مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

مؤمن آل فرعون ان شخصیات میں سے ایک ہے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے۔ آپ فرعون کے چچازاد اور خزانہ دار تھے اور فرعون سے اپنا ایمان چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے حضرت موسی کی حفاظت کی خاطر اپنا ایمان ظاہر اور آشکار کیا اور خدا پر ایمان لانے کے جرم میں فرعون کے ہاتھوں مارا گیا۔ سورہ غافر کی آیت نمیر 28 سے 45 تک میں مؤمن آل فرعون کی داستان بیان ہوئی ہے۔ شیعہ احادیث میں انہیں امام علیؑ کے ساتھ صدیقین میں شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح امام زمانہؑ کے ظہور کے وقت رجعت کرنے والوں میں بھی ان کا نام لیا گیا ہے۔

فہرست

زندگی نامہ

آپ کا نام "حزقیل" یا "حزبیل" یا "خربیل" تھا۔[1] بعض منابع میں انہیں نبی قرارد دیا گیا ہے[2][نوٹ 1]

حزقیل فرعون کے چچازاد اور خزانہ دار تھا اور ایک لمبے عرصے تک فرعون سے اپنا ایمان چھپا کر رکھا ہوا تھا۔[3] جب بھی فرعون ان پر شک کرتا تھا تو وہ تقیہ کرتا تھا اور توریہ کے ذریعے اپنی جان بچاتا تھا۔[4] جب حضرت موسی اپنی دعوت کا اعلانیہ اظہار کرتا ہے اور فرعون کے درباری ساحر بھی حضرت موسی پر ایمان لے آتے ہیں تو مؤمن آل فرعون بھی اپنا ایمان ظاہر اور آشکار کرتا ہے یوں ساحروں کے ساتھ فرعون کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ تختہ دار پر لٹکانے کی وجہ سے ان کا ہاتھ اور انگلیاں خشک ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود بھی اپنی قوم کی طرف اشارہ کر کے کہتے تھے: میری پیروی کروں تاکہ میں تمہیں کمال اور ہدایت کا راستہ دکھاوں۔[5]

  • زوجہ اور اولاد
ابن عباس سے منقول حدیث[6] ‏اور علامہ مجلسی کے مطابق آپ کی زوجہ بھی مؤمنہ تھی جو "صیانۃ الماشِطَۃ" کے نام سے معروف تھی۔ فرعون نے وہ اور ان کی اولاد کو خدا پر ایمان لانے کے جرم میں آگ میں جلا دیا۔ ایک دن فرعون کی بیٹی کی آرائش میں مصروف تھی کی غلطی سے زبان پر خدا کا نام آیا۔ فرعون کی بیٹی نے فرعون سے کہا کہ صیانۃ خدائے واحد پر اعتقاد رکھتی ہے اور وہ آپ کو خدا نہیں مانتی۔ فرعون نے ان کی اولاد کو ان کے نظروں کے سامنے جلا دیا لیکن اس کے بعد بھی صیانہ خدا پر اعتقاد سے ہاتھ اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوئی آخر کا فرعون اسے بھی تنور میں جلا دیتا ہے۔[7]

احادیث میں وہ اور ان کی اولاد کے مقام و منزلت کی طرف یوں اشارہ ہوا ہے:

  • پیغمبر اکرمؐ جب معراج پر تشریف لے جاتے ہیں تو ایک خوشبو استشمام کرتے ہیں، جبرئیل نے کہا یہ صیانہ اور ان کے بچوں کی راکھ ہے جنہیں فرعون نے جلا دیا تھا۔[8]
  • صیانہ ظہور امام زمانہ کے موقع پر رجعت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں جو مجروحین کا مداوای کرے گی۔[9]
  • ابن عباس کے مطابق ان کے آخری بیٹے نے فرعون کے ہاتھوں جلائے جانے سے قبل گہوارے سے اپنی والدہ کے ساتھ ہمکلام ہو کر کہا: ماں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں آپ حق پر ہیں۔[10]

سورہ غافر میں آپ کا تذکرہ

وَقَالَ رَ‌جُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یكْتُمُ إِیمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن یقُولَ رَبِّی اللَّـهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَینَاتِ مِن رَّبِّكُمْ(ترجمہ: ااور فرعون کے خاندان میں سے ایک مردِ مؤمن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات (معجزات) لے کر آیا ہے۔)

سورہ غافر، آیت نمبر 28

سورہ غافر کی آیت نمبر 28 سے 45 تک مؤمن آل فرعون کے بارے میں ہیں۔ ان آیات کے ذیل میں تفسیری کتابوں سے جو نکاتی ملتی ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  • مؤمن آل فرعون کیلئے قرآن کریم میں استعمال ہونے والی پهلی صفت کتمان ایمان یعنی ایمان کو چھپا کر رکھنا ہے۔ اس آیت کے ذیل میں تقیہ کی ضرورت کے حوالے سے احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں امام صادقؑ فرماتے ہیں: تقیہ خدا کی ڈھال ہے۔ جیسا کہ مؤمن آل فرعون اگر اپنا ایمان ظاہر کرتا تو مارا جاتا۔[11]
  • جب فرعون نے حضرت موسی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو مؤمن آل فرعون حضرت موسی کو نجات دینے کی کوشش کرتا رہا۔ فرعون اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ مؤمن آل فرعون کی گفتگو کو درج ذیل پانچ نکات میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:
  1. سب سے پہلے محتاطانہ انداز میں اپنی قوم سے کہا کہ موسی کو مارنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اگر یہ جھوٹ بول رہا ہے تو بہت جلد رسوا ہو گا اور اگر سچ کہہ رہا ہے تو اسے نہیں مارنا چاہئے۔
  2. گذشتہ اقوام کا تذکرہ جو خدا کے عذاب کا شکار ہوئیں۔
  3. حضرت یوسف کی نبوت کا تذکرہ اور اپنی جان چھڑانے کیلئے حضرت یوسف کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کا بہنا بنا کر اپنے آپ کو گمراہی اور ضلالت میں غوطہ ورنا رکھنا۔ ان باتوں نے فرعون کو حضرت موسی کے قتل میں تاخیر کرنے اور ایک بہت بڑی عمارت بنا کر اس کے اوپر جا کر موسی کے خدا کی جستجو کرنے پر مجبور کیا۔
  4. دنیا کی ناپائداری اور بہشت میں مؤمنین اور عمل صالح انجام دینے والوں کی جزا کی طرف اشارہ؛ بہشت میں نعمات کے حصول میں مرد اور عورتوں کے درمیان فرق نہ ہونا۔
  5. آخر کار مؤمن آل فرعون اپنا ایمان ظاہر اور آشکار کرتے ہوئے کہتے ہیں تم مجھے کفر کی طرف دعوت دیتے ہو جبکہ میں تم لوگوں کو غالب اور معاف کرنے والے خدا پر ایمان لانے دعوت دیتا ہوں۔ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (ترجمہ: اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں بے شک وہ (اپنے) بندوں کا خوب نگران ہے)۔[12] ان باتوں کے بعد فرعون کے حکم سے آپ کو صلیب پر لٹکایا گیا۔[13]
  • امام صادق سے منقول ایک حدیث میں یہ سفارش کی گئی ہے جب بھی کسی دشمن سے خوف محسوس کرے تو است آیت: وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ کی تلاوت کرے۔ خدا پر توکل (تفویض) کا نتیجہ بعد والی آیت میں یوں آیا ہے کہ خدا نے مؤمن آل فرعون کو فرعونیوں کے مکر و فریب سے محفوظ رکھا۔ علامہ طباطبایی بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ خدا پر توکل کرنے کے نتیجے میں مؤمن آل فرعون کا ایمان محفوظ رہا ہے نہ ان کی جان۔ بعض علماء، اہل سنت منابع میں نقل ہونے والی بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ خدا نے مؤمن آل فرعون کی جان بھی بچائی۔[14]امام صادق، فرماتے ہیں: مؤمن آل فرعون کو قطعہ قطعہ کر دیا تھا اور خددا نے اس کے ایمان کو ہر قسم کی لغزشوں سے محفوظ رکھا۔[15]

احادیث میں آپ کا مقام

  • شیعہ اور اہل سنت منابع میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "صدیقین تین شصخیات پر مشتمل ہیں: حبیب نجار (مؤمن آل یاسین)، حزقیل (مؤمن آل فرعون) اور علی بن ابی طالب کہ علی ابن ابی طالب باقیوں سے افضل ہیں"۔[16][17]
  • ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ مؤمن آل فرعون ان سترہ لوگوں میں سے ایک ہے جو امام زمانہؑ کے ظہور کے وقت رجعت کرینگے۔[18]
  • زہیر بن قین کربلا میں اپنی قوم سے مخاطب ہو کر ان کو نصیحت کر رہے تھے۔ امام حسینؑ نے ان کو مؤمن آل فرعون سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ مومن آل فرعون کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی اور حق کی تبلیغ میں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔[19]

حوالہ جات

  1. صدوق، امالی، ۱۳۷۶ش، ص۴۷۶؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۳۶۲ش، ج۷۵، ص۴۰۲؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۸ش، ج۲۰ ص۸۷
  2. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۶۰۴
  3. محلاتی، ریاحین الشریعۃ، دار الکتب الاسلامیہ، ج۵، ص۱۵۳
  4. مجلسی، بحار الانوار، ۱۳۶۲ش، ج۷۵، ص۴۰۲
  5. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۲۵۸؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۲ش، ج۱۳، ص۱۶۲
  6. جزائری، النور المبين، ۱۴۰۴ق، ص۲۶۰
  7. مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۲ش، ج۱۳، ص۱۶۳؛ مجلسی، حیاۃ القلوب، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۲۴۳
  8. مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۲ش، ج۱۳، ص ۱۶۳
  9. طبری، دلائل الامۃ، ۱۳۸۳ق، ص۲۶۰؛ محلاتی، ریاحین الشریعۃ، دارالکتب الاسلامیہ، ج۵، ص۴۱
  10. ثعلبی، قصص الانبیاء، ۱۴۱۴ق، ص۱۸۸
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۹ق، ج۸، ص۵۲۱
  12. سورہ غافر، ۴۴
  13. مکارم شیرازی،‌ تفسیر نمونہ،‌ ۱۳۷۸ش، ج۲۰، ص۹۷
  14. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۸۲، ج۱۷، ص۵۱۳
  15. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۲۵۸؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۲ش، ج۱۳، ص۱۶۲
  16. متقی ہندی، کنزالعمال، ج۱۱، ص۶۰۱
  17. صدوق، امالی، ۱۳۷۶ش، ص۴۷۶
  18. عیاشی، تفسیر عیاشی، المکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ، ج۲، ص۳۲، حر عاملی، اثبات الہداۃ، ۱۴۲۵ق، ج۳، ص۵۵۰
  19. قمی، نفس المہموم، ۱۳۷۹ش، ص۲۴۲
  1. حزقیال نبی کے علاوہ کوئی اور شخصیت ہیں کیونکہ حزقیال نبی حضرت موسی کے بعد بنی‌ اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے۔

مآخذ

  • ثعلبی، قصص الانبیاء، بیروت، ۱۴۱۴ق۔
  • جزائری، نعمت اللہ، النور المبين في قصص الأنبياء و المرسلين، مکتبہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، إثبات الہداۃ بالنصوص و المعجزات، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۲۵ق۔
  • شیخ صدوق، امالی، تہران، کتابچی، ۱۳۷۶ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، تفسیر المیزان، ترجمۂ سید محمدباقر موسوی ہمدانی، دفتر انتشارات اسلامی، قم: ۱۳۸۲۔
  • طباطبایی، تفسیر المیزان، مترجم موسوی ہمدانی،‌ دفتر انتشارات اسلامی،‌ قم۔
  • طبرسی،‌ فضل بن حسن، مجمع البیان، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، ۱۳۷۹ق۔
  • طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامۃ، دارالذخائر المطبوعات، قم، ۱۳۸۳ق/۱۹۶۳م۔
  • قمی، تفسیر قمی،‌ دارالکتاب،‌ ۱۳۶۳ش۔
  • قمی، شیخ عباس، نفس المہموم، منشورات ذوی القربی، ۱۳۷۹ش۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، تہران، المکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ۔
  • متقی ہندی، کنزالعمال،
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، دارالکتب اسلامیۃ، تہران، ۱۳۶۲ش۔
  • مجلسی، محمدباقر، حیاۃ القلوب، قم، سرور، ۱۳۸۴ش۔
  • محلاتی، ذبیح اللہ، ریاحین الشریعہ در ترجمہ بانوان دانشمند شیعہ، دارالکتب الاسلامیہ، طہران۔
  • مکارم شیرازی ناصر باہمکاری جمعی از نویسندگان، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۳۷۸ش۔