مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

مُحَدِّث یا حدیث‌ شناس اس شخص کو کہا جاتا ہے جو حدیث، راوی، حدیثی اصطلاحات، صحیح اور ضعیف احادیث اور احادیث پر ہونے والے اعتراضات کے بارے میں علم رکھتا ہو۔ اکثر محدثین نے مفصل حدیثی کتابیں لکھی ہیں۔ مشہور شیعہ محدیثن میں کتب اربعہ کے مصنفین کُلِینی، شیخ صدوق اور شیخ طوسی کا نام سر فہرست ہیں ہیں ان کے علاوہ علامہ مجلسی اور شیخ حُرّ عاملی بھی دورہ صفویہ کے نامدار شیعہ محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ متأخرین میں مستدرک الوسائل کے مصنف محدث نوری اور سفینۃ البِحار کے مصنف شیخ عباس قمی شیعہ محدثین میں زیادہ مشہور ہیں۔

فہرست

تعریف

کتاب مقباس الہدایۃ میں عبداللہ مامقانی کے مطابق محدث اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی حدیث کو ثابت کرنے کے تمام راستوں سے واقف ہو، راویں کے نام اور ان کی عدالت کے بارے میں علم رکھتا ہو نیز احادیث میں کسی چیز کی زیادتی یا کمی کو سے بھی آگاہی رکھتا ہو۔[1] محمدرضا مامقانی مقباس الہدایہ پر لکھے گئے اپنے حاشیے میں لکھتے ہیں: محدث اس شخص کو کہا جاتا ہے جو علم حدیث اور اس کے اصطلاحات سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے اقسام اور انواع سے بھی آگاہ ہو۔[2] اسی طرح کتاب کشاف سے نقل کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں اصطلاحات الفنون، حدیث کا سننا، لکھنا، پڑھنا، حفظ کرنا اور احادیث کی تلاش میں حدیث مختلف شہروں کا سفر کرنا محدث کی خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔[3] شہید ثانی اس شخص کو محدث کہتے ہیں جو پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین کی سنت کے بارے میں علم حاصل کرنے میں مشغول ہو۔[4]

عبداللہ مامقانی کے مطابق اگر رجالی منابع میں کسی شخص کی بعنوان محدث تعارف کی گئی ہو تو یہ اس کی مدح شمار ہو گی اگرچہ یہ چیز اس کی توثیق شمار نہیں کیا جا سکتا۔[5]

محدث، رجالی اور راوی

عبد اللہ مامقانی راوی، مُسنِد، محدِّث اور حافظ وغیرہ جیسے اصطلاحات کا آپس میں موازنہ کرتے ہوئے[6] لکھتے ہیں کہ راوی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو صرف روایت نقل کرتا ہے، چاہے سند کے ساتھ ہو یا بغیر سند کے۔ راوی کا مقام محدث سے نیچے ہے[7] اسی طرح وہ تصریح کرتے ہیں کہ فقط حدیث سننے والے کو محدث نہیں کہا جاتا ہے۔[8]

علم درایہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ رجالی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو حدیث کے راویوں اور ان کی خصوصیات کو جانتا ہو اور ان میں سے ہر ایک کے معتبر ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں رائے دے۔ لیکن محدث اس شخص کو کہا جاتا ہے جو راویوں اور ان کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ احادیث کے سند اور متن کے بارے میں بھی صاحب نظر ہو اور ضعیف یا صحیح احادیث کو ایک دوسرے سے پہنچان سکتا ہو۔ [9]

اخباری کے معنی میں

بعض منابع میں اصولیوں اور عقلی علوم کے ماہرین کے مقابلے میں صرف احادیث پر اعتماد کرنے والے اخباریوں پر بھی محدث کا اطلاق کرتے ہوئے انہیں اصحاب حدیث کے نام سے یاد کرتے ہیں۔[10]

مشہور شیعہ محدثین

شیعہ محدثین کو دو اعتبار سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ تاریخی اعتبار سے متقدمین اور متأخرین میں[11] جبکہ دوسری بار انہیں علم حدیث میں ان کے نظریات اور نقطہ نظر کے اعتبا سے مکتب حدیثی قم اور مکتب حدیثی کوفہ وغیرہ میں تقسیم کرتے ہیں۔[12]

کتب اربعہ کے مصنفین

شیعہ معتبر حدیثی مجموعے، کتب اربعہ کے مصنفین قدیم شیعہ محدثین میں سے ہیں جن کے آثار اب تک باقی ہیں۔ الکافی کے مصنف محمد بن یعقوب کلینی (ولادت 329ھ)، من لایحضرہ الفقیہ اور کئی دوسرے حدیثی کتابوں کے مصنف شیخ صدوق (ولادت 381ھ) اور تہذیب الاحکام اور الاستبصار کے مصنف شیخ طوسی (ولادت 460ھ) جو چوتھے اور پانچویں صدی ہجری میں زندگی گزارتے تھے۔[13]

دورہ صفویہ کے محدثین

ایران میں دورہ صفویہ کے محدثین نے اخباریوں کے عروج کے وقت شیعہ حدیثی میراث کی حفاظت اور توسیع میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہوئے[14] متعدد جوامع حدیثی تصنیف کی ہیں۔[15] بحار الانوار جو کہ شیعوں کی سب سے بڑی حدیثی مجموعہ ہے اسی دور کی پیداوار ہے۔ الوافی کے مصنف محمد محسن فیض کاشانی(ولادت 1091ھ)، وسائل الشیعہ کے مصنف شیخ حر عاملی (ولادت 1100ھ) اور بحار الانوار کے مصنف محمدباقر مجلسی (ولادت 1110ھ) اسی دور میں زندگی گزارتے تھے۔ [16]

متأخر شیعہ محدثین

مستدرک الوسائل کے مصنف محدث نوری (ولادت 1320ھ)[17] اور سفینۃ البحار کے مصنف شیخ عباس قمی (ولادت 1359ھ) چودہویں اور پندرہویں صدی ہجری کے مشہور شیعہ محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔[18]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. مامقانی، مقباس الہدایہ، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۴۹۔
  2. مامقانی، محمدرضا، مقباس الہدایہ، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۵۰۔
  3. مامقانی، محمدرضا، مقباس الہدایہ، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۲۸۔
  4. شہید ثانی، الرعایۃ، ۱۴۳۳ق، ص۵۰۔
  5. مامقانی، مقباس الہدایۃ، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۲۴۸۔
  6. مامقانی، مقباس الہدایہ، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۴۹-۵۰۔
  7. مامقانی، مقباس الہدایہ، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۴۹۔
  8. مامقانی، مقباس الہدایہ، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۴۹۔
  9. سبحانی، اصول الحدیث و احکامہ، ۱۴۱۸ق، ص۱۶؛ قربانی، علم حدیث، ۱۳۷۶ش، ص۱۰۷۔
  10. بہشتی، اخباریگری، ۱۳۹۰ش، ص۳۹۔
  11. سیفی مازندرانی، مقیاس الرواۃ، ۱۴۲۲ق، ص۵۵۔
  12. مؤدب، تاریخ حدیث، ۱۳۹۳ش، ص۱۱۵۔
  13. مؤدب، تاریخ حدیث، ۱۳۹۳ش، ص۸۶۔
  14. مہریزی، حدیث‌ پژوہی، ۱۳۹۰ش، ج۲، ص۲۴۹۔
  15. مہریزی، حدیث‌ پژوہی، ۱۳۹۰ش، ج۲، ص۲۶۱۔
  16. مؤدب، تاریخ حدیث، ۱۳۹۳ش، ص۱۲۹۔
  17. طباطبائی، تاریخ حدیث شیعہ (۲)، ۱۳۹۰ش، ص۲۶۸۔
  18. طباطبائی، تاریخ حدیث شیعہ (۲)، ۱۳۹۰ش، ص۲۷۱۔


مآخذ

  • بہشتی، ابراہیم، اخباریگری (تاریخ و عقاید)، قم، سازمان چاپ و نشر دار الحدیث، ۱۳۹۰ش۔
  • سبحانی، جعفر، اصول الحدیث و احکامہ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۸ق۔
  • سیفی مازندارنی، علی‌اکبر، مقیاس الرواۃ فی کلیات علم الرجال، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۲۲ق۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، الرعایۃ فی علم الدرایۃ، قم، مکتبۃ سماحۃ آیۃ اللہ العظمی مرعشی النجفی، ۱۴۳۳ق۔
  • طباطبائی، سید محمدکاظم، تاریخ حدیث شیعہ(۲) عصر غیبت، قم، دار الحدیث، ۱۳۹۰ش۔
  • قربانی، زین‌العابدین، علم حدیث، قم، انتشارات انصاریان، ۱۳۷۶ش۔
  • مامقانی،‌ عبداللہ، مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، تحقیق: محمدرضا مامقانی، قم، مؤسسۃ آل البیت لإحیاء التراث، ۱۴۱۱ق۔
  • مامقانی، محمدرضا، مستدرکات مقباس الہدایہ فی علم الدرایۃ، قم، مؤسسۃ آل البیت لإحیاء التراث، ۱۴۱۱ق۔
  • مؤدب، سید رضا، تاریخ حدیث، قم، مرکز بین‌المللی ترجمہ و نشر المصطفی، ۱۳۹۳ش۔
  • مہریزی، مہدی، حدیث‌پژوہی، قم، دار الحدیث، ۱۳۹۰ش۔