مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

پیامبر اکرم(ص) نے فرمایا

إِذَا قَامَ الْعَبْدُ مِنْ لَذِيذِ مَضْجَعِهِ وَالنُّعَاسُ فِي عَيْنَيْهِ لِيُرْضِيَ رَبَّهُ بِصَلَاةِ لَيْلِهِ بَاهَى اللَّهُ بِهِ الْمَلَائِكَةَ وَقَالَ أَ مَا تَرَوْنَ عَبْدِي هَذَا قَدْ قَامَ مِنْ لَذِيذِ مَضْجَعِهِ لِصَلَاةٍ لَمْ أَفْرِضْهَا عَلَيْهِ اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ(ترجمہ: جب انسان اپنے پرلطف بستر سے اٹھتا ہے جبکہ اس کی آنکھیں خواب آلود ہیں، اس لئے کہ اپنے تہجد [نماز شب] سے اپنے پروردگار کو خوشنود کرے، خداوند متعال فرشتوں کے آگے اس پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کیا تم میرے بندے کو نہیں دیکھ رہے ہو جو اپنے بسترِ لطیف سے اٹھا ہے ایسی نماز کے لئے جو میں نے اس پر واجب نہیں کی ہے، گواہ رہو کہ میں نے اس کو بخش دیا۔)

وسائل الشیعۃ، ج‏8، ص،157

نماز شب اہم مستحب نمازوں میں سے ہے جو 11 رکعتوں پر مشتمل ہے۔ اس کا وقت آدھی رات سے طلوع فجر تک ہے۔ یہ نماز آیت کریمہ وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ(ترجمہ: اور رات کے ایک حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہیں) کے تحت پیغمبر اکرمؐ پر واجب جبکہ دوسرے مؤمنین پر مستحب ہے۔ احادیث میں اس کی بہت زیادہ اہمیت بیان ہوئی ہے اور اسے مؤمن کا شرف، دن میں انجام پانے والے گناہوں کا کفارہ، عذاب قبر سے نجات کا ذریعہ اور روزی کا ضامن قرار دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وقت گزر جانے کی صورت میں اس کی قضا بجانے لانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

اگرچہ نماز شب گیارہ رکعتیں ہیں لیکن ان سب کا بجا لانا ضروری ہے بلکہ اس سے کمتر بھی بجا لا سکتے ہیں اس صورت میں آخری تین رکعتیں یعنی شفع کی دو رکعت اور وتر کی ایک رکعت پڑھنا زیادہ فضلیت رکھتا ہے۔

فہرست

قرآن کی روشنی میں

سورہ اسراء کی آیت 79 میں یہ نماز رسول اکرم(ص) پر واجب جانی گئی ہے اور اس کو مقام محمود تک پہنچنے کی تمہید قرار دیا گیا ہے:

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُوداً(ترجمہ: اور رات کا کچھ حصہ نماز تہجد پڑھئے، جو کہ آپ کے لئے ایک مختص حکم ہے، کہ آپ کو آپ کا رب ایک لائق تعریف موقف (مقام شفاعت) پر کھڑا کرے۔)"

اگرچہ لفظ تہجد ـ جس سے مراد رات کے وقت کی نماز و عبادت ہے ـ قرآن کریم میں ایک بار آیا ہے لیکن مختلف سورتوں میں شب بیداری اور (سحر) راتوں کے پچھلے پہر کے استغفار پر تاکید اور تصریح ہوئی ہے۔ سحر کی مغفرت طلبی پرہیزگاروں کی خصوصیت[1] اور شب بیداری خدائے رحمان کے بندوں[2] اور حقیقی مؤمنین[3] کی صفت گردانی گئی ہے اور یہ دونوں خصوصیات بھی اسی تناظر میں دیکھی گئی ہیں۔

نماز تہجد اور شب بیداری کے اجر و ثواب انسانی پیمانوں سے متعین کرنا ممکن نہیں ہے:

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(ترجمہ: تو کوئی آدمی نہیں جانتا جو ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے صلے میں اس کے جو وہ اعمال کرتے تھے۔)

سورہ مزمل کی دوسری آیت "قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلاً(ترجمہ: رات نماز میں گزاریے مگر کچھ تھوڑا حصہ۔)" میں، ابتدائی طور پر رسول اکرم(ص) اور آپ(ص) کی پیروی میں تمام مؤمنین کو تہجد کی دعوت دی گئی ہے۔

احادیث کی روشنی میں

احادیث میں نماز تہجد کے قیام پر بہت تاکید ہوئی ہے۔ پیغمبر(ص) نے امام علی(ع) سے وصیت کرتے ہوئے تین مرتبہ نماز شب پر تاکید فرما‏ئی:

وَعَلَيكَ بِصَلوةِ اللَّيلِ وَعَلَيكَ بِصَلوةِ اللَّیلِ وَعَلَيكَ بِصَلوةِ اللَّيلِ(ترجمہ: تم پر لازم ہے نماز شب ادا کرنا، تم پر لازم ہے نماز شب ادا کرنا، تم پر لازم ہے نماز شب ادا کرنا۔[4])

اور ایک موقع پر آپ(ص) نے تمام مسلمانوں سے فرمایا:

عَلَيكُمْ بِصَلاةِ اللَّيْلِ وَلَوْرَكْعَةً واحِدَةً، فَاِنَّ صَلاةَ اللَّیْلِ مِنْهاةٌ عَنِ اْلاِثْمِ، وَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ تَبارَكَ وَتَعالی، وَتَدْفَعُ عَنْ اَهْلِها حَرَّ النَّارِ يَوْمَ القِيامَةِ(ترجمہ: تم پر لازم ہے نماز شب ادا کرنا، خواہ وہ ایک رکعت ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ نماز شب انسان کو گناہ سے باز رکھتی ہے اور انسان کی نسبت اللہ کے غضب کو بجھا دیتی ہے اور قیامت میں آگ کی جلن کو دور کردیتی ہے۔[5])

یہ اہمیت یہاں تک ہے کہ تلقین ہوئی ہے کہ اگر انسان بوقت تہجد، اس کے قیام سے محروم ہوجائے تو اس کی قضا بجا لائے۔ رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:

اِنَّ اللّهَ يُباهِي بِالْعَـبْدِ یقْضي صَلاةَ اللَّيلِ بِالنَّهارِ، يقُولُ، مَلائِكَتي عَبْدي يقْضي مالَمْ اَفْـتَرِضْهُ عَـلَيهِ، اِشْهَدُوا اَنّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ(ترجمہ: یقینا اللہ اس بندے پر فخر کرتا ہے جو نماز شب کی قضا دن کو بجا لاتا ہے، اور ارشاد فرماتا ہے: "اے میرے فرشتو! میرا بندہ ایسے عمل کی قضا بجا لا رہا ہے جو میں نے اس پر واجب نہیں کیا، گواہ رہو کہ یقینا میں نے اس کو بخش دیا۔[6])

اور اس کے ترک کرنے والوں کو، گھاٹے میں ہونے والوں کے طور پر، متعارف کرایا گیا ہے؛ جیسا کہ امام صادق(ع) نے سلیمان الدیلمی سے مخاطب ہوکر فرمایا ہے:

يا سُلَيمانُ لاتَدَعْ قِيامَ اللَّيلِ فَاِنَّ الْمَغْبُونَ مَنْ حُرِمَ قِيامَ اللَّيلِ(ترجمہ: اے سلیمان! راتوں کو نماز کے لئے کھڑا ہونا، مت چھوڑنا، کیونکہ ہارا ہوا مغبون وہ شخص ہے جو شب بیداری سے محروم ہو۔[7])

حتی کہ مسافر کو بھی نماز شب کی تلقین ہے:

ابراہیم بن سیابہ کہتے ہیں: میرے خاندان میں سے ایک فرد نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو خط لکھا اور مسافر کی نماز تہجد کے بارے میں دریافت کیا تو امام(ع) نے جوابا تحریر فرمایا:

فَضْلُ صَلاةِ الْمُسافِرِ اَوَّلَ اللَّيلِ كَفَضْلِ صَلاةِ الْمُقِيمِ فِي الْحَضَرِ مِنْ آخِرِ اللَّيلِ(ترجمہ: اولِ شب کو مسافر کی نماز شب کی فضیلت غیر مسافر شخص کی اے سلیمان! راتوں کو نماز کے لئے کھڑا ہونا، مت چھوڑنا، کیونکہ ہارا ہوا مغبون وہ شخص ہے جو شب بیداری سے محروم ہو۔[8])

اہل سنت کی بعض حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز شب ظہور اسلام کے اوائل میں واجب تھی اور بعد میں مستحب ہوچکی ہے۔[9]

گناہ، نماز شب کے ترک ہوجانے کا سبب ہے:
ایک شخص امیرالمؤمنین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "اے امیرالمؤمنین! میں نماز شب سے محروم ہوا؛ تو آپ(ع) نے فرمایا:
أَنْتَ رَجُلٌ قَدْ قَيدَتْكَ ذُنُوبُكَ(ترجمہ: تم وہ مرد ہو کہ تمہیں تیرے گناہوں نے جکڑ رکھا ہے۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag)

بسیارخوری بھی نماز شک سے محرومیت کے عوامل میں سے ہے:
قطب راوندی امیرالمؤمنین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے فرمایا:
تین چیزوں کے ہوتے ہوئے تین چیزوں کی توقع مت رکھنا: بسیاری خوری کے ساتھ شب بیداری کی، رات کی تمام گھڑیوں میں سوکر رہنے کی صورت میں چہرے کی روشنی کی اور فسق و گناہ میں ڈوبے لوگوں کے ساتھ معاشرت کرکے دنیا کے فتنوں سے بچنے کی۔[10]

نماز شب کے آثار و برکات، احادیث کی روشنی میں

  • آخر شب کی دو رکعت نماز پوری دنیا سے زیادہ محبوب[11]
  • آخرت میں انسان کی زینت؛[12]
  • اللہ کی دوستی کا سبب؛[13]
  • بافضیلت ترین مستحب نماز؛[14]
  • مؤمن کے لئے باعث فخر واعزاز؛[15]
  • مؤمن کی شرافت کا معیار؛[16]
  • فرشتوں پر اللہ کا فخر و مباہات؛[17]
  • حقیقی شیعہ کی علامت؛[18]
  • بیماری کا دور ہوجانا؛[19]
  • اللہ کی رحمت و خوشنودی کا سبب؛[20]
  • چہرے کا حسن؛[21]
  • حُسنِ اخلاق؛[22]
  • رزق میں اضافہ؛[23]
  • ادائے قرض؛[24]
  • غمّ و ہمّ کا دور ہوجانا؛[25]
  • بصارت کی روشنی؛[26]
  • رزق کی ضمانت؛[27]
  • عذاب قبر سے امان؛[28]
  • طولِ عمر؛[29]
  • گھر کی نورانیت؛[30]
  • اللہ کی خوشنودی؛[31]
  • ملائکہ کی دوستی؛[32]
  • علم و معرفت؛[33]
  • دشمن کے مقابلے میں ہتھیار؛[34]
  • دعا کی استجابت؛[35]
  • دوسرے اعمال کی قبولیت؛[36]
  • عزرائیل کے ہاں شفاعت کرنے والی؛[37]
  • قبر کی نورانیت؛[38]
  • قبر میں مونس و ہم نشیں؛[39]
  • تمام زمانوں میں صالحین کی سنت؛[40]
  • گناہوں سے باز رکھنے والی؛[41]
  • گناہوں سے مغفرت؛[42]
  • [اور نماز شب] زمین والوں سے بلاؤں کو دفع کرتی ہے۔[43]

کیفیت

نماز شب کی رکعتوں کی تعداد 11 ہے اور اس ترتیب سے ادا کی جاتی ہے:

  1. آٹھ رکعتیں، چار دو رکعتی نمازوں کی صورت میں، نافلۂ شب کی نیت سے؛
  2. دو رکعت نماز شفع کی نیت سے؛ پہلی رکعت میں سورہ حمد اور الناس، اور دوسری رکعت میں حمد اور فلق، پڑھی جائے۔
  3. ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے؛[44] بہتر ہے کہ سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید اور ایک ایک مرتبہ فلق اور الناس، پڑھی جائیں۔ اس نماز میں قنوت کو طویل کرنے پر زیادہ تاکید ہوئی ہے۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag

مستحب ہے کہ وتر کی قنوت میں 40 مؤمنین کے لئے دعا یا طلب مغفرت کی جائے، 70 مرتبہ ذکر "اَسْتَغْفِرُاللّهَ رَبّی وَاَتُوبُ اِلَیهِ"، سات مرتبہ "(هذا مَقامُ الْعائِذِ بِكَ مِنَ النّارِ(ترجمہ: یہ اس شخص کا مقام [کھڑے ہونے کی جگہ] ہے جو تیری آگ سے تیری بارگاہ میں پناہ لایا ہے)"، 300 مرتبہ " اَلعَفو" (ان سے کم تعداد میں پڑھنا بھی جائز ہے)، اور پھر یہ دعا پڑھے: "رَبِّ اغْفِرْلی وَارْحَمْنی وَتُبْ عَلی اِنَّكَ اَنْتَ التَّوّابُ الْغَفُورُ الرَّحیمُ(ترجمہ: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ قبول کر، یقینا تو بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے" "هذا مَقامُ الْعائِذِ بِكَ مِنَ النّارِ(ترجمہ: یہ اس شخص کا مقام [کھڑے ہونے کی جگہ] ہے جو تیری آگ سے تیری بارگاہ میں پناہ لایا ہے)"

  • نماز شب کا سب سے زیادہ با فضیلت حصہ، نماز وتر اور نماز شفع ہے اور نماز شفع، نماز وتر سے افضل ہے۔
  • نماز شب کا اصل وقت نصف شب سے فجر صادق تک ہے اور سحر کا وقت دوسرے مواقع سے بہتر ہے اور رات کا پورا تیسرا [پچھلا] پہر، سحر سمجھا جاتا ہے اور اس سے زيادہ افضل یہ ہے کہ نماز شب کو فجر کے قریب قریب ادا کیا جائے۔[45]

احکام

شَرَفُ الْمُؤْمِنِ صَلاتُهُ بِاللَّیلِ، وَعِزُّهُ کفُّ الاَذی عَنِ النّاسِ(ترجمہ: صاحب ایمان شخص کی شرافت کا دارومدار، "نماز شب پر اس کے ایمان"، پر ہے اور اس کی عزت و عظمت کا معیار لوگوں کو اذیت و آزار پہنچانے سے پرہیز ہے)

الخصال، ج‏1، ص: 6
  1. نماز شب کے سلسلے میں نماز شَفْع و وَتر پر، اور وقت کی قلت کی صورت میں نماز وتر پر اکتفا کیا جاسکتا ہے۔
  2. نماز شب کا وقت شرعی نصف شب سے فجر صادق تک ہے اور سحر کا وقت دوسرے اوقات سے زیادہ بہتر ہے (اور زیادہ فضیلت رکھتا ہے)، اور رات کا پورا تیسرا پہر سحر سحر، سمجھا جاتا ہے، اور افضل یہ ہے کہ نماز شب کو سحر کے قریب پڑھا جائے۔
  3. جائز ہے کہ انسان نماز شب کو بیٹھ کر پڑھے تو بہتر ہے کہ بیٹھ کر پڑھی جانی والی ہر دو رکعت نماز کو ایستادہ پڑھے جالی والی ایک رکعت، قرار دیا جائے۔
  4. مسافر، نیز وہ شخص، جس یے لئے نصف شب کے بعد نافلۂ شب پڑھنا دشوار ہے، اولِ شب، نماز شب ادا کرسکتا ہے۔
  5. نماز شب کی رکعتوں میں ]حمد کے بعد دوسری سورت پڑھنا لازمی نہیں ہے اور نماز گزار سورہ حمد پر اکتفا کرسکتا ہے [اگرچہ حمد کے بعد سورت پڑھنے کی فضیلت زیادہ ہے]، نیز دوسری رکعت میں قنوت پڑھنا مستحب ہے اور نماز قنوت کے بغیر بھی پڑھنا جائز ہے۔
  6. نماز وتر، یک رکعتی نماز ہے اور اس کو قنوت کے بغیر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔
  7. ضروری نہیں ہے کہ گیارہ رکعتوں کو یکےبعد دیگرے، اور بیک وقت، پڑھا جائے بلکہ اگر تہجد کو رات کے مختلف اوقات میں الگ الگ پڑھا جائے تو بہتر ہے۔
  8. مستحب نماز [منجملہ نماز شب] میں کمی یا بیشی کے لئے سجدہ سہو بجا لانا ضروری نہیں ہے۔
  9. اگر نمازگزار نماز شب میں مصروف ہو اور اذان کا وقت آن پہنچے، اگر اس نے نماز شب کی چار رکعتیں پڑھ لی ہوں، باقیماندہ نماز کو مختصر کرکے پڑھ سکتا ہے، لیکن اگر اس نے نماز شب کی چار رکعتیں مکمل نہ کی ہوں، تو جو دو رکعتیں اس نے پڑھ لیں اسی پر اکتفا کرے، اس کے بعد نافلۂ صبح پڑھ لے اور دو رکعت نماز صبح ادا کرے اور بعدازاں باقیماندہ نماز شب کو قضا کرے۔
  10. نماز شب کی قضا، اس کے قبل از وقت پڑھنے سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے؛ لہذا اگر اس کو یقین ہو کہ قضائے نماز شب اس سے فوت نہ ہوگی، تو قضا کو ترجیح حاصل ہے۔[46]

حوالہ جات

  1. سورہ آل عمران، آیات 16-17۔
  2. سورہ فرقان، آیت 64۔
  3. سورہ سجدہ، آیت 16۔
  4. کلینی، کافی، ج8، ص79۔
  5. متقی ہندی، کنز العمال، ج7، ص791، ح21431۔
  6. مجلسی، بحار الأنوار، ج84، ص202۔
  7. مجلسی، وہی ماخذ، ج84، 146۔
  8. مجلسی، وہی ماخذ، ج84، 210۔
  9. طبری، جامع البیان، ج29، ص 163۔
  10. نوري طبرسي، مستدرک الوسائل، ج6، ص340۔
  11. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: اَلرَّکعَتانِ فِی جَوْفِ اللَّیلِ اَحَبُّ اِلَی مِنَ الدُّنْیا وَما فِیها؛ ترجمہ: آدھی رات میں دو رکعت نماز پوری دنیا سے، اور ہر اس چیز سے جو اس میں موجود ہے، زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج84، ص148۔
  12. امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:اَلمالُ وَآلْبَنُونُ زینَةُ الْحَیوةِ الدُّنْیا وَثَمانُ رَکعاتٍ مِنْ آخِرِ اللَّیلِ وَالْوَتْرُ زینَةُ الآخِرَةِ، وَقَدْ یجْمَعُهَا اللّهُ لاِقْوامٍ، ترجمہ: مال و دولت اور اولاد، زندگی کی زینت ہیں اور آخر شب آٹھ رکعت نماز شب اور ایک رکعت نماز وتر آخرت کی زینت ہے؛ اور اللہ تعالی ان زیورات کو بعض لوگوں کے لئے جمع کرتا ہے مجلسی، وہی ماخذ، ج84، ص150۔
  13. جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول خدا(ص) کو فرماتے ہوئے، سنا: مَا اتَّخَذَّ اللّهُ اِبْراهِیمَ خَلیلاً اِلاّ لاِطْعامِهِ الطَّعامَ، وَصَلاْتِهِ بِاللَّیلِ وَالنَّاسُ نِیامٌ ؛ ترجمہ: خداوند متعال نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست اور خلیل نہیں بنایا مگر دو کاموں کی بنا پر: 1۔ لوگوں کو کھلانا پلانا، 2۔ نماز شب بجا لانے جبکہ دوسرے سورہے ہوتے تھے مجلسی، وہی ماخذ، ج84، ص144۔
  14. اَفْضَلُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ الْمَکتُوبَةِ الصَّلاةُ فِی جَوْفِ الَلَّیلِ؛ ترجمہ: واجب نمازوں کے بعد بہترین نماز، گہری راتوں میں نماز پڑھنا ہے ۔متقی ہندی، کنز العمال، ج7، 784، ح21397۔
  15. امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:ثَلاثَةٌ هُنَّ فَخْرُ المُؤْمِنِ وَزینَةٌ فِی الدُّنْیا وَاْلآخِرَةَ: الَصَّلاةُ فِی آخِرِ اللَّیلِ، وَ یأْسُهُ مِمّا فِی اَیدی النّاسِ، وَوِلایةُ اْلاِمامِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّهُ عَلَیهِ وَآلِهِ؛ ترجمہ: تین چیزیں دنیا اور آخرت میں مؤمن کے لئے باعث فخر و اعزاز اور زینت و آرائش کا سبب ہیں: 1۔ آخر شب میں نماز شب بجا لانا، 2۔ ان چیزوں سے امیدیں منقطع کرنا، جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ 3۔ اہل بیت میں سے امام معصوم کی ولایت قبول کرنا۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج84، ص140۔
  16. امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: شَرَفُ الْمُؤْمِنِ صَلاتُهُ بِاللَّیلِ، وَعِزُّهُ کفُّ الاَذی عَنِ النّاسِ؛ ترجمہ: صاحب ایمان شخص کی شرافت کا دارومدار، نماز شب پر اس کے ایمان، پر ہے اور اس کی عزت و عظمت کا معیار لوگوں کو اذیت و آزار پہنچانے سے پرہیز ہے۔ مجلسی، وہی ماخذ، ص141۔
  17. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: إِذَا قَامَ الْعَبْدُ مِنْ لَذِيذِ مَضْجَعِهِ وَالنُّعَاسُ فِي عَيْنَيْهِ لِيُرْضِيَ رَبَّهُ بِصَلَاةِ لَيْلِهِ بَاهَى اللَّهُ بِهِ الْمَلَائِكَةَ وَقَالَ أَ مَا تَرَوْنَ عَبْدِي هَذَا قَدْ قَامَ مِنْ لَذِيذِ مَضْجَعِهِ لِصَلَاةٍ لَمْ أَفْرِضْهَا عَلَيْهِ اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ؛ترجمہ: جب انسان اپنے پرلطف بستر سے اٹھتا ہے جبکہ اس کی آنکھیں خواب آلود ہیں، اس لئے کہ اپنے تہجد [نماز شب] سے اپنے پروردگار کو خوشنود کرے، خداوند متعال فرشتوں کے آگے اس پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کیا تم میرے بندے کو نہیں دیکھ رہے ہو جو اپنے بسترِ لطیف سے اٹھا ہے ایسی نماز کے لئے جو میں نے اس پر واجب نہیں کی ہے، گواہ رہو کہ میں نے اس کو بخش دیا۔ مجلسی، وہی ماخذ، وہی ماخذ، ج84، ص156۔
  18. امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: لَیسَ مِنْ شیعَتِنا مَنْ لَمْ یصَلِّ صَلاةَ اللَّیلِ؛ ترجمہ: جو نماز شب بجا نہیں لاتا وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے۔ مجلسی، وہی ماخذ، ج84، ص162۔
  19. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: عَلَیکمْ بِصَلاةِ اللَّیلِ فَاِنَّهُ دَأْبُ الصّالِحینَ قَبْلَكُمْ، وَاِنَّ قِیامَ اللَّیلِ قُرْبٌ اِلَی اللّهِ، وَمِنْهاةٌ عَنِ اْلاِثْمِ، وَتَكفیرُ السَّیئاتِ وَمَطْرَدَةُ الدّاءِ فِی الْجَسَدِ؛ترجمہ: تم پر لازم ہے نماز شب بجا لانا، کیونکہ تم سے پہلے کے صالحین کی روش ہے، اور شب بیداری انسان کو اللہ کا قرب عطا کرتی ہے اور گناہ سے باز رکھتی ہے اور گناہوں کو چھپا دیتی ہے، اور بیماریوں کو بدن سے زائل کرتی ہے۔ مجلسی، وہی ماخذ، ج84، ص122۔
  20. امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: قیامُ اللَّیلِ مُصِحَّةٌ لِلْبَدَنِ، وَمَرْضاةٌ لِلرِّبِّ عَزَّوَجَلَّ، وَتَعَرُّضٌ لِلرَّحْمَةِ وَتَمَسُّكً بِاَخْلاقِ النَّبِیینَ؛ ترجمہ: شب بیداری جسم کی سلامتی، پروردگار عزّوجلّ کی خوشنودی، اللہ کی رحمت کے معرض میں قرار پانے، اور انبیاء کے اخلاق سے تمسک کا سبب ہے۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج84، ص144۔
  21. امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:صَلاةُ اللَّیلِ تُحسِنُ الْوَجْهَ، وَتُحْسِنُ الْخُلْقَ، وَتُطِیبُ الرّیحَ، وَتُدِرُّ الرِّزْقَ، وَتَقْضِی الدَّینَ، وَتَذْهَبُ بالْهَمِّ، وَتَجْلُو الْبَصَرَ؛ ترجمہ: نماز شب انسان کو خوبصورت، خوش اخلاق اور خوشبو بناتی ہے اور رزق میں اضافہ، قرضوں کو ادا، غموں کو زائل اور بصارت کو روشن اور نورانی کردیتی ہے۔ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج5، ص272۔
  22. حر عاملی، وہی ماخذ۔
  23. حر عاملی، وہی ماخذ۔
  24. حر عاملی، وہی ماخذ۔
  25. حر عاملی، وہی ماخذ۔
  26. حر عاملی، وہی ماخذ۔
  27. امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:كَذِبَ مَنْ زَعَمَ اَنَّهُ یصَلّی صَلاةَ اللَّیلِ وَهُوَ یجُوعُ اِنَّ صَلاةَ اللَّیلِ تَضْمِنُ رِزْقَ النَّهارَ؛ ترجمہ: جھوٹ بولتا ہے وہ شخص جو کہہ دے کہ "میں نماز شب ادا کرتا ہوں اور بھوکا رہتا ہوں" کیونکہ نماز شب دن کے رزق کی ضمانت دیتی ہے۔ بحارالأنوار، ج84، ص154۔
  28. امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: عَلَیكُمْ بِصَلاةِ اللَّیلِ فَما مِنْ عَبْدٍ یقُومُ آخِرَ اللَّیلِ فَیصَلِّی ثَمانَ رَكَعاتٍ وَرَكعَتَی الشَّفْعِ وَرَكعَةَ الْوَتْرِ وَاسْتَغْفَرَ اللّهَ فی قُنُوتِهِ سَبْعینَ مَرَّةً اِلاّ، اُجیرُ مِنْ عَذابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذابِ النّارِ، وَمُدَّلَهُ فِی عُمْرِهِ، وَوُسِّعَ عَلَیهِ فِی مَعِیشَتِهِ، ثُمَّ قالَ علیه السلام: اِنَّ الْبَیوتَ الَّتی یصَلّی فِیها بِاللَّیلِ یزْهَرُنُورُها لاِهْلِ السَّماءِ كَما یزْهَرُ نُورُ الْكَواكِبِ لاِهْلِ اْلاَرْضِ؛ ترجمہ: تم پر لازم ہے نماز شب بجا لانا، کوئی بھی بندہ نہیں جو آخر شب جاگ اٹھے اور آٹھ رکعت نماز شب، دو رکعت نماز شفع اور ایک رکعت نماز وتر ادا کرے، اور قنوت میں 70 مرتبہ استغفار کرے، مگر یہ کہ خداوند متعال اسے عذاب قبر اور دوزخ کی آگ سے پناہ دے گا، اس کو طول عمر عطا کرے گا اور اس کی زندگی اور رزق میں فراخی قرار دے گا ترجمہ: بعدازاں امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جن گھروں میں نماز شب پڑھی جاتی ہے، ان کا نور آسمان والوں کے لئے چمکتا دمکتا ہے جس طرح کہ ستارے زمین والوں کے لئے چمکتے دمکتے ہیں۔ مجلسی، وہی ماخذ۔
  29. مجلسی، وہی ماخذ۔
  30. مجلسی، وہی ماخذ۔
  31. رسول اللہ|رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: صَلاةُ اللَّیلِ مَرْضاةُ الرّبِّ، وَحُبُّ الْمَلائِكَةِ، وَسُنَّةُ اْلاَنْبِیاء، وَنُورُ الْمَعْرِفَةِ، وَاَصْلُ الاْیمانِ، وَراحَةُ اْلاَبْدانِ، وَكَراهِیةُ الشَّیطانِ، وَسِلاحٌ عَلَی الاْعْداءِ، وَ اِجابَةٌ لِلدُّعاءِ، وَقَبُولُ اْلاَعْمالِ، وَبَرَكَةٌ فی الرِّزْقِ، وَشفیعٌ بَینَ صاحِبِها وَبَینَ مَلَكِ الْمَوْتِ، وَسِراجٌ فی قَبْرِهِ وَفِر‌اش تَحْتَ جَنْبِهِ، وَجَوابٌ مَعَ مُنْكرٍ وَنَكِیرٍ، وَمُونِسٌ وَزائِرٌ فِی قَبْرِهِ اِلی یوْمِ الْقِیامَةِ؛ ترجمہ: نماز شب رب کی خوشنودی، فرشتوں کی دوستی کا سبب، پیغمبروں کی روش، معرفت کی روشنی، ایمان کی جڑ، جسمانی سکون کا موجب، شیطان کی ناپسندیدگی کا سبب، دشمن کے مقابلے میں ہتھیار، دعا کی استجابت سبب، اعمال کی قبولیت اور رزق میں برکت کا موجب ہے؛ اور نماز شب نمازگزار اور ملک الموت کے درمیان واسطہ، قبر کا چراغ، قبر میں اس کے بدن کے نیچے بچھونا، بن جاتی ہے؛ اور نماز شب منکر و نکیر کا جواب، قبر کی تنہائیوں میں مونس و ہم نشیں ہے، اور قیامت تک اس کی زیارت کے لئے آتی ہے۔مجلسی، بحارالأنوار، وہی ماخذ۔
  32. مجلسی، وہی ماخذ۔
  33. مجلسی، وہی ماخذ۔
  34. مجلسی، وہی ماخذ۔
  35. مجلسی، وہی ماخذ۔
  36. مجلسی، وہی ماخذ۔
  37. مجلسی، وہی ماخذ۔
  38. مجلسی، وہی ماخذ۔
  39. مجلسی، وہی ماخذ۔
  40. مجلسی، وہی ماخذ، ص122۔
  41. مجلسی، وہی ماخذ۔
  42. مجلسی، وہی ماخذ۔
  43. امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: اِنَّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ اِذا اَرادَ اَنْ یصیبَ اَهْلَ اْلاَرْضِ بِعَذابٍ قالَ لَوْلاَ الذَّینَ یتَحابُّونَ بِجَلالی، وَیعْمُرُونَ مَساجِدی وَیسْتَغْفِرُونَ بِاْلاَسْحارِ لاَنْزَلْتُ بِهِمْ عَذابی. مجلسی، وہی ماخذ؛ ترجمہ: جب اللہ تعالی ارادہ کرتا ہے کہ رو‌ئے زمین پر بسنے والے لوگوں کو عذاب سے دوچار کردے، تو ارشاد فرماتا ہے: اگر نہ ہوتے وہ لوگ جو میرے جلال و جبروت کی خاطر، مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میری مسجدوں کو آباد رکھتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں تو میں اپنا عذاب زمینیوں پر نازل کردیتا۔مجلسی، وہی ماخذ، ص150۔
  44. قمی، مفاتیح الجنان، کتاب باقیات الصالحات، کیفیت نماز شب۔
  45. قمی، عباس، ‌مفاتیح الجنان، صص869-872۔
  46. عرفانیان، میرزاغلامرضا، "صلاۃ اللیل"، صص 125-126


مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • ابن بابویہ قمی، محمد بن علی، «التوحید»، محقق: ہاشم حسینی طہرانی، جماعۃ المدرسین فی الحوزۃ العلمیۃ فی قم المقدسۃ، 1398ھ ق، قم۔
  • ابن بابویہ، الخصال۔
  • امام خمینی، «توضیح المسائل»۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، «وسائل الشیعۃ»، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام، 1409ھ ق، قم۔
  • طبری، محمد بن جرير، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، تحقیق: خليل الميس، دار الفكر، بيروت لبنان، 1415ھ ق / 1995ع‍۔
  • فضل بن الحسن الطبرسی، مجمع البیان، انتشارات ناصر خسرو، 1372ھ ش، تہران۔
  • عرفانیان، میرزا غلامرضا، «صلاۃ اللیل، فضلہا و وقتہا و عددہا و کیفیتہا و الخحصویات الراجعۃ الیہا من الکتاب و السنۃ»، مطبعۃ الادب، 1401ھ ق، النجف الاشرف۔
  • قمی،عباس، «مفاتیح الجنان»، نشر مشعر، چاپ اول، 1378ھ ش، تہران۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب‌، کافی،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، 1407ھ ق۔
  • متقي ہندي، علي بن حسام الدين، كنز العمال في سنين الاقوال والافعال، تحقیق: بكري حياني، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت، 1409ھ ق / 1989ع‍۔
  • محمدباقر مجلسی، «بحارالانوار»،‌ دار احیاء التراث العربی، 1403ھ ق، بیروت۔
  • ملکی تبریزی، میرزا جواد، «اسرار الصلوۃ»، ترجمہ: رضا رجب‌زادہ، انتشارات پیام آزادی، چاپ ہفتم، 1376ھ ش، تہران۔
  • نوري طبرسي، ميرزا حسين، مستدرك الوسائل، مؤسسۃ آل البيت عليہم السلام لاحياء التراث، بیروت 1408ھ ق / 1987ع‍۔

متعلقہ صفحات