مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

نُوّاب اَربَعہ، شیعہ اصطلاح میں غیبت صغری کے زمانے میں امام زمانہ(عج) کے ان چار نمائندوں اور نائبین خاص کو کہا جاتا ہے جو آپ(ع) اور شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان رابطے کا کام سرانجام دیتے رہے ہیں۔ ان کو نواب خاص بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے نام بالترتیب یہ ہیں: عثمان بن سعید، محمد بن عثمان، حسین بن روح اور علی بن محمد سمری۔ نواب اربعہ، ائمہ معصومین(ع) کے با اعتماد اصحاص میں سے تھے جو یکے بعد دیگرے خود امام زمانہ(ع) یا پہلے نائب خاص کی طرف سے منتخب کئے جاتے تھے۔ یہ چار افراد تقریبا ستر سال تک امام زمانہ (ع) کے نائب خاص کے عنوان سے خدمات سرانجام دیتے رہے اور دور و دراز علاقوں میں اپنی جانب سے وکلاء کو تعیین کرنے کے ذریعے شیعوں کی درخواستیں اور پیغامات امام زمانہ)ع) تک پھر امام علیہ السلام کی طرف سے ان کے جوابات کو لوگوں تک پہنجاتے تھے۔ ان نائبین خاص کی دیگر زمہ داریوں میں امام زمانہ(ع) کے بارے میں ایجاد ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ اور آپ(ع) کی محل زندگی اور کوائف کو مخفی رکھنا، شامل ہیں۔

فہرست

نیابت خاصہ

تفصیلی مضمون: نیابت خاصہ

نیابت خاصہ سے مراد امام(ع) کی طرف سے کسی خاص شخص کو لوگوں کے ساتھ رابطے کیلئے اپنا نمائندہ مقرر کرنا ہے جس وقت خود امام براہ راست لوگوں کے ساتھ رابطہ برقرار نہ کر سکتا ہو۔ اس صورت میں امام(ع) بعض مشخص افراد میں سے پہلے شخص کو خود اپنا نمائنده مقرر فرماتا ہے پھر آگے چل کر نئے نائب کو پرانا نائب اپنی زندگی میں ہی مقرر کر کے چلا جاتا ہے۔[1]

نواب اربعہ اور ان کی مدت نیابت

امام زمانہ کے نائبین خاص کی فعالیت غیبت صغری کے دور یعنی سنہ 260 سے 329 ہجری (تقریباً 70 سال) تک جاری رہی۔ اس عرصے میں شیعہ علماء میں سے چار اشخاص کہ ان میں سے بعض دسویں اور گیارہویں امام کے اصحاب اور شناختہ شدہ افراد میں سے تھے۔ جنہوں نے امام زمانہ(ع) کی نیابت اور امام زمانہ اور شیعوں کے درمیان رابطے کے فرائض انجام دئے۔ ان کے علاوہ تقریبا تمام اسلامی شہروں میں ان کے وکلاء موجود تھے۔[2]

  • عثمان بن سعید عمری (متوفی 267 ھ) امام زمانہ کے پہلے نائب خاص ہیں۔ احادیث میں آیا ہے کہ امام حسن عسکری(ع) نے اپنے فرزند ارجمند یعنی امام مہدی(ع) کو اپنے اصحاب میں سے چالیس افراد کو دکھاتے ہوئے فرمایا امام زمانہ(ع) کی غیبت امام زمانہ(عج) کے دوران عثمان بن سعید کی اطاعت کریں۔[3] اسی طرح امام حسن عسکری(ع) نے اہل قم کے ساتھ ملاقات میں عثمان بن سعید کی نیابت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے انہیں ان کی طرف ارجاع دیا۔[4] عثمان بن سعید اپنی زندگی کے آخری لمحات تک یعنی (تقریبا 6 سال) امام زمانہ(ع) کے نائب خاص کے عہدے پر فائز رہے۔
  • محمد بن عثمان بن سعید عَمری (متوفی 305 ھ)، جو پہلے نائب خاص کے بیٹے تھے، امام زمانہ(ع) کے دوسرے نائب خاص ہیں۔ جب پہلے نائب خاص وفات پا گئے تو امام زمانہ(ع) نے ایک توقیع کے ذریعے ان کے بیٹے محمد بن عثمان کو تسلیت و تعزیت کے ساتھ اپنے والد کا جانشین اور اپنا نائب خاص مقرر فرمایا۔[5] اس سے پہلے بھی امام حسن عسکری(ع) نے محمد بن عثمان کو امام زمانہ(ع) کے نائب خاص کے عنوان سے معرفی کر چکے تھے۔[6] محمد بن عثمان عمری تقریبا چالیس سال تک امام زمانہ(ع) کے نائب خاص کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔[7]
  • حسین بن روح نوبختی (متوفی 326 ھ)، امام زمانہ(ع) کے تیسرے نائب خاص تھے۔ آپ محمد بن عثمان کے قریبی ساتھیوں اور بغداد میں ان کے وکیل تھے۔ محمد بن عثمان نے اپنی عمر کے آخری ایام میں امام زمانہ(ع) کے حکم سے آپ کو امام(ع) کا نائب خاص مقرر کیا۔[8] انہیں شروع میں عباسی حکومت میں مقام و مرتبہ حاصل تھا لیکن بعد میں ان کے تعلقات خراب ہوگئے یوں کچھ مدت انہیں مخفیانہ طور پر زندگی گزارنا پڑا یہاں تک کہ پاس سال کا عرصہ انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑا۔ [9] آپ نے تقریبا 21 سال تک نیابت خاصہ کے فرائض انجام دئے۔
علی بن محمد سمری کے امام زمانہ(ع) کی توقیع

"خداوندعالم تیری وفات پر تمہارے بھائیوں کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ تم چھ دن کے اندر اندر اس دنیا سے رخصت ہو جاؤگے۔ پس اپنے کاموں کو سمیٹ لو اور کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر مت کرو کیونکہ اس کے بعد غیبت کبری کا آغاز ہوگا اور ایک طویل عرصے تک جب تک خداوندعالم اجازت نہ دے ظہور نہیں کرونگا یہاں تک کہ لوگوں کے دل قساوت سے اور دنیا بے انصافی سے بھر جائیں گے اور یاد رکھو سفیانی کے قیام اور صیحہ آسمانی سے پہلے جو بھی مجھ سے ملاقات کا دعوا کرے وہ جھوٹا ہے۔"

  • علی بن محمد سَمُری (متوفی 329ہ.ق) امام زمانہ(ع) کے چوتھے نائب خاص ہیں جنہوں نے سنہ۳۲۶ سے ۳۲۹ق تک نیابت خاصہ کا عہدہ سنبھالا۔ سمری کی نیابت کا دور حکومت وقت کی کڑی نگرانی اور سخت دباؤ کا شکار رہا جس نے انہیں اس وکالتی نظام میں وسیع سرگرمیوں سے باز رکھا۔[10] علی بن محمد سمری کے نام امام زمانہ(ع) کی توقیع، جس میں آپ نے ان کی موت کی خبر دینے کے ساتھ ساتھ نیابت خاصہ کے دور کے اختتام اور غیبت کبری کے آغاز کی خبر دی جو امام زمانہ(ع) کے آخری نائب خاص کی زندگی کے اہم واقعات میں سے ہیں۔[11]

اقدامات اور فعالیتیں

تمام نواب اربعہ کے سارے اقدامات اور فعالیتیں امام زمانہ(ع) کے حکم سے انجام پاتے تھے۔[12] ان فعالیتوں کو چند گروہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

فعالیتوں کو مخفیانہ طور پر انجام دینا

مام حسن عسکری(ع) کی شہادت اور بارہویں امام(ع) کی غیبت کے دوران صرف نواب اربعہ شیعوں کے مسائل کو حل و فصل کرتے تھے۔ عباسی حکومت کی کڑی نگرانی کے باعث مخفیانہ فعالیتوں کی انجام دہی اور تقیہ کرنا بطور خاص دوسرے، تنسرے اور چوتھے نائب خاص کے زمانے میں اپنی انتہاء کو پہنچ چکی تھی۔[13][14] یہاں تک کہ حسین بن روح کچھ مدت کیلئے روپوش ہوگئے اور آخر کار پانچ سال تک قید و بن کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑا۔ تقیہ اور مخفیانہ طور پر فعالیتوں کی انجام دہی کا فائدہ یہ ہوا کہ شیعہ اثنا عشری بنی عباسی کے سخت ترین دور میں حتی ان کے دارالخلافہ میں بھی موجود رہ کر اپنی حفاظت اور باقاعدہ ایک اقلیت کے عنوان سے عباسی حکومت اور ان کے با اثر اور افراطی سنی درباریوں سامنے اپنا اظہار وجود کرنے میں کامیاب ہو گئے۔[15]

حکومت وقت کے ساتھ تعلقات

اس دور میں بعض شیعہ شخص