مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β


ملا اصغر علی جعفر (1936۔2000 ع)، ملا اصغر کے نام سے مشہور، شیعہ اثنا عشری خوجہ ورڈ فیڈریشن کے سابق صدر اور عالمی اہل بیت اسمبلی کی مجلس اعلی کے سابق رکن تھے۔ وہ شیعہ اثنا عشری خوجہ شخصیات میں سے اور سید محسن حکیم، سید ابو القاسم خوئی اور سید علی حسینی سیستانی جیسے مراجع تقلید کے نمائندے تھے۔ ان کے آثار میں قوانین اسلامی نامی کتاب جو آیت اللہ سیستانی کے فتاوی کا انگریزی ترجمہ ہے، محفوظ ہے۔ مارج 2000 ع میں ان کی وفات ہوئی اور وہ لندن میں خوجہ شیعہ اثنا عشری قبرستان میں دفن ہیں۔

ملا اصغر
ملا اصغر
کوائف
مکمل نام ملا اصغر علی جعفر
تاریخ ولادت 1936 ع
آبائی شہر ممباسا، کنیا
تاریخ وفات 2000 ع
مدفن قبرستان خوجہ شیعہ اثنا عشری، لندن
علمی معلومات
تالیفات روزه، نماز جماعت، چھوٹے مروارید، فقہ و فقہا، سبحان الله؛ قرآن میں عجائب خلقت، قوانین اسلامی آیت الله سیستانی کے فتاوی کا انگریزی ترجمہ، ترجمہ الاعمال۔
خدمات
سیاسی شیعہ خوجہ اثنا عشری جماعت ورڈ فیڈریشن کے رئیس، عضو مجمع جہانی اسلامی لندن، سابق عضو مجلس اعلی عالمی اہل بیت اسمبلی، نماینده مراجع تقلید: سید محسن حکیم، سید ابو القاسم خوئی و سید علی سیستانی، شیعہ خوجہ اثنا عشری جماعت افریقا فیڈریشن کے صدر۔

فہرست

سوانح حیات

ملا اصغر 1936 ع میں ممباسا (کنیا) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ملا محمد جعفر شیعہ مبلغ تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد وہ میڈیکل (طبابت چشم) کی تعلیم کے لئے ہندوستان چلے گئے۔ والد کے انتقال کے بعد وہ ممباسا، اروشا، نیروبی اور ناکارو جیسے شہروں میں چشمے کے کام میں مشغول ہو گئے۔[1]

ملا اصغر نے 1960 ع کی دہائی کے آخر میں برطانیہ مہاجرت کی اور لندن میں قیام کیا۔ وہ اردو، فارسی، سواحیلی، انگریزی اور گجراتی زبانوں پر تسلط رکھتے تھے اور لندن میں نماز جمعہ کی امامت کے علاوہ وہ حسینیہ حجت میں انگریزی و گجراتی زبان میں تقریر کیا کرتے تھے۔[2] وہ ایران و عراق کے مراجع تقلید کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے۔ 1982 ع میں عراق کے سفر میں انہیں حکومت کی طرف سے گرفتار کیا گیا۔ 1370 ش میں آیت اللہ خامنہ ای کے حکم کے مطابق انہیں عالمی اہل بیت اسمبلی کی مجلس اعلی کا عضو مقرر کیا گیا۔[3]

مارج 2000 ع میں لندن میں ان کی وفات ہوئی اور خوجہ اثنا عشری شیعہ قبرستان میں انہیں دفن کیا گیا۔ خوجہ ورڈ فیڈریشن نے ان کے انتقال پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کے نام سے ایک فنڈ کا آغاز کیا جس کا کام افریقا کی غریب مسلم عوام کی مدد کرنا ہے۔[4]

فعالیت

  • خوجہ شیعہ اثنا عشری ورڈ فیڈریشن کی تاسیس میں تعاون۔
  • زنجبار (تنزانیا) سے اخراج کئے گئے خوجوں کے امور کی فراہمی۔
  • 1963 ع میں بعض خوجہ اثنا عشری حضرات کے تعاون سے زنجبار والو کی مدد کے لئے فنڈ کی تاسیس۔
  • خوجہ شیعہ اثنا عشری ورڈ فیڈریشن کے قوانین کی تدوین میں تعاون۔
  • یوگانڈا سے نکالے گئے خوجوں کے لئے انگلینڈ و ۔۔۔ میں سکونت کے لئے حالات کی فراہمی۔
  • ہندوستان و پاکستان کے اداروں کا مالی تعاون۔
  • برمنگھم (برطانیہ) میں میں مدرسہ خوئی کی تاسیس۔
  • لندن کے حسینیہ حجت میں گجراتی و انگریزی میں تقاریر۔
  • رودبار (ایران) میں زلزلہ سے متاثر افراد کی مدد۔[5]

عہدے و مناصب

آثار و تالیفات

حوالہ جات

  1. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ص۱۵۲
  2. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ص۱۵۲.
  3. عرب احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گستره جہان، ص۴۱۰-۴۱۱ پانویس.
  4. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ص۱۵۳؛ عرب احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گستره جہان، ص۴۱۲.
  5. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ص۱۵۳؛ عرب احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گستره جہان، ص۴۰۸-۴۱۲.
  6. روغنی، شیعیان خوجہ در آئینہ تاریخ، ص۱۵۲-۱۵۳؛ عرب احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گستره جہان، ص۴۰۸-۴۱۱.
  7. عرب احمدی، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گستره جہان، ص۴۱۱ پانویس.


مآخذ

  • روغنی، زہرا، شیعیان خوجہ در آینہ تاریخ، پژوہشگاه علوم انسانی و مطالعات فرہنگی، تہران، ۱۳۸۷ش
  • عرب احمدی، امیر بہرام، شیعیان خوجہ اثنا عشری در گستره جہان، موسسہ شیعہ شناسی، قم، ۱۳۸۹ش