مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

حج کے موقع پر حجاج قربانی کرتے ہوئے

قربانی حضرت ابراہیم کی سنت اور حج کے باب میں ایک واجب عمل ہے جسے حضرت محمد(ص) کی امت کے لیے باقی رکھی گئی ہے۔ قرآن کریم میں نبی کریم کوبھی اللہ تعالی کی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ربانی ہے:فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ (ترجمہ: تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو) [1] قربانی کرنا حج پر جانے والے ہر مسلمان پر واجب ہے جسے کے مخصوص احکام اور شرائط ہیں۔ حجاج کے علاوہ باقی مسلمان بھی اپنے اپنے ملکوں میں 10 ذی الحجہ کو عید قربان کے دن اس سنت پر عمل کرتے ہیں جو ایک مستحب عمل ہے جس پر احادیث میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔

فہرست

لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی اعتبار سے "قربانی" لفظ "قربان" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہر اس چیز کے ہیں جس کے ذریعے خداوند متعال کی قربت حاصل کی جاتی ہے چاہے یہ کسی جانور کو ذبح کرنے کے ذریعے ہو یا صدقات اور خیرات دینے کے ذریعے۔

اصطلاح میں عید قربان کے دن جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے چاہے یہ عمل حجاج کرام منا میں انجام دیں یا دوسرے مسلمان دنیا کے کسی بھی حگہ پر انجام دیں۔

فلسفہ قربانی

قربانی حج کے اعمال میں سے ایک واجب عمل ہے جس کی حقیقت اور اس کا فلسفہ بطور کامل مشخص نہیں ہے لیکن احادیث اور روایات میں اس بارے میں جو چیز آئی ہے اس کے مطابق اس کے فلسفے کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے:

  1. نیازمندوں کی مدد: پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: "خداوند عالم نے قربانی کو واجب قرار دیا تاکہ مساکین اس کے گوشت سے استفادہ کیا جا سکے"[2]اسی بنا پر تاکید کی گئی ہے کہ قربانی کا حیوان موٹا اور تازہ ہو اور اس کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ اپنے اہل و عیال کیلئے دوسرا حصہ فقراء اور نیاز مندوں کیلئے اور تیسرا حصہ صدقہ دیا جائے۔[3]قرآن کریم میں بھی اس حوالے سے ارشاد ہے: فَکُلُواْ مِنْهَا وَ أَطْعِمُواْ الْقَانِع َ وَ الْمُعْتَرَّ (ترجمہ: اس میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے سب غریبوں کو کھلاؤ [4]
  2. گناہوں کی بخشش کا وسیلہ:ابوبصیر نےامام صادق علیہ السلام سے قربانی کی علت اور حکمت کے بارے میں سوال کیا تو حضرت نے فرمایا: "جب قربانی کے حیوانی کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر ٹپکتا ہے تو خدا قربانی کرنے والی کی تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور قربانی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ کون پرہیزگار اور متقی ہے۔" [5]قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے: لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ(ترجمہ: خدا تک ان جانوروں کا گوشت جانے والا ہے اور نہ خون ... اس کی بارگاہ میں صرف تمہارا تقویٰ جاتا ہے اور اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارا تابع بنادیا ہے کہ خدا کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اعلان کرو اور نیک عمل والوں کو بشارت دے دو)[6]
  3. موجب خیر و برکت: قربانی خدا کی نشانیوں اور شعائر الہی میں سے ہے اور صاحب قربانی کیلئے خیر و برکت کا سبب ہے۔: وَ الْبُدْن َ جَعَلْنَـَهَا لَکُم مِّن شَعَائرِ اللَّه ِ لَکُم ْ فِیهَا خَیْرٌ (ترجمہ: اور ہم نے قربانیوں کے اونٹ کو بھی اپنی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے اس میں تمہارے لئے خیر ہے [7]
  4. تقرب خدا کا وسیلہ: قربانی خدا کی تقرب کا وسیلہ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ قربانی میں کیا کیا فوائد ہیں تو ہر سال قربانی کرتے اگرچہ قرض لینا ہی کیوں نہ پڑہے۔"[8]

قربانی کے احکام

حج تمتع میں اونٹ، گائے اور گوسفند یا بکري میں سے کسی ایک کو قرباني کرنا واجب ہے۔ قربانی کے جانور ميں نر یا مادہ میں کوئی فرق نہیں البتہ اونٹ کی قربانی کرنا بہتر یہ ہے۔ مذکورہ جانوروں کے علاوہ ديگر حيوانات کی قربانی کرنا کافي نہيں ہيں۔

حج میں قربانی کی شرائط

  1. قرباني کرنا ايک عبادت ہے اس بنا پر اس میں بھی دوسرے شرائط کے ساتھ نيت بھی شر ط ہے۔
  2. قرباني کے جانور میں درج ذیل شرائط اور خصوصیات ہونا ضروری ہیں۔
    1. عمر، بنابر احتیاط واجب اونٹ چھٹے سال ميں داخل ہوچکا ہو اور گائے اور بکری تيسرے سال ميں اور گوسفند دوسرے سال ميں داخل ہوئے ہوں اور مذکورہ عمر کی حد بندی، جانور کی کمترین عمر کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے لیکن زیادہ عمر کے بارے میں کوئی حد نہیں ہے اور قربانی کی عمر اس سے زیادہ ہو تو بھی کافی ہے اس شرط پر کہ جانور زیادہ بوڑھا نہ ہو۔
    2. جانور صحيح و سالم ہو۔
    3. بہت دبلا اور کمزور نہ ہو۔
    4. اسکے اعضا پورے ہوں۔ پس ناقص حیوان کی قربانی کرنا کافي نہيں ہے جيسے آختہ شدہ یا جس جانور کے بيضے نکالے گئے ہوں۔ لیکن جس کے بيضے کوٹ ديئے جائيں لیکن خصی کی حد کو نہ پہنچ جائے تو اس کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح دم کٹا، آندھا، مفلوج، کان کٹا اور وہ حیوان جس کّے اندر کا سينگ ٹوٹا ہوا ہو یا پیدائشی طور پر ہی معذور ہو تو اس کی قربانی کافی نہیں ہے۔ لہذا ایسے حيوان کی قربانی کافی نہيں ہے کہ جس ميں ايسا عضو نہ ہو جو اس صنف کے جانوروں ميں عام طور پر پایا جاتا ہو، اور ایسے عضو کا نہ ہونا نقص شمار ہوتا ہو۔لیکن جس جانور کے باہر کا سينگ ٹوٹا ہوا ہوتو کوئی اشکال نہیں ہے اور جس جانور کا کان پھٹا ہوا ہو يا اسکے کان ميں سوراخ ہو تو اس ميں بھی کوئي حرج نہيں ہے۔[9]

چند فرعی مسائل

  1. اگر ايک جانور کو صحيح و سالم سمجھتے ہوئے ذبح کرے پھر اس کے مريض يا ناقص ہونے کا انکشاف ہو تو مالی توان کي صورت ميں دوسري قرباني کو ذبح کرنا واجب ہے۔
  2. احتیاط واجب يہ ہے کہ جمرہ عقبہ کو کنکرياں مارنے کے بعد قربانی کی جائے۔
  3. احتیاط کی بنا پر قربانی کے ذبح کرنے کو اختیاری حالت میں روز عيد سے زیادہ تاخیر نہ کرے پس اگر جان بوجھ کر ، بھول کر، لاعلمي کي وجہ سے، کسي عذر کي خاطر يا کسی اور سبب کی وجہ سےذبح کو تاخیر میں ڈال دےتو احتیاط واجب کی بنا پر ، ممکن ہوتو اسے ايام تشريق ميں ذبح کرے ورنہ ذي الحجہ کے مہینے کے ديگر دنوں ميں ذبح کرے اور علی الظاہرذبح کو دن ميں انجام دے یا رات میں اس میں کوئی فرق نہيں ہے ۔
  4. ذبح کرنے کي جگہ مني، ہے پس اگر مني ميں ذبح کرنا ممنوع ہو تو اس وقت ذبح کرنے کيلئے جو جگہ تيار کي گئي ہے اس ميں ذبح کرنا کافي ہے۔
  5. احتیاط واجب يہ ہے کہ ذبح کرنے والا شیعہ اثنا عشری ہو ہاں اگر نيت خود کرے اور نائب کو صرف رگيں کاٹنے کيلئے وکيل بنائے تو شیعہ اثنا عشری کي شرط کا نہ ہونا بعيد نہيں ہے۔
  6. قربانی کو خود انجام دے یا اس کی طرف سے وکالت حاصل کر کے کوئی دوسرا انجام دے ليکن اگر کوئي اور شخص بغیر اسکی ہماہنگی اور وکیل بنانے کے اسکی طرف سے ذبح کرے تو يہ محل اشکال ہے اور بنابر احتیاط اسی پر اکتفا نہیں کرسکتا ہے۔
  7. ذبح کرنے کے آلے ميں شرط ہے کہ وہ لوہے کا ہو اور سٹيل (وہ فولاد جسے ايک ايسے مادہ کے ساتھ ملايا جاتا ہے تاکہ زنگ نہ لگے) لوہے کے حکم ميں ہے۔ ليکن اگر شک ہو کہ يہ آلہ لوہے کا ہے يا نہيں تو جب تک یہ واضح نہ ہو کہ يہ لوہے کا ہے یا نہیں اسکے ساتھ ذبح کرنا کافي نہيں ہے۔[10]

دعائے قربانی

قربانی کو ذبح کرتے وقت بہتر ہے اس دعا کو پڑھی جائے: بِسمِ الله الرّحمن الرّحیم، یا قَومِ اِنّی بَریءٌ مِمّا تُشرِکون اِنّی وَجَّهتُ وَجهی لَلَّذی فَطَرَالسَّمواتِ وَالاَرضَ حَنیفاً مُسلِماً وَما اَنَا مِنَ المُشرِکینَ اِنَّ صَلاتی وَ نُسُکی وَ مَحیایَ وَ مَماتی لِلّه رَبِّ العالَمینَ لا شَریکَ لَهُ وَ بِذالِکَ اُمِرتُ وَ اَنا مِنَ المُسلِمینَ اَللّهمَّ مِنکَ وَلَکَ بِسمِ الله وَ بِاللهِ وَ اللهُ اَکبَرُ اللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ

اس دعا کے بعد ذبح کرے اگر ذبح کرنے والا خود اپنی طرف سے قربانی کر رہا ہے تو یہ کہے: اَللّهُمَّ تَقَبَّل مِنّی

لیکن اگر کسی اور کی طرف سے قربانی کر رہا ہے تو کہے: اَللّهُمَّ تَقَبَّل مِن فُلانِ بنِ فُلان فلان بن فلان کی جگہ اس شخص کا نام لیا جائے جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے۔

البتہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی اور ذبح کر رہا ہے اور ممکن ہو تو صاحب قربانی ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے اور مذکورہ دعا کو خود پڑھے۔

حوالہ جات

  1. سورہ کوثر، آیت نمبر 2
  2. بحارالانوار، علامہ مجلسی ، ج ۹۶، ص ۲۹۶ـ۲۹۸، مؤسسہ الوفأ.
  3. تحریر الوسیلہ ، امام خمینی ;، ج ۱، ص ۴۲۳ـ۴۲۴، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی ; / بحارالانوار، همان
  4. سورہ حج، آیت نمیر 36
  5. بحارالانوار، علامہ مجلسی ، ج ۹۶، ص ۲۹۶ـ۲۹۸، مؤسسہ الوفأ.
  6. سورہ حج، آیت نمبر 37
  7. سورہ حج، آیت نمیر 36
  8. بحارالانوار، علامہ مجلسی ، ج ۹۶، ص ۲۹۶ـ۲۹۸، مؤسسہ الوفأ.
  9. ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای
  10. ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای