مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

نماز وتیرہ

(نماز وتر سے رجوع مکرر)

نماز وتیرہ نماز عشاء کی دو رکعت پر مشتمل نافلہ نماز جس کو نماز عشا کے بعد بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ وتیرہ کے نام سے شیعہ فقہا کے درمیان نماز عشا کے بعد پڑھے جانے والی نافلہ نماز مراد ہے، جبکہ اردو زبان میں وتیرہ کیلئے وتر استعمال ہوتا ہے۔ فقہا کے درمیان نماز وتیرہ کو بیٹھ کر پڑھنا مشہور ہے لیکن بعض کھڑے ہو کر پڑھنے کی فضیلت کے قائل ہیں۔ دینی متون نے عشاء کے بعد پڑھے جانے والے وتیرہ کو نماز شب میں پڑھے جانے والے وتر کی جگہ قرار دیا ہے تا کہ اگر کوئی نماز شب نہ پڑھ سکے تو اس کے ثواب سے محروم نہ ہو جائے.

فہرست

وتیرہ کا معنی

شیعہ فقہ میں وتیرہ کا معنی "چھوٹا وتر" ہے جبکہ وتر نماز شب کی آخری ایک رکعت ہے۔ امام صادق(ع) کی نظر میں نماز وتیرہ نماز تہجد کے ایک وتر کی منزلت رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر نمازی نماز عشا کی نفل کا وتیرہ ادا کرنے کے بعد دنیا سے چل بسے تو اسے نماز وتر پڑھنے کا ثواب ملے گا. امام صادق(ع) نے اس کے بعد فرمایا حضور اکرم(ص) یہ نماز نہیں پڑھتے تھے کیونکہ آپ(ص) کو وحی کے ذریعے معلوم ہوتا تھا کہ کیا آج رات دنیا سے کوچ کریں گے یا نہیں لیکن دوسروں کو اس نماز کے پڑھنے کی نصیحت فرماتے تھے. [1]

نماز وتیرہ کا طریقہ

نماز عشاء کے بعد بیٹھ کر دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے. بہتر یہ ہے کہ ان دو رکعتوں میں قرآن کی سو آیات پڑھی جائیں. شیخ عباس قمی کے مطابق مستحب یہ ہے کہ سو آیات کی جگہ ایک رکعت میں سورہ واقعہ اور دوسری رکعت میں سورہ توحید پڑھی جائیں. [2] امام باقر(ع) نے ایک اور روایت میں فرمایا ہے: "جو شخص رات کو سورہ ملک کی تلاوت کرے گا گویا اس نے زیادہ اور پاکیزہ قرائت پر عمل انجام دیا ہے اور یہ شخص غافلین سے نہیں ہو گا اور میں بھی نماز عشاء کے بعد ان دونوں کو بیٹھ کر (نماز عشاء کے نوافل میں) پڑھتا ہوں. [3]

کھڑے ہو کر نماز پڑھنا

شیخ حر عاملی نے وسائل الشیعہ میں فرمایا ہے: نماز وتیرہ کا کھڑے ہو کر پڑھنا بیٹھ کر پڑھنے سے بہتر ہے. [4] انہوں نے کھڑے ہو کر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں بھی لکھا ہے اور کہا ہے کہ نماز وتیرہ سفر کے دوران بھی ساقط نہیں ہے [5] لیکن شیخ طوسی نے نماز وتیرہ کو سفر کے دوران ساقط کہا ہے. [6] امام صادق(ع) کی روایت میں آیا ہے کہ: میرے والد بزرگوار اس نماز کو بیٹھ کر پڑھتے تھے اور میں ان دو رکعت کو کھڑا ہو کر پڑھتا ہوں. [7] مجلسی نے اس کے ذیل میں لکھا ہے کہ چونکہ امام باقر(ع) کا بدن بھاری تھی اور قیام آپ کے لئے مشکل تھا اس لئے نماز وتیرہ کو بیٹھ کر پڑھتے تھے. [8] سید مرتضی کے نزدیک نمازی دو زانو یا چار زانو بیٹھنے میں مختار ہے.[9]

نماز کے بعد دعا

شیخ طوسی نماز وتیرہ کی تشریح کرنے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ بیان کرنے کے بعد ایک دعا ذکر کرتے ہیں کہ جس کا پڑھنا مستحب ہے: [10]

أَمْسَینا وَ أَمْسَی الْحَمْدُ وَالْعَظَمَةُ وَالْكِبْریآءِ وَ الْجَبَرُوتُ وَالْحِلْمُ وَ الْعِلْمُ وَ الْجَلالُ وَ الْبَهآءُ وَ التَّقْدیسُ وَ التَّعْظیمُ وَ التَّسْبیحُ وَ التَّكبیرُ وَالتَّهْلیلُ وَ الَّتمْجیدُ [وَ التَّحْمیدُ]وَالسَّماحُ وَ الْجُودُ وَ الْكَرَمُ وَ الَْمجْدُ وَ الْمَنُّ وَ الْحَمْدُ وَ الْفَضْلُ وَ السَّعَةُ، وَالْحَوْلُ وَالْقُوَّةُ، وَ الْفَتْقُ وَ الرَّتْقُ، وَ اللَّیلُ وَالنَّهارُ، وَ الظُّلُماتُ وَالنُّورُ، وَالدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ، وَالْخَلْقُ جَمیعاً وَالاَْمْرُ كُلُّهُ، وَ ماسَمَّیتُ وَ لَمْ أُسَمِّ، وَ ما عَلِمْتُ وَ ما لَمْ أَعْلَمْ، وَ ما كانَ وَ ما هُوَ كآئِنٌ، للَّهِ رَبِّ الْعالَمینَ. أَلْحَمْدُللَّهِ الَّذی ذَهَبَ بِالنَّهارِ وَ جَآءِ بِاللَّیلِ وَ نَحْنُ فی نِعْمَةٍ وَ عافِیةٍ وَ فَضْلٍ عَظیمٍ، أَلْحَمْدُللَّهِ الَّذی لَهُ ما سَكَنَ فِی اللَّیلِ وَ النَّهارِ، وَ هُوَ السَّمیعُ الْعَلیمُ، أَلْحَمْدُللَّهِ الَّذی یولِجَ اللَّیلَ فِی النَّهارِ، وَ یولِجَ النَّهارَ فِی اللَّیلِ، وَ یخْرِجُ الْحَی مِنَ الْمَیتِ، وَ یخْرِجُ الْمَیتَ مِنَ الْحَی، وَ یرْزُقُ مَنْ یشآءُ بِغَیرِ حِسابٍ، وَ هُوَ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ. أَللّهُمَّ، بِكَ نُمْسی، وَ بِكَ نُصْبِحُ، وَبِكَ نَحیی، وَ بِكَ نَموُتُ، وَ إِلَیكَ الْمَصیرُ، أَللّهُمَّ، إِنّی أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَذِلَّ أَوْ أُذَلَّ، أَوْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلِمَ، أَوْ أجْهَلَ أَوْ یجْهَلَ عَلَی، یا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ وَالاَْبْصارِ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ [یا: آلِهِ‌]، وَ ثَبِّتْ قَلْبی عَلی طاعَتِكَ وَ طاعَةِ رَسُولِكَ - عَلَیهِ وَ آلِهِ السَّلامُ، أَللّهُمَّ، لاتُزِعْ قُلُوبَنا بَعْدَ إِذْ هَدَیتَنا، وَهَبْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهّابُ. أَللّهُمَّ، إِنَّ لَكَ عَدُوّاً لایأْلُونی خَبالاً، حَریصاً عَلی غَیی [یا: عَینی‌]، بَصیراً بِعُیوبی، یرانی هُوَ وَ قَبیلُهُ مِنْ حَیثُ لاأَراهُمْ. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، [وَ أَعِذْ مِنْهُ أَنْفُسَنا وَ أَهالینا وَ أَوْلادَنا وَ إِخْوانَنا وَ ما أَغْلَقْتُ عَلَیهِ أَبْوابُنا وَ أَحاطَتْ عَلَیهِ دُورُنا. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ‌]، وَ حَرِّمْنا عَلَیهِ كَما حَرَّمْتَ عَلَیهِ الْجَنَّةَ، وَ باعِدْ بَینَنا وَ بَینَهُ كَما باعَدْتَ بَینَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ بَینَ السَّمآءِ وَ الاَْرْضِ وَ أَبْعَدَ مِنْ ذلِكَ. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَعِذْنی مِنْهُ وَ مِنْ هَمْزِهِ وَ لَمْزِهِ وَ فِتْنَتِهِ وَ دَواهیهِ وَ غَوائِلِهِ وَ سِحْرِهِ وَ نَفْثِهِ [یا: وَ نَفْثَتِهِ، یا: فِتْنَتِهِ‌]. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ أَعِذْنی مِنْهُ فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ، وَ فِی الَْمحْیا وَ الْمَماتِ. بِاللَّهِ أَدْفَعُ ما أُطیقُ وَما لاأُطیقُ، وَ مِنَ اللَّهِ الْقُوَّةُ وَ التَّوْفیقُ، یا مِنْ تَیسیرُ الْعَسیرُ عَلَیهِ سَهْلٌ یسیرٌ، [صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وِ آلِهِ، وَ یسِّرِ لی ما أَخافُ عُسْرَهُ، فَإِنَّ تَیسیرَ الْعَسیرِ عَلَیكَ یسیرٌ.] أَللّهُمَّ، یا رَبَّ الاَْرْبابِ، وَیا مُعْتِقَ الرِّقابِ، أَنْتَ اللَّهُ الَّذی لایزُولُ وَلایبیدُ، وَلاتُغَیرُكَ الدُّهُورُ وَ الاَْزْمانُ، بَدَتْ قُدْرَتُكَ یا إِلهی، وَ لَمْ تُبْدِ هَیئِةٌ [یا: هَیئَتُهُ، یا: هَیئَتُكَ‌] فَشَبَّهُوكَ یا سَیدی، وَ اتَّخَذُوا بَعْضَ آیاتِكَ [یا: أَسْمآئِكَ، یا: أَنْبِیآئِكَ‌] أَرْباباً، ثُمَّ لَمْ یعْرِفُوك یا إِلهی، وَ أَنَا یا إِلهی، بَری‌ءٌ إِلَیكَ فی هذِهِ اللَّیلَةِ مِنَ الَّذینَ بِالشُّبُهاتِ طَلَبُوكَ، وَ بَری‌ءٌ إِلَیكَ مِنَ الَّذینَ شَبَّهُوكَ وَ جَهِلُوكَ یا إِلهی، أَنَا بَری‌ءٌ مِنَ الَّذین بِصِفاتِ عِبادِكَ وَ صَفُوكَ، بَلْ أَنَا بَری‌ءٌ مِنَ الَّذینَ جَحَدُوكَ وَ لَمْ یعْبُدُوكَ، وَ أَنَا بَری‌ءٌ مِنَ الَّذینَ فی أَفْعالِهِمْ جَوَّرُوكَ، یا إِلهی، أَنَا بَری‌ءٌ مِنَ الَّذینَ بِقَبآئِجِ أَفْعالِهِمْ نَحَلُوكَ، وَ أَنَا بَری‌ءٌ مِنَ الَّذینَ فیما نَزَّهُوا عَنْهُ آبائَهُمْ وَأُمُّهاتِهِمْ ما نَزَّهُوكَ، وَ أَبْرَأُ إِلَیكَ مِنَ الَّذینَ فی مُخالَفَةِ نَبِیكَ وَ آلِهِ (علیهم‌السلام) خالَفُوكَ، أَنَا بَری‌ءٌ مِنَ الَّذینَ فی مُحارَبَةِ أَوْلِیآئِكَ حارَبُوكَ، وَ أَنَا بَری‌ءٌ إِلَیكَ مِنَ الَّذینَ فی مُعانَدَةِ آلِ نَبِیكَ (علیهم‌السلام) عانَدُوكَ. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اجْعَلْنی مِنَ الَّذینَ [عَرَفُوكَ فَوَحَّدُوكَ، وَاجْعَلْنی مِنَ الَّذینَ‌] لَمْ یجَوِّرُوكَ وَ عَنْ ذلِكَ نَزَّهُوكَ، وَاجْعَلْنی مِنَ الَّذینَ فی طاعَةِ أَوْلِیآئِكَ وَ أَصْفِیآئِكَ أَطاعُوكَ، وَاجْعَلْنی مِنَ الَّذین فی خَلَواتِهِمْ وَ فی آنآءِ اللَّیلِ وَ أَطْرافِ النَّهارِ راقَبُوكُ وَ عَبَدُوك، یا مُحَمَّدُ یا عَلِی، بِكُما بِكَما. أَللّهُمَّ، إِنّی أَسْأَلُكَ فی هذِهِ اللَّیلَةِ بِاسْمِكَ الَّذی إِذا وُضِعَ عَلی مغالِقِ أَبْوابِ السَّمآءِ لِلاِْنْفِتاحِ انْفَتَحَتْ. [وَ] أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذی إِذا وُضِعَ عَلی مَضایقِ الاَْرْضِ لِلاِْنْفِراجِ انْفَرَجَتْ، [وَ]أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذی إِذا وُضِعَ عَلی الْبَأْسآءِ لِلتَّیسُّرِ [یا: لِلتَّیسیر]تَیسَّرَتْ، وَ أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذی إِذا وُضِعَ عَلی الْقُبُورِ لِلنُّشُورِ انْتَشَرَتْ، أَنْ تُصَلِّی عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ أَنْ تَمُنَّ عَلَی بِعِتْقِ رَقَبَتی مِنَ النّارِ فی هذِهِ اللَّیلَةِ. أَللّهُمَّ، إِنّی لَمْ أَعْمَلِ الْحَسَنَةَ حَتّی‌أَعْطَیتَنیها، وَلَمْ أَعْمَلِ السَّیئَةَ [یا: الْحَسَنَةَ]حتَّی أَعْلَمتَنیها [یا: عَلَّمْتَنیها]، أَللّهُمَّ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ عُدْ عَلَی عِلْمَكَ بِعَطآئِكَ، وَ داوِ دآئی بِدَوآئِكَ، فَإِنَّ دآئِی ذُنُوبِی الْقَبیحَةُ، وَ دَوآئُكَ عَفْوَكَ وَ حَلاوَةُ رَحْمَتِكَ، أَللّهُمَّ، إِنّی أَعُوذُ بِكَ أَنْ تَقْضَحَنی بَینَ الْجُمُوعِ بِسَریرَتی، وَ أَنْ أَلْقاكَ بِخِزْی عَمَلی، وَالنَّدامَةَ بِخَطیئتَی، وَ أَعُوذُ بِكَ أَنْ تُظْهِرَ سَیئآتی عَلی‌حَسَناتی، وَ أَنْ أُعْطی كِتابی بِشِمالی، فَیسْوَدَّ بِها وَجْهی. وَ یعْسُرَ بِذلِكَ حِسابی [یا: حَسَناتی‌]، وَ تَزِلَّ [یا: فَتَزِلَ‌] بِذلِكَ قَدَمی، وَ یكوُنَ فی مَواقِفِ الاَْشْرارِ مَوْقِفی، وَ أَنْ أَصیرَ فِی الاَْشْقِیآءِ الْمُعَذَّبینَ، حَیثُ لاحَمیمَ یطاعُ، وَلا رَحْمَةٌ مِنْكَ تُدارِكُنی فَأَهْوی فی مَهاوِی الْغاوِینَ. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَعِذْنی مِنْ ذلِكَ كُلِّهِ. أَللّهُمَّ، بِعِزَّتِكَ الْقاهِرَةِ وَسُلْطانِكَ الْعَظیمِ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ و آلِهِ، وَ بَدِّلْ لِی الدُّنْیا الْفانِیةَ بِالدّارَ الْآخِرَةِ الْباقِیةِ، لَقِّنی رَوْحَها وَ رَیحانَها وَ سَلامَها، وَ اسْقِنی مِن بارِدِها، وَ أَظِلَّنی فی ظِلالِها، وَ زَوِّجْنی مِنْ حُورِها، وَأَجْلِسْنی عَلی أَسِرَّتِها، وَ أَخْذِمْنی وِلْدانَها، وَ أَطِفْ عَلَی غِلْمانَها، وَ اسْقِنی مِنْ شَرابِها، وَ أَوْرَدْنی أَنْهارَها، وَاهْدِلی ثِمارَها، وَ انِْونی [یا: وَاقْوِنی‌](۳۰۸) فی كَرامَتِها مُخَلَّداً، لاخَوْفَ [عَلَی]یرَوِّعُنی، وَ لانَصْبٌ یمَسِّنی، وَلا حُزْنٌ یعْتَرینی [یا: یغْتَرینی‌]، وَلا هَمَّ یشْغِلُنی، فَقَدْ رَضیتُ ثَوابَها، وَ آمَنْتُ عِقابَها، وَ اطْمَأنَنْتُ فی مَنازِلِها، قَدْ جَعَلْتَها لی مَلْجَأً، وَ لِلنَّبِی [یا: النَّبِی](صلی الله علی و آله و سلم) رَفیقاً، وَلِلْمُؤْمِنینَ [یا: الْمُؤْمِنینَ]أَصْحاباً، وَ لِلصّالِحینَ [یا: الصّالِحینَ‌] إِخْواناً، فی غُرَفٍ فَوْقَ غُرَفٍ حَیثُ الشَّرفُ كُلُّ الشَّرفِ. أَللّهُمَّ، وَأَعُوذُ بِكَ مَعاذَةَ مَنْ خافَكَ، وَأَلْجَأُ إِلَیكَ مَلْجَأَ مَنْ هَرَبَ إِلَیكَ مِنَ النّارِ الَّتی لِلْكافِرینَ أَعْدَدْتَها، وَ لِلْخاطِئینَ أَوْ قَدْتَها، وَلِلْغاوِینَ أَبْرَزْتَها، وَذاتِ لَهَبٍ وَ سَعیرٍ وَ شَهیق وَ زَفیرٍ وَ شَرَرٍ كَأَنَّهُ جِمالاتٌ صُفْرٌ، وَ أَعُوذُ بِكَ أَللّهُمَّ، أَنْ تَصْلِی بِها وَجْهی، أَوْ تُطْعِمَها لَحْمی، أَوْ تُوقِدَها بَدَنی، وَ أَعُوذُبِكَ یا إِلهی، مِنْ لَهیبِها، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ لی حِرْزاً مِنْ عَذابِها، حَتّی تُصَیرَنی بِها فی عِبادِكَ الصّالِحینَ، أَلَّذینَ لایسْمَعُونَ حَسیسَها، وَ هُمْ فیما اشْتَهَتْ أَنْفُسَهُمْ خالِدوُن. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَافْعَلْ بی‌ما سَأَلْتُكَ مِنْ أَمْرِ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ مَعَ الْفَوْزِ بِالْجَنَّةِ، وَامْنُنْ عَلَی فی وَقْتی هذا، وَ فی ساعَتی هذِهِ، وَ فی كُلِّ أَمْرٍ شَفَعْتُ إِلَیكَ فیهِ وَ ما لَمْ أَشْفَعْ إِلَیكَ فیهِ مِمّا لی فیهِ النَّجاةُ مِنَ النَّارِ، وَ الصَّلاحُ فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ، وَ أَعِنِّی عَلی كُلِّ ما سَأَلْتُكَ، أَنْ تَمُنَّ بِهِ عَلَی. أَللّهُمَّ، وَ إِنْ قُصْرَ دُعآئی عَنْ حاجَتی، أَوْ كَلَّ عَنْ طَلَبِها لِسانی، فَلاتُقَصِّرْ بی‌مِنْ جُودِكَ وَلامِنْ كَرَمِكَ. یا سَیدی، فَأَنْتَ ذُوالْفَضْلِ الْعَظیمِ، أَللّهُمَّ، فَصَلِّ عَلی‌مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَاكْفِنی ما أَهَمَّنی وَ ما لَمْ یهِمَّنی، وَ ما حَضَرَنی وَ ما غابَ عَنّی، وَ ما أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنّی، أَللّهُمَّ، وَ ه ذا عَطآؤُكَ وَ مَنُّكَ، وَ هذا تَعْلیمُكَ وَ تَأْدیبُكَ، وَ هذا تَوْفیقُكَ، وَ هذِهِ رَغْبَتی إِلَیكَ مِنْ حاجَتی، فَبِحَقِّكَ أَللّهُمَّ، عَلی مَنْ سَأَلَكَ، وَ بِحَقِّ ذِی الْحَقِّ عَلَیكَ مِمَّنْ سَأَلَكَ، وَ بِقُدْرَتِكَ عَلی ما تَشآءُ، وَ بِحَقِّ لاإِلهَ إِلاّ أَنْتَ، یاحَی، یا قَیومُ، یا مُحْیی الْمَوْتی، یا لاإِلهَ إِلاّ أَنْتَ الْقآئِمُ عَلی كُلَّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّی عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ أَنْ تُعْتِقَنی مِنَ النّارِ، وَ تَكْلَأَنی مِنَ الْعارِ، وَ تُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ مَعَ الاَْبْرارِ، فَإِنَّكَ تُجیرُ وَلایجارُ عَلَیكَ. أَللّهُمَّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ أَعِذْنی مِنْ سَطَواتِكَ، وَ أَعِذْنی مِنْ سُوءِ عُقُوبَتِكَ، أَللّهُمَّ، ساقَتْنی إِلَیكَ ذُنُوبی، وَ أَنْتَ تَرْحَمُ مَنْ یتُوبُ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَاغْفِرْلی جُرْمی، وَارْحَمْ عَبْرَتی، وَ أَجِبْ دَعْوَتی، وَ أَقِلْ عَثْرَتی، وَ امْنُنْ عَلَی بِالْجَنَّةِ، وَأَجِرْنی مِنَ النّارِ، وَ زَوِّجْنی مِنَ الْحُورِ الْعَینِ، وَ أَعِطْنی مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنّی بِكَ إِلَیكَ أَتَوسَّلُ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَاقْلِبْنی مَوْفُورَ الْعَمَلِ بِغُفْرانِ الزَّلَلِ بِقُدْرَتِكَ، وَ لاتُهِنّی فَأَهُونَ عَلی خَلْقِكَ، وَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ النَّبِی وَآلِهِ الطّاهِرینَ، وَ سَلِّمْ تَسْلیماً.

فضیلت

اسماعیل بن عبدالخالق بن عبدربہ امام صادق(ع) سے نقل کرتا ہے: میرے والد بزرگوار ہمیشہ نماز عشاء کے بعد بیٹھ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور ان دو رکعت میں سو آیات قرائت فرماتے اور ہمیشہ فرماتے رہے: جو کوئی یہ دو رکعت پڑھے اور سو آیت کی تلاوت کرے وہ غافلین سے نہیں ہو گا. وہ کہتا ہے: امام باقر(ع) ان دو رکعت میں سورہ واقعہ اور سورہ اخلاص کی قرائت فرماتے تھے. [11]

نماز وتیرہ کو نماز شب میں پڑھے جانے والے وتر کی جگہ قرار دیا گیا ہے لہذا اگر کوئی نیند، موت یا کسی وجہ سے نماز وتر نہ پڑھ سکے تو اسے نماز وتر کا ثواب ملے گا۔ [12]

وقت

نماز وتیرہ کا وقت نماز عشاء کے بعد سے آدھی رات تک ہے لیکن کہا گیا ہے کہ اگر نماز عشاء کے فوراً بعد پڑھ لیں تو بہتر ہے. [13]

حوالہ جات

  1. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۶ق، ج۲، ص۳۳۰و۳۳۱.
  2. قمی، مفاتیح الجنان، ص۱۹.
  3. سید بن طاووس، فلاح السائل، ص۲۵۹.
  4. حرعاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ص۵۱.
  5. حرعاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ص۹۴.
  6. شیخ طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ص۷۱.
  7. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۴، ص۱۰۶.
  8. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۴، ص۱۰۶.
  9. سیدمرتضی، رسائل مرتضی، ۱۴۱۵ق، ص۲۲۷.
  10. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۱۱۴-۱۱۹.
  11. سید بن طاووس، فلاح السائل، ص۲۵۹.
  12. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۶ق، ج۲، ص۳۳۰و۳۳۱.
  13. سیستانی، توضیح المسائل، نمازہای مستحب؛ وقت نافلہ های یومیہ، مسألہ ۷۵۸


نوٹ


ماخذ

  • ابن طاووس، علی بن موسی، فلاح السائل.
  • حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، آل البیت، ۱۴۱۴ق.
  • سیدمرتضی، رسائل مرتضی، تحقیق: سید احمد حسینی، قم،‌دار القرآن الکریم، ۱۴۱۵ق.
  • صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، تحقیق: سید محمدباقر بحرالعلوم، نجف، مکتبۃ الحیدریۃ، ۱۳۸۶ق.
  • طوسی، محمد بن الحسن، المبسوط،تحقیق سید محمدتقی، کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ، ۱۳۸۷ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشیعۃ، ۱۴۱۱ق.
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، قم، اسوه.
  • مفید، محمد بن نعمان، المقنعہ، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۰ق.