سمجھی جاتی ہے۔[3] ماضی میں سرزمین فلسطین کو شام کا ہی ایک حصہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے عرب اسے جنوبی شام کہا کرتے تھے۔[4]

مشہور ترین شہر

فلسطین کے پہلے شہر کا نام ’’ایحا‘‘ تھا کہ جس کی بنیاد 8000 سال قبل مسیح میں رکھی گئی تھی۔[5] 2500 قبل مسیح کے لگ بھگ عربوں کی فلسطین میں ہجرت کے بعد بہت سے شہر اور علاقے معرض وجود میں آئے؛ منجملہ: بیسان، عسقلان، عکا، حیفا، الخلیل، بیت اللحم اور غزہ ۔[6] اریحا اور غزہ دنیا کے قدیم ترین شہر سمجھے جاتے ہیں۔[7] فلسطین کا ایک اور شہر ناصرہ ہے۔ اس شہر میں حضرت مریمؑ رہائش پذیر تھیں۔ اس لیے عیسائیوں کے نزدیک اس کی خصوصی اہمیت ہے۔[8] قدیمی شہر سامریہ بھی فلسطین کا ایک شہر ہے۔ جس کنویں میں حضرت یوسفؑ کو پھینکا گیا تھا، اسی شہر میں واقع تھا۔ اسی طرح سامریہ حضرت یحییٰ کا محل دفن ہے۔[9] الخلیل چار ہزار سالہ تاریخ کیساتھ [10] فلسطین کا ایک اہم شہر ہے کہ جسے کسی زمانے میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔[11] رام اللہ فلسطین کا ایک اور اہم شہر ہے۔[12] فلسطین کا موجودہ دارالخلافہ بیت المقدس بھی اس ملک کا اہم ترین شہر ہے۔[13] اس شہر میں یہودیت اور عیسائیت جیسے ادیان ظہور پذیر ہوئے۔ اسی طرح مسلمانوں کے قبلہ اول کے عنوان سے مسجد الاقصیٰ اور پیغمبر اسلام کا مقامِ معراج ہونے کے عنوان سے بیت المقدس مسلمانوں کیلئے بھی نہایت اہم ہے۔ بیت المقدس کے دیگر اہم مقامات یہ ہیں: مسجد صخرہ، مقبرہ داؤد نبی، مقام حضرت موسیٰ۔[14]

مختصر تاریخ

مورخین کے نزدیک فلسطین پتھر کے زمانے سے انسانوں کا محل سکونت رہا ہے۔[15] سرزمین فلسطین اوائل کی خانہ بدوشی سے زمانہ زراعت تک انسانی زندگی میں ارتقا و ترقی کی شاہد رہی ہے۔ فلسطین کا پرانا معروف نام ’’سرزمین کنعان‘‘ ہے کیونکہ فلسطین کی طرف ہجرت کرنے والا سب سے پہلا گروہ کنعانی عربوں کا تھا [16] کہ جنہوں نے سنہ 3500 قبل مسیح میں فلسطین کی طرف ہجرت کی۔[17] فلسطین کا نام ان مہاجر اقوام سے ماخوذ ہے کہ جنہوں نے 1200 سال قبل مسیح میں مغربی ایشیا سے اس سرزمین کی جانب ہجرت کی۔[18] فلسطین میں خدا کی توحید اور یکتائیت کا عقیدہ حضرت ابراہیمؑ کے زمانے سے رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے فلسطین میں سکونت اختیار کی اور اس سرزمین پر توحید کو عام کیا۔ آخر کار اسی سرزمین پر آپؑ کا انتقال ہوا اور آپؑ کو الخلیل شہر میں دفن کیا گیا۔ اس شہر کا نام الخلیل رکھنے کی وجہ خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ کا مقبرہ ہے۔[19] ابراہیمؑ کے بعد آپؑ کے بیٹے اسحاق پھر ان کے پوتے یعقوب فلسطین میں ہی مقیم رہے۔ تاہم یعقوبؑ کی اولاد نے مصر کی طرف ہجرت کی۔ یعقوب کے بیٹے بنی اسرائیل کے نام سے معروف تھے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد حضرت یوشعؑ کی زیر قیادت فلسطین واپس آ گئے۔ اس کے بعد فلسطین میں گڑبڑ شروع ہو گئی کہ جو طالوت کے زمانے تک باقی رہی۔ پھر حضرت داؤدؑ طالوت کے جانشین ہوئے۔ داؤدؑ نے پورے فلسطین پر حکومت قائم کی اور 1000 قبل مسیح میں بیت المقدس کو اپنا دار الخلافہ قرار دیا۔ داؤد کے بعد ان کے بیٹے سلیمانؑ نے حکومت کی اور اس زمانے سے فلسطین میں وسیع پیمانے پر تعمیر و ترقی شروع ہو گئی۔ صدیوں تک کنعانی عرب فلسطین میں ساکن رہے اور وقت گزرنے کیساتھ دیگر عرب اقوام کیساتھ ان کا میل جول بڑھتا رہا۔ اسی طرح کچھ ادوار میں فلسطین کے بعض علاقوں پر یہودی بھی قابض رہے[20] مگر 63 قبل مسیح میں رومی فلسطین پر مسلط ہو گئے اور انہوں نے یہودیووں کو زیر کر لیا۔[21] سنہ 30 عیسوی میں حضرت عیسیٰ کی نبوت کا آغاز ہوا۔ آپ نے اپنی تعلیمات کا آغاز یروشلم شہر سے کیا اور لوگوں کی ہدایت کے فریضے میں مشغول ہو گئے۔ آخر کار یہودیوں نے انہیں صلیب پر چڑھا دیا۔[22]

اسلام کی فلسطین میں آمد

دین اسلام خلیفہ اول کے زمانے میں فلسطین میں وارد ہوا۔[23] تاہم اس سرزمین کی فتح 13 ہجری میں عمر کی خلافت کے دوران چند جنگوں منجملہ خالد بن ولید کی سربراہی میں ہونے والی جنگ اجنابین کے بعد عملی ہو سکی۔ بعض تاریخی کتب کے مطابق تقریبا تین ہزار لوگ اس جنگ میں کام آئے۔[24]

مسلمانوں کی فتح سے اسرائیل کے قبضے تک

برطانوی راج کے دوران فلسطینی سکہ

عمر بن خطاب کے عہد خلافت میں فلسطین اسلامی مملکت کا حصہ قرار پایا اور بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفا اس سرزمین پر حکومت کرتے رہے۔ سنہ 358ھ میں فاطمیوں نے فلسطین پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ فلسطین پر تسلط کیلئے انہوں نے قرامطہ اور سلجوقی ترکوں سے جنگ کی۔[25] اس دوران فلسطین پر تنازعہ بدستور باقی رہا اور فلسطین کی حکومت مصری مملوکوں، مغلوں اور عثمانیوں کو دست بدست ملتی رہی۔ 400 ھ میں عثمانیوں نے فلسطین کا انتظام مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔[26] صلیبی جنگوں اور تقریبا ستر ہزار کے لگ بھگ مسلمان قتل ہونے کے بعد 493ھ میں یورپین عیسائیوں نے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔[27] صلیبی جنگوں کے بعد عیسائیوں کی حکومت 88 سال تک قائم رہی۔ مسلمانوں نے صلاح الدین ایوبی کی زیر قیادت جنگ حَطّین لڑنے کے بعد فلسطین کو واپس لے لیا۔[28] فلسطین پر عثمانیوں کی حکومت 1917ء میں برطانیہ کے قبضے تک قائم رہی۔[29] برطانیہ کی جانب سے فلسطین پر قبضہ 1948ء تک برقرار رہا۔ یاد رہے کہ برطانیہ نے اپنے تسلط کو 1922ء میں سرپرستی کا عنوان دے رکھا تھا۔[30] 1936ء میں فلسطینی عوام نے حکومت برطانیہ کے خلاف ایک بڑے انقلاب کا آغاز کیا تھا لیکن برطانیہ اور صیہونیوں کی بدعہدی کے باعث اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ

1799ء میں نیپولن بوناپارٹ پہلا یورپی لیڈر تھا کہ جس نے یہودیوں کو فلسطین میں ایک یہودی ملک کے قیام کی دعوت دی۔ اس کے سالہا سال بعد 1897ء میں سوئزرلینڈ میں پہلی یہودی کانفرنس منعقد ہوئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سرزمین فلسطین کو یہودی بنانے کیلئے ایک بامقصد پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے اشتعال انگیزی کو دبانے کیلئے یہودی حکومت کی بجائے یہودی وطن کا نام استعمال کیا۔[31] اس کے باوجود تیس سال کے بعد اور پہلی عالمی جنگ کی ابتدا تک صرف دس فیصد یہودیوں نے اس پالیسی کی حمایت کی اور یہ منصوبہ عملی طور پر ناکام ہو کر رہ گیا۔[32] اس زمانے میں فلسطین کی کل آبادی کا صرف آٹھ فیصد یہودیوں پر مشتمل تھا اور رقبے کے اعتبار سے بھی صرف دو فیصد سرزمین پر ان کا قبضہ تھا۔[33] پہلی جنگ عظیم میں درپیش واقعات کے نتیجے میں سنہ 1917ء کو بالفور اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس اعلامیے میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کا مطالبہ کیا۔[34] اسی لیے برطانیہ کی فلسطین پر حکومت کے دوران صیہونیوں نے بڑی تعداد میں سرزمین فلسطین کی طرف ہجرت کی۔[35] اس دوران فلسطین میں یہودیوں کی آبادی میں چھ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔[36] 1948ء میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔[37] اس موقع پر یہودیوں نے فلسطین کی 78 فیصد اراضی پر قبضہ کر لیا۔[38] مقبوضہ علاقوں میں فلسطین کے شمال میں واقع الخلیل، بحیرہ روم کا ساحل، صحرائے نقب اور فلسطین کا مرکزی علاقہ شامل تھا۔[39] دریائے اردن کا مغربی کنارہ اردن کے زیر انتظام تھا جبکہ غزہ مصری حکومت کے ماتحت تھا؛ یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں علاقے صیہونی قبضے سے محفوظ رہے۔[40] تاہم 1967ء سے 1995ء کے دوران اسرائیل نے مغربی کنارے کے ساٹھ فیصد اور غزہ کے چالیس فیصد علاقے پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔[41] یوں اسرائیل 97 فیصد فلسطین پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔[42]

فلسطین اسرائیل جنگ

1948ء میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر قبضے کے بعد سے فلسطین اور اسرائیل ہمیشہ سے حالت جنگ میں ہیں۔ اس کشیدگی کو فلسطین اسرائیل تنازعہ کہا جاتا ہے۔[43] بہت سی حکومتیں اس حوالے سے حساس تھیں۔ مگر عصر حاضر میں مختلف سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کے باعث یہ تنازعہ بہت سی حکومتوں کا مورد توجہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود مسئلہ فلسطین شایان شان انداز سے شیعوں کا مورد حمایت رہا ہے۔ بہت سے شیعہ علما کے اس حوالے سے بیانات فلسطینیوں کی حمایت پر زور دیتے ہیں۔[44] شیعوں کی جانب سے فلسطین کی ایک نہایت اہم حمایت امام خمینیؒ کی جانب سے روز قدس کا اعلان ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے قائد امام خمینیؒ نے فلسطینیوں کی حمایت کیلئے ماہ رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس قرار دیا۔ ہر سال بہت سے اسلامی ممالک جیسے عراق، ایران، ہندوستان، پاکستان اور ملائشیا کے لوگ فلسطینیوں کی حمایت کیلئے وسیع پیمانے پر مظاہرے کرتے ہیں۔

سال نکبت

سنہ 1948ء کو اسرائیل کی تشکیل کے سبب سال نکبت کا نام دیا گیا ہے۔[45] اسی طرح عرب ممالک کی شکست کے باعث سنہ 1967ء سال نکسہ کے نام سے معروف ہے۔ یہ جنگ چھ دن تک جاری رہی تھی کہ جس میں عرب ممالک کی شکست کے بعد اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے، غزہ اور فلسطین کے ہمسایہ ممالک کے مزید کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔[46]

آزادی کی تحریکیں

فلسطین پر سالہا سال سے جاری غاصبانہ قبضے کے دوران اس سرزمین پر متعدد عوامی تحریکیں کھڑی ہوتی رہی ہیں۔ انہیں آزادی کی تحریکوں کا نام دیا جاتا ہے۔ فلسطین کے عوام کا پہلا قیام سنہ 1976ء میں ’’یوم الارض‘‘ کے نام سے سامنے آیا۔ ایک اور قیام 1978ء میں وقوع پذیر ہوا کہ جسے پہلی جدوجہد آزادی یا تحریک شعب فلسطینی کا نام دیا گیا۔ اس تحریک آزادی کی ابتدا مغربی کنارے اور غزہ سے ہوئی۔’’انتفاضہ الاقصی‘‘ کے نام سے ایک دوسری تحریک اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کے مسجد الاقصی میں داخلے کے رد عمل میں سنہ 2000ء میں شروع ہوئی۔ تحریک الاقصیٰ کا اہم ترین منشور ایک فلسطینی حکومت کی تشکیل اور مغربی کنارے سے قابض فوجوں کا انخلا تھا۔[47] 1987ء کی تحریک آزادی 6 سال تک جاری رہی۔ اس دوران 1540 افراد قتل اور ایک لاکھ تیس ہزار زخمی ہوئے۔ سنہ 2000ء کی تحریک میں بھی 2800 افراد مارے گئے تھے۔[48]

قتل عام

اسرائیل نے کئی مرتبہ فلسطینوں کا قتل عام کیا ہے۔ سنہ 1948ء میں اسرائیل نے 34 مرتبہ قتل عام کیا کہ جس میں سے زیادہ مشہور ’’دیر یاسین‘‘ کا قتل عام ہے۔ اس قتل عام میں 254 افراد کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اسرائیل کے دیگر جرائم میں سے سنہ 1956ء میں ’’خان یونس‘‘ کا قتل عام ہے۔ اس میں 250 فلسطینیوں کی جان لی گئی۔ تاریخ کے گھناؤنے جرائم میں سے ایک صبرا و شتیلا کا قتل عام ہے۔ یہ حادثہ 1982ء میں پیش آیا اور اس میں 3297 فلسطینی عورتیں اور بچے قتل کیے گئے۔[49]

فلسطین کے باشندے

تاریخی کتب کے مطابق فلسطین کے باشندوں کی تقسیم دو گروہوں عربوں اور یہودیوں میں ہوتی ہے۔ عرب بھی مسلمان، عیسائی اور دیگر گروہوں پر مشتمل ہیں۔

عرب

اعداد و شمار کے مطابق 1948ء میں فلسطین کے اندر مقیم عربوں کی تعداد ایک ملین چھ لاکھ تھی کہ جن میں سے 88.5٪ مسلمان، 10.4٪ عیسائی اور 1.1٪ دیگر گروہ تھے۔[50] سنہ 1949ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد فلسطینی عرب چار گروہوں میں تقسیم ہو گئےتھے:

  • جنہوں نے 1948ء کے قبضے کے خلاف مزاحمت کی۔ اس گروہ کو خط سبز کے رہائشی نام دیا گیا۔
  • دریائے اردن کے مغربی کنارے اور غزہ کے رہائشی۔
  • خط سبز، مغربی کنارے، غزہ، اردن، شام اور لبنان کے پناہ گزین کہ جنہوں نے ان علاقوں میں رہائش اختیار کی ہے۔
  • فلسطینی مہاجر کہ جو دیگر عربی و غیر عربی ممالک میں ہجرت کر چکے ہیں۔[51]

1948ء میں فلسطین کی آدھی عرب آبادی کو ان علاقوں سے زبردستی نکال دیا گیا کہ جنہیں بعد میں اسرائیل کا نام دیا گیا اور انہیں زبردستی مغربی کنارے، غزہ، اردن، شام، لبنان، مصر اور عراق کی طرف ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔[52] اعداد و شمار کے مطابق اس سال سرزمین فلسطین میں باقی رہ جانے والے عرب فلسطین کی مکمل آبادی کا چودہ فیصد تھے۔[53] 2002ء کے اعداد و شمار کے مطابق فلسطینیوں کی کل آبادی 8 ملین افراد پر مشتمل تھی کہ جن میں سے 52٪ دیگر ممالک کے پناہ گزین تھے۔[54]

یہودی

سنہ 1914ء میں یہودی فلسطین کی کل آبادی کا 8٪ تھے۔ مگر سنہ 1943ء میں ان کی تعداد 30٪ تک بڑھ گئی۔ سنہ 1948ء اور فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے بعد اس سرزمین کی زیادہ تر آبادی پر یہودی اثر و رسوخ غالب ہو گیا۔[55]

سیاسی جماعتیں

فلسطین میں بھی دیگر بہت سے ممالک کی طرح مختلف سیاسی جماعتیں سرگرم عمل ہیں۔ ان جماعتوں میں سے زیادہ مشہور یہ ہیں: اخوان المسلمین، حماس، تحریک جہاد اسلامی اور الفتح۔

اخوان المسلمین

اصلی مضمون: اخوان المسلمین فلسطین کی اخوان المسلمین سنہ 1948ء میں مصر اور اردن کی اخوان المسلمین کی مدد سے وجود میں آئی۔ اسرائیل کی طرف سے 1967ء میں دریائے اردن کے مغربی کنارے اور غزہ پر قبضے کے بعد مصر اور اردن کی اخوان المسلمین کا فلسطین سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ یہ امر فلسطین کی اخوان المسلمین کی ترقی اور مضبوطی کا موجب بنا۔[56]

حماس

اصلی مضمون: تحریک مقاومت فلسطین تحریک مقاومت فلسطین (حماس) یہاں کی نمایاں ترین جماعت ہے۔ یہ تحریک اخوان المسلمین کا تسلسل ہے۔ تحریک حماس نے اپنی سرگرمیوں میں افراد، خاندان اور معاشرے کی تربیت کو سرفہرست قرار دیا ہے تاکہ اسلامی حکومت کی تشکیل کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ حماس کا ابتدا میں فلسطین پر قابض فوجوں سے مقابلے کا خیال نہ تھا۔ تاہم بعد میں اس نے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔[57]

تحریک جہاد اسلامی

اصلی مضمون: تحریک جہاد اسلامی تحریک جہاد اسلامی فلسطین کی اہم ترین جماعت ہے۔ اس تحریک نے فلسطین اسرائیل تنازعہ اپنی آئیڈیالوجی کا منشور قرار دیا ہے۔ اس تحریک نے اپنا کام 1980ء میں شروع کیا۔ تحریک جہاد اسلامی دیگر قدامت پسند تحریکوں منجملہ اخوان المسلمین سے اختلاف رائے رکھتی ہے۔[58]

فتح

اصلی مضمون: فتح الفتح فلسطین کی قدیمی ترین سیاسی جماعت ہے۔ اس جماعت کی تاسیس سنہ 1956ء میں کی گئی۔ فلسطینی حکومت کے زیادہ تر عہدیدار اس جماعت کے ممبر ہیں۔[59]

عالم اسلام میں فلسطین کا مقام

سرزمین فلسطین مختلف اسباب منجملہ اس ملک میں مسجد الاقصی کے وجود کی وجہ سے مسلمانوں کے نزدیک خصوصی مقام کی حامل ہے۔[60] پیغمبر اسلامؐ نے اپنی رسالت کے آغاز میں مسجد الاقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا تھا۔[61] بعض مفسرین کے بقول قرآن میں بیت المقدس کا بالواسطہ ذکر ہوا ہے۔ اسی طرح پیغمبر اسلامؐ اور امام علیؑ سے بہت زیادہ تعداد میں احادیث اس شہر کی فضیلت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔[62] بطور کلی قرآن میں سرزمین فلسطین کو ’’ارض مقدسہ‘‘ اور ’’ارض مبارکہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ فلسطین متعدد پیغمبروں کی رفت وآمد کا مقام رہا ہے۔ یہاں بہت سے انبیائے الہٰی مدفون ہیں۔ فلسطین پیغمبر اسلام کی معراج کا مقام بھی ہے۔[63]

فلسطین، سرزمین معراج

مسجد الاقصیٰ حضرت محمدؐ کی آسمان کی جانب معراج کا مقام بھی ہے۔[64] عبد الملک بن مروان کے زمانہ حکومت میں اس پتھر کہ جہاں سے پیغمبر اسلامؐ آسمان کی طرف گئے تھے؛ کے مقام پر مسجد الصخرۃ یا قبۃ الصخرۃ کے نام سے ایک مسجد تعمیر کی گئی۔[65]

فلسطین میں تشیع

شیعہ کی فلسطین میں موجودگی کی تاریخ صدر اسلام اور ابوذر غفاری کے شام میں حضور کی ہے۔[66] مقدسی نے کتاب احسن التقاسیم میں اور ناصر خسرو نے کتاب ’’ابوہریرہ کی آرامگاہ کا سفر‘‘ [67] میں نقل کیا ہے کہ ایک زمانے میں فلسطین کی اکثریت شیعہ تھی۔ شیعہ مذہب چوتھی صدی میں فاطمیوں کی حکومت کے دوران فلسطین میں رائج ہوا۔[68] فاطمیوں کے چھٹے حکمران الحاکم بامر اللہ نے بیت المقدس میں دار العلم فاطمی کی بنیاد ڈالی۔ یہ مقام فلسطین میں تشیع کے پرچار کے حوالے سے بڑا مؤثر تھا اور صلیبیوں کے ہاتھوں فلسطین پر تسلط کے زمانے تک اپنا کام کرتا رہا۔[69] صلیبی جنگوں اور پھر صلاح الدین ایوبی کے تسلط کے باوجود فلسطین و شام میں سنی مذہب جبکہ فلسطین میں شیعہ مذہب باقی رہا۔ عثمانی دور میں فلسطین کے شیعہ دوبارہ نمایاں حیثیت سے سامنے آئے ۔[70] 21 ویں صدی اور عصر حاضر میں شیعوں کا فلسطین پر اثر و رسوخ فلسطینی گروہوں کے حزب اللہ لبنان کے ساتھ ارتباط کی وجہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔[71] اسرائیل کے خلاف حزب اللہ لبنان کی کامیابیوں نے فلسطین میں تشیع کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔[72] انجمن دین و معاشرتی زندگی کے مرکز ’’مؤسسہ PEW‘‘ کے ادارہ شماریات نے فلسطین میں شیعوں کی موجودگی کی تائید کی ہے۔[73]

شیعوں کو آزار و اذیت

طول تاریخ میں فلسطینی شیعہ بہت تکلیف میں رہے ہیں۔ فلسطینی شیعوں کے خلاف پہلا کریک ڈاؤن صلاح الدین ایوبی نے کیا۔ عثمانی دور میں شیعت کے پر رونق ہونے کے بعد احمد پاشا نے دس سال تک شیعوں کا مقابلہ کیا اور ان کی کتابوں کو جلا ڈالا۔[74] سنہ 2010ء میں حماس کی خفیہ حساس ایجنسی نے دسیوں شیعہ مستبصرین کو قید کر لیا۔ دوسری طرف سے جماعت ’’ابن بار الخیریۃ الاسلامیۃ‘‘ غزہ میں موجود ہے کہ جس کی عمدہ فعالیت تشیع کے پھیلاؤ کا راستہ روکنا ہے۔ اسی طرح ایک تحریک ’’جہاد سلفی‘‘ کے نام سے بھی غزہ میں قائم ہوئی ہے کہ جس کا اصل ہدف شیعہ کے خلاف جدوجہد ہے۔[75]

شیعہ احزاب اور گروہ

تحریک جہاد اسلامی فلسطین میں تشیع کی پرچمدار جماعت کے عنوان سے معروف ہے۔ اس تحریک کے بانی فتحی شقاقی تھے۔ فتحی شقاقی شیعیت سے متاثر تھے۔ اس لیے تحریک جہاد اسلامی کو فلسطین میں شیعہ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔[76] فلسطین میں ایک گروہ ’’ تحریک صابرین ‘‘ کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ گروہ تحریک جہاد اسلامی سے نکلا ہے اور شیعوں سے نزدیک ہے۔[77] تحریک صابرین نے سنہ 2014ء میں اپنی تحریک کا آغاز ہشام سالم کی زیر قیادت کیا۔[78] دیگر فلسطینی شیعہ گروہوں میں سے مجلس اعلیٰ شیعہ فلسطین کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ گروہ سنہ 2006ء میں محمد عبد الفتاح غوانمہ نے تاسیس کیا ہے۔[79] فلسطین کی ایک اہم ترین شیعہ جماعت ’’انجمن شقاقی‘‘ ہے۔ یہ انجمن ایک ویلفئیر اور غیر سیاسی ادارہ ہے کہ جو تمام اسلامی مذاہب کو مساوی نگاہ سے دیکھنے کی سعی کرتی ہے۔[80]

حوالہ جات

  1. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص4۔
  2. صالح، فلسطین، 2002ء، ص11۔
  3. صالح، فلسطین، 2002ء، ص11۔
  4. صالح، فلسطین، 2002ء، ص27۔
  5. صالح، فلسطین، 2002ء، ص11۔
  6. صالح، فلسطین، 2002ء، ص12۔
  7. روحانی، آشنایی با کشورہای اسلامی، 1387شمسی، ص114۔
  8. فوزبورغ، وصف الأراضی المقدسة، 1997ء، ص29۔
  9. فوزبورغ، وصف الأراضی المقدسة، 1997ء، ص29۔
  10. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص81۔
  11. فوزبورغ، وصف الأراضی المقدسة، 1997ء، ص97۔
  12. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص71۔
  13. فوزبورغ، وصف الأراضی المقدسة، 1997ء، ص41۔
  14. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص48 و 49۔
  15. صالح، فلسطین، 2002ء، ص12۔
  16. صالح، فلسطین، 2002ء، ص11۔
  17. خان، تاریخ فلسطین القدیء۔1981ء، ص24۔
  18. صالح، فلسطین، 2002ء، ص11۔
  19. صالح، فلسطین، 2002ء، ص11۔
  20. صالح، فلسطین، 2002ء، ص12 و 13۔
  21. صالح، فلسطین، 2002ء، ص13۔
  22. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص42۔
  23. ابو خلیل، أطلس دول العالم الإسلامی، 2003ء، ص85۔
  24. صالح، فلسطین، 2002ء، ص13۔
  25. صالح، فلسطین، 2002ء، ص14۔
  26. صالح، فلسطین، 2002ء، ص14۔
  27. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص47۔
  28. صالح، فلسطین، 2002ء، ص14۔
  29. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص47۔
  30. صالح، فلسطین، 2002ء، ص19۔
  31. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص6۔
  32. الاستعمار الصہیونی فی فلسطین، 1956ء، ص15۔
  33. الاستعمار الصہیونی فی فلسطین، 1956ء، ص16۔
  34. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص6؛ صالح، فلسطین، 2002ء، ص18۔
  35. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص6۔
  36. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص23۔
  37. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص6۔
  38. ابو عرفہ، الاستیطان، 1981ء، ص11۔
  39. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص31۔
  40. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص43۔
  41. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص44۔
  42. تُفَکْجی، الاستراتیجیہ الاستیطانیہ، 2006ء، ص66۔
  43. عبیات، «تقریر عن قضیۃ فلسطین»۔
  44. محفوظ، «السید السیستانی والقضیۃ الفلسطینیة»۔
  45. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص31۔
  46. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص54؛ ابو ظریفہ، «الآثار السلبیہ للمستوطنات»، ص179۔
  47. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص21۔
  48. صالح، فلسطین، 2002ء، ص83 و 84۔
  49. صالح، فلسطین، 2002ء، ص80۔
  50. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص34۔
  51. عبدالحافظ، الاوضاع الدیمقراطیہ لفلسطینی، 1978ء، ص255۔
  52. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص31۔
  53. صالح، سکان فلسطین، 1985ء، ص41۔
  54. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص87۔
  55. سہلی، فلسطین، 2004ء، ص31۔
  56. رشوان، دلیل الحرکات الاسلامیہ، ص148۔
  57. رشوان، دلیل الحرکات الاسلامیہ، ص147۔
  58. رشوان، دلیل الحرکات الاسلامیہ، ص161-164۔
  59. روحانی، آشنایی با کشورہای اسلامی، 1387شمسی، ص121 و 122۔
  60. صالح، فلسطین، 2002ء، ص30۔
  61. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص42۔
  62. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص43 و 44۔
  63. صالح، فلسطین، 2002ء، ص31۔
  64. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص42۔
  65. آغا، مدائن فلسطین، 1993ء، ص45۔
  66. خاقانی، «شیعۃ فلسطین وعودۃ الحق»، ص3۔
  67. خاقانی، «شیعۃ فلسطین وعودۃ الحق»، ص3؛ شحادہ، الموسوعہ الشاملہ، 2010ء۔ج3، ص186۔
  68. خاقانی، «شیعۃ فلسطین وعودۃ الحق»، ص3۔
  69. شحادہ، الموسوعہ الشاملہ، 2010ء۔ج3، ص186۔
  70. شحادہ، الموسوعہ الشاملہ، 2010ء۔ج3، ص187۔
  71. خاقانی، «شیعۃ فلسطین وعودۃ الحق»، ص3۔
  72. «فلسطینیون یعتنقون المذہب الشیعی فی غزۃ و حماس السنیۃ تتکیف مع الوضع»۔
  73. «سائٹ آمار انجمن دین و زندگی اجتماعی»۔
  74. شحادہ، الموسوعہ الشاملہ، 2010ء۔ج3، ص187۔
  75. «غزۃ تحت مظلۃ التشیع والولی الفقیہ»۔
  76. شحادہ، الموسوعہ الشاملہ، 2010ء۔ج3، ص202۔
  77. دلو، «ہل یوجد شیعۃ حقًا فی غزة؟»۔
  78. «غزۃ تحت مظلۃ التشیع والولی الفقیہ»۔
  79. شحادہ، الموسوعہ الشاملہ، 2010ء۔ج3، ص222۔
  80. «فلسطینیون یعتنقون المذہب الشیعی فی غزۃ و حماس السنیۃ تتکیف مع الوضع»۔


مآخذ

  • «غزۃ تحت مظلۃ التشیع والولی الفقیہ»، سائٹ العربیہ، تاریخ درج مطلب: 4 مارس 2015ء، نظرثانی کی تاریخ: 11 مہر 1397۔
  • «فلسطینیون یعتنقون المذہب الشیعی فی غزۃ و حماس السنیۃ تتکیف مع الوضع»، سائٹ فرانس 24، تاریخ درج مطلب: 6 آوریل 2011ء نظرثانی کی تاریخ: 11 مہر 1397۔
  • «ما ہو یوم القدس العالمی ؟»، سائٹ یوم القدس العالمی، نظرثانی کی تاریخ: 11 مہر 1397۔
  • ابو ظریفہ، وجیہ، الآثار السلبیہ للمستوطنات، در مجلہ الاستیطان الیہودی وأثرہ علی مستقبل الشعب الفلسطینی، عمان، مرکز الدراسات الشرق الأوسط، 2006ء۔
  • ابو خلیل، شوقی، أطلس دول العالم الإسلامی، دمشق،‌دار الفکر، 2003ء۔
  • ابوعرفہ، عبدالرحمن، الاستیطان التطبیق العملی للصہیونیة، عمان، المؤسسۃ العربیۃ للدراسات، 1981ء۔
  • آغا، نبیل خالد، مدائن فلسطین، بیروت، المؤسسۃ العربیۃ للدراسات والنشر، 1993ء۔
  • الاستعمار الصہیونی فی فلسطین، بیروت، مرکز الابحاث فی منظمۃ التحریر الفلسطینیة، 1956ء۔
  • تُفَکْجی، خلیل، الاستراتیجیہ الاستیطانیہ فی البرنامج الاسرائیلی، عمان، مرکز الدراسات الشرق الأوسط، 2006ء۔
  • خاقانی، محمد، «شیعۃ فلسطین وعودۃ الحق»، در مجلہ صدی المہدی، النجف، مرکز الدراسات التخصصیۃ فی الإمام المہدی، شمارہ 4، 2009ء۔
  • خان، ظفر الاسلام، تاریخ فلسطین قدیم۔بیروت،‌ دار النفائس، 1981ء۔
  • دلو، نور، «ہل یوجد شیعۃ حقًا فی غزة؟»، سائٹ ساسۃ بوست، تاریخ درج مطلب: 26 جون 2015ء۔نظرثانی کی تاریخ: 11 مہر 1397۔
  • رشوان، ضیاء، دلیل الحرکات الإسلامیۃ فی العالم۔قاہرہ، مرکز الدراسات السیاسیۃ والاستراتیجیة، بی‌تا۔
  • روحانی، حسن، آشنایی با کشورہای اسلامی، تہران، نشر مشعر، 1387شمسی۔
  • سہلی،‌ نبیل محمود، فلسطین أرض و شعب، دمشق، منشورات اتحاد الکتاب العرب، 2004ء۔
  • شحادہ، أسامہ، الموسوعۃ الشاملۃ للفرق المعاصرۃ فی العالم۔قاہرہ، مکتبۃ مدبولی، 2010ء۔
  • صالح، حسن عبدالقادر، سکان فلسطین دیموغرافیا وجغرافیہ، عمان،‌ دار الشروق، 1985ء۔
  • صالح، محسن محمد، فلسطین، کوالالمپور، بی‌نا، 2002ء۔
  • عبد الحافظ، محمد تیسیر، الأوضاع الدیمقرافیۃ لفلسطین خلال الربع الثانی من القرن العشرین، دانشگاہ قاہرہ، 1978ء۔
  • عبیات، لارا، «تقریر عن قضیۃ فلسطین»، سائٹ موضوع، تاریخ درج مطلب: 19 جون 2017ء۔نظرثانی کی تاریخ: 11 مہر 1397۔
  • فوزبورغ، یوحنا، وصف الأراضی المقدسۃ فی فلسطین، ترجمہ سعید البیشاوی، عمان،‌ دار الشروق، 1997ء۔
  • محفوظ، نادین، «السید السیستانی والقضیۃ الفلسطینیة»، سائٹ شفقنا، تاریخ درج مطلب: 29 جون 2016ء، نظرثانی کی تاریخ: 11 مہر 1397شمسی۔

بیرونی روابط