مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

قمری مہینے چاند کا زمین کے گرد ایک چکر مکمل ہونے کے درمیانی فاصلے کو کہا جاتا ہے۔ یہ فاصلہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ کبھی 29 اور کبھی 30 دنوں میں یہ چکر مکمل ہوتا ہے یوں قمری مہینوں میں سے بعض 29 دن جبکہ بعض 30 دن کا ہوتا ہے۔ چاند کی گردش کو کب سے ایک منظم طریقے سے دنوں، مہینوں اور سالوں کے محاسبہ کا معیار قرار پایا اس کی ابتداء معلوم نہیں لیکن جو چیز یقینی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مہینے اسلام سے پہلے بھی رائج تھے اسی لئے جب پیغمبر اکرم(ص) کی مدینہ کی طرف ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا گیا تو قمری کیلنڈر کو ہی اسلامی سال کا معیار قرار دیا گیا اور بہت ساری اسلامی عبادات چاہے واجب ہوں یا مستحب انہی مہینوں کے مطابق انجام دینا ضروری ہے.

قمری مہینے کی پہلی تاریخ کی تعیین اور چاند نظر آنے یا نظر نہ آنے کے حوالے سے جہاں شیعہ فقہاء کے ہاں مختلف مبانی ہیں وہاں علم نجوم کے متعدد شرائط بھی دخالت رکھتی ہیں۔ اسی لئے کبھی مہینے کی پہلی تاریخ کی تعیین میں مختلف اسلامی ممالک اور چہ بسا ایک ہی ملک کے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلا بعض شیعہ فقہاء اس بات کے معتقد ہیں کہ مہینے کی پہلی تاریخ حاکم شرع کے حکم سے بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ جبکہ بعض دیگر کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں حاکم شرع کا حکم کوئی اثر نہیں رکھتا یعنی حاکم شرع کے حکم سے مہینے کی پہلی تاریخ ثابت نہیں ہوگی۔ اسی طرح مختلف ممالک میں مہینے کی پہلی تاریخ کی تعیین کے حوالے سے مختلف مبانی اور معیارات ہیں اور علم نجو کے قواعد کی رو سے 4 مہینے مسلسل 30 دن اور 3 مہینے تک مسلسل 29 دن کے بھی ہو سکتے ہیں۔

فہرست

قمری مہینے تاریخ کے آئینے میں

سنہ ہجری قمری‌ سے پہلے جزیرۃ العرب اور شام وغیرہ میں جس تقویم کی بنیاد پر سال اور مہینوں کا تعیین ہوتا تھا وہ یہ ہیں: قبطی، سریانی، رومی اور یہودی۔ لیکن قریش اسلام سے پہلے بھی ایک ایسے تقویم کو استعمال کرتے تھے جس کے مہینوں کے نام اسی قمری ہجری تقویم کے مہینوں کے نام ہی تھے۔ اسلامی تاریخ کا مبداء پیغمبر اکرم(ع) کی مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کو قرار دیا گیا۔[1]

قمری مہینوں کے نام

قمری مہینوں کے نام بالترتیب یہ ہیں:

نمبر شمار مہینہ
1 محرّم یا محرم الحرام
2 صفر یا صفر المظفر
3 ربیع الاول
4 ربیع الثانی
5 جمادی الاول
6 جمادی الثانی
7 رجب یا رجب المرجب
8 شعبان یا شعبان المعظم
9 رمضان یا رمضان المبارک
10 شوال یا شوال المکرم
11 ذوالقعدۃ
12 ذوالحجۃ

ان بارہ مہینوں میں سے چار ماہ رجب، ذی القعدہ، ذوالحجہ اور محرم حرام مہینے یعنی حرمت والے مہینے کہلاتے ہیں جن کے مختلف احکام جیسے جنگ کی ممنوعیت اور دیہ کا اضافہ ہونا وغیرہ ہیں۔ قمری سال 354 دن کا ہوتا ہے جو تقریبا شمسی سال سے 10 یا 11 دن کم ہوتا ہے۔

پہلی تاریخ ثابت ہونے کی طریقے

 
ایک قمری مہینے میں چاند کا زمین کے مقابلے میں مختلف زاویے

شیعہ فقہ کے مطابق مہینے کی پہلی تاریخ درج ذیل طریقوں سے ثابت ہوگی:

  1. خود شخص پہلی تاریخ کا چاند دیکھے۔
  2. دوسروں کے کہنے پر اطمینان حاصل ہو جائے۔
  3. دو عادل مردوں کی گواہی جن کی گواہی ماہرین علم نجوم کے قواعد کے بر خلاف نہ ہو۔
  4. پہلے مہینے کے 30 دن گذر جائے۔
  5. حُکم حاکم شرع (بعض مراجع کے مطابق)

بعض غیر مشہور طریقے بھی ہیں جیسے: ضخامت ہلال، ظہر سے پہلے چاند نظر آنا یا یہ کہ تیرہویں رات چاند مکمل نظر آئے [2]

شیعہ فقہاء کے فتؤوں کے اختلاف کا سبب

اکثر اوقات جن چیزوں کی وجہ سے فتووں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

  1. رؤیت کا طریقہ: آیا دوربین اور ٹلسکوپ کے ذریعے دیکھنا بھی معتبر ہے یا نہیں؟
  2. پہلی تاریخ کی تعیین میں افق کا کردار:
    1. ہم‌افق ہونا (اتحاد افق)
    2. رات کو افق کا ایک ہونا (اتحاد آفاق)
    3. ایک دوسرے سے نزدیک افق [3]

قرآن کی آیات اور معصومین کی احادیث سے استنباط اور علم نجوم کے قواعد سے شیعہ فقہاء کی آگاہی میں اختلاف کی وجہ سے فقہاء کے ہاں مختلف مبانی وجود میں آتے ہیں جو اختلاف فتوا کا باعث بنتا ہے۔ مذیر معلومات کیلئے رؤیت ہلال از نگاہی دیگر)

قمری مہینے علم نجوم کی روشنی میں