مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

کتب اربعہ

کُتُب اَربعہ یا اصول اربعہ شیعوں کے چار معتبر حدیثی منابع کو کہا جاتا ہے جن میں الکافی، مَن لایَحضُرُه الفقیہ، تہذیب الاحکام اور الاِستِبصار شامل ہیں۔ کافی کے مصنف کُلِینی، من لایحضر الفقیہ کے مصنف شیخ صدوق جبکہ تہذیب الاحکام اور استبصار کے مصنف شیخ طوسی ہیں۔

پہلی بار شہید ثانی نے نقل حدیث کی ایک اجازت میں ان کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کتب اربعہ کی اصطلاح استعمال کی۔ ان کے بعد فقہی منابع میں اس اصطلاح کا استعمال رائج ہوا۔ بعض شیعہ علما کتب اربعہ کی تمام احادیث کو صحیح مانتے ہیں لیکن اکثر علما صرف ان احادیث کو قبول کرتے ہیں جو متواتر ہو یا ان کی سند معتبر ہو۔

فہرست

شیعہ معتبرترین حدیثی مصادر

شیعہ ان چار کتب یعنی کافی، تہذیب الاحکام، استبصار اور من لایحضرہ الفقیہ کو اپنی سب سے معتبر حدیثی منابع مانتے ہیں اور انہیں کتب "کُتُب اَربَعہ" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ البتہ اکثر شیعہ علماء ان کتابوں میں مذکور تمام احادیث پر عمل کو واجب نہیں سمجھتے بلکہ ان پر عمل کرنے کیلئے ان کی سند اور دلالت‌ دونوں کی چھان بین کرتے ہیں۔[1]

تاریخ کے آئینے میں

اندرو نیومن، محمد علی امیر معزّی سے نقل کرتے ہیں کہ پہلی بار محقق حلی نے "الکتب الأربعۃ" کی اصطلاح مذکورہ کتابوں کیلئے استعمال کئے تھے۔ لیکن اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے امیر معزی کی عبارت کے ترجمے میں اشتباہ کی تھی کیوں ان کی عبارت میں صرف یہ چیز تھی کہ کہ محقق حلی نے ان کتابوں کو شیعہ معتبر حدیثی منابع قرار دیا ہے۔ البتہ محقق حلی کی تحریر میں "اربعہ" کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن محقق حلی خود المعتبر نامی کتاب کے مقدمے میں توضیح دیتے ہیں کہ اس اصطلاح سے ان کی مراد فقہائے چارگانہ یعنی شیخ طوسی، شیخ مفید، سید مرتضی اور شیخ صدوق ہیں۔[2]

مقالہ "چار شیعہ کتب حدیث اور "الکتب الأربعۃ" کی اصطلاح کا رواج"، کے مصنف کے مطابق شہید ثانی وہ پہلے عالم دین تھے جنہوں نے مذکورہ چار کتب احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس اصطلاح کو استعمال کیا تھا۔ شہید ثانی نے سنہ 950ھ میں اپنے کسی شاگرد کو نقل حدیث کی اجازت دیتے ہوئے "کتب الحدیث الأربعۃ" کی اصطلاح کا استعمال کئے۔ اس کے بعد آپ نے مزید کئی ایسے اجازت ناموں میں اس اصطلاح کو استعمال کئے۔[3]

مذکورہ مقالہ کے مطابق اسی وقت شیخ بہائی کے والد، حسین بن عبد الصمد عاملی نے شیخ صدوق کی کتاب مدینۃ العلم کو بھی مذکورہ کتابوں کے ساتھ اضافہ کر کے "الأصول الخمسۃ" کی اصطلاح کا نام دیا؛ لیکن یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ "مدینۃ العلم" نامی کتاب کے صحنہ سے غائب ہونے کی وجہ سے یہ اصطلاح رواج پیدا نہ کر سکی۔[4]

سب سے پہلی فقہی کتاب جس میں "الكُتُب الأربَعَۃ" کی اصطلاح استعمال کی گئی وہ "مجمع الفائدۃ" ہے جس کے مصنف محقق اردبیلی ہیں۔ اس کتاب کا آغاز سنہ 977ھ میں ہوا اور سنہ 985ھ میں اسے مکمل کیاگیا تھا۔ اس کے بعد بالترتیب زُبدۃ البیان (اشاعت 989ھ)، مُنتَقَی الجُمان (اشاعت 1006ھ) اور الوافیہ (اشاعت 1059ھ) جیسی کتابوں میں اس اصطلاح کو بروی کار لایا گیا۔[5]

توثیق

شیعہ فقہا من حیث المجموع کتب اربعہ کی توثیق کرتے ہیں؛ یہاں تک کہ شیخ انصاری معروف کتب من جملہ کتب اربعہ کے معتبر ہونے پر عقیدہ رکھنے کو ضروریات مذہب میں سے قرار دینے کو بعید نہیں سمجھتے۔[6] لیکن ان تمام باتوں کے باوجود شیعہ علماء کے درمیان ان کتابوں میں مذکور تمام احادیث اور روایتوں کی صحت و سقم یا توثیق اور عدم توثیق میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تین نظریات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:

  • تمام احادیث قطعی الصدور اور معتبر ہیں: اخباری کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کو معتبر سمجھتے ہوئے ان تمام احادیث کے معصومین سے صادر ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔[7] سید مرتضی کا نظریہ بھی اخباریوں کے اس نظریے سے ملتا جلتا ہے۔ سید مرتضی ان کتابوں میں موجود اکثر احادیث کو متواتر یا قطعی الصدور مانتے ہیں۔[8]
  • تمام احادیث صحیح ہیں لیکن سب قطعی الصدور نہیں: بعض فقہا مانند فاضل تونی[9]، ملا احمد نراقی[10] اور میرزا محمد حسین نایینی باوجود اس کے کہ ان کتابوں میں موجود تمام احادیث کو قطعی الصدور نہیں مانتے لیکن سب کے صحیح ہونے کے قائل ہیں۔ آیت اللہ خویی سے منقول ہے کہ کافی کی احادیث کی سند میں خدشہ وارد کرنا بعض ناتوان افراد کی سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے۔[11]
  • اکثر احادیث ظنی الصدور ہیں صرف قطعی الصدور حجت ہیں: اکثر شیعہ فقہا اور اصولیوں کا نظریہ یہ ہے کہ کافی کے بعض متواتر احادیث کے علاوہ باقی احادیث ظنی الصدور ہیں اور صرف وہ احادیث جو سندی اعتبار سے موثق ہیں، حجت ہیں، اگرچہ خبر کی حجیت کے معیار اور شرائط میں ان کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔[12]

الکافی

تفصیلی مضمون: الکافی

یہ کتاب الکافی کے عنوان سے مشہور ہے جسے شیخ محمد بن یعقوب کلینی رازی (متوفی سنہ 329ہجری) نے غیبت صغری کے دوران مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب تین علیحدہ اور کلی حصوں اصول کافی، فروع کافی اور روضۂ کافی پر مشتمل تقریبا 16000 احادیث کا مجموعہ ہے۔ الاصول من الکافی اعتقادی احادیث کا مجموعہ ہے؛ الفروع من الکافی میں منقولہ احادیث کا تعلق عملی احکام اور فقہ سے ہے جبکہ روضۂ کافی زیادہ تر اخلاقی احادیث اور مواعظ و نصائح پر مشتمل ہے۔[13]

من لایحضرہ الفقیہ

اہم کتب حدیث
شیعہ
سنی
تفصیلی مضمون: من لایحضرہ الفقیہ

یہ کتاب شیخ صدوق ابوجعفر محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی (متوفی 381ہجری) کی تالیف ہے۔ یہ کتاب تقریبا 6222 احادیث پر مشتمل ہے جن کا موضوع فقہ اور عملی احکام ہیں۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ شیخ صدوق نے اس میں وہ احادیث جمع کررکھی ہیں جنہیں وہ صحیح سمجھتے تھے اور ان کی بنیاد پر فتوی دیتے تھے۔[14]

تہذیب الاحکام

تفصیلی مضمون: تہذیب الاحکام

یہ کتاب ابو جعفر محمد بن حسن طوسی (متوفی 462ہجری) کی تالیف ہے۔ یہ کتاب فقہ اور شرعی احکام سے متعلق حدیثوں کا مجموعہ ہے جو رسول خدا(ص) اور ائمہ(ع) سے نقل ہوئی ہیں۔ شیخ طوسی نے اس کتاب میں صرف فروع دین پر بحث کی ہے اور طہارت سے لے کر دیات تک احکام سے متعلق احادیث بیان کئے ہیں۔ اس کتاب کے عناوین کی ترتیب اور زمرہ بندی شیخ مفید کی کتاب المقنعہ کی ترتیب و زمرہ بندی کے عین مطابق ہے۔ کتاب تہذیب الاحکام 393 ابواب اور 13592 حدیثوں پر مشتمل ہے۔ اس کے آخر میں شرح مشيخۃ تہذيب الاحكام کے نام سے ایک ضمیمہ مندرج ہے۔ مشیخہ سے مراد وہ اکابرین اور اسانید ہیں جن سے شیخ نے حدیثیں نقل کی ہیں۔[15]

الاستبصار فی ما اختلف من الاخبار

یہ کتاب بھی تہذیب الاحکام کے مؤلف شیخ طوسی کی تالیف ہے۔ انہوں نے یہ کتاب تہذیب الاحکام کے بعد اپنے شاگردوں کی درخواست پر تالیف کی ہے۔ شیخ نے اس کتاب میں صرف ان احادیث کو درج کیا ہے جو مختلف فقہی مباحث و موضوعات میں وارد ہوئی ہیں؛ چنانچہ اس کتاب میں تمام فقہی ابواب کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ شیخ طوسی نے ابتداء میں ان روایات و احادیث کو نقل کیا ہے جنہیں وہ صحیح سمجھتے ہیں اور اس کے بعد مخالف روایات کی طرف اشارہ کیا ہے اور پھر ان روایات کو جمع کرکے ان کا جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کے ابواب کی ترتیب دوسری فقہی کتب کی مانند ہے اور اس کا آغاز کتاب طہارت سے اور اختتام کتاب دیات پر ہوا ہے۔ (یہاں کتاب سے مراد فصل یا حصہ ہے)۔

یہ کتاب مجموعی طور پر 5511 روایات پر مشتمل ہے۔[16]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. امینی، الغدیر، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۳۸۳-۳۸۴.
  2. باقری، «امامیہ چار کتب حدیثی اور "الکتب الأربعۃ" کی اصطلاح کا رواج: اندرو نیومن کے نظرے کا نقد۔
  3. باقری، «امامیہ چار کتب حدیثی اور "الکتب الأربعۃ" کی اصطلاح کا رواج: اندرو نیومن کے نظرے کا نقد۔
  4. باقری، «امامیہ چار کتب حدیثی اور "الکتب الأربعۃ" کی اصطلاح کا رواج: اندرو نیومن کے نظرے کا نقد۔
  5. باقری، «امامیہ چار کتب حدیثی اور "الکتب الأربعۃ" کی اصطلاح کا رواج: اندرو نیومن کے نظرے کا نقد۔
  6. انصاری، فرائد الاصول، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۲۳۹.
  7. استرآبادی،‌الفواید المدنیہ، ص۱۱۲؛ الکرکی، ہدایۃ الأبرار، ۱۳۹۶ق، ص۱۷.
  8. حسن عاملی، معالم الاصول، ص۱۵۷
  9. فاضل تونی، الوافیہ فی أصول الفقہ، ۱۴۱۵ق، ص۱۶۶.
  10. ملااحمد نراقی، مناہج، ص۱۶۶
  11. خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۸۷.
  12. سید ابوالقاسم خویی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۸۷-۹۷
  13. رجوع کریں: مدیرشانہ چی، تاریخ حدیث، ص116ـ119۔
  14. مدیرشانہ چی، تاریخ حدیث، ص132ـ135۔
  15. مدیرشانہ چی، تاریخ حدیث، ص138ـ142۔
  16. رک: مدیرشانہ چی، تاریخ حدیث، ص148ـ152.


مآخذ

  • مدیرشانہ چی، کاظم، تاریخ حدیث، تہران: انتشارات سمت، 1377ہجری شمسی.