مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

آرام گاہ میثم تمار
ذاتی کوائف
مسکن کوفہ
مدفن عراق، کوفہ
دینی خدمات
نمایاں کردار امام علی، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے نمایاں صحابی


میثَم تمّار اَسَدی کوفی، امام علی علیہ السلام کے نامی گرامی صحابی ہیں۔ میثم کی زندگی کی تفصیلات کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ وہ کوفہ میں کھجور فروخت کرتے تھے۔ بہت سی کرامات اور پیشنگوئیاں ان سے منسوب کی گئی ہیں۔ حادثہ عاشورا سے پہلے انہیں ابن زیاد کے حکم پر لٹکا کر شہید کیا گیا۔

فہرست

نسب

وہ عجمی تھے لیکن چونکہ بنی اسد کی ایک خاتون کے غلام تھے، اسی قبیلے سے منسوب کئے گئے ہیں۔[1] بعد میں حضرت علی علیہ السلام نے انہیں اس عورت سے خرید کر آزاد کیا اور جب ان کا نام پوچھا تو انھوں نے عرض کیا: "میرا نام سالم ہے"؛ حضرت علی(ع) نے فرمایا: "پیغمبر اکرم(ص) نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہارے عجمی والدین نے تمہارا نام "میثم" رکھا تھا"، میثم نے تصدیق کردی؛ امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا: "اپنے سابقہ نام کی طرف لوٹو جس سے پیغمبر(ص) نے بھی تمہیں پکارا ہے"، میثم نے قبول کیا اور ان کی کنیت "ابو سالم" ٹھہری۔ ان کی دوسری کنیت "ابو صالح" تھی۔[2]

شغل

میثم بازار کوفہ کھجور فروشی کرتے تھے؛ اسی بنا پر ان کو "تمّار" کا لقب دیا گیا۔[3] ایک روایت کے مطابق وہ "دارالرزق" نامی مقام پر خربوزے فروخت کرتے تھے۔[4]

اصحاب ائمہ کے درمیان میثم کی منزلت

میثم کو پہلے تین ائمۂ شیعہ یعنی امام علی، حسن اور حسین علیہم السلام، کے اصحاب میں گردانا گیا ہے؛[5] تاہم ان کی شہرت زیادہ تر حضرت علی(ع) کی شاگردی کی وجہ سے ہے[6] میثم بہت زیادہ حبدار اہل بیت رسول(ع) تھے۔[7] اہل بیت(ع) بھی دوسری طرف سے ان کی طرف توجہ دیتے تھے۔ ام المؤمنین ام سلمہ کے بقول، رسول اللہ(ص) نے بارہا میثم کو اچھے الفاظ میں یاد کیا ہے اور امیرالمؤمنین(ع) سے ان کی سفارش کی ہے۔[8] میثم کو امام علی(ع) کی خاص توجہ حاصل تھی اور انھوں نے امام(ع) سے بہت سے علوم حاصل کئے۔[9] امام(ع) ان کے ساتھ زیادہ بات چیت کرتے تھے۔[10] آپ(ع) نے میثم کو "اسرارِ وصیت" سمیت بہت سے علوم سکھائے اور انہیں غیبی امور سے آگاہ کیا[11] اور انہیں ان "آزمائے ہوئے مؤمنین" کے گروہ میں قرار دیا جو رسول اللہ(ص) کے اوامر اور اہل بیت علیہم السلام کی احادیث کے ادراک اور تحمل کے سلسلے میں اعلی ترین مقام و منزلت سے بہرہ ور تھے۔[12] ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ میثم روحانی ظرف اور اہلیت کے بلند مراتب پر فائز تھے۔

میثم کا علم غیب

میثم نے معاویہ کی موت کی پیشن گوئی کی[13] اور انھوں نے مکہ کی "جبلہ" نامی خاتون کو امام حسین(ع) کی شہادت کی خبر دی تھی،[14] انھوں نے پیشنگوئی کی تھی کہ اپنے قبیلے کے سربراہ کے ہاتھوں گرفتار ہونگے اور ابن زیاد کے حکم سے مارے جائیں گے[15] نیز انھوں نے پیشنگوئی کی تھی کہ مختار بن ابی عُبَیْدہ ثقفی قیدخانے سے[16] رہا ہونگے۔

ان خصوصیات کی بنا پر میثم تمّار کو امام علی(ع) کے برگزیدہ اصحاب اور جلیل القدر[17] دوستوں اور حواریون[18] کے زمرے میں شمار کیا گیا جاتا ہے؛ حتی کہ بعض روایات میں میثم تمّار کو شُرطۃ الخَمیس کے اراکین میں شمار کیا گیا ہے۔ شرطۃ الخمیس کے اراکین وہ بہادر اور جان نثار افراد تھے جنہوں نے امیرالمؤمنین(ع) کے ساتھ عہد کیا تھا کہ وہ جنگوں میں جان کی بازی لگارنے تک آپ(ع) کا ساتھ دیں گے۔[19]

امام کے ساتھ تعارف کا دور

امیرالمؤمنین(ع) کے زمانے کی جنگوں میں میثم کی شرکت کے بارے میں کوئی روایت نقل نہیں ہوئی ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ امام(ع) کی حکومت کے آخری ایام میں آپ(ع) سے متعارف ہوئے ہیں۔ میثم سے منقولہ روایات کا تعلق بھی امام علی علیہ السلام کی حکومت کے آخری ایام سے ہے؛ منجملہ "الانبار" کے نواحی علاقے "ہیت" پر معاویہ کے گماشتوں کے پر مشتمل روایت جس میں متعدد خواتین اور بچوں کو قتل کیا گیا تھا۔[20]

معاویہ امیرالمؤمنین (ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کو سب و دشنام دیتے میثم کی بھی برائی کرتا تھا اور ان کو گالیاں دیتا تھا۔[21] امام علی(ع) کے بعد میثم امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے وفادار اصحاب میں شمار ہونے لگے۔[22] امام حسین(ع) میثم کو خاص توجہ دیتے تھے اور اور ان کو نیکی کے ساتھ یاد کرتے تھے۔[23] سنہ 60 ہجری میں، امام حسین(ع) کے قیام اور واقعۂ کربلا سے کچھ عرصہ قبل، میثم مکہ مشرف ہوئے اور وہاں امام حسین(ع) سے نہ مل سکے تو ام المؤمنین ام سلمہ سے امام(ع) کا پتہ پوچھا۔ ام سلمہ نے انہیں امام(ع) کے احوال سے آگاہ کیا۔ میثم ـ جو کوفہ کی طرف پلٹ رہے تھے ـ نے ام سلمہ سے کہا: "میرا سلام امام(ع) کو پہنچا دیں اور کہہ دیں کہ میں اللہ کی بارگاہ میں ان کا دیدار کروں گا"۔[24]

امام(ع) کو میثم کی شہادت کی خبر

امام علی(ع) نے میثم کو ان کی شہادت کی کیفیت، ان کے قاتل اور کھجور کے درخت پر ـ جو آپ(ع) نے انہیں دکھا دیا تھا ـ لٹکائے جانے کی خبر، اور بشارت دی تھی کہ ان کے لئے (کوفہ میں یزید کے والی) عبیداللہ بن زیاد کے سامنے مزاحمت کی پاداش، یہ ہوگی کہ "وہ آخرت میں امام(ع) کے ساتھ اعلی رتبے پر فائز ہونگے"۔ کہا جاتا ہے کہ میثم تمّار اسی درخت کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز بجا لاتے تھے اور اس درخت سے گفتگو کرتے تھے[25] میثم تمار اپنی شہادت کی خبر ـ جو انھوں نے امام علی(ع) سے سن رکھی تھی ـ دوسروں کے لئے بھی نقل کرتے تھے۔[26] اسی قسم کی ایک روایت کے مطابق، میثم تمار اور حبیب بن مظاہر نے اپنی شہادت خبر ایک جماعت کے درمیان نقل کی لیکن حاضرین نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کا تمسخر اڑایا۔[27]

گرفتاری اور شہادت

میثم تمّار کی گرفتاری اور شہادت کے سلسلے میں دو روایات نقل ہوئی ہیں:

پہلی روایت

اموی خلیفہ یزید بن معاویہ (دور حکومت سنہ 60 تا 64 ہجری)، جانتا تھا کہ میثم تمّار امیرالمؤمنین(ع) کے سنجیدہ اصحاب اور حامیون میں سے ہیں چنانچہ اس نے کوفہ میں اپنے والی عبیداللہ بن زیاد کو حکم دیا کہ انہیں تختہ دار پر لٹکا دے۔[28] چنانچہ، میثم جو عمرہ بجا لانے کے بعد مکہ سے کوفہ کی جانب آرہے تھے، ابن زیاد کے گماشتوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ قیدخانے میں ان کا سامنا مختار ثقفی سے ہوا جو خود بھی ابن زیاد کے قیدی تھے؛ اور پیشن گوئی کی کہ وہ بہت جلد رہا ہوجائیں گے۔ ابن زیاد نے میثم کی قوم کے عریف (سربراہ) سے کہا تھا کہ "میثم کو اس کی تحویل میں دےدے ورنہ اس کو مار دے گا"۔ ابن زیاد نے بظاہر، اپنی سپاہ کے 100 اس شخص کو دیئے اور انھوں نے قادسیہ[29] کے مقام پر میثم کو گرفتار کیا اور انہیں کوفہ لے گئے؛ اور پھر ابن زیاد کو تختہ دار پر لٹکایا۔[30]

دوسری روایت

دوسری روایت کے مطابق، میثم کوفہ کے بعض تاجروں کی درخواست پر کوفہ کے عامل کی شکایت پہنچانے کی غرض سے، ان کے ہمراہ ابن زیاد کے پاس پہنچے تا کہ ان سے مطالبہ کریں کہ وہ کوفہ کے عامل کو برطرف کر دے۔ میثم نے وہاں بلیغ خطبہ دیا۔ عَمروبن حُرَیث، جو ـ ابن زیاد کی طرف سے کوفہ کا والی، عثمانی مسلک اور دشمن اہل بیت (ع) تھا اور ـ دارالامارہ میں موجود تھا ـ نے میثم پر جھوٹ اور جھوٹوں کی پیروی کا الزام لگایا لیکن میثم نے کہا "میں سچا اور سچے (علی علیہ السلام) کا پیروکار ہوں"۔ ابن زبیر نے میثم کو حکم دیا کہ علی (ع) سے بیزاری کا اظہار اور آپ(ع) کی بدگوئی کریں، اور اس کے بجائے عثمان سے دوستی اور محبت کا اظہار کریں اور ان کا خیر و نیکی سے تذکرہ کریں۔ اس نے میثم کو دھمکی دی کہ اگر انھوں نے اس کے حکم کی تعمیل نہ کی تو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے گا اور انہیں تختہ دار پر لٹکائے گا۔ گوکہ میثم اس موقع پر تقیہ کر سکتے تھے لیکن انھوں نے شہادت کا انتخاب کیا اور کہا: "امام علی(ع) نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ ابن زیاد میرے ساتھ یہی سلوک روا رکھے گا اور ان کی زبان کو بھی منقطع کرے گا"۔ ابن زیاد نے بزعم خود، اس غیبی خبر کو جھٹلانے کی خاطر حکم دیا کہ میثم کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور انہیں عمرو بن حریث کے گھر کے قریب تختہ دار پر لٹکا دیا جائے۔

میثم کی زبان کاٹ دی گئی

میثم نے تختۂ دار پر بلند آواز سے لوگوں کو بلایا اور کہا کہ حضرت علی(ع) کی حیرت انگیز اور چھپی ہوئی حدیثیں سننے کے لئے جمع ہوجائیں۔ انھوں نے بنو امیہ کے فتنوں اور بنو ہاشم کے بعض فضائل بیان کیا۔ عمرو بن حریث نے میثم کی حق بیانی اور عوام کے ازدحام کو دیکھا دیکھا تو عجلت کے ساتھ ابن زیاد کے پاس پہنچا اور اس کو حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ ابن زیاد نے رسوائی کے خوف سے، حکم دیا کہ میثم کے منہ پر لگام باندھی جائے۔ کہا گیا ہے کہ میثم تمّار اسلام میں وہ پہلے شخص تھے جن کے منہ پر لگام باندھی گئی۔[31]

ایک روایت کے مطابق، عمرو بن حریث نے ـ جو لوگوں کے میثم کے کلام کی طرف رجحان اور یزیدی حکومت کے خلاف ان کی شورش سے خوفزدہ تھا ـ ابن زیاد سے درخواست کی کہ میثم کی زبان کٹوا دے۔ ابن زیاد مان گیا اور اپنے ایک محافظ کو ایسا کرنے کے لئے روانہ کیا۔ میثم نے زبان کٹوانے سے پہلے حاضرین کو یادآوری کرادی کہ "امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ابن زیاد میرے ہاتھ پاؤں اور زبان کٹوا دے گا اور ابن زیاد نے کہا تھا کہ وہ میری زبان نہیں کٹوائے گا اور میرے مولا کی پیشنگوئی کو جھٹلا دے گا لیکن وہ اس پیشنگوئی کو نہ جھٹلا سکا۔ مروی ہے کہ میثم تمّار کی زبان کاٹ دی گئی تو کچھ لمحے بعد وہ جام شہادت نوش کرگئے۔[32]

شہادت

ایک روایت کے مطابق میثم کے تختۂ دار پر لٹکائے جانے کے تیسرے روز، ایک خنجر سے ان کے پیٹ یا خاصرہ کو زخمی کیا گیا اور انھوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ اسی دن شام کے وقت ان کے منہ اور ناک سے خون جاری ہوا اور شہید ہوگئے۔[33] البتہ ابن ابی الحدید نے لکھا ہے کہ بنو امیہ کے خلاف اور بنو ہاشم کے حق میں خطاب کرنے کے ایک دن بعد ان کے منہ پر لگام باندھی گئی، ان کے منہ اور ناک سے خون جاری ہوا اور تیسرے روز خنجر کا زخم کھا کر شہید ہوئے۔[34] میثم تمّار کی شہادت 22 ذوالحجہ سنہ 60 ہجری قمری میں، امام حسین(ع) کے عراق میں داخلے سے قبل واقع ہوئی۔[35] ابن زیاد نے ان کے جسم بےجان کی تدفین سے منع کیا تاہم کوفہ کے چند کھجور فروشوں نے رات کی تاریکی میں ان کی میت تختۂ دار سے اتار کر قبیلۂ مراد کی زمینوں میں واقع پانی کی ایک گودال میں سپرد خاک کردی۔[36]

فائل:مقبره میثم تمار.jpg
کوفہ میں میثم تمار کا مقبرہ

آثار

شیعہ کتب و تصانیف کی فہارس نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میثم تمّار نے متعدد علوم میں کتب بھی تالیف کی ہیں۔

تفسیر

میثم تمّار نے کئی موضوعات میں کتب لکھی ہیں جن میں تفسیر بھی شامل ہے۔ وہ علم تفسیر میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے شاگرد تھے۔[37]

مروی ہے کہ ایک دفعہ میثم تمّار نے عبداللہ بن عباس سے مخاطب ہوکر کہا: "مین نے تنزیل قرآن امام علی(ع) سے سیکھی اور امام(ع)نے ہی مجھے قرآن کی تاویل سکھائی"۔

چنانچہ میثم تمّار عمرہ بجا لانے کے لئے حجاز مشرف ہوئے تو ابن عباس سے کہا: "جو چاہیں تفسیر قرآن کے بارے میں مجھ سے پوچھیں"۔ ابن عباس نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور کاغذ اور دوات منگوا کر میثم کے کہے ہوئے الفاظ کو تحریر کیا۔ لیکن جب میثم نے انہیں ابن زیاد کے حکم پر اپنی شہادت کی خبر دی تو ابن عباس ان پر بےاعتماد ہوئے اور گمان کیا کہ گویا انھوں نے یہ خبر کہانت کی رو سے سنائی ہے چنانچہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ جو کچھ انھوں نے ان سے سن کر لکھا ہے، اس کو پھاڑ کر ضائع کرے لیکن میثم نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا اور کہا: "فی الحال ہاتھ روکے رکھیں اور انتظار کریں، اگر ان کی پیشنگوئی نے عملی صورت نہ اپنائی تو متذکرہ تحریر کو تلف کریں"۔ ابن عباس مان گئے اور کچھ ہی عرصے میں مستقبل کے بارے میں میثم تمار کی پیشنگوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔[38]

حدیث

میثم نے بظاہر، حدیث میں بھی ایک کتاب لکھی تھی چنانچہ ان کے فرزندوں نے اس کتاب سے احادیث نقل کی ہیں اور اس کتاب میں منقولہ بعض روایات منابع حدیث میں موجود ہیں۔[39]۔[40] ان روایات میں سے بعض کا تعلق ذیل کے موضوعات سے ہے:

خطابت اور سخنوری

میثم حاضر جواب[42] اور شعلہ بیان اور نڈر خطیب تھے۔ جب انھوں نے بازار کوفہ کے معترضین کے نمائندے کے عنوان سے ابن زیاد کے دربار میں خطا کیا، ابن زیاد ان کی منطق، خطابت، فصاحت اور بلاغت سے حیرت زدہ ہوکر رہ گیا۔[43] امویوں کی حکومت کے خلاف ان کے بلیغ خطبات نے انہیں حکومت کے مخالفین میں ممتاز شخصیت کے طور پر نمایاں کردیا۔

اولاد

صالح، شُعَیب، عِمران اور حمزہ میثم تمّار کے فرزندوں میں سے تھے جنہوں نے اہل بیت(ع) کی ولایت و مصاحبت اور ان کی روایات و احادیث کے ساتھ پرورش پائی۔ ان کے فرزند بھی ائمۂ شیعہ کے اصحاب اور راویوں کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔[44] ان ہی میں سے علی بن اسمعیل بن شعیب بن میثم ہیں جو شیعہ امامیہ کے عظیم ترین متکلمین میں سے ہیں اور کلامی کتب کے اولین مؤلفین میں شمار ہوتے ہیں۔[45]۔[46]

حوالہ جات

  1. کشی، رجال، ص9۔مفید، ارشاد، ج1، ص323۔نجاشی، رجال، ص14۔طوسی، رجال الطوسی، ص81، 224۔
  2. کشی، رجال،ص82۔مفید، ارشاد۔طبرسی، اِعلام الوری باعلام الهدی، ج1، ص341۔عسقلانی، ابن حجر، الاصابة فی تمییز الصحابة، ج6 ص249۔شاذان قمی، الفضائل، ص2-3؛ جنہوں نے ان کی کنیت "ابو جعفر" لکھی ہے۔
  3. ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص329۔
  4. کشی، رجال، ص78۔
  5. طوسی، رجال الطوسی، ص81، 96، 105۔الخوئی، معجم رجال الحدیث، ج20، ص103۔
  6. مفید، الاختصاص، ص3۔
  7. کشی، رجال، ص78۔
  8. ابن حجر عسقلانی، الاصابة فی تمییز الصحابة، ج6 ص250۔
  9. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص213-214 ۔
  10. شاذان قمی، الفضائل، ص103۔
  11. ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج2، ص291۔
  12. عماد الدین طبری، بشارة المصطفی لشیعة المرتضی، ص236-237۔
  13. کشی، رجال، ص80۔
  14. ابن بابویه، ص189-190۔
  15. کشی، رجال، ص81-82۔شریف رضی، خصائص الائمة علیهم السلام، ص54-55۔
  16. مفید، ارشاد، ج1، ص324-325۔ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج2، ص293۔
  17. ابن ندیم، ص223۔طوسی، الفهرست، ص150۔
  18. کشی، رجال، ص9۔مفید، الاختصاص، ص3۔آقا بزرگ طهرانی، ج2، ص18، 164۔
  19. برقی، کتاب الرجال، ص3-4۔شیخ مفید، الاختصاص، ص2-3۔
  20. خصیبی، الهدایة الکبری، ص125۔دیلمی، ارشاد القلوب، ص272-273۔
  21. ابن طاؤس، فرحة الغری فی تعیین قبر امیرالمؤمنین، ص51-52۔
  22. طوسی، رجال الطوسی، ص96، 105۔
  23. کشی، رجال، ص80۔
  24. کشی، رجال، ص80-81۔مفید، ارشاد، ج1، ص324۔ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج2، ص292۔ابن حجر عسقلانی، الاصابة فی تمییز الصحابة، ج6، ص251۔
  25. کشی، رجال، ص83-84۔مفید، ارشاد، ج1، ص323-324۔فتّال نیشابوری، روضة الواعظین، ج2، ص288۔ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج2، ص291-292۔
  26. کشی، رجال، ص81-84۔
  27. کشی، وہی ماخذ، ص78۔
  28. مفید، ارشاد، ج1، ص324-325۔
  29. قادسیہ کوفہ سے 15 فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے، رجوع کریں: یاقوت حموی، فتوح البلدان، ذیل لفظ قادسیہ۔
  30. خصیبی، الهدایة الکبری، ص133۔کشی، رجال، ص82، 84۔ شریف رضی، خصائص الائمة علیهم السلام، ص54-55۔
  31. کلینی، الکافی، ج2، ص220۔کشی، رجال، ص84-87۔شریف رضی، خصائص الائمة علیهم السلام، ص55۔مفید، ارشاد، ج1، ص304، 324-325۔فتال نیشابوری، روضة الواعظین، ج2، ص288-289۔
  32. کشی، رجال، ص87۔
  33. کشی، رجال، ص78، 81۔مفید، ارشاد، ج1، ص325۔ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج2، ص293-294۔
  34. ابن ابی الحدید، وہی ماخذ۔
  35. مفید، ارشاد، وہی ماخذ۔طبرسی، اِعلام الوری باعلام الهدی، ج1، ص343۔
  36. کشی، رجال، ص83۔
  37. آقا بزرگ طهرانی، ج4، ص317۔
  38. کشی، رجال، ص81۔
  39. طوسی، الامالی، ص148۔
  40. غفار، الکلینی والکافی، ص28۔
  41. برقی، المحاسن، ص309-310۔ثقفی، الغارات، ج2، ص413-415۔طوسی، الامالی، ص148، 246، 405-406۔شاذان قمی، الفضائل، ص3-5۔
  42. مفید، ارشاد، ج1، ص324۔
  43. کشی، رجال، ص86۔
  44. کشی، رجال، ص80۔طوسی، رجال الطوسی، ص118، 138، 149، 157، 160، 162، 224-225۔کلینی، الکافی، ج3، ص132-133، ج7، ص186-187، 383، ج8، ص200۔موحد ابطحی، تهذیب المقال فی تنقیح کتاب الرجال، ص208-212۔
  45. ابن ندیم، الفهرست، ص223۔طوسی، الفهرست، ص150۔
  46. ذهبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر والاعلام، 211-220 هجری قمری کے واقعات، ص316۔


مآخذ

  • الشيخ آقا بزرك الطہراني، الذّريعۃ إلى تصانيف الشّيعۃ - الناشر: دار الأضواء، الطبعۃ: 3 تاريخ النشر: 1403ہجری قمری۔
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، 1378-1382ہجری قمری۔
  • محمد بن علی ابن بابویہ، الامالی، قم، 1417ہجری قمری۔
  • احمد ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، دار الكتب العلمیۃ بیروت - لبنان الطبعۃ الاولى 1415ہجری قمری/1995عیسوی۔
  • محمد ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، چاپ محمدحسین دانش آشتیانی و ہاشم رسولی محلاتی، قم، 1379ہجری شمسی۔
  • عبدالکریم ابن طاؤس، فرحۃ الغری فی تعیین قبر امیرالمؤمنین، چاپ تحسین آل شبیب موسوی، قم، 1419ہجری قمری/1998عیسوی۔
  • ابن ندیم، الفہرست۔
  • الاختصاص، منسوب بہ محمد بن محمد مفید، چاپ علی اکبر غفاری، بیروت 1414ہجری قمری/1993عیسوی۔
  • احمد بن محمد برقی، کتاب الرجال، چاپ جلال الدین محدّث ارموی، تہران، 1342ہجری شمسی۔
  • ہمو، کتاب المحاسن، چاپ جلال الدین محدّث ارموی، تہران، 1330ہجری شمسی۔
  • ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، چاپ جلال الدین محدّث ارموی، تہران، 1355ہجری شمسی۔
  • حسین بن حمدان خصیبی، الہدایۃ الکبری، بیروت، 1411ہجری قمری/1991عیسوی۔
  • الخوئی، السید ابو القاسم الموسوی، معجم رجال الحدیث، الطبعۃ الخامسۃ طبعۃ منقحۃ ومزیدۃ السنۃ 1413ہجری قمری/1992عیسوی۔
  • حسن بن محمد دیلمی، ارشاد القلوب، بیروت، 1398ہجری قمری/1978عیسوی۔
  • محمدبن احمد ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر والاعلام، 211-220 ہجری قمری کے واقعات، چاپ عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، 1414ہجری قمری/1993عیسوی۔
  • عبدالرحمن سیوطی، لب اللباب فی تحریرالانساب، بیروت، دارصادر، بی تا۔
  • شاذان قمی، الفضائل، نجف 1381ہجری قمری/ 1962عیسوی۔
  • شریف رضی، خصائص الائمۃ علیہم السلام، چاپ محمدہادی امینی، مشہد، 1406ہجری قمری۔
  • فضل بن حسن طبرسی، اِعلام الوری باعلام الہدی، قم، 1417ہجری قمری۔
  • محمد بن حسن طوسی، الامالی، قم، 1414ہجری قمری۔
  • محمد بن حسن طوسی، رجال الطوسی، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم، 1415ہجری قمری۔
  • محمد بن حسن طوسی، الفہرست، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم، 1417ہجری قمری۔
  • عماد الدین طبری، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم، 1420ہجری قمری۔
  • عبدالرسول غفار، الکلینی و الکافی، قم، 1416ہجری قمری۔
  • محمد فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، چاپ محمدمہدی خرسان، نجف، 1386ہجری قمری۔
  • محمد بن عمر کشّی، اختیارمعرفۃ الرجال المعروف بہ رجال الکشّی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد، 1348ہجری شمسی۔
  • کلینی، الکافی۔
  • محمد بن محمد مفید، الارشاد، قم، 1413ہجری قمری۔
  • محمدعلی موحد ابطحی، تہذیب المقال فی تنقیح کتاب الرجال، قم، 1417ہجری قمری۔
  • احمد بن علی نجاشی، فہرست اسماء مصنّفی الشیعۃ المشتہر بہ رجال النجاشی، قم، 1416ہجری قمری۔
  • الیعقوبی، أحمد بن أبی یعقوب بن جعفر بن وہب ابن واضح، تاریخ الیعقوبی، مؤسسہ نشر فرہنگ اہل بیت(ع) - قم (و) دار صادر بیروت۔

بیرونی روابط