مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

محسن بن علی بن ابی طالب
اولاد حضرت علی
وفات گیارھویں ہجری قمری
مدینہ
وجۂ وفات سقط
مدفن بنا بر روایت خانۂ علی


محسن بن علی(ع) حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی پانچویں اولاد ہے ۔ وہ حضرت ابو بکر کے طرفداروں کی طرف سے خلافت کے ابتدائی ایام میں حضرت علی سے جبری بیعت لینے کیلئے ان کے گھر پر ہجوم کے وقت سقط ہونے کی وجہ سے شہید ہو گئے ۔ ان کی شہادت کی تاریخ واضح نہیں ہے لیکن بعض تاریخی روایات کی روشنی میں ان کی شہادت رسول اللہ کے وصال کے 45 روز بعد واقع ہوئی ۔

فہرست

تعارف

روایات اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ پیغمبر نے حضرت فاطمہ کے تیسرے فرزند کا نام محسن رکھا[1] شیعہ عقیدہ کے مطابق محسن ولادت سے پہلے شہید ہو گئے ۔شیعہ مآخذ نے صرف انکے شہادت کے زمانے کی خبر دی ہے اور اس کی ولادت کے بارے میں خاموش ہیں ۔ لیکن اہل سنت علما اس موضوع کے متعلق دو قسم کی آرا رکھتے ہیں۔بہت کم ایسے علما ہیں جو انکی ولادت و شہادت کا زمانہ رسول کی حیات طیبہ سمجھتے ہوں۔لیکن اکثر مآخذ انکی ولادت و شہادت کے زمانے بارے میں خاموش ہیں اور صرف کم سنی میں انکی وفات کو ذکر کرتے ہیں درج ذیل متون سے سے اس بات کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے مثلا :

  • ابن حزم، ابن حجر، ابو الفداء اور قندوزی مات صغیرا (یعنی بچپنے میں فوت ہوئے) کے الفاظ نقل کئے ہیں[2]
  • ابن دمشقی اور ابن کثیر نے کہا مات و هو صغیر وہ کم سنی کے عالم میں فوت ہوا [3]
  • طبری و ابن اثیر نے گذشتہ مفہوم کو توفی صغیرا کے ساتھ بیان کیا[4]
  • ابن قتیبہ اور احمد طبری فهلک و هو صغیر (وہ فوت ہوا تو بچہ تھا)[5] و هلک صغیرا (بچپنے میں فوت ہوا)[6]
  • بلاذری نے درج صغیرا کے الفاظ سے اسکی خبر نقل کی۔[7]
  • صالحی شامی و ابن صباغ مالکی مات سقطا (وہ بچپنے میں سقط ہو گیا)[9]

ان منابع میں سے کسی میں بھی اس کے حیات نبی میں پیدا ہونے بات موجود نہیں ہے یہانتک کہ بعض عبارتوں سے اس کے مردہ حالت میں پیدا ہونے کو سمجھا جا سکتا ہے ۔صرف ابن حزم نے مات صغیرا جدا إثر ولادته[10] ذکر کیا ہے کہ جو زیادہ سے زیادہ محسن کے زندہ دنیا میں آنے کو بیان کرتا ہے ۔لیکن اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ حیات رسول اللہ یا ا نکی زندگی کے بعد پیدا اور فوت ہوا۔

مختلف مآخذ میں تذکرہ

شیعہ اور اہل سنت کے تاریخ و حدیث اور نسب شناسی کے اکثر مصادر میں اسکا تذکرہ موجود ہے ۔تاریخی روایات اس کے اصل وجود کو ثابت مانتی ہیں اگرچہ فریقین اس کے پیدائش اور وفات کے زمانے میں اختلاف نظر رکھتے ہے۔

شیعہ منابع

شیعہ منابع محسن کی شہادت سقط کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن اس کے زمان اور وجہ میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔ شیعہ منابع اس کے نام کے بارے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں اور اسے حضرت فاطمہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔چند ایک منابع کے نام درج ذیل ذکر کئے جاتے ہیں:

  1. ابن واضح یعقوبی (م۲۹۲ ق): تاریخ یعقوبی .[11]
  2. علی بن حسین مسعودی (م۳۴۶ ق): مروج الذہب.[12]
  3. محمد بن سلیمان کوفی (زنده در سال ۳۰۰ ق): کتاب مناقب امیرالمؤمنین.[13]
  4. حسین بن حمدان خصیبی (م۳۳۴ ق) : الہدایۃ الکبری.[14]
  5. قاضی نعمان صاحب دعائم (م۳۶۳ ق) : شرح الاخبار.[15]
  6. شیخ مفید (م ۴۱۳ق): الارشاد.[16]
  7. علی بن محمد علوی عمری (م حدود ۴۶۰ ق): المجدی فی انساب الطالبیین.[17]
  8. طبرسی (م۵۴۸ ق) : اعلام الوری.[18]
  9. ابن شہر آشوب (م ۵۸۸ق): مناقب آل ابی طالب.[19]
  10. اربلی (م۶۹۳ق) : کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ.[20]

اہل سنت منابع

اہل سنت منابع کہ جنہوں نے محسن کو حضرت فاطمہ (س) کے بیٹوں میں سے شمار کیا ہے :

  1. احمد بن محمد بن حنبل (م ۲۴۱ق): مسند احمد.[21]
  2. محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرة بخاری جعفی بخاری (م ۲۵۶ق): الادب المفرد.[22]
  3. عبداﷲ بن مسلم دینوری ابن قتیبہ (م۲۷۶ ق): المعارف.[23]
  4. احمد بن یحیی بن جابر بن داوود بلاذری (م۲۷۹ ق): انساب الاشراف.[24]
  5. محمد بن احمد دولابی (م۳۱۰ ق): الذریۃ الطاہرة.[25]
  6. محمد بن جریر بن یزید طبری (م۳۱۰ ق): تاریخ الرسل و الملوک.[26]
  7. محمد بن حبٌان ابن حبٌان تَمیمی بُستی(م۳۵۴ق): کتاب الثقات.[27]
  8. حاکم نیشاپوری (م۴۰۵ق) : المستدرک علی الصحیحین.[28]
  9. ابن حزم اندلسی (م۴۵۶ ق): جمہره انساب العرب.[29]
  10. احمد بن حسین بیهقی (م۴۵۸ ق): السنن الکبری .[30]
  11. یوسف‌ بن‌ عبدالله‌ بن‌ محمد بن‌ عبدالبر ابن‌ عاصم‌ نَمری‌ قرطبی (م۴۶۳ ق) : الاستیعاب‌ فی‌ معرفۃ الاصحاب‌ .[31]
  12. شہرستانی (م۵۴۵ق) : ملل و نحل .[32]
  13. ابن عساکر دمشقی (م۵۷۱ ق): تاریخ دمشق کے شرحِ حال امام حسن و امام حسین.[33]
  14. ابن عساکر: ترجمۃ الإمام الحسین علیہ السلام من تاریخ.[34]
  15. ابن اثیر (م۶۳۰ ق) : اسد الغابۃ .[35] و کامل[36]
  16. سبط ابن الجوزی (م۶۵۴ق) در تذکرة الخواص .[37]
  17. محب الدین طبری (م۶۹۴ ق): ذخائر العقبی .[38]
  18. ابوالفداء(م۷۳۲ق) : المختصر فی اخبار البشر.[39]
  19. شہاب الد ین نویری (م۷۳۳ ق): نہایۃ الارب.[40]
  20. شمس الدین ذہبی (م۷۴۸ ق) : سیر اعلام النبلاء.[41]
  21. ابن کثیر (م ۷۷۴ ق): البدایہ و النہایہ .[42]
  22. محمد بن یوسف بن الحسن بن محمد الزرندی (م۷۵۰ ق): نظم درر السمطین (کتاب)|نظم درر السمطین.[43]
  23. ہیثمی (م۸۰۷ ق): مجمع الزوائد.[44]
  24. ابن حجر عسقلانی(م۸۵۲ ق): الاصابہ.[45]
  25. ابن دمشقی (م۸۷۱ ق): جواہر المطالب.[46]
  26. صالحی شامی (م۹۴۲ ق) : سبل الہدی و الرشاد.[47]
  27. سلیمان بن ابراہیم قندوزی (م۱۲۹۴ ق):ینابیع المودة.[48]
  28. صفوری شافعی: نزہۃ المجالس و منتخب النفائس.[49]

شہادت

شہادت کی تفصیل

بعض منابع حضرت علی سے بیعت لینے کے لئے حضرت فاطمہ کے گھر پر حملے کے وقت محسن کی شہادت سمجھتے ہیں۔ محمد بن عبدالکریم شہرستانی (م ۵۴۸ق) اپنی کتاب الملل و النحل میں معتزلہ کے ایک بڑے عالم ابراہیم بن سیار نظام (م۲۳۰ ق) سے نقل کرتا ہے کہ اس دن فاطمہ کے پہلو میں ضرب لگنے سے محسن کا سقط ہوا :

ضرب بطن فاطمه یوم البیعه حتی القت الجنین من بطنها وکان یصیح احرقوا دارها بمن فیها[50]
(علی سے) بیعت لینے کے دن انہوں نے فاطمہ کے شکم پر ایسی ضرب لگائی کہ اسکا بچہ سقط ہو گیا اور وہ کہہ رہا تھا اس گھر میں جو کوئی بھی ہو تم اس گھر آگ کو جلا دو۔
ابراہیم بن یسار نظام کو اس عقیدے اور بعض دوسرے عقائد کی بنا کر کافر ٹھہرایا گیا ہے ۔[51]

اسی طرح ابن ابی الحدید نیز اپنے استاد ابوجعفر نقیب کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں علی سے جبری بیعت لینے کے واقعے میں محسن کے سقط ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔.[52]

اس بنا پر محسن کے سقط کا واقعہ حضرت ابو بکر کے طرفداروں کی علی سے جبری بیعت لینے کے موقع پر ہوا ۔ لہذا محسن کا سقط رحلت رسول خدا کے بعد کا ہے ۔

تاریخ شہادت

محسن کی شہادت کی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہے لیکن تاریخی روایات کی چھان بین سے ایک نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ رسول اللہ کی رحلت کے ایک مہینے بعد رونما ہوا ہے ۔اس وجہ سے مشہور یہ ہے کہ رسول اللہ کی رحلت کے چند روز بعد حضرت علی کے گھر پر ہجوم کے دوران یہ رونما ہوا اور اس محسن کی وفات کے واقعہ کا رسول خدا کی حیات طیبہ میں رونما ہونا صحیح نہیں ہے ۔ تاریخی روایات میں حضرت فاطمہ کے گھر کے گھیراؤ اور ہجوم کا واقعہ پیش آنے کی وجہ سے یہ اشتباہ پیدا ہے ۔پہلی دفعہ حضرت فاطمہ کے گھر پر دھاوا بولنے کے وقت محسن کا سقط جنین نہیں ہوا۔بعض کا خیال ہے کہ حضرت فاطمہ کے گھر پر پہلے ہجوم کے موقع پر انکے گھر کو جلایا گیا اور محسن کا سقط جنین ہوا اور یہ رسول اللہ کے وصال کے بعد کا ہے ۔

ایران میں ایام محسنیہ کے نام سے ربیع الاول کے اوائل میں منائے جانے والے ایام عزا ان تاریخی روایات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ اگرچہ حضرت فاطمہ کی (حضرت علی حمایت کی خاطر) اجتماعی اور سیاسی کوششیں کہ جو انکی جسمانی صحت و سلامتی کی بیانگر ہیں اور اسی طرح اسامہ بن زید کے لشکر کی واپسی کے واقعات اور اس گھر پر حملے سے ارتباط جیسے واقعات اس موضوع کے اثبات کے دلائل میں سے ہیں ۔

محل دفن

پہلے اور ابتدائی تاریخی منابع میں کسی جگہ محسن کے مقام دفن کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے ۔صرف ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت علی(ع) نے حضرت فاطمہ کی خادمہ فضہ سے فرمایا کہ محسن کے جسد کو اپنے گھر میں دفنا دو۔[53]

عذابِ قاتل

ابن قولویہ اپنی کتاب کامل الزیارات میں ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس کے مطابق قیامت کے روز خاندان رسول خدا میں سے سب سے پہلے محسن کا واقعہ خدا کے سامنے پیش ہو گا اور اسکے قاتل کا حساب لیا جائے گا آخر کار اسے سزا دی جائے گی پھر اسکے بعد قنفذ کے حساب کی باری آئے گی۔[54]

حوالہ جات

  1. کلینی، کافی، ج۶، ص۱۸؛ ارشاد فی معرفہ حجج اللہ علی العباد، ج۱، ص۳۵۵
  2. ابن حزم، ج۱۶، ص۳۷؛ابن حجر، الاصابہ، ج۲، ص۲۴۴؛ ابو الفداء، ج۱، ص۲۵۲؛ قندوزی، ج۲، ص۶۷
  3. ابن دمشقی، ج۲، ص۱۲۱؛ ابن کثیر، ج۷، ص۳۶۷
  4. طبری، ج۴، ص۱۱۸؛ ابن اثیر، ج۳، ص۳۹۷
  5. ابن قتیبہ، ایضا، ص۲۱۱
  6. ابن قتیبہ،۲۱۰؛ طبری، ذخائر العقبی، ص۵۵
  7. بلاذری، ج۲، ص۴۱۱
  8. سبط بن الجوزی، ص۵۷
  9. شامی، ج۱، ص۵۰؛ ابن صباغ، الفصول المہمہ ص۱۲۵.
  10. ابن حزم، ایضا، ص۱۶
  11. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج ۲، ص۲۱۳
  12. مسعودی، مروج الذہب، ج ۳، ص۶۳
  13. کوفی،مناقب امیر المؤمنین، ص۲۲۱ و ص۲۵۳
  14. خصیبی،الہدایہ الکبری ص۳۹۲ و ص۴۱۷
  15. قاضی نعمان،دعائم الاسلام، ج ۳، ص۸۸
  16. شیخ مفید, الارشاد، ج ۱، ص۳۵۴ -۳۵۵
  17. المجدی،المجدی فی انساب الطالبین، ص۱۲
  18. طبرسی،اعلام الوری باعلام الہدی، ج۱، ص۳۹۵
  19. ابن شہر آشوب،مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۱۳۳
  20. کشف الغمہ فی معرفہ الأئمہ، ج۲، ص۶۷
  21. أحمد بن حنبل، مسند، ج۱، ص۹۸
  22. بخاری،الأدب المفرد، ص۱۷۷
  23. ابن قتیبہ،المعارف، ص۲۱۱
  24. بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۴۱۱، ج۳، ص۳۶۱
  25. دولابی، الذریۃ الطاہره، ص۶۱-۶۲
  26. طبری ، تاریخ طبری، ج۴، ص۱۱۸
  27. ابن حبان بستی (م ۳۵۴ق)،کتاب الثقات، ج۲، ص۱۴۲
  28. حاکم نیشاپوری،المستدرک علی الصحیحین، ج ص۱۶۵ و ۱۶۸
  29. ابن حزم،جمہرہ انساب العرب،ص ۱۶.
  30. بیہقی،السنن الکبری، ج۶، ص۱۶۶، ج۷، ص۶۳
  31. ابن عبد البر،الاستیعاب‌ فی‌ معرفۃ الاصحاب‌، ج۴، ص۴۴۸
  32. شہرستانی، الملل والنحل، ج۱، ص۷۷
  33. ابن عساکر، ترجمۃ الإمام الحسن بن علی بن أبی طالب علیہما السلام من تاریخ مدینہ مشق. ص۱۶
  34. ابن عساکر، مدینۃ دمشق، ص۲۸، ۲۹
  35. ابن اثیر, اسد الغابہ، ج۴، ص۳۰۸
  36. ابن اثیر، الکامل، ج۳، ص۳۹۷
  37. سبط بن جوزی، تذکرة الخواص، ص۵۷
  38. طبری، احمد بن عبد الله، ذخائر العقبی، ص۱۱۹
  39. ابو الفداء، المختصر فی اخبار البشر، ج۱، ص۲۵۲
  40. نویری، احمد بن شہاب، نہایہ الارب(فارسی)، ج۵، ۲۵۷–۲۵۸
  41. ذہبی،سیر اعلام النبلاء، ج۳، ص۴۲۵
  42. ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج۷، ص۳۶۷.
  43. زرندی حنفی مدنی، نظم درر السمطین، ص۳۷
  44. ہیثمی،مجمع الزوائد، ج ۸، ص۵۲
  45. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۶، ص۱۹۱
  46. ابن دمشقی،جواہر الطالب، ج۲، ص۱۲۱
  47. شامی،سبل الہدی و الرشاد ج ۶، ص۳۵۸، ج۱۱، ص۵۰، ۵۵
  48. قندوزی،ینابیع المودۃ ج۲، ص۶۷، ۱۴۲
  49. صفوری ،نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس، ج ۲ ص ۱۷۷
  50. شہرستانی،الملل و النحل، ج۱، ص۵۷-۵۸
  51. شہرستانی،الملل والنحل، ج۱، ص۵۷–۵۸
  52. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۴، ص۱۹۲–۱۹۳
  53. سبزواری، ملااسماعیل، جامع النورین، ص۲۰۶
  54. ابن قولویہ، کامل الزیارات، النص، ص۳۳۴


مآخذ

  • ابن ابی الحدید(م۶۵۶ق), شرح نہج البلاغہ، تحقیق حمحد ابوالفضل ابراہیم، قاہره، ط۲,‌دار احیاء الکتب العربیہ, قاہره, ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م افست قم ۱۴۰۴ق.
  • ابن اثیر, عز الدین علی بن ابی الکرم (م۶۳۰ق)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، تہران، اسماعیلیان, بی‌تا.
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر-‌دار بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • ابن حبان بستی (م ۳۵۴ق)، کتاب الثقات، چاپ أول، بیروت، مؤسسۃ الکتب الثقافیہ، (مجلس دائرة المعارف العثمانیہ. بحیدر آباد الدکن الہند)، ۱۳۹۳ق.
  • ابن حجر، احمد بن علی العسقلانی (م۸۵۲ق)، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق، الشیخ عادل احمد عبد الموجودالشیخ علی محمد معوض, بیروت، ط۱، دارالکتب العلمیہ, ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م.
  • ابن حزم، ابومحمد علی بن احمد بن حزم الاندلسی (م۴۵۶)، جمہرة انساب العرب، تحقیق لجنہ من العلماء، ط ۱، بیروت،‌ دار الکتب العلملیہ، ۱۴۰۳ ق/۱۹۸۳ م.
  • ابن دمشقی، شمس الدین أبی البرکات محمد بن أحمد الدمشقی الباعونی الشافعی (م ۸۷۱ ه)، جواهر المطالب فی مناقب الإمام علی بن أبی طالب علیہ السلام، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، قم، مجمع إحیاء الثقافہ الاسلامیہ، الطبعہ الأولی، ۱۴۱۵ق.
  • ابن شہر آشوب, محمد بن علی مازندرانی (م۵۸۸ه)، مناقب آل ابی طالب، تحقیق لجنہ من اساتذه النجف, نجف، مکتبہ الحیدریہ,۱۳۷۶ق/۱۹۵۶م.
  • ابن صباغ، علی بن محمد بن أحمد المالکی المکی (م ۸۵۵ هق) الفصول المہمة فی معرفۃ الأئمہ، تحقیق: علیہ سامی الغریری، قم،‌دار الحدیث، ۱۳۷۹ ش، ص۱۲۵.
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبد الله قرطبی، (م۴۶۳ق)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق, الشیخ علی محمد معوض-الشیخ عادل احمد عبد الموجود، ط۱، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ, ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م.
  • ابن عساکر، الحافظ أبی القاسم علی بن الحسن بن ہبة الله الشافعی المعروف بابن عساکر(م ۵۷۱ ق)، ترجمہ الإمام الحسن بن علی بن أبی طالب علیہما السلام من تاریخ مدینۃ دمشق، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، بیروت، موسسہ المحمودی للطباعہ و النشر، الطبعہ الاولی،۱۴۰۰ق/ ۱۹۸۰م.
  • ابن عساکر، ترجمہ الإمام الحسین علیہ السلام من تاریخ مدینہ دمشق، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، قم، مجمع إحیاء الثقافۃ الاسلامیہ، الطبعہ الثانیہ، ۱۴۱۴ ه.
  • ابن قتیبہ، عبد الله بن مسلم دینوری، المعارف، تحقیق, ثروت عکاشہ, ط۱, قم، منشورات الشریف الرضی, ۱۴۱۵ ق/۱۳۷۳ ش.
  • ابن کثیر، ابوالفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی(م۷۷۴ق), تحقیق, علی شیری, البدایہ والنہایہ، ط۱, بیروت،‌دار احیاء التراث العربی, ۱۴۰۸ق.
  • ابوالفداء، اسماعیل بن عباد، المختصر فی اخبار البشر.
  • أحمد بن حنبل، مسند و بہامشہ منتخب کنز العمال فی سنن الأقوال والافعال، بیروت،‌دار صادر، بی‌تا.
  • اربلی، ابو الحسن علی بن عیسی بن أبی الفتح الأربلی (م ۶۹۳ ه)، کشف الغمہ فی معرفہ الأئمہ، بیروت،‌دار الأضواء، ط ۲، ۱۴۰۵ ه/ ۱۹۸۵ م،
  • بخاری، امام محمد بن إسماعیل، (م ۲۵۶ ه(، الأدب المفرد، بیروت، مؤسسہ الکتب الثقافیہ، الطبعہ الأولی، ۱۴۰۶ ه - ۱۹۸۶ م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق, سہیل زکار و ریاض زرکلی, ط ۱, بیروت،‌دار الفکر, ۱۴۱۷ ق/۱۹۹۶م.
  • بیہقی, احمد بن الحسین بن علی,(م۴۵۸ق), السنن الکبری، بیروت،‌دار الفکر, بی‌تا.
  • خصیبی، أبی عبد الله الحسین بن حمدان (م۳۳۴ هق)، الہدایہ الکبری، بیروت، مؤسسہ البلاغ للطباعہ والنشر والتوزیع، لبنان. الطبعہ الرابعہ، ۱۴۱۱ ه - ۱۹۹۱ م، ص۳۹۲ و ص۴۱۷.
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن عثمان(م ۷۴۸ق)، سیر اعلام النبلاء، تحقیق, شعیب الارنووط-ابراہیم الزبیق,ط۹, بیروت، موسسہ الرسالہ, ۱۴۱۳ ق.
  • دولابی، ابوبشر احمد بن حماد(م۳۱۰), الذریۃ الطاہره، تحقیق,سعد المبارک حسن, ط۱, کویت،‌دار السلفیہ, ۱۴۰۷ق، ص۶۱ -۶۲.
  • زرندی، جمال الدین محمد بن یوسف بن الحسن بن محمد الزرندی الحنفی المدنی (م ۷۵۰ق)، نظم درر السمطین فی فضائل المصطفی والمرتضی والبتول والسبطین، بی‌جا، الطبعۃ الأولی، ۱۳۷۷ ه - ۱۹۵۸ م.
  • سبط بن جوزی، تذکرة الخواص.
  • سبزواری،ملااسماعیل، جامع النورین، تہران، علمیہ اسلامیہ، بی‌تا، ص ۲۰۶.
  • سید مرتضی، الشافي في الإمامہ، شريف مرتضى‏، مؤسسہ الصادق ع‏، تہران‏، 1410 ق‏، چاپ دوم‏، تحقيق و تعليق از سيد عبد الزہراء حسينى‏.
  • شیخ طوسی، تلخيص الشافي‏، انتشارات المحبين‏، قم‏، 1382 ش‏، چاپ اول‏، ملاحظات مقدمہ و تحقيق از حسين بحر العلوم‏.
  • صفوری شافعی، عبد الرحمن بن عبد السلام(۸۹۴ق)،نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس، المطبعہ الکاستلیہ، مصر، ۱۲۸۳ق.
  • شامی، محمد بن یوسف صالحی(م۹۴۲ق), سبل الہدی والرشاد فی سیره خیر العباد، تحقیق, الشیخ عادل احمد عبد الموجود, بیروت، ط۱,‌دار الکتب العلمیہ, ۱۴۱۴ق، ج ۶، ص۳۵۸ و ج ۱۱، ص۵۰ و ص۵۵.
  • شہرستانی، أبی الفتح محمد بن عبد الکریم بن أبی بکر أحمد (م ۴۷۹ - ۵۴۸)، الملل والنحل، تحقیق: محمد سید گیلانی، بیروت،‌دار المعرفہ، بی‌تا.
  • شیخ مفید, محمدبن‌نعمان, (م ۴۱۳ق)، الارشاد، تحقیق, موسسہ آل‌البیت لتحقیق‌التراث, قم، ط ۱, دارالمفید, قم بی‌تا.
  • طبرسی, الفضل بن الحسن(م۵۴۸ ه), اعلام الوری باعلام الہدی، تحقیق, موسسہ آل البیت لاحیاء التراث,قم، ط۱,موسسہ آل البیت, ۱۴۱۷ق.
  • طبری، محمد بن جریر (م ۳۱۰)، تاریخ الرسل والامم والملوک، تحقیق : مراجعة وتصحیح وضبط : نخبة من العلماء الأجلاء، الطبعه الرابعہ، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۳ - ۱۹۸۳ م،قوبلت هذه الطبعة علی النسخة المطبوعة بمطبعة "بریل" بمدینة لندن فی سنہ ۱۸۷۹ م).
  • طبری، محمدبن جریر(م قرن ۴)، دلائل الامامہ، تحقیق قسم الدراسات الإسلامیہ - مؤسسہ البعثہ، قم، مؤسسہ البعثہ، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، احمد بن عبد اللہ(م ۶۹۴ق)، ذخائر العقبی، قاہره، مکتبہ القدسی لصاحبہا حسام الدین القدسی، عن نسخہ دار الکتب المصریہ، ونسخہ الخزانہ التیموریہ، تہران، انتشارات جہان، ۱۳۵۶.
  • علوی, علی بن محمد العلوی العمری النسابہ(مق ۵), المجدی فی انساب الطالبیین، تحقیق, احمد مہدوی دامغانی, قم، ط۱, مکتبہ المرعشی, ۱۴۰۹ق.
  • قاضی نعمان, ابوحنیفه نعمان بن محمد التمیمی المغربی(م۳۶۳ق), شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار، تحقیق, السید محمد الحسینی الجلالی, قم، ط۲, موسسہ النشر الاسلامی,۱۴۱۴ق، ج ۳، ص۸۸.
  • قندوزی، الشیخ سلیمان بن إبراہیم الحنفی (۱۲۲۰ - ۱۲۹۴ ه)، ینابیع المودة لذوی القربی، تحقیق: سید علی جمال أشرف الحسینی، تہران،‌دار الأسوة للطباعہ والنشر، الطبعہ الأولی، ۱۴۱۶ ه. ق.
  • کوفی، محمد بن سلیمان الکوفی القاضی، مناقب الامام أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب علیہ السلام، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی، قم، مجمع احیاء الثقافہ الاسلامیہ، الطبعہ الأولی، محرم الحرام ۱۴۱۲ ق.
  • مسعودی, علی بن الحسین(م۳۴۶) مروج الذہب و معادن الجوہر، قم، ط۲,‌دار الہجره, ۱۳۶۳ ش/۱۹۶۵ م.
  • نویری، احمد بن شہاب، نهایۃ الارب(فارسی)، ج ۵، ۲۵۷ – ۲۵۸.
  • نیشابوری، محمد بن محمد حاکم (م۴۰۵ق), المستدرک علی الصحیحین، تحقیق, یوسف المرعشلی, بیروت،‌دار المعرفہ, ۱۴۰۶ق.
  • ہلالی، سلیم‌بن قیس، کتاب سلیم‌بن قیس الہلالی، تحقیق محمدباقر انصاری، قم، ہادی چاپ اول، ۱۴۰۵ق.
  • ہیثمی،الحافظ نور الدین علی بن أبی بکر (م ۸۰۷ ق)، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، بیروت،‌دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۸ ه. - ۱۹۸۸ م.
  • یعقوبی، احمد بن واضح(م۲۸۲), تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌دار صادر, بی‌تا.
  • یوسفی غروی، محمدہادی، موسوعہ التاریخ الاسلامی، قم، مجمع الفکر الاسلامی، ۱۴۲۹ق.