مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

مشہور احکام
220px
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


واجب نمازیں ان نمازوں کو کہا جاتا ہے کہ جنہیں ان کے مخصوص اوقات میں ادا کرنا ہر عاقل بالغ مسلمان پر ضروری ہے۔ اگر کوئی انہیں انکے مخصوص وقت میں ادا نہ کرے تو وہ خدا کی طرف سے عقاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ ان نمازوں کو ان کے وقت میں ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کی قضا بجا لانا ضروری ہے۔ واجب نمازوں کو دو حصوں یومیہ نمازیں اور کسی مخصوص مناسبت کی وجہ سے واجب ہونے والی نمازیں؛ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

فہرست

یومیہ نمازیں

ہر روز کی ادا کی جانے والی نمازوں کی رکعتوں کی کل تعداد ۱۷ ہے۔[1] ان میں چار رکعتی نمازیں سفر کی مخصوص شرائط کے پیش نظر دو رکعت پڑھی جاتی ہیں۔[2]

نماز وقت تعداد رکعات توضیحات
نمازصبح طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک [3] ۲ مردوں کو بلند آواز میں پڑھنا ہے ۔نامحرموں کی موجودگی میں عورتیں آہستہ پڑھیں گی۔اگر نامحرم نہ ہوں تو انہیں بلند و آہستہ پڑھنے میں اختیار حاصل ہے ۔[4]
نماز ظہر زوال آفتاب[5] ۴ اسے آہستہ پڑھا جائے گا۔


نماز عصر نماز ظہر کے بعد [6] ۴ اسے آہستہ پڑھا جائے گا۔
نماز مغرب مشہور قول کی بنا پر غروب آفتاب کے بعد مشرق کی سمت سے حمرۃ شرقیہ کے ظاہر ہونے کے بعد اس نماز کا وقت شروع ہوتا ہے [7] ۳ اسے بلند آواز سے پڑھیں۔ عورتوں کی آواز نامحرموں تک پہنچنے کی صورت میں آہستہ ورنہ بلند پڑھ سکتی ہیں۔
نماز عشاء نماز مغرب کے بعد پڑھا جائے [8] ۴ مرد اسے بلند آواز سے پڑھیں گے اور عورتوں کی آواز نامحرموں تک آواز پہنچنے کی صورت میں آہستہ ورنہ بلند آواز سے پڑھ سکتی ہیں۔

مخصوص شرائط کے تحت واجب ہونے والی نمازیں

واجب نمازیں وقت تعداد رکعت توضیحات
نماز آیات چاند گرہن، سورج گرہن یا زلزلہ یا...[9] ۲ دو رکعت ہر رکعت میں پانچ رکوع[10]
نماز قضا کوئی مخصوص وقت نہیں ہے [11] -- قضا کی نیت کے ساتھ اصل نماز کی مانند پڑھی جاتی ہے۔
باپ اور ماں کی قضا نماز کوئی مخصوص وقت نہیں ہے -- ماں اور باپ کی نیابت کی نیت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے ۔
نماز میت میت دفن کرنے سے پہلے [12] ۱ پانچ تکبیریں مخصوص دعاؤں کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔[13]
نماز طواف زیارت حج میں طواف زیارت کے بعد ۲ صبح کی نماز کی مانند لیکن حمد و سورہ بلند آواز سے پڑھنا ضروری نہیں
نماز طواف نساء حج و عمرہ میں طواف نساء کے بعد ۲ نماز صبح کی مانند لیکن حمد و سورہ بلند آواز سے پڑھنا ضروری نہیں
نماز جمعہ جمعہ کے دن نماز ظہر کا وقت ۲ نماز صبح کی مانند دو رکعت ،پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے ایک قنوت اور دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ایک قنوت[14]
نذر،... یا اجارے کی وجہ سے واجب نماز[15] مانی گئی نذر کے مطابق پڑھی جائے گی یا ... --
نماز احتیاط نماز واجب کے فورا بعد ۱ یا ۲ رکعت شک کی نوعیت کے مطابق ایک رکعت کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر دو رکعت پڑھے گا ۔[16]

انسان اگر واجب نماز کو اسکے وقت میں ادا نہ کرے تو اس نے گناہ کا ارتکاب کیا اور اس کیلئے لازم ہے کہ اس نماز کو قضا کی نیت سے انجام دے ۔

وہ نماز ہے جو جس جگہ درج ذیل اسباب ظاہر ہوں وہاں کے لوگوں کیلئے نماز آیات پڑھنا ضروری ہے :

سورج یا چاند کو جزوی یا مکمل طور پر گہن لگے، زمین میں زلزلہ آئے، آسمانی بجلی، گرج و چمک، طوفان یا دیگر کوئی ایسی آفات ظاہر ہوں جن کی وجہ لوگ خوفزدہ ہوں [17]

حوالہ جات

  1. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۲، ص۲۴۴
  2. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۱۴
  3. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۲، ص۵۰
  4. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۲، ص۵۰۹-۵۱۱
  5. خوئی، التنقیح فی شرح العروة الوثقی، ج۱، ص۱۱۵
  6. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۲، ص۲۴۸
  7. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۲، ص۲۴۸-۲۴۹
  8. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۲، ص۲۴۸-۲۴۹
  9. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۳-۴۵
  10. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۵
  11. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۶۲ و ۷۲
  12. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۲، ص۸۹
  13. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۹۶-۱۰۰
  14. توضیح المسائل مراجع، ج۱، ص۸۷۸
  15. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۹۶-۱۰۰
  16. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۲۷۰-۲۷۵
  17. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۳-۴۵

منابع

  • طباطباuی یزدی، محمدکاظم، العروة الوثقی، اول، قم، موسسة النشر الاسلامی، ۱۴۲۰ق
  • توضیح المسائل مراجع: مطابق با فتاوای دوازده نفر از مراجع، گردآوری محمدحسن بنی ہاشمی خمینی، قم: دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۷۸ش