مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحید توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام  • اعجاز • عدم تحریف قرآن
امامت
اعتقادات عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبتمہدویتانتظار فرجظہور • رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان
اہم مسائل
اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت


کلام امامیہ علم کلام کی ذیلی شاخ ہے جس میں اہل بیت اور انکے برجستہ شاگردوں کی روش کے مطابق دینی اعتقادات کی وضاحت، دفاع اور اثبات کیا جاتا ہے. اس علم کے مسائل اعتقادی میں عقل اور نقل کو بروئے کار لانے کی زیادہ تاکید کی جاتی ہے ۔ کلام امامیہ معتزلہ، اشاعره اور ماتریدیہ کے مقابلے میں ہے ۔اس کا دوسرے مکاتب فکر کے ساتھ عمدہ تفاوت امامت اور اس سے متعلقہ مسائل میں پایا جاتا ہے ۔

کلام امامیہ تاریخی لحاظ سے کلامی مذاہب میں سے پہلا مذہب شمار ہوتا ہے چونکہ رسول اللہ کے وصال کے فورا بعد اسکی ابحاث شروع ہو گئیں جنہوں نے خلفا کے زمانے میں وسعت حاصل کی۔آنے والی صدیوں میں اسکی تدوین اور تبیین کا کام ہوا اور شیخ مفید کے دور میں نہایت مضبوط صورت اختیار کی ۔ساتوں صدی میں خواجہ نصیرالدین طوسی نے اس میں ایک جدید تحول ایجاد کیا .آٹھویں صدی سے چودھویں صدی تک تلخیص و شرح کے اعتبار سے بیشتر آثار یکسوئی کا شکار رہے سید جمال اسدآبادی کے زمانے میں اصلاحگری کے مرحلے میں داخل ہوا ۔

فہرست

آغاز

کلام امامیہ کا نقطۂ آغاز رسول اللہ(ص) کی رحلت کے فورا بعد کے ایام کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ سب سے پہلا کلامی نکتہ ـ جو اس زمانے میں زیر بحث آیا ـ امامت اور خلافت کا مسئلہ تھا اور اس سلسلے میں دو کلی اور عام نظریات سامنے آئے: ایک یہ کہ خلیفۂ رسول(ص) اور امام مسلمین ایک منصوص ہے خدا کی طرف سے جس کا تعین پیغمبر(ص) کے توسط سے ہوا ہے؛ اور دوسرا مسئلہ یہ کہ امامت و خلافت پر کوئی نصّ وارد نہیں ہوئی ہے اور اس کو مسلمین کے انتخاب پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

امام علی(ع) اور مہاجرین و انصار کے بزرگوں کی ایک جماعت اول الذکر نظریئے کی حمایت کرتی تھی جن کے نام اور استدلالات تاریخ و حدیث کی کتب میں ضبط و ثبت ہوئی ہیں، شیخ صدوق نے اپنی کتاب خصال میں 12 افراد کے نام بیان کئے ہیں، اور ان کے استدلالات و استنادات بھی نقل کئے ہیں۔

مہاجرین:

خالد بن سعید بن العاص، مقداد بن اسود، ابی بن کعب، عمار بن یاسر، ابوذر غفاری، سلمان فارسی، عبداللہ بن مسعود، بریدہ اسلمی۔

انصار:

خزیمہ بن ثابت، سہل بن حنیف، ابو ایوب انصاری، ابو ہیثم بن تیہان اور دیگر۔

انھوں نے اپنے استدلال میں دو باتوں سے استناد کیا ہے:

البتہ اس مرحلے میں ابھی شیعہ کلامی مکتب تشکیل نہیں پایا تھا، لیکن اہم ترین کلیدی کلامی اور اعتقادی مسائل میں اہل بیت(ع) کی طرف سے شیعیان آل رسول(ص) کو فراہم کی جانے والی راہنمائیاں، اس مکتب کی تشکیل کا آغاز ثابت ہوئیں؛ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ علی بن ابی طالب(ع) کی امامت کے حامی اولین شیعہ متکلمین ہیں۔[1] صحابہ میں سلمان، ابوذر، مقداد، اور عمرو بن حمق خزاعی جیسے افراد، اور تابعین میں سے رشید ہجری، کمیل بن زیاد اور میثم تمار جیسے افراد نیز دیگر علوی، جو امویوں کے ہاتھوں قتل ہوئے؛ یہاں تک کہ امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے زمانے میں طاقتور ہوئے اور کتب و رسائل کی تالیف اور متعلقہ موضوعات پر بحث و تمحیص میں مصروف ہوئے۔

اہم کلامی مسائل میں پیشرو

مسئلۂ امامت کے سوا ـ جو رسول اللہ(ص) کی رحلت کے فورا بعد زیر بحث آیا ـ قدیم ترین کلامی مسائل میں ذیل کے موضوعات شامل تھے:

اسلام کے صدر اول سے باقیماندہ مآخذ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر کلامی مباحث میں پیش آمدہ سوالات اور شبہات کے جوابات بھی سب سے پہلے علی علیہ السلام نے دیئے ہیں؛ اور بےشک آپ(ع) کے اصحاب اور حامی بھی آپ(ع) کے کلامی نظریات و آراء کی پیروی کرتے ہوئے ضرورت کے مواقع پر ان کو بیان کرتے تھے۔ امام علی(ع) کے بعد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام اور ان کے بعد امام سجاد علیہ السلام اور دیگر ائمۂ شیعہ میں سے ہر ایک نے اپنے زمانۂ امامت میں، کلام کے معصوم معلمین، کلامی جہاد کے علمبرداروں اور اسلامی عقائد کے سچے مدافعین کے طور پر کردار ادا کیا اور اس حوالے سے اصحاب اور شاگردوں کی تربیت کا اہتمام کیا ہے۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ کلام کے اہم مسائل سامنے لانے میں مکتب امامیہ دوسروں پر مقدم ہے۔

چنانچہ مذہب شیعہ اور شیعہ کلام تاریخی لحاظ سے تمام اسلامی کلامی مذاہب پر مقدم ہے اور حتی قبل ازاں کہ "قدریہ"[2] میدان میں آئیں اور حتی قبل اس کے کہ "معتزلہ"[3] توحید اور عدل الہی کے عقیدے کے تحفظ کی غرض سے، مُشَبِّہہ اور جبریہ کے خلاف جدوجہد کے میدان میں اتریں، کلام امامیہ کے پیشواؤں نے یہ راستہ طے کیا تھا اور اپنی محکم عقلی دلائل کے ذریعے توحید اور عدل کے عقیدے کی بنیاد کو استحکام بخش چکے تھے؛ اسی بنا پر عدل اور توحید کو دو علوی افکار کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے: "العدل والتوحید علویان

کلامی قواعد و متون کی تدوین میں امامیہ پیش پیش

گفتاری کلام اور اسلامی عقائد کے تحفظ اور کلامی شبہات و اعتراضات کی جوابدہی کے علاوہ، کلام امامیہ کلامی اصول و قواعد کی تاسیس نیز کلامی کتب و رسائل کی تدوین میں بھی مکتب معتزلہ اور اشاعرہ کو پیچھے چھوڑ گیا تھا۔

بہر حال اصول و قواعد اور استدلال کی روش کے بارے میں، اس میں کوئی شک نہیں کہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(ع) وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ـ قرآن کریم کے بعد ـ مسلمانوں کے لئے تفکر و تعقل کے راستے کھول دیئے اور اور معارف و عقائد کے اصولوں کو تقویت پہنچائی؛ جیسا کہ آپ(ع) نے توحید اور عدل کے باب میں ـ جو کہ کلام کے اہم ترین موضوعات ہیں ـ فرمایا:

"التوحید الا تتوهمه، والعدل الا تتهمه
توحید یہ ہے کہ اس کو وہم میں مت لاؤ اور عدل یہ ہے کہ اس (خدا) پر ایسی چیز کا الزام مت لگاؤ جو اس کی ذات کے لائق نہیں ہے۔

علم کلام میں تالیف و تصنیف کے لحاظ سے بھی امامیہ معتزلہ اور دوسرے مکاتب سے متاخر نہیں ہیں؛ کیونکہ ـ مسئلۂ قدر کے سلسلے میں امام حسن مجتبی علیہ السلام کے رسالے سمیت ـ مختلف کلامی مسائل میں ائمۂ شیعہ کے تحریر کردہ رسائل کے علاوہ، [[امامیہ متکلمین نے بھی قدیم ترین ایام سے ہی کلامی موضوعات کے بارے میں کتب اور رسائل لکھنے کا اہتمام کیا ہے۔

چنانچہ نجاشی نے لکھا ہے: "عیسی بن روضہ (تابعی) پہلے شخص ہیں جنہوں نے امامت کے موضوع پر کتاب لکھی"؛ اور ابن ندیم نے لکھا ہے کہ "علی بن اسمعیل بن میثم تمار (متوفی 179 ہجری قمری) پہلے فرد ہیں جنہوں نے امامت کے بارے میں تکلم کیا اور کتاب الامامہ اور الاستحقاق نامی کتب تالیف کیں؛ اور نجاشی کے بقول وہ "نظام" اور "ابو ہذیل" کے ہم عصر تھے اور ان کے ساتھ کلامی مناظرے کرتے تھے"۔

امام صادق اور امام کاظم علیہما السلام کے دور میں ہشام بن حکم شیعہ متکلمین میں ممتاز ترین تھے جنہوں نے علم کلام میں بہت سے رسالوں اور کتب کی تالیف کی جن میں سے بعض کچھ یوں ہیں:

  • کتاب الامامہ،
  • کتاب الجبر والقدر،
  • کتاب الاستطاعہ،
  • الرد علی اصحاب الاثنین، وغیرہ۔

چنانچہ کلام امامیہ دو حوالوں سے دوسرے اسلامی مکاتب پر متقدم ہیں: (1) کلامی مباحث و موضوعات کے آغاز کے لحاظ سے (2) کلامی اصولوں اور مبادی کی تاسیس کے حوالے سے؛ اور کلام کے سلسلے میں تالیف و تصنیف کے لحاظ سے بھی اگر ہم نہ کہیں کہ امامیہ دوسروں پر متقدم ہیں، کم از کم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دوسروں سے متاخر نہیں ہیں۔

کلام امامیہ کا معتزلی اور اشعری کلام سے تعلق

اس میں شک نہیں ہے کہ عالم اسلام کے فکری مکاتب ساتھ ساتھ معرض وجود میں آئے ہیں اور یہ مکاتب ایک دوسرے سے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ کلام شیعہ بھی ایک خاص اور مستقل علمی نظام کے عنوان سے اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہے۔

عالم اسلام کے تینوں کلامی مکاتب ـ یعنی امامیہ، معتزلہ اور اشاعرہ، بعض مسائل میں متفق القول ہیں اور بعض دوسرے مسائل میں دوسرے دو مکاتب سے مختلف ہیں۔

شیعہ کلام بھی دوسرے مکاتب پر اثر انداز ہوا ہے نیز ان سے متاثر ہوا ہے۔ لیکن اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلام امامیہ کسی اور رجحان کے دامن میں پروان چڑھا ہے یا یہ کسی دوسرے فرقے کے سہارے قائم ہے؛ بلکہ کلام شیعہ نے اپنا مستقل تشخص کو محفوظ رکھا ہوا ہے اور اس کا عام نقطۂ نظر کسی بھی دوسرے مکتب کے زیر اثر، تبدیل نہیں ہوا ہے۔

شیعہ کلام اور معتزلی آراء

بعض مستشرقین نیز مسلم مؤلفین، نے گمان کیا ہے کہ شیعہ کلامی آراء میں معتزلی مکتب سے متاثر تھیں اور شیعہ کلامی مکتب استقلال سے بہرہ ور نہ تھا۔[4]

احمد امین کا کہا ہے: "شیعہ اصول دین سے متعلق بہت سے مسائل میں معتزلہ کے ساتھ ہمآہنگ ہیں؛ جیسے: صفات کی ذات کے ساتھ عینیت، قرآن کا مخلوق ہونا، کلامی نفسی کا انکار، خداوند عالم کی بصری رؤیت کی نفی، عقلی حسن و قبح، انسان کی قدرت و اختیار، خداوند متعال سے قبائح کا عدم صدور، الہی افعال کا اغراض و غایات سے معلَّل ہونا..."۔

احمد امین مصری بعدازاں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کس کلامی مکتب نے کس مکتب سے اثر قبول کیا ہے؟ اور لکھا ہے: "بعض شیعہ علماء کی رائے یہ ہے کہ معتزلہ نے اپنے اصول عقائد ان سے اخذ کئے ہیں لیکن میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ شیعہ نے اپنے اصول عقائد معتزلہ سے اخذ کئے ہیں، جیسا کہ مذہب معتزلہ کا مطالعہ بھی اس بات کی تائید کرتا ہے، اور زیدیہ شیعوں کے پیشوا زید بن علی واصل بن عطا کے شاگرد ہیں اور [شیعہ مذہب کے پیشوا جعفر صادق(ع) اپنے چچا زید کے ساتھ رابطے میں تھے... اور دوسری طرف سے بہت معتزلی مذہب شیعہ کی طرف رجحان رکھتے تھے اور نتیجہ یہ کہ ان افراد کے توسط سے معتزلی اصول عقائد مذہب شیعہ میں منتقل ہوئے"۔

احمد امین کے دعوے کا تنقیدی جائزہ

اس دعوے کو مختلف دلائل کی بنا پر قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ:

  • جیسا کہ کہا گیا شیعہ [اعتقادی نظام] بہت سے مسائل میں معتزلہ سے قبل ہی تشکیل پا چکا ہے اور شیعہ علماء نے کلامی مسائل پر بحث و تمحیص کا آغاز کیا ہے۔ اور منطق کا تقاضا ہے کہ جو مکتب متقدم ہے وہ اپنے بعد کے مشابہ مکتب پر اثّر انداز ہوا ہے۔ چنانچہ کہنا چاہئے کہ مذہب اعتزال نے کلام امامیہ کی پیروی کی ہے نہ کہ امامیہ نے معتزلہ کی۔[5]
  • عدل اور توحید کے سلسلے میں شیعہ روایات اور دوسرے کلامی مباحث و موضوعات، نیز معتزلہ کے اکابرین کی اس تصریح و اعتراف کو مدنظر رکھا جائے کہ انھوں نے اپنے مکتب کے اصول امام علی(ع) سے اخذ کئے ہیں، تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ احمد امین کا نظریہ نص کے مقابلے میں اجتہاد ہے؛ جس کا حقیقت پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔[6]
  • کلام امامیہ کی روش معتزلیوں سے مختلف ہے۔ امامیہ نے اپنے زیادہ تر اصول اپنے ائمہ معصومین(ع) سے اخذ کئے ہیں۔ اس مضمون کی اگلی سطور میں شیعہ کلامی روش بیان ہوگی۔
  • شیعہ مکتب نے ـ جو اصول ائمہ(ع) سے اخذ کئے ہیں ـ وہ برہانی عقل پر منطبق ہیں اور فلاسفہ نے بھی اس کے لئے برہان بھی قائم کیا ہے۔ چنانچہ معتزلہ اور شیعہ کی آراء کے درمیان شباہت کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ معتزلیوں نے اپنی آراء کے اثبات کے لئے فلسفے سے استفادہ کیا ہے؛ نہ یہ کہ امامیہ نے اپنے اصول معتزلہ سے اخذ کئے ہیں۔[7]
  • اس دعوے کے لئے کوئی ناقابل انکار دلیل نہیں ہے کہ زید بن علی واصل بن عطا کے شاگرد تھے، اور بعید از قیاس ہے کہ علوی خاندان کے تربیت یافتہ فرد نے [اپنے والد] امام زین العابدین اور [اپنے بھائی] امام محمد باقر علیہما السلام جیسے معلمین کے باوجود ایسے شخص سے اپنے عقائد اخذ کئے ہوں جو عمر کے لحاظ سے ان کا ہم عمر یا ان سے چھوٹا ہو! اور اگر بالفرض یہ دعوی درست ہو، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ زیدیہ اپنے عقائد میں معتزلہ کے پیرو تھے، چنانچہ امامیہ اثنا عشریہ ان کے پیروکار نہ تھے جبکہ متکلمین امامیہ کی اکثریت اثنا عشری تھے۔
  • امامیہ تمام کلامی مسائل میں معتزلہ کے ساتھ مکمل ہمآہنگی نہیں رکھتے؛ معتزلہ کے ساتھ امامیہ کے کلامی اختلافات اگلی سطور میں بیان ہوئے ہیں۔
  • یہ ایک فرض اور ایک تصور سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ معتزلہ کی اکثریت تشیع کی طرف مائل ہے، کیونکہ امامت سے متعلقہ مباحث میں تشیع کے ساتھ ان کی مخالفت کے لئے بیان کی ضرورت نہیں ہے؛ شیعہ اور معتزلہ کے درمیان متعدد مناظرات بھی ان ہی اختلافات کا ثبوت ہیں۔ سیاسی لحاظ سے بھی صرف آل بویہ (چوتھی صدی ہجری) کے شیعہ حکمرانوں کے زمانے میں ـ جو معتزلہ کے ساتھ روادارانہ سلوک روا رکھتے تھے ـ معتزلی اہل تشیع کے قریب آئے حالانکہ قبل ازاں ان کے درمیان ایسا کوئی تعلق نہ تھا؛ یہی نہیں بلکہ ان کے درمیان مسلسل کشمکش جاری رہتی تھی۔

اور ہاں! اگر معتزلیوں کے اہل تشیع کی طرف رجحان سے مقصود اہل بیت رسول(ص) کی محبت و مودت ہے تو کہنا چاہئے کہ اشاعرہ اور حنابلہ بھی اسی طرح کا رجحان رکھتے تھے اور اگر مقصود دوسرے خلفاء پر حضرت علی(ع) کی برتری کا عقیدہ ہے تو صرف بغداد کے معتزلیوں کی اکثریت اس عقیدے پر تھی کیونکہ وہ خلفاء کی خلافت پر یقین کے ساتھ ساتھ، اس اعتقاد میں راسخ تھے کہ علی علیہ السلام ان پر برتری رکھتے ہیں لیکن اگر تشیّع سے مراد یہ عقیدہ ہو کہ امام علی(ع) اور دوسرے ائمہ(ع) کی امامت منصوص من جانب اللہ ہے، تو شیعہ اس سلسلے میں منفرد اور اپنی مثال آپ ہیں۔

امامیہ اور معتزلہ کے درمیان اختلافی کلامی مسائل

آیت اللہ سبحانی معتزلہ اور امامیہ کے درمیان اختلافی مسائل ـ جن میں امامیہ غالبا اشاعرہ کے ساتھ اتفاق رائے رکھتے ہیں ـ کی فہرست کو یوں بیان کرتے ہیں:[8]

  1. شفاعت: تمام مسلمان اصولی طور پر شفاعت کے بارے میں اتفاق رائے رکھتے ہیں؛ امامیہ اور اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد رسول اللہ(ص) کی شفاعت سے، جہنم سے خارج ہونگے یا ان کے عذاب میں تخفیف دی جائے گی؛ جبکہ معتزلہ کا عقیدہ تھا کہ شفاعت صرف ان افراد کے لئے مختص ہے جو مطیع اور ثواب کے مستحق ہیں اور شفاعت کے ذریعے ان کے درجات مزید بلند ہونگے۔
  2. گناہ کبیرہ کا مرتکب: امامیہ اور اشاعرہ کی رائے کے مطابق گناہ کبیرہ کا مرتکب شخص مؤمنین کے زمرے میں شمار ہوتا ہے لیکن وہ فاسق ہے؛ حالانکہ معتزلہ کا عقیدہ تھا کہ ایسا شخص مؤمن ہے نہ ہی کافر، بلکہ وہ کفر اور ایمان کے بیچوں بیچ (منزلة بین المنزلتین) واقع ہے۔
  3. جنت اور جہنم: امامیہ اور اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ جنت اور جہنم اسی وقت خلق شدہ ہیں اور موجود ہیں؛ جبکہ معتزلیوں کی اکثریت کا عقیدہ ہے کہ جنت اور جہنم کی خلقت نہیں ہوئی ہے۔
  4. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: امامیہ اور اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نقلی طور پر موجود ہیں جبکہ معتزلی کہتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وجوب عقلی ہے۔
  5. احباط: امامیہ اور اشاعرہ نے احباط کو باطل سمجھا ہے اور شرک سمیت بعض خاص گناہوں کی صورت میں اس کو صحیح سمجھتے ہیں حالانکہ معتزلہ کا عقیدہ تھا کہ متاخرہ گناہ متقدمہ ثواب کو نابود کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی پوری عمر عبادت کرے اور آخر عمر میں ایک جھوٹ بولے تو گویا اس نے کبھی بھی کوئی عبادت نہیں کی ہے۔
  6. عقل و شرع: معتزلہ عقل کا سہارا لینے میں زیادہ روی کے راستے پر گامزن ہوئے یہاں تک کہ وہ ان احادیث کو رد کرتے تھے جو ان کی عقل سے ناسازگار و نا ہم آہنگ ہوتی تھیں۔
  7. توبہ: معتزلیوں کا کہنا تھا کہ توبہ عقلی طور پر عذاب کو ساقط کردیتی ہے جبکہ امامیہ اور اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ توبہ کی قبولیت اللہ کا فضلت ہے نہ یہ کہ عقلا خداوند متعال پر واجب ہو کہ انسان کی توبہ قبول کرے۔
  8. ملائکہ پر انبیاء کی برتری: امامیہ کی رائے کے مقابلے میں انبیاء ملائکہ پر فوقیت رکھتے ہیں حالانکہ معتزلیوں نے اس عقیدے کی مخالفت کی۔
  9. تفویض: معتزلہ تفویض کے قائل تھے جبکہ شیعہ عقیدہ امر بین الامرین پر استوار ہے۔
  10. فرائض: شیعہ اور اشاعرہ کا عقیدہ ہے کہ فرائض کے وجوب کی ابتدا کے لئے انبیاء کی ضرورت ہے لیکن معتزلیوں کا کہنا تھا کہ عقل نقل سے بالکل مستقل اس سلسلے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

کلام امامیہ و مکتب اشعری

البتہ امامیہ اور اشعریہ کے درمیان کلامی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

امامیہ اور اشاعره کے درمیان اختلافی مسائل

کلام امامیہ اور اشاعرہ کے درمیان بھی متعدد موضوعات پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان کی فہرست کچھ یوں ہے:[9]

  1. ذات و صفات کی عینیت: شیعہ اور معتزلہ خداوند متعال کی ذات اور صفات ـ منجملہ علم و قدرت ـ کے بارے میں اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ یہ صفات عینِ ذات ہیں؛ تاہم اشاعرہ کا خیال ہے کہ اللہ کی ذاتی صفات بھی قدیم ہیں اور یہ صفات اللہ کی ذات پر زائد [اور عارض] ہیں۔
  2. صفات خبریہ: یہ وہ صفات ہیں جو قرآن اور حدیث میں وارد ہوئی ہیں؛ جیسے خدا کا ہاتھ اور چہرہ ہونا۔ امامیہ اس طرح کی صفات کی تاویل کرتے ہیں کیونکہ خدا کے لئے ہاتھ اور چہرے کے قائل ہونے سے تشبیہ اور تجسیم کا عقیدہ لازم آتا ہے جبکہ اشاعرہ ان آیات کے ظاہری معانی کے قائل ہوئے ہیں۔
  3. جبر و اختیار: کلام امامیہ میں نظریۂ امر بین الامرین کے تحت انسان کے افعال حقیقتاً اسی کی جانب منسوب ہیں؛ لیکن اشاعرہ کے نظریئے کے مطابق انسان کا اپنے افعال میں کسی قسم کا کردار نہیں ہے اور فعل اللہ کی مخلوق ہے۔
  4. استطاعت: اشاعرہ کے عقیدے کے مطابق، افعال کی انجام دہی کی انسانی استطاعت، ہمیشہ فعل کی انجام دہی کے موقع ہی پر اس کے اندر معرض وجود میں آتی ہے۔
  5. خدا کی رؤیت: اشاعرہ کے مطابق خداوند متعال کی رؤیت قیامت کے دن آنکھوں کے ذریعے ممکن ہے؛ جبکہ امامیہ اور معتزلہ اس کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں۔
  6. کلام خدا: امامیہ اللہ کے کلام کو اس کا فعل اور نتیجتاً حادث سمجھتے ہیں؛ لیکن اشاعرہ نفسی کلام کے قائل ہوئے ہیں اور اس کے کلام کو ذاتی اور قدیم سمجھتے تھے۔
  7. حسن و قبح عقلی: اشاعرہ، امامیہ اور معتزلہ کے برعکس، معتقد تھے کہ عقل تنہائی میں امور کی خوبی (=حسن) اور بدی (=قبح) کا ادراک نہیں کرسکتی ہے۔

کلام امامیہ میں بحث کی روش

کلام امامیہ عقلی استدلال کی روش کی پیروی کرتا ہے اور عقلی تفکر کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے، لیکن کلام معتزلہ کے ساتھ اس کا فرق اس لحاظ سے ہے کہ وہ صرف ایک معمولی عقل سے استناد نہیں کرتا اور اس نے عقلِ مافوق (یا عقل برتر یعنی کلام کے معصوم معلمین کی عقل) کو اپنی تکیہ گاہ اور سہارا قرار دیا ہے؛ اور اسی بنا پر دینی معارف کی تشریح اور بیان میں ہر قسم کی لغزش اور انحراف سے محفوظ رہا اور ہر جگہ اور ہر زمانے میں اعتدال (= امر بین الامرین) کے راستے پر گامزن رہا ہے۔

جس طرح کہ استاد مطہری نے یادآوری کرائی ہے شیعہ تفکر و تعقل نہ صرف ـ مذہبی عقائد میں کلی طور پر استدلال کے مخالف ـ حنبلی تفکر، اور ـ عقل کی بنیادی حیثیت سلب کرکے اس کو ظواہرِ الفاظ کے سامنے رکاوٹ قرار دینے والے ـ اشعری تفکر سے مخالفت اور مغایرت رکھتا ہے بلکہ ـ عقل پسندی پر اس قدر تاکید کرنے والے ـ معتزلی تفکر کے ساتھ مخالف ہے، کیونکہ معتزلی تفکر اگرچہ عقلی ہے لیکن جدلی ہے اور برہانی نہیں ہے؛ چنانچہ اسی بنا پر فلاسفہ کی غالب اکثریت کا تعلق تشیع سے ہے۔

اصولی طور پر اسلامی معارف میں گہرے عقلی موضوعات پر پہلی بار علی(ع) نے اپنے خطبات، دعاؤں اور مذاکرات میں بحث کی ہے اور ان مباحث کا رنگ اور اس کی روح معتزلی اور اشعری کلامی روشوں سے ہی نہیں بلکہ اپنے زمانے کے کلامی مکاتب سے متاثرہ بعض شیعہ علماء سے بھی مغایرت رکھتی ہے۔

شیعہ احادیث میں کلامی مباحث پر تحقیق ـ دقیق ترین عقلی اور برہانی روش پر انجام پائی ہے اسی بنا پر دینی معارف کے سلسلے میں شیعہ احادیث، امامیہ فلاسفہ اور حکماء کا نہایت اہم اور بنیادی منبع سمجھی جاتی ہیں اور اسلامی کلام اور فلسفے کا کمال و استحکام ان ہی اعلی اور برتر افکار سے بہرہ وری کا مرہون منت ہے۔

شہید مطہری اسلامی فلسفے پر نہج البلاغہ کے اثرات کے بارے میں کہتے ہیں: "مشرقی فلسفے کی تاریخ میں نہج البلاغہ کا بہت عظیم حصہ ہے، صدر المتالہین ـ جنہوں نے الہی حکمت (= Theosophy) کو دیگرگوں کردیا ـ امیرالمؤمنین(ع) کے کلمات کے زیر اثر تھے۔ توحید کے مسائل میں ان کے استدلال کی روش "ذات سے ذات پر" اور "ذات سے صفات اور افعال" ہے اور یہ سب واجب (= خدا) کے "صرف الوجود" ہونے پر مبنی ہے، اور وہ بعض دیگر کلی اصولوں کی بنیاد پر ـ جو ان کے عام فلسفے میں زیر بحث ہیں ـ استوار ہے..."۔

علامہ طباطبائی شیعہ کلام کے ساتھ معتزلی کلام کے تمایز اور فرق کے بارے میں کہتے ہیں: "بعض خطاب سے دوچار ہوئے ہیں اور انھوں نے شیعہ کلام کو معتزلی کلام کے ساتھ یکسان قرار دیا ہے؛ اس تصور کے غلط ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جو اصول ائمۂ اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں، اور امامیہ ان پر اعتماد اور یقین رکھتے ہیں، معتزلہ کے ذائقے کے ساتھ سازگار نہیں ہیں"۔

محقق لاہیجی کا موقف

محقق لاہیجی نے کلام امامیہ کی خصوصیت یوں بیان کی ہے: "سابقہ کلمات سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ چونکہ "کلام مشہور" ـ جس نے اشعریت اور اعتزال کو تقسیم کر دیا ہے ـ چونکہ غیریقینیات پر استوار ہے اور معتبر اور یقینی معارف تک پہنچنے کے لئے غیر یقینیات کا سہارا، صحیح نہیں ہے"۔ وہ اس کے بعد یقینی معارف کی تشریح و بیان کے سلسلے میں حکماء اور انبیاء کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں: "جو مقدمات معصوم سے اخذ کئے جائیں وہ "برہانی قیاس" میں اولیات کے مترادف ہے۔ اور اگر برہانی قیاس یقین تک پہنچا دے تو وہ دلیل جو معصوم سے ماخوذہ مقدمات سے تشکیل پائی ہے، قطعی طور پر یقین تک پہنچا دیتی ہے؛ وہ یوں کہ جو بھی "قول معصوم" ہے وہ حق ہے، پس یہ مقدمہ حق ہے۔ پس اس قسم کا کلام صواب اور درستی کے حصول کا سبب ہے اور یقین تک پہنچانے کے لئے طریقۂ برہان میں شریک ہوگا اور فرق یہی ہے کہ حکمت کی روش تفصیلی یقین تک پہنچا دیتی ہے اور یہ طریقہ اجمالی یقین تک۔ اور یہ ہشام بن حکم سمیت قدیم امامیہ متکلمین کی روش ہے اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں ثابت ہے کہ "جو کلام سے ہم سے ماخوذ ہے، ممدوح ہے اور جو غیر سے لیا جائے مذموم ہے" اور مراد یہی کلام ہے جس کا تذکرہ ہوا"۔

اس گران قدر محقق کا نظریہ اس لحاظ سے مضبوط اور استوار ہے کہ ان کی رائے ہے کہ کلام امامیہ کی خصوصیت و نقطۂ امتیاز یہ ہے کہ یہ معصومین(ع) سے بہرہ ور ہے؛ لیکن اس کے باوجود اس پر تنقید وارد ہے کیونکہ ایک شیعہ متکلم تمام موضوعات میں اپنا مدعا معصومین(ع) کے کلام سے استناد کرکے، ثابت اور مخالف نظریات کو رد نہیں کرسکتا۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ مد مقابل شخص معصوم کے وجود کا اس انداز سے قائل نہ ہو جس طرح کہ امامیہ قائل ہیں۔ علاوہ ازیں نبوت، اعجاز قرآن، عصمت وغیرہ جیسے کلامی مسائل کو کلام معصوم کے سہارے ثابت نہیں کیا جاسکتا اور اصطلاحا یہ موضوعات بذات خود معصوم راہنماؤں کے کلام کی "حجیت" کے مقدمات و تمہیدات ہیں۔

بےشک جب ایک شیعہ متکلم دینی معارف و مفاہیم کو معصوم(ع) کے معتقدین کے لئے بیان کرنا چاہے، وہ متذکرہ بالا روش سے استدلال کرسکتا ہے اور اس کا استدلال برہانی ہوگا، کیونکہ کلام معصوم(ع) بلاشک واقع (= Fact) کے عین مطابق ہے اور "قضایائے یقینیہ" کے زمرے میں آتا ہے۔ اور یہ جو انھوں نے کہا ہے کہ "ائمہ(ع) نے اس کلام کو ممدوح قرار دیا ہے جو ان سے ماخوذ ہو"، اسی پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شیعیان اہل بیت(ع) کے لئے دینی عقائد بیان کرنا چاہے وہ معتزلی اور اشعری کلامی نظریات اور قواعد کو بنیاد نہ بنائے کیونکہ ان میں بہت سے لغزشیں اور غلطیاں پائی جاتی ہیں اور "اللہ کے ارادے"، "خدا کی رؤیت"، "جبر و اختیار"، "عصمت"، "امامت" جیسے اہم موضوعات "معاد" سے متعلق موضوعات، جیسے اہم مسائل میں ان کی خطائیں مسلم اور واضح و آشکار ہیں؛ اور مقصود ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہر کلامی مسئلے میں ـ حتی مخالفین کے ساتھ بحث میں، جو امام معصوم(ع) کو تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوں ـ کلام معصوم سے استناد کرنا چاہئے۔

مثلا، کیا یہ صحیح ہے کہ امامت اور امام کے لئے عصمت کی شرط نیز خدا کی طرف سے امام کے تعین کی بحث میں امام معصوم(ع) کے کلام سے استناد کیا جائے یا اللہ کے وجود کے اثبات کے لئے آیات قرآن کے مدلول کا سہارا لیا جائے؟

اگر اس قسم کے موضوعات میں کہیں آیت یا حدیث کا حوالہ دیا جائے تو وہ اس لئے ہے کہ درحقیقت وہ آیت یا حدیث عقلی دلیل پر مشتمل ہے، جو واضح اور عام فہم انداز سے بیان ہوئی ہے، اور یہ جو ہم نے دیگر کلام مکاتب کے مقابلے میں کلام شیعہ کی وحی اور معصومین کے اعلی افکار سے بہرہ وری کو اس کلام کا نقطۂ امتیاز قرار دیا ہے، اس کا مطلب یہی ہے؛ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کی راہنمائیاں اور کلمات تابندہ چراغ اور نشان راہ ہیں جو عقل سامنے ظلمانی آفاق کو روشن کردیتی ہیں اور بنی نوع انسان کے عقلی تفکر کے لئے نئے دروازے کھول دیتی ہیں، اور نہ صرف اس کے راستے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کرتیں بلکہ مقصود تک پہنچتے میں اس کی دستگیری کرتی ہیں۔

کلام امامیہ، ارتقائی سفر اور ادوار

علم کلام میں تحول و تطور سے مقصود یہ ہے کہ متکلم، جدید کلامی مسائل کو بخوبی پہچان لے اور مناسب روشوں کو بروئے کار لاکر ان کا جائزہ لے؛ چنانچہ ہر قسم کے تبدیلی اور ارتقاء کو علم کلام کے مسائل میں ڈھونڈنا چاہئے نہ کہ اس کے موضوع، یا غایت و مقصد یا حتی کہ اس کی عام روشوں میں۔ کلامی مسائل ابتداء میں سادہ اور محدود انداز سے پیش کئے گئے ہیں لیکن رفتہ رفتہ ان کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوا ہے۔

یہ کہ ـ کلام کے مباحث اور مسائل کے تطور اور فروغ و رواج کے اسباب کیا ہیں؟ ـ بعض نے کہا ہے کہ اس کا سبب فلسفہ کی توسیع ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ غیر دینی علوم کا ارتقاء ہے۔[10] لیکن نظر یوں آتا ہے کہ متذکرہ بالا دو اسباب کے علاوہ ـ سماجی، سیاسی اور ثقافتی و تہذیبی تغیرات و تبدلات جیسے ـ دوسرے اسباب بھی علم کلام کے تحول و تطور اور ارتقاء میں مؤثر رہے ہیں۔[11]

علم کلام کے تاریخی ادوار

مختلف معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے علم کلام کی مختلف زمرہ بندیاں کی جاسکتی ہیں۔ اس مضمون میں اس "ڈھانچوں میں ارتقاء و تبدیلی" نیز "مختلف نقطہ ہائے نظر اور رجحانات" کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

ڈھانچے کے لحاظ ارتقا

اس حوالے سے اس کے لئے کئی مراحل تصور کئے جاسکتے ہیں:

  1. تکوین [اور وجود میں آنے] کا مرحلہ: پیغمبر اکرم(ص) کا زمانہ،
  2. پھیلاؤ اور فروغ کا مرحلہ: عصر خلفاء سے دوسری صدی ہجری کے ابتدائی عشروں تک۔
  3. موضوعاتی تدوین کا مرحلہ: دوسری اور تیسری صدی ہجری۔ سب سے پہلے جس فرد نے شیعہ کلام میں موضوعاتی تدوین کے سلسلے میں اقدام کیا وہ "علی بن اسمعیل بن میثم تمار (متوفی 179 ہجری قمری) تھے جنہوں نے الامامۃ والاستحقاق نامی کتاب تالیف کی[12] بعد ازاں دوسروںنے کلامی موضوعات ـ بالخصوص توحید اور عدل میں رسائل لکھے[13] گوکہ ان کتب و رسائل میں سے بہت محدود منابع ہماری دسترس میں ہیں لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ رسائل بہت مختصر اور چھوٹے تھے، جیسا کہ امام رضا(ع) اور عبدالعظیم حسنی کے رسائل ایسے ہی تھے۔[14] اس مرحلے کو تیسری صدی ہجری میں وسعت ملی اور چوتھی صدی میں عروج تک پہنچا۔
  4. موضوعاتی تشرح و ترتیب کا مرحلہ: تیسری اور چوتھی صدی ہجری۔ اس مرحلے میں امامیہ متکلمین نے ـ معتزلہ، اہل حدیث وغیرہ جیسے مخالف کلامی مکاتب کے معرض وجود میں آنے نیز [[امام مہدی علیہ السلام|امام زمانہ[[(عج) کے پردہ غیب میں چلے جانے کے پیش نظر ـ مکتب اہل بیت کی بنیاد پر کلامی مسائل کی تشریح کی اور انہیں خاص موضوعات میں تقسیم کیا اور ساتھ ہی شبہات اور اعتراضات کا جواب دیا۔ اسی سلسلے میں ابو سہل نوبختی (متوفی سنہ 311 ہجری قمری) نے التنبیہ نامی کتاب امامت کے موضوع پر تالیف کی؛ ابن قبہ نے الانصاف نامی کتاب بھی اسی موضوع پر لکھی۔ شیخ صدوق (متفی سنہ 381 ہجری قمری) نے خدا کی صفات اور تشبیہ کی نفی کو موضوع بنا کر اپنی کتاب التوحید اور غیبت (امام مہدی(ع) کو بنیاد بنا کر کتاب کمال الدین و تمام النعمہ تالیف کی۔
  5. ڈھانچہ بندی کا مرحلہ: پانچویں اور چھٹی صدی ہجری۔ شیخ مفید (متوفی 413ہجری قمری) نے کلام امامیہ کو ڈھانچہ اور نظم و ترتیب دی، ـ جیسا کہ اگلی سطور میں مفصل اشارہ ہوگا ـ، سید مرتضی (متوفی 436ہجری قمری) اور شیخ طوسی اور دوسرے علماء نے اس کو کمال تک پہنچایا۔
  6. ارتقاء کا مرحلہ: ساتویں صدی ہجری۔ خواجہ نصیر الدین طوسی (متوفی سنہ 673ہجری قمری) نئی، تخلیقی اور جامع نظم و ترتیب دے کر کلام کو تحول اور ارتقا کی عروج تک پہنچایا۔[15]
  7. شرح و تلخیص کا مرحلہ: آٹھویں سے چودھویں صدی ہجری تک۔ زیادہ تر کلامی تالیفات سابقہ کاوشوں ـ بالخصوص خواجہ نصیر الدین طوسی کی زندہ جاوید تالیف [تجرید الاعتقاد]] ـ کی تلخیص یا تشریح کرکے لکھی گئی ہیں اور محقق عبدالرزاق لاہیجی (متوفی سنہ 1072ہجری قمری) کی کتاب شوارق الالہام ان تالیفات کا اعلی نمونہ ہے۔
  8. اصلاح اور قوائیت (= تحرک یا Dynamism) کا مرحلہ: چودھویں صدی کے نصف دوئم سے حال حاضر تک۔ یہ مرحلہ سیاسی، معاشرتی اور فکری وجوہات کی بنا پر وجود میں آنے والے طویل تعطل کے بعد پیش آیا اور اس کا آغاز تیرہویں اور چودھویں صدی کے دوران سید جمال الدین کے ہاتھوں ہوا اور شیخ محمد عبدہ، علامہ طباطبائی، شہید مطہری، شہید بافر الصدر اور دوسروں نے اس ارتقائی عمل کو جاری رکھا اور اس وقت پوری قوت سے جاری ہے۔

نقطۂ ہائے نظر کے لحاظ سے

بلحاظ نقطہ ہائے نظر و رجحانات، علم کلام ـ بالخصوص شیعہ کلام ـ کے تاریخی ادوار کا جائزہ یوں لیا جاسکتا ہے:

  1. کلام عقلی و نقلی: ائمۂ معصومین علیہم السلام کا زمانہ۔ شیعہ کلام اپنے ابتدائی مراحل میں عقلی اور نقلی پہلؤوں پر مشتمل ہے؛ یعنی عقلی اور غور و تامل تجزیوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وحی سے استناد کو بھی اپنے طرزعمل میں مد نظر رکھتا ہے۔
    اس نقطۂ نظر کا عروج امیرالمؤمنین(ع)، امام صادق(ع) اور امام رضا(ع) کے زمانے میں دکھائی دیتا ہے۔
  2. نقلی کلام: آئمہ(ع) کا دوسرا دور، غیبت صغری (انتہا: سنہ 329 ہجری قمری) کے بعد اور شیخ صدوق (متوفی سنہ 381 ہجری قمری) تک۔ دوسرے دور سے امام رضا(ع) ـ بالخصوص جب آپ مدینہ میں تھے ـ اور آپ(ع) کے بعد کے ائمہ کا دور مراد ہے۔
  3. عقلی کلام: پانچویں سے چھٹی صدی ہجری تک۔ شی مفید]]، سید مرتضی، شیخ طوسی وغیرہ
  4. فلسفی کلام: ساتویں صدی ہجری۔ خواجہ نصیرالدین طوسی (متوفی سنہ 672ہجری قمری)۔
  5. کلام اخباریت کے غلبے کے ساتھ: علامہ مجلسی (متوفی سنہ 1111 ہجری قمری) اور محمد محسن فیض کاشانی (متوفی سنہ 1092ہجری قمری)...
  6. کلام عقل، نقل اور فلسفے کی آمیزش کے ساتھ: معاصر دور: چودہویں صدی ہجری سے آج تک۔ گوکہ اس تفکر کے بانی ملا صدرا (متوفی سنہ 1050 ہجری قمری) تھے۔ وہ عقل، نقل اور فلسفے کے علاوہ عرفانی اصولوں اور مفاہیم کو بھی بروئے کار لاتے ہیں اور دین کو عقل اور اشراق کے ساتھ ہمآہنگ کردیتے ہیں۔[16]

امامیہ کے کلامی رجحانات

جیسا کہ دوسری تقسیم سے معلوم ہوتا ہے، شیعہ متکلمین کے درمیان ذیل کے رجحانات پائے جاتے ہیں:

  1. نصّ پسندی، (قرآن و حدیث کی طرف رجحان)
  2. تاویلی عقل پسندی
  3. فلسفی عقل پسندی

نصّوصی رجحان

  • نصّ:نصّ ایک اصطلاح ہے جو دو معنی میں استعمال ہوتی ہے ۔: کبھی نصّ کو ظاہر کے مقابلے میں بروئے کار لایا جاتا ہے[17] اور کبھی نص کو "نقل"(الفاظ) کے معنی میں اور "عقل" کے مقابلے میں لایا جاتا ہے۔ یہاں نص کو عقل کے مقابلے میں لایا گیا ہے اور اس سے مراد ہر اس متن کے الفاظ ہیں جس کی جڑیں وحی میں پیوست ہوں؛ بالفاظ دیگر یہ نص وہ وحیانی الفاظ ہیں جس میں قرآن و حدیث شامل ہیں۔[18]۔[19]
  • ایک فکری نظام ہے جس میں دینی نصوص پر جمود برتا جاتا ہے اور انسان عقل کو بہت سے دینی معارف کی توجیہ و تاویل سے عاجز و بے بس سمجھا جاتا ہے۔ اس روش میں نص ، کتاب و سنت کے ظواہر کو دینی معارف تک پہنچنے کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔[20]۔[21]
اس تفکر کے پیروکار اگرچہ سب ایک ہی مرتبے میں نہیں ہیں لیکن عقل سے بےرخی برتنا ان کی مشترکہ خصوصیت ہے۔[22]۔[23] اس روش اور رائے کے مطابق "عقل کی راہنمائی صرف اس وقت تک مفید ہے جب تک کہ وہ ہمارا ہاتھ دینی راہنماؤں کے ہاتھ میں دیتی رہے اور اس کے بعد وہ (عقل) اپنے آپ کو خادم شریعت سمجھے اور آیات و احادیث کی پیروی اختیار کرے"۔ نصوصی رجحان کے پیروکار دینی معارف کا دفاع کرتے ہوئے عقلی دلائل سے بھی استفادہ کرتے ہیں لیکن ان کا عقیدہ ہے کہ "اگر عقل کتاب سنت کے الفاظ کے ظواہر سے زیادہ گہرائی میں جاکر فہم و ادراک حاصل کرنا چاہے تو وہ ناکام ہوگی۔[24]
أ۔ بعض لوگوں نے اہل حدیث اور حشویہ کی روش[28] حدیث اپنائی۔ یہ لوگ کسی بھی قید و شرط کے بغیر احادیث کے حامی تھے اور اس عقیدے پر تھے کہ دینی مباحث و موضوعات میں صرف ائمہ(ع) کے اقوال سے استناد کرنا چاہئے۔[29]۔[30]
یہ لوگ استدلال کی قوت اور اجتہادی اصول سے محرومیت اور کوئی بھی نئی فکر نہ رکھنے کی وجہ سے، لائق توجہ نہیں ٹہرے ہیں اور فقہی اور کلامی منابع و مآخذ میں ان سے استناد نہیں ہوا ہے۔[31] ابوالحسین علی بن عبداللہ بن وصیف (سنہ 366 ہجری قمری) ان ہی لوگوں میں سے ہے۔[32]
ب۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو تنقیدی نگاہ سے نقل حدیث پر عقیدہ رکھتے تھے تاہم وہ تحفظات پر مبنی تنقید کے قائل تھے۔[33] یہ لوگ احادیث کو علم رجال و حدیث کے صحیح اصولوں کے ذریعے نقادی کرتے تھے اور ہر روایت و حدیث کو ہر شکل و صورت میں قبول نہیں کرتے تھے۔[34]۔[35]۔[36]
یہ لوگ بھی دینی مباحث میں صرف معصومین علیہم السلام سے استناد کرتے تھے لہذا وہ دینی مجامع کی تجمیع و تدوین کا اہتمام کرتے تھے اور عقلی اور کلامی استدلال سے ـ جو اتفاق سے ہشام بن حکم، مؤمن طاق، علی بن اسمعیل بن میثم تمار اور فضل بن شاذان کی روش تھی ـ دور تھے، اسی بنا پر شیعہ امامیہ کچھ عرصے تک کلامی مباحث اور فعالیتیوں سے بےبہرہ تھے اور صرف دینی تعالیم و معارف ـ بالخصوص توحید اور امامت جیسے موضوعات میں ـ کلامی بحث کرتے تھے لیکن ان کی کلامی بحث بھی نقلی پہلو اپنا چکی تھی؛[37] خواہ احادیث کے متن کی نقل کی صورت میں، خواہ ان کے مندرجات اور مضامین کی صورت میں۔[38]۔[39]۔[40]
ج۔ کلامی روش:
نص پسندوں کے درمیان شیخ صدوق کے نمایاں حیثیت کے حامل ہونے کے باعث، کلامی مسائل میں ان کی روش، اس روش کے پیروکاروں کی فکری - کلامی روش کی آئینہ دار ہوسکتی ہے:
وہ جب بھی کوئی اعتقادی مشکل حل کرنے کے یا کسی اعتقادی مسئلے کا جواب دینے کے درپے ہوتے تھے، کوشش کرتے تھے کہ دلیل و برہان کے بغیر (تاہم کتاب و سنت اور عقل صائب سے استناد کرتے ہوئے) حدیث یا احادیث نقل کرتے تھے، حتی کہ ان کی کتب اعتقادات الامامیہ اور کتاب الہدایہ میں متذکرہ مباحث و موضوعات بھی تمام کے تمام احادیث اور روایات ہیں جن میں کبھی کئی احادیث کے اجزاء کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے، تا کہ ایک اعتقادی مسئلے کو بیان کیا جاسکے۔ اس کے باوجود، وہ کلامی آراء اور عقائد پر یقین رکھتے تھے، لہذا اگر کسی حدیث کا ظاہری مفہوم ـ مثال کے طور پر توحید اور عدل کے بارے میں متفقہ عقائد سے متصادم ہوتی تھی، وہ ان کی تفسیر و توجیہ کرتے تھے۔[41]
علامہ مجلسی نے بھی اسی صراحت کے ساتھ ان کی کلامی روش کی پیروی کی ہے؛ وہ مذہب امامیہ کے بارے میں شیخ صدوق کا مکمل بیان نقل کرنے کے بعد، واضح کرتے ہیں کہ گوکہ اس بیان میں بعض املا شدہ مسائل، امامیہ کے ہاں مشہور آراء کے ساتھ سازگار نہیں ہیں، لیکن میں نے ان مسائل کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ ابن بابویہ صدوق امامیہ کے متقدم علماء میں سے ہیں اور چونکہ وہ کم آراء و اہواء کی پیروی نہیں کرتے تھے بلکہ ائمہ(ع) کے آثار کے تابع تھے۔ شیخ صدوق اور ان کے والد کے اقوال دین کے بہت سے صاحبان رائے و نظر کے ہاں، منقولہ نصوص کے مترادف گردانا گیا ہے۔[42]
  • نصوصی رجحان کے نتائج و آثار:
    اس روش پر واردہ تنقید کے باوجود۔ اس کے ثمرات اور آثار و برکات سے بھی غفلت نہیں برتنا چاہئے؛ ان ثمرات میں سے بعض حسب ذیل ہیں:
  1. رسول اللہ(ص) اور ائمہ اہل بیت(ع) سے منقولہ احادیث کا محفوظ ہوجانا: نصوصی رجحان اور عقلانی رجحان کے مکاتب سے باقیماندہ آثار سے رجوع کیا جائے تو یہ بیش قیمت ثمرات نمایاں ہوجاتے ہیں۔ کلینی کی کتاب الکافی اور شیخ صدوق کی کتب التوحید (کتاب) اور کمال الدین و اتمام النعمہ جیسی کتابیں شیعہ کلامی مکتب کی جبین پر چمک رہی ہیں۔
  • نصوصی رجحان کے تفکر کی حامی نمایاں شخصیات:
    جیسا کہ کہا گیا، اس فکری رجحان میں دو ـ انتہا پسندانہ اور اعتدالہ پسندانہ ـ تفکرات و تصورات موجود تھے۔
    بلکہ اس گروہ میں صرف علی بن عبداللہ بن وصیف (متوفی 366ہجری قمری) کا نام مذکور ملتا ہے۔ لیکن اعتدال پسندانہ تفکر کے پیروکاروں کی تعداد زیادہ بھی تھی، نمایاں اور آشکار ہیں اور پوری تاریخ میں اس کے حامیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ قدما کے درمیان اس تفکر کے حامیوں میں متعدد ناموں کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے:
  1. محمد بن حسن صفار قمی (متوفی سنہ 209 ہجری قمری)،
  2. ابو جعفر احمد بن محمد بن خالد برقی (متوفی 274ہجری قمری)،
  3. سعد بن عبداللہ بن ابی خلف اشعری (متوفی سنہ 301ہجری قمری)،
  4. محمد بن یعقوب الکلینی (متوفی سنہ 329ہجری قمری)،
  5. محمد بن علی بن بابویہ الصدوق (متوفی سنہ 381ہجری قمری)۔

عقلی رجحان

  • تعریف:عقلائی رجحان نصوصی رجحان کے مقابلے میں آتی ہے اوراس سے مراد وہ مکتب ہے جو وحیانی معارف و تعلیمات کے مقابلے میں قوتِ عقل کے کردار پر زیادہ تاکید کرتا ہے اور عقل کے لئے حرمت و منزلت کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ اسے شناخت و معرفت کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے،[43]۔[44] اور کلامی مسائل کو عقلی استدلال کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس فکری روش نے عقل کی حجیت و اعتبار کو تسلیم کیا ہے اور وہ عقلی اصول اور مبادیات کو بشری معرفت کا سنگ بنیاد قرار دیتی ہے اور اس روش کے حامی افراد کو یقین ہے کہ عقل اور عقلی اصول کو تسلیم کئے بغیر انسان کو کوئی بھی معرفت حاصل نہیں ہوگی اور حسی، تجربیاتی اور وحیانی معارف عقلی مبادیات اور اصولوں پر استوار ہیں۔[45] وہ عقل اور نقل کے درمیان ہم آہنگی کے قائل ہیں اور کہتے ہیں: جس طرح کہ وحی اور شریعت انسانی معرفت کا منبع ہیں، عقل بھی انسانی معرفت اور شناخت کے منابع و مآخذ میں سے ہیں اور ایسے حال میں کہ دونوں عینی اور خارجی (محسوس) حقیقت کی خبر دیتی ہیں، ان کی یہ خبر ہم آہنگ ہے۔ [46]۔[47]

جہاں حکمِ عقل اور حکمِ وحی کے درمیان تعارض اور تصادم پایا جاتا ہے وہاں اشاعرہ سمیت بعض مکاتب کے پیروکار نقل کو مقدم رکھتے ہیں، معتزلہ انتخابِ عقل کی طرف مائل ہیں اور اہل حدیث بھی ـ جو عقل کو شمار میں نہیں لاتے ـ عقل اور نقل کے درمیان تعارض کے قائل نہیں ہوتے، لیکن زیادہ تر ـ یا شاید تمام شیعہ متکلمین اور علماء "حدِّ وَسَط" اور دونوں کو جمع کرنے کے قائل ہیں، وہ اگرچہ نقل کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے لیکن عقل کی بنیاد پر اس کی تاویل کرتے ہیں اور جہاں نقلی دلیل کا ظاہری مفہوم معقول و مُبَرہَن دلیل کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو تو ان کی رائے کے مطابق عقلی دلیل "متصل یا منفصل لُبیِ (یا لفظی) دلیل (= Connected or Separated Verbal Evidence)" کے مترادف ہوگی، جس کے توسط سے نقل کے ظاہری مفہوم میں تصرف کیا جاسکتا ہے۔[48]

  • خصوصیت:
    اس روش کی اصلی اور بنیادی خصوصیت اس کی "اعتدال" پسندی اور "میانہ روی" ہے۔ عقلانیت کو درپیش نشیب و فراز کے باوجود شیعہ امامیہ قرآنی تعلیمات اور مکتب اہل بیت(ع) کی بدولت اہل سنت کے مکاتب کی طرح افراط اور تفریط (Two Extremes) کا شکار نہیں ہوا بلکہ اس نے معتزلی کے عقلانی رجحان اور اشعریوں اور اہل حدیث کی تفریط کو معتدل کر کے دونوں عناصر ـ یعنی عقل اور وحی ـ کو ایک متحرک نظام میں بروئے کار لایا ہے اور معتزلہ کی مانند عقلانیت کے زیادہ استعمال سے پرہیز کیا جیسا کہ شرعی ظواہر پر مقلدہ اور اشاعرہ کے فکری جمود سے بھی پاک ہے۔[49] شیخ مفید ـ جو اس روش کے بانی ہیں ـ "میانہ کلام" کے مؤسس سمجھے جاتے ہیں جو کہ "کلام متقدم" ـ یعنی ائمہ(ع) کے حضور کے دوسرے دور اور شیخ صدوق کی نص پسندی اور اور نوبختیوں کے فلسفی کلام ـ کے مقابلے میں آکھڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے متقدم متکلمین (یعنی نوبختیوں) کے استدلالات کی اصلاح "اور عقلی استدلال اور نقلی دلائل کی تفسیر" کے مابین درمیانہ روش پر گامزن ہونے کی غرض سے اس روش کی بنیاد رکھی اور اس کی تشریح کا اہتمام کیا۔[50]۔[51]

شیخ مفید کی اعتدال پسندانہ روش کو "وعید" اور "قیامت" سے متعلق مسائل میں انکی نظر اور نوبختیوں کی آراء کے موازنے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ نوبختیوں کی روش سے ان کے انحراف کی دلیل کبھی تو عقلی استدلال اور انتہاپسندانہ روشوں سے اجتناب کی صورت میں اور کبھی ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث سے استناد کی صورت میں سامنے آیا ہے۔[52]

اس خصوصیت کی بنا پر عقلی رجحان کی روش کی تعریف یوں ہوسکتی ہے:

"قابل قبول عقلی قواعد اور دینی ماثورات سے استفادہ کرتے ہوئے فلسفی و عرفانی افکار سے متاثر ہوئے بغیر اجتہادی تشریح اور اصول دین کے ظرائف اور باریکیوں میں تلاش اور جستجو کرنا ہے۔[53]

  • تاریخی سفر:
    جیسا کہ کہا گیا غیبت کے دور میں ـ شیخ مفید سے قبل تک ـ اہل حدیث کا نصوصی رجحان کا تفکر رائج تھا[54]۔[55] کلامی اور فقہی مسائل میں انکے ہاں عقل پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ متکلمین و فقہاء عقل کے استعمال کے زیادہ حامی نہیں تھے، ان کا کام صرف حدیث کا حصول اور انہیں نقل کرنا اور زیادہ سے زیادہ ان کو ابواب میں منظم کرنا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں عالم فاضل، مقتدر مجتہد، فقیہ اور نامی گرامی متکلم جناب شیخ مفید نے ظہور کیا۔ انھوں نے استدلال اور برہان کا راستہ کھولنے اور کلام اور فقہ میں عقل سے استفادہ کرنے کے لئے وسیع کوششیں کیں، کلام اور فقہ میں عقل کی حدود کا تعین کیا اور محض حدیثی فکر کے مضر اثرات کی یادآوری کرائی۔

البتہ ان سے کچھ عرصہ قبل ابن قبہ رازی (متوفی سنہ 319 ہجری قمری) نے اسی نقطہ نگاہ سے کلامی مباحث کا اہتمام کیا لیکن نصوصی رجحان کے رواج و فروغ کی وجہ سے انہیں رواج پانے کا موقع نہ ملا نیز وہ ہر لحاظ سے شیخ مفید جیسی خصوصیات کے حامل نہ تھے۔

چنانچہ عقلانیت کی جس روش کی بنیاد شیخ مفید نے رکھی تھی ان کے نامور شاگردوں کے توسط سے وہ جاری و ساری رہی۔ سید مرتضی الذخیرہ سمیت متعدد کتب و رسائل، ابو صلاح حلبی (متوفی (447 ہجری قمری) نے تقریب المعارف اور ابو الفتح کراجکی (متوفی سنہ 449 ہجری قمری) نے کنزالفوائد اور شیخ طوسی نے تمہید الاصول اور دیگر کلامی کاوشوں کے ذریعے اسی راہ کو طے کیا۔ البتہ روش سے اتفاق کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان کی آراء میں مکمل طور پر ہم آہنگی تھی، تاہم اصولی اور بنیادی مسائل میں عام طور پر متذکرہ بالا اکابرین میں اتفاق رائے پایا جاتا تھا گوکہ بعض جزئی مسائل میں ان کی آراء مختلف ہیں۔

بہرصورت اس روش کو سدید الدین حمصی رازی نے اپنی کتاب المنقذ من التقلید کے ذریعے جاری رکھی۔ وہ اصول دین میں بےدلیل اعتقادات اپنانے کی روش کے خلف تھے اور انھوں نے اس کتاب میں ان کی استدلال سے دوری اور اصول دین میں ان کی مقلدانہ روش پر بحث کی ہے۔[56]

کتاب النقض کے مؤلف عبدالجلیل قزوینی اپنے آپ کو اس گروہ کا پیرو اور استدلالی عقل پسندوں کے اصولی گروہ سے متعلق، سمجھتے ہیں۔[57] کتاب المسلک فی اصول دین کے مؤلف، نجم الدین ابوالقاسم جعفر بن حسن بن سعید (متوفی سنہ 676 ہجری قمری) ان آخری علماء میں سے ہیں جنہوں نے اس روش کی نسبت اپنی پابندی ثابت کردی ہے۔

  • اثرات و ثمرات:
    علم کلام میں شیعوں کے اس عقلی رجحان کے درج ذیل فوائد قابل ذکر ہیں :
  1. شیعہ کلام کو تشخص اور استقلال بخشنا:
    ایک وجہ، جو باعث بنی تھی کہ شیعہ کلام معتزلی کلام کا مقروض نظر آئے، یہ تھی کہ یہ کلام عدم استقلال کا شکار ہوا تھا اور واضح و روشن تشخص اور مدون نظام سے بہرہ ور نہ تھا۔ شیخ مفید اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے اس قلت کو پورا کرنے کی مہم سے بخوبی عہدہ برآ ہوئے اور شیعہ کلام کو ـ جس کی بنیاد قبل ازاں ہشام بن حکم، عبدالعظیم حسنی، فضل بن شاذان سمیت معصومین(ع) کے بزرگوار صحابہ نے رکھی تھی ـ منظم اور بدیع صورت میں منظم و مدون کیا جو معتزلہ کے کلام سے بھی مکمل طور پر مستقل تھا۔
  2. عقل و نقل کو جمع کرنے کے لئے منطقی روش کی ایجاد:
    شیخ مفید سے قبل شیعہ متکلمین یا تو معتزلی عقلی رجحان کی طرف میلان رکھتے تھے یا نقل کی طرف توجہ دیتے تھے جیسے شیخ صدوق، اگرچہ ان دو کے درمیان اعتدال پسندانہ روش کے حامی بھی تھے۔عقلی رجحان رکھنے والوں کے رئیس شیخ مفید نے قرآن و نقل سے ماخوذہ معیاروں اور ضوابط کی اساس پر عقلی رجحان میں "تاویل" کی روش کی بنیاد رکھی اور یوں عقل و نقل کے درمیان اعتدالی اور وسیع البنیاد روش تاسیس کرنے میں کامیاب ہوئے۔[58]
  • شخصیات:
  1. ابن قبہ رازی، محمد بن عبدالرحمن (متوفی قبل از 319 ہجری قمری)
  2. شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان (متوفی 413 ہجری قمری)،
  3. سید مرتضی، علی بن حسین بن موسی (متوفی 436 ہجری قمری)،
  4. ابوصلاح حلبی، تقی بن نجم بن عبیدالله (متوفی 447 ہجری قمری)،
  5. ابوالفتح کراجکی، محمد بن علی بن عثمان (متوفی 449 ہجری قمری)،
  6. شیخ طوسی، ابوجعفر محمد بن حسن (متوفی 460 ہجری قمری)،
  7. حمصی رازی، سدید الدین محمود (متوفی اوائل قرن 7 ہجری قمری)۔

فلسفیانہ عقلی رجحان

یہ روش عقل اور فلسفی قواعد اور اصولوں کی بنا پر کلامی موضوعات پر بحث کرتی ہے۔ فلسفی اصطلاح میں عقل، معلومات کو معینہ روابط کے مطابق منظم کرنے کی قوت سے عبارت ہے؛ جیسے علت (= Cause)، معلول (= Effect)، اصل (=Root)، فرع (=Branch) نیز نوع (=Species)، جنس (=Genus) وغیرہ کے درمیان روابط۔[59]
۔ اس روش میں بھی کتاب و سنت کی پابندی محفوظ رکھی جاتی ہے لیکن تمام مباحث اور استدلالات کی ابتدا اور انتہا میں فلسفی رنگ ہوتا ہے۔ فلسفی قواعد اور اصولوں حتی کہ یونان قدیم کے فلسفی قواعد سے استناد بھی کیا جاتا ہے۔ اگرچہ آیات اور روایات سے بھی تائید کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے۔

مکتب اہل سنت غزالی (متوفی سنہ 505 ہجری قمری) بلکہ امام الحرمین عبدالملک جوینی (متوفی سنہ 478 ہجری قمری) سے کہیں پہلے فلسفے کے قریب ہوچکا تھا، چنانچہ شہرستانی (متوفی سنہ 548 ہجری قمری) نے اپنی کتاب نہایۃ الاقدام فی علم الکلام ، فخررازی (متوفی سنہ 606 ہجری قمری) نے اپنی کتاب المحصل ؛ اور سیف الدین آمدی (سنہ 631 ہجری قمری) نے اپنی کتاب ابکار الافکار میں علم کلام کو اس قدر فلسفے سے مخلوط کر دیا یہانتک کہ ذہبی اور ابن حجر جیسے متشرعہ افراد نے انہیں فلسفی رجحان رکھنے والوں کی طرف نسبت دے دی ۔ ابن خلدون (پیدائش سنہ 732 - وفات 808ہجری قمری) اپنے زمانے میں علم کلام کے واضح طور پر فلسفے کے قریب ہونے طرفاشارہ کرتے ہیں۔[60] اور آخر کار المواقف فی علم الکلام کے مؤلف، قاضی عضدالدین ایجی (متوفی سنہ 756 ہجری قمری)، فلسفے سے مکمل اختلاط کی وجہ سے اپنی حیات کا جوہر ہی کھو بیٹھے۔[61]۔[62]۔[63] شیعہ کلام استدلال اور برہان سے بہرہ ور تھا جبکہ سنی کے علم کلام میں جدلی پہلو بہت نمایاں تھا۔ اسکے برعکس ایک محدود تعداد جیسے نوبختی خاندان کے متکلمین کی حد تک کے علاوہ شیعہ علام کلام فلسفی رنگ میں رنگا ہوا نہیں تھاحتا کہ امامی متکلمین کلام کے بنیادی موضوعات اور مباحث میں فلسفے اور اس کے استعمال کا خیر مقدم نہیں کرتے تھے۔

تاہم خواجہ نصیر الدین طوسی (متوفی سنہ 627 ہجری قمری) کے ظہور کے ساتھ ہی ـ البتہ عصری تقاضوں اور ضروریات کی بنا پر شیعہ کلام نے بھی فلسفی رجحان کی طرف اپنا سفر عروج تک پہنچایا اور پہلے سے کہیں زیادہ فلسفے کے قریب پہنچا۔[64]۔[65] اس حقیقت کے پیش نظر کہ شیعہ ـ حتی کہ سنی ـ کلام کا عصری معیار ہی خواجہ نصیر الدین طوسی ہیں، اس سفر کو تین مراحل میں بیان کیا جاسکتا ہے:

  1. کلام خواجہ نصیر سے قبل: اس کلام میں جدلی اسلوب زیادہ نمایاں تھا اور یہ فلسفے کے مد مقابل سمجھا جاتا تھا۔
    اسلامی متکلمین نے ـ اسلام میں فلسفے کے وارد ہونے کے آغاز ہی سے ـ کئی صدیوں تک فلاسفہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھی اور فلسفی قواعد پر اعتراضات کئے اور حتی کہ فلسفے کے مسلمہ اصولوں اور مبادی میں بھی شک روا رکھا۔ وہ حتی کہ علم منطق کے بھی خلاف تھے اور اس سے استفادہ نہیں کرتے تھے کیونکہ فنِ منطق فلسفی [اور عقلی] علوم کے زمرے میں آتا تھا جو کہ [متکلمین کے خیال میں] شرعی عقائد سے مکمل تضاد رکھتے تھے۔ چنانچہ فن منطق بھی ان کے درمیان مکمل طور پر متروک تھا۔[66]
  2. کلام خواجہ نصیر کے دور (ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری) میں:
    اس زمانے اور کچھ عرصہ بعد، کلام نے برہانی شکل اپنا لی اور زیادہ تر فلسفی رنگ میں ڈھل گیا۔[67] اس زمانے میں کلام نے نئی نئی صورت اور نئی شناخت اختیار کرلی اور آیات اور احادیث کا سہارا لینے کے ساتھ ساتھ برہانی استدلال پر استوار ہوا۔ مثلاً خواجہ نصیر توحید اور معاد کو ـ جن کا موضوع فلسفے کے ساتھ اشتراک رکھتا ہے ـ برہانی روشوں سے ثابت کرتے ہیں؛ اور یوں شیعہ کلام سنی کلام سے ـ جس میں عقلی استدلال بہت ہی کمزور ہے ـ علیحدہ ہوجاتا ہے؛ کیونکہ اس کے بعد شیعہ کلام میں صرف قرآن و حدیث سے استشہاد و استناد ہی کو کافی نہیں سمحھا جاتا بلکہ عقلی براہین و دلائل سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔[68]
  3. کلام خواجہ نصیر کے بعد (نویں صدی ہجری اور بعد کی صدیاں):
    اس دور میں ـ جس کو میر داماد اور ملا صدرا (متوفی سنہ 1050 ہجری قمری) نے عروج تک پہنچایا ہے،[69] ـ کلام مکمل طور پر برہانی بن چکا ہے اور فلسفی مسائل کے زمرے میں آیا ہے۔ اس دور میں کلام اپنا استقلال [اور غیر وابستگی] کھو بیٹھا۔
    استاد شہید مطہری کے بقول اسلامی فلسفہ ایک قدم بھی کلام کی طرف مائل نہیں ہوا بلکہ یہ کلام تھا جو رفتہ رفتہ فلسفے کے زیر اثر آیا اور آخرکار فلسفے میں ہضم ہوا۔[70]
  • شخصیات:
    جیسا کہ کہا گیا، فلسفی عقل پسندی کے حامی غیبت کے بعد کی پہلے عشروں سے ہی موجود تھے اور نوبختی خاندان از میدان میں پیش پیش ہے۔ اس روش سے اسلامی ـ شیعی کلام کی تدوین کا سلسلہ خواجہ نصیر نے عروج تک پہنچایا۔ اس کلامی روش کی اہم شخصیات کے نام حسب ذیل ہیں:
  1. التنبیہ فی الامامہ وغیرہ کے مؤلف ابوسہل اسماعیل بن نوبخت (متوفی 311 ہجری قمری)؛
  2. فرق الشیعہ وغیرہ کے مؤلف ابو محمد حسن بن نوبخت (متوفی 310ہجری قمری)؛
  3. الیاقوت کے مؤلف ابو اسحاق ابراہیم بن نوبخت (پانچویں صدی ہجری قمری)؛
  4. تجرید الاعتقاد، قواعد العقائد، تلخیص المحصل، رسالہ فی الامامہ وغیرہ کے مؤلف خواجہ نصیرالدین طوسی (متوفی سنہ 672 ہجری قمری)؛
  5. الاسفار الاربعہ کے مؤلف ملا صدرا شیرازی (متوفی سنہ 1050 ہجری قمری)۔
  • آثار و ثمرات:
    چونکہ اسلام میں ـ اور بطور خاص تشیُّع میں ـ خواجہ نصیر الدین طوسی نے کلام کے فلسفی ہوجانے کے سلسلے کو عروج تک پہنچایا، خواجہ کی کاوشوں ـ بالخصوص تجرید الاعتقاد ـ سے استناد کرتے ہوئے اس روش کے بعض آثار و برکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
  • کلام کا مبرہن ہوجانا:

خواجہ نصیر نے تجرید الاعتقاد تالیف کرکے ایک نئی حرکت کا آغاز کیا، انھوں نے اس کتاب میں ـ سابقین کے برعکس ـ صرف دینی گزارہ معارف کے جائزوں، مذہبی اعتقادات کے بیان اور دین کی حدود و ثغور کے تحفظ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان افکار کی منطقی تدوین اور ڈھانچے کی تشکیل کا اہتمام کیا۔ انھوں نے فلسفہ مشا سے استفادہ کرکے فلسفہ کے عام امور و معاملات کو کلامی گزارہ ہا معارف میں داخل کردیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ایک صحیح فلسفی اصول (مبنا) کے بعد کلامی گزارہ ہا معارف کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا، چنانچہ اس نئی طرح کے ذریعے انھوں نے شیعہ فلسفہ اور کلام کی بنیاد رکھی۔ اسی بنا پر کلام نے پہلے سے کہیں زیادہ اور 90 فیصد تک فلسفی صورت اپنائی۔[71] یہاں تک ایک فلسفی متن اور کلامی متن کے درمیان تمیز آسانی سے ممکن نہیں ہے۔[72] اور چونکہ فلسفہ صرف ـ کلام کے برعکس ـ صرف (صورت میں) برہان اور (مادہ میں) یقینیات سے استفادہ کرتا ہے؛ علم کلام رفتہ رفتہ اپنے اسلوب سے خارج ہوا اور برہانی رنگ اختیار کرگیا۔[73]۔[74]

  • فلسفی اور کلامی فکر کا احیاء اور ابقاء:

خواجہ ـ جو خود حکمت اور فلسفے میں مہارت اور اس علم پر غیر معمولی عبور رکھتے تھے ـ نے شرح اشارات و تنبیہات لکھی؛ جو عظیم ترین اور زندہ جاوید فلسفی کاوش ہے۔ انھوں نے اس کتاب کے ذریعے ابن سینا کے مشائی فلسفے پر فخر رازی کے اعتراضات کا جواب دیا[75]۔[76] اور یوں فخر رازی کے افکار کی بنیادوں کو مٹا دیا ہے اور فلسفی فکر ـ بالخصوص مشائی مکتب ـ کے احیاء میں بے مثل کردار ادا کیا۔[77]۔[78]

  • معتزلی نفوذ کا خاتمہ:

امامیہ اور معتزلہ کے درمیان اہم اور سنجیدہ اختلافات کے برعکس؛ بعض موضوعات میں امامیہ کے متکلمین نے معتزلیوں سے اثر لیا ہے؛ اگرچہ بعض مراحل میں امامیہ کے متکلمین بھی ان پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ امامیہ کی اثر پذیری مبنا اور روش میں تھی نہ کہ مسائل و مباحث میں اور اثر پذیری کا یہ سلسلہ کم و بیش ساتویں صدی ہجری تک جاری رہا۔ فقہ میں خواجہ نصیر کے استاد محقق حلی (متوفی سنہ 676 ہجری قمری) اپنی کلامی کتاب کے دیباچے میں آشکارا کہتے ہیں کہ ان کی کلامی روش معتزلہ سے اثر لئے ہوئے ہے؛ اور کہتے ہیں کہ کلامی مباحث میں معتزلی روش واضح ترین اور کامل ترین روش ہے۔[79]

تاہم خواجہ کے ہاتھوں فلسفی روش کی تاسیس کے ساتھ ہی شیعہ متکلمین پر پر معتزلی روش کا سابقہ جزوی اثر بھی ختم ہوا؛ اور اس کے بعد کسی بھی متکلم نے معتزلہ کا ـ نہ آشکار اور نہ ہی ضمنی طور پر ـ تذکرہ نہیں کیا ہے۔

  • کلام اہل سنت پر تاثیر:

اس روش کی ایجاد کے بعد ـ خاص طور تجرید الاعتقاد کی تالیف کے ساتھ ـ تمام اشعری اور معتزلی متکلمین اسی راستے پر گامزن ہوئے جس پر یہ عظیم شیعہ فیلسوف اور متکلم گامزن ہوئے تھے۔[80]۔[81] المواقف اور المقاصد جیسی کتابوں اور ان کی شروح نے بھی تجرید الاعتقاد کا رنگ پکڑ لیا۔ یہاں تک کہ اہل سنت کے بعض متکلمین ـ منجملہ علاءالدین قوشجی نے تجرید الاعتقاد کو پسند کیا اور اس پر شرح لکھی۔ ان کی شرح اشاعرہ کے کلام اور عقائد و آراء کے اہم ترین مصادر و مآخذ میں شمار ہوتی ہے۔ انھوں نے اس شرح میں امامیہ اور اشاعرہ کے اختلافی مسائل میں خواجہ نصیر کی آراء پر تنقید کی ہے اور بعض دیگر مسائل میں خواجہ کی آراء کی تشریح کی ہے۔[82]

  • کلامی مباحث کی تازہ نظم و ترتیب:

خواجہ نصیر نے شیعہ علم کلام میں ایک خاص نظام کی بنیاد رکھی اور کلامی مباحث کو نئی اور منظم ترتیب دی اور بعد کے علماء نے اسی اسلوب کی پیروی کی۔

کلامی مباحث ـ بالخصوص نبوت، امامت اور معاد ـ میں خواجہ سے قبل کے بزرگ متکلمین کی تصانیف ـ منجملہ سید مرتضی، الذخیرہ شیخ طوسی کی الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد، ابوصلاح حلبی کی تقریب المعارف، ابو اسحاق نوبختی کی الیاقوت، ابن میثم بحرانی کی قواعد المرام اور محقق حلی کی المسلک ـ کا ان کی تصنیف تجرید الاعتقاد سے موازنہ، اس مدعا کا ثبوت ہے۔

واحد متقدم تصنیف ـ جس کی نظم و ترتیب تجرید الاعتقاد سے ملتی ہے ـ شیخ مفید سے منسوب کتاب النکت الاعتقادیہ ہے تاہم بہت سے قرائن اور نشانیوں کی بنا پر یہ انتساب چندان یقینی نہیں ہے۔

کلام میں تبدیلی اور تحول کے اسباب

بعض کے نزدیک فلسفے کی وسعت کے مشاہدے کی بنا پر علم کلام میں بھی وسعت پیدا ہو گئی یعنی علم کلام کی وسعت کا منشا اور سب ب فلسفے میں وسعت کا پیدا ہونا ہے۔بعض غیر دینی علوم کے تکامل کو اسکا سبب قرار دیتے ہیں [83] لیکن ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان عوامل کے علاوہ دیگر عوامل جیسے معاشرتی،سماجی اور فرہنگی تحولات بھی علم کلام کے تحولات میں سے ہیں ۔[84]

مشہور امامیہ متکلمین

مختلف تاریخی ادوار کے بعض مشہور متکلمین کے نام اور ان کے حالات زندگی حسب ذیل ہیں:

دوسری صدی ہجری

  1. عیسی بن روضہ تابعی:
    عیسی بن روضہ منصور کے زمانے میں گذرے ہیں۔ وہ نہایت مقتدر متکلم ہیں جنہوں نے علم کلام میں سب سے پہلے قلم فرسائی کی ہے۔[85]
  2. علی بن اسماعیل بن شعیب بن میثم تمار (متوفی سنہ 179ہجری قمری):
    وہ "عمرو بن عبید"، "ابو الہذیل علاف"، "ضرار بن عمرو" اور "نظام" کے ہم عصر تھے اور مؤخرالذکر تین متکلمین کے ساتھ کلامی مناظرات بھی کرچکے ہیں۔ ان کی تالیفات میں کتاب الامامہ اور مجالس ہشام بن الحکم" قابل ذکر ہیں۔
  3. ہشام بن حکم (متوفی سنہ 179 یا 199 ہجری قمری):
    ہشام امام صادق(ع) کے نمایاں اور مشہور شاگردوں اور اصحاب اور امام کاظم(ع) کے اصحاب خاص میں سے ہیں۔ وہ کلامی مباحث ـ بالخصوص مسئلۂ امامت میں ـ دوسروں پر فوقیت رکھتے تھے اور دوست اور دشمن نے ان کی شخصیت کی تعریف و تمجید کی ہے۔ احمد امین مصری انہیں عظیم ترین شیعہ متکلم سمجھتے ہیں۔ امام صادق(ع) نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: هشام بن الحکم رائد حقنا وسائق قولنا، المؤید لصدقنا والدامغ لباطل اعدائنا من تبعه وتبع اثره تبعنا ومن خالفه والحد فیه فقد عادانا والحد فینا ترجمہ: ہشام بن حکم ہمارے حقوق کا پیرو اور ہمارے اقوال کو آگے لے جانے والا، ہماری سچائی کی تصدیق کرنے والا اور ہمارے دشمنوں کے باطل کو مٹا دینے والا ہے، جس نے اس کی پیروی کی اس نے ہماری پیروی کی ہے اور جس نے ان کی مخالفت کی اور ان کا انکار کیا اس نے ہمارے ساتھ دشمنی کی ہے اور ہمارا انکار کیا ہے۔
    انھوں نے مختلف مذاہب کے متکلمین کے ساتھ مناظرے کئے جن میں "عمرو بن عبید، ابو اسحق نظام، ابوہذیل علاف، ضرار بن عمرو، عبداللہ بن یزید اباضی، یحیی بن خالد برمکی، شامی متکلم، جاثلیق نصرانی" اور زیدیہ کے سربراہ "سلیمان بن جریر" شامل ہیں۔ انھوں نے ان میں سے اکثر کے خلاف متعدد کتابیں لکھیں؛ چنانچہ انہیں ان افراد کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے ہشام کو کفر و الحاد، زندقہ اور غلو جیسے الزامات لگائے۔ ہشام نے کلام کے مختلف موضوعات میں متعدد کتابیں لکھیں جن میں کتاب الامام، کتاب الدلالات علی حدوث الاشیاء، کتاب الرد علی الزنادقہ، کتاب الرد علی اصحاب الاثنین، کتاب التوحید، کتاب الرد علی من قال بامامۃ المفضول، کتاب فی الجبرو القدر، کتاب المعرفہ، کتاب الاستطاعہ، کتاب القدر وغیرہ۔
  4. محمد بن علی بن نعمان معروف مؤمن الطاق:
    وہ تابعین کے زمرے میں آتے ہیں اور امام سجاد، امام محمد باقر اور امام صادق علیہم السلام کے دیدار کا شرف حاصل، اور ان سے حدیث نقل کرچکے ہیں۔ وہ کلامی مباحث میں بہت مقتدر اور حاضر الذہن تھے؛ مخالفین ان کی منطق سے مغلوب ہوکر انہیں "شیطان الطاق" کا لقب دیتے تھے، ان کی کلامی کاوشوں میں کتاب الامامہ، کتاب المعرفہ، کتاب الرد علی المعتزلۃ فی امامۃ المفضول، کتاب افعل لا تفعل، کتاب الاحتجاج فی امامۃ امیرالمؤمنین(ع)، اور کتاب مجالسۃ مع ابی حنیفۃ والمرجئۃ۔
  5. قیس الماصر:
    وہ تابعین میں سے تھے اور علم کلام امام زین العابدین(ع) سے حاصل کرچکے تھے۔ وہ ان متکلمین میں سے ہیں جنہوں نے امام صادق(ع) کی موجودگی میں شامی متکلم کے ساتھ مناظرہ کیا؛ اور امام(ع) نے ان اور ابو جعفر احول کے بارے میں فرمایا: انت والأحول قفازان حاذقان ترجمہ:تم اور احول دونوں نہایت مشاق مناظر ہو۔

تیسری صدی

  1. فضل بن شاذان نیشابوری (متوفی سنہ 261ہجری قمری):
    وہ امامیہ فقہاء اور متکلمین کے درمیان نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے امام رضا، امام جواد اور امام ہادی علیہم السلام سے روایت کی ہے۔ ان کے لئے متعدد کلامی کتب و تالیفات ذکر ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق انحرافی عقائد و مذاہب کے رد میں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض کتب و تالیفات کے نام کچھ یوں ہیں: الرد علی اہل التعطیل، الرد علی الثنویہ، الرد علی الحشویہ وغیرہ۔
    رد میں لکھی جانے والی کتب کے علاوہ انھوں نے کلامی موضوعات میں دوسری کئی کتب بھی لکھی ہیں جن میں سے بعض کے نام کچھ یوں ہیں: کتاب الوعید، کتاب الاستطاعہ، التوحید فی کتب اللہ، کتاب الامامہ، کتاب معرفۃ الہدی والضلال وغیرہ۔
  2. سعد بن عبداللہ اشعری (متوفی سنہ 299 یا 301):
    واقعہ معروف ہے کہ وہ قم میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل احمد بن اسحق کے ہمراہ امام عسکری(ع) کے دیدار کا شرف حاصل کرچکے ہیں۔ انھوں نے متعدد کتب تالیف کی ہیں جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں: کتاب الرد علی الغلاۃ، الرد علی المجبرہ، کتاب الامامہ اور کتاب الاستطاعہ۔
  3. عبداللہ بن جعفر حمیری:
    وہ سنہ 290 ہجری قمری میں قم سے کوفہ چلے گئے؛ اہلیان کوفہ نے ان سے وسیع علمی فیض اٹھایا۔ انھوں نے متعدد کتابیں لکھی ہیں جن میں سے بعض کے نام کچھ یوں ہیں: کتاب الامامہ، کتاب الدلائل، کتاب العظمۃ والتوحید، کتاب الغیبۃ والحیرہ اور کتاب التوحید والبداء والارادۃ والاستطاعۃ والمعرفہ۔
  4. کتاب فرق الشیعہ کے مؤلف حسن بن موسی نوبختی:
    اپنے زمانے کے نمایاں ترین شیعہ متکلمین میں سے تھے جنہوں نے عقلی علوم ـ بالخصوص علم کلام ـ میں متعدد کتابیں تالیف کی ہیں۔ ان کی کتب میں کتاب الاراء والدیانات شامل ہے اور نجاشی نے لکھا ہے کہ یہ کتاب بہت سے علوم کا مجموعہ ہے۔ ان کی دیگر کتب الجامع فی الامامہ، التوحید الکبیر، التوحید الصغیر فی الاستطاعہ، التنزیہ وذکر متشابہ القرآن، الردعلی المنزلۃ بین المنزلتین فی الوعید، الرد علی المجسمہ، الردعلی الغلاۃ وغیرہ شامل ہیں۔
    ابن ندیم ان کے بارے میں کہتے ہیں:إنه متکلم فیلسوف، کان یجتمع الیه جماعة من النقلة لکتب الفلسفة، مثل ابی عثمان الدمشقی واسحق وثابت وغیرهم، وکانت المعتزلة تدعیه، والشیعة تدعیه، ولکنه الی حیز الشیعة، لأن آل نوبخت معروفون بولایة علی وولده علیهم السلام فی الظاهر، وکان جمّاعة للکتب، قد نسخ بخطه شیئاً، وله تألیفات فی الکلام والفلسفة وغیرها ترجمہ: وہ ابو عثمان دمشقی، اسحق، ثابت وغیرہ کی مانند ایک متکلم اور فیلسوف ہیں، معتزلہ انہیں اپنا عالم سمجھتے تھے اور شیعہ اپنا عالم، تاہم وہ شیعہ کی جانب تھے، کیونکہ خاندان نوبخت کے افراد علی(ع) اور آپ(ع) کی اولاد علیہم السلام کی پیروی کے حوالے سے معروف تھے اور وہ کتب کے جمع کرنے والے تھے۔ انھوں نے اپنے قلم سے کتب لکھی ہیں، انھوں نے کلام، فلسفہ اور دوسرے علوم میں کتب تالیف کی ہیں۔
  5. حسن بن موسی نوبختی کے ماموں ابو سہل نوبختی:
    ابن ندیم نے ان کے بارے میں کہا ہے: وہ فاضل و عالم اور متکلم تھے اور متکلمین کی ایک جماعت ان کی مجلس میں حاضر ہوتی تھی ...۔۔۔ وہ کئی کتب ـ منجملہ کتاب الاستیفاء فی الامامہ، کتاب التنبیہ فی الامامہ، کتاب الرد علی الغلاۃ، کتاب المعرفہ، کتاب تثبیت الرسالہ، کتاب الرد علی اصحاب الصفات وغیرہ ـ کے مؤلف ہیں۔
    ان کے درس فلسفہ میں عظیم شخصیات نے پرورش پائی جن میں ابوالحسین علی بن عبداللہ المعروف بہ الناشی الصغیر (متوفی سنہ 360 یا 366ہجری قمری)، شیخ مفید کے استاد ابو الجیش المظفر بلخی، (متوفی سنہ 367ہجری قمری) ابو الحسین محمد بن بشر سوسنگردی اور ابو بکر محمد بن یحیی صولی (متوفی سنہ 335 یا 336ہجری قمری) شامل ہیں۔

چوتھی صدی

  1. ابو جعفر محمد بن عبدالرحمن قبہ رازی:
    وہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں شیعہ علم کلام کے اکابرین میں سے ہیں۔ وہ ابو القاسم کعبی معتزلی (متوفی سنہ 317ہجری قمری) کے شاگردوں میں سے تھے۔ ابتداء میں معتزلی المذہب تھے لیکن بعد میں مذہب امامیہ کے پیروکار ہوئے۔ وہ شیخ صدوق کے ہم عصر تھے۔ ابن ندیم نے ان کے بارے میں لکھا ہے: وهو ابوجعفر محمد بن قبه من متکلمی الشیعة وحذاقهم و له من الکتب: کتاب الانصاف فی الامامة، کتاب الامامةترجمہ: وہ ابو جعفر محمد بن قبہ رازی ہیں جو شیعہ متکلمین اور ماہرین میں سے ہیں اور انھوں نے کئی کتب لکھی ہیں جن میں کتاب الانصاف فی الامامہ]]، اور کتاب الامامہ]] شامل ہیں۔
    و نجاشی او را چنین توصیف کرده است: متکلم عظیم القدر، حسن العقیدة، قوی الکلام ترجمہ: وہ عظیم القدر متکلم، اچھے عقیدے کے مالک اور کلام کے لحاظ سے قوی تھے۔
  2. کتاب مروج الذہب کے مؤلف علی بن الحسین مسعودی (متوفی سنہ 333 یا 346ہجری قمری):
    وہ مشہور مؤرخ ہیں۔ انھوں نے علم کلام میں کئی کتابیں لکھی ہیں۔ نجاشی کے بقول وہ المقالات فی اصول الدیانات، الصفوۃ فی الامامہ، الہدایۃ الی تحقیق الولایہ اور اثبات الوصیہ کے مؤلف ہیں۔
  3. محمد بن علی بن الحسین المعروف بہ شیخ صدوق (متوفی سنہ 381ہجری قمری):
    ‏عظیم شیعہ شخصیات میں سے ہیں۔ ان کی زيادہ تر شہرت علم حدیث میں ہے اور "صدوق المحدثین" سے ملقب ہوئے ہیں۔ انھوں نے علم کلام میں بھی گرانقدر کتابیں تالیف کی ہیں اور ان سب کی بنیاد احادیث ہیں؛ خواہ احادیث کے متن کی صورت میں، خواہ احادیث کے مضمون و معنی کی صورت میں۔ ان کی دیگر کلامی تالیفات میں التوحید، اکمال الدین واتمام النعمہ، الاعتقادات ـ جس پر شیخ مفید نے شرح لکھی ہے ـ، علل الشرائع، النبوہ، دلائل الائمہ ومعجزاتہم، اثبات الوصیہ، اثبات النص علی الائمہ۔
    کتاب التوحید کلام امامیہ کے عظیم ترین منابع و مآخذ میں سے ہے۔ اس کتاب میں توحید کے بارے میں نہایت گہرے عقلی مباحث ائمۂ معصومین علیہم السلام کی زبان سے پیش کئے گئے ہیں۔
  4. مظفر بن محمد بلخی (متوفی سنہ 367ہجری قمری):
    وہ امامیہ کے متکلمین اور شیخ مفید کے مشائخ اور اساتذہ میں سے ہیں اور علم کلام اور بالخصوص موضوع امامت میں متعدد کتب ـ منجملہ: نقض کتاب العثمانیۃ (کتاب العثمانیہ جاحظ کی تالیف ہے)، الاغراض والنکت فی الامامہ ـ کے مؤلف ہیں۔
  5. ابو اسحاق ابراہیم بن نوبخت:
    وہ کتاب الیاقوت فی علم الکلام کے مؤلف ہیں جس پر علامہ حلی نے شرح لکھی اور اس کا نام انوار الملکوت رکھا۔ الیاقوت کلام امامیہ کا قدیم ترین متن ہے جس میں امامیہ کے عقائد کو ثابت اور مخالقین کی آراء کو رد کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ایک جامع کتاب ہے اور اس میں تمام کلامی موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ ان کے دوران حیات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کتاب تاسیس الشیعہ کے مؤلف کا کہنا ہے کہ وہ دوسری صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں لیکن کتاب خاندان نوبختی نے مختلف قرائن سے ثابت کیا ہے کہ وہ چوتھی صدی ہجری میں ہو گذرے ہیں۔ منجملہ یہ کہ انھوں نے اشاعرہ کے عقائد و آراء ـ جیسے: کسب نفسانی اور کلامی نفسانی ـ کو نقل کیا ہے اور ان کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ جبکہ اشعری نے اپنے خاص عقائد چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں پیش کئے ہیں اور فطری امر ہے کہ ان کے عقائد و آراء ان کی عمر کے آخری ایام اور سنہ 310 ہجری کے بعد شائع ہوئے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ابو سہل نوبختی اور حسن بن موسی نوبختی ـ جو سنہ 310 اور سنہ 311 ہجری قمری میں وفات پاچکے ہیں ـ کی کلامی تالیفات کی فہرست میں اشعری کی آراء پر کسی قسم کی تنقید دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ایک ثبوت یہ کہ کی یاقوت کے مؤلف "لذت" کے باب میں محمد بن زکریا رازی (متوفی سنہ 320ہجری قمری) کے نظریئے پر بحث کی ہے چنانچہ ان کا رازی سے متقدم ہونے کا خیال صحیح نہیں ہوسکتا۔
  6. ابوعبداللہ محمد بن نعمان، معروف بہ شیخ مفید (ولادت سنہ 338- وفات سنہ 413 ہجری قمری):
    تمام سوانح نگاروں نے ان کی علمی منزلت اور کلام میں ان کی نمایاں مرتبت کا اقرار کیا ہے۔ ابن ندیم لکھتے ہیں: ابن المعلم ابو عبدالله فی عصرنا انتهت رئاسة متکلمی الشیعة الیه، مقدم فی صناعة الکلام علی مذهب اصحابه دقیق الفطنه، ماضی الخاطر، شاهدته فرأیته بارع۔ذہبی ان کی توصیف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کانت له جلالة عظیمة وتقدم فی العلم مع خشوع وتعبد وتألهترجمہ: وہ جلالت عظیمہ کے مالک ہیں اور ساتھ ہی وہ نہایت خاشع اور منکسرالمزاج اور اللہ کی بندگی کرنے والے اور خدا شناس ہیں۔
    ابو حیان ان کے بارے میں لکھتے ہیں:وأما ابن المعلم فحسن اللسان والجدل، صبور علی الخصم، کثیر الحیلة، ضنین السر، جمیل العلانیة ترجمہ:
    خطیب بغدادی مناظرے میں ان کی مہارت کے بارے میں لکھتے ہیں: انه لو أرادان یبرهن للخصم ان الاسطوانة من ذهب وهی من خشب لاستطاع ترجمہ: یقینا اگر وہ اپنے مخالف کے لئے ثابت کرنا چاہیں کہ ایک ستون سونے کا بنا ہوا ہے تو ایسا کرنے پر قادر ہیں حالانکہ وہ ستون لکڑی کا بنا ہوا ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا سطور میں شیخ مفید کا تذکرہ ہوا اور اشارہ کیا گیا کہ انھوں نے عقائد امامیہ کے احیاء، انحرافات کے خلاف جدوجہد، اعتراضات کا جواب دینے اور کلام امامیہ میں کو ارتقاء دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ شیخ طوسی ان کی تصانیف کے بارے میں کہتے ہیں: وہ تقریبا 200 چھوٹی اور بڑی تصانیف کے مالک ہیں اور ان کی کتاب کی فہرست مشہور و معروف ہے۔ انھوں نے بعد ازاں ان کی بعض کتب کا تذکرہ کیا ہے۔

شیخ مفید کی بیشتر تالیفات کا تعلق کلامی مسائل سے ہے جن میں مشہور ترین اوائل المقالات فی المذاہب والمختارات اور دوسری تصحیح الاعتقاد بصواب الانتقاد ہے۔ اوائل المقالات چھ ابواب پر مشتمل ہے: باب اول میں لفظ تشیع اور لفظ اعتزال کے معانی بیان کرنے کے بعد شیعہ اور معتزلہ کی وجۂ تسمیہ بیان کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں امامیہ اور زیدیہ کا فرق واضح کیا گیا ہے؛ تیسری باب میں ذیل کے مسائل کے بارے میں امامیہ کے متفقہ مسائل بیان کئے گئے ہیں اور دوسرے اسلامی فرقوں کے عقائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

امامت اور متعلقہ مسائل، علی(ع) کے خلاف لڑنے والے محاربین کا حکم، انبیاء کی بعثت کی ضرورت، رسل اور انبیاء کے درمیان فرق، رسول اللہ(ص) کے اجداد اور ابو طالب علیہ السلام کا ایمان، رجعت اور بداء اور تالیف قرآن، وعید، شفاعت، اسماء اور احکام، اسلام اور ایمان، توبہ، دین میں بدعت گزاروں کا حکم اور فرشتوں پر انبیاء کی فوقیت۔

چوتھا باب کلامی مسائل میں شیخ کی خاص آراء پر مشتمل ہے جو اہل بیت(ع) سے منقولہ روایات کے عین مطابق ہے؛ اور دوسروں کے عقائد کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
پانچویں باب میں ذیل کے موضوعات پر بحث ہوئی ہے: ‏

  1. کیا امور غیبیہ اور محسوسات نیز اخبار و روایات کی درستی کا علم، اضطراری یا اکتسابی؟
  2. اخبار (= احادیث) میں تواتر کی حد کیا ہے؟
  3. فرائض، اختیار اور افعال قبیحہ کے صدور کے لحاظ سے اہل آخرت کے بارے میں بحث۔
  4. دارالکفر، دارالاسلام اور دارالایمان کی تعریف۔
  5. اور چھٹا باب "القول فی اللطیف من الکلام" کے عنوان سے شروع ہوا ہے اور "جواہر و اعراض"، "آلام و اعواض"، "ارادہ و اختیار"، "شہادت"، "نصر (کامیابی) اور خذلان (شکست)"، "طبع و ختم"، "ولایت اور عداوت"، "تقیہ"، "اسم و مسمی"، "امر بالمعروف و نہی عن المنکر"، "اجماع کی حجیت"، "ناسخ و منسوخ"، "جنت اور دوزخ"، اور دیگر موضوعات پر مشتمل ہے۔

اور ان کی کتاب تصحیح الاعتقاد ـ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے ـ شیخ صدوق کی کتاب الاعتقاد کی نقادانہ شرح ہے اور ہم نے مندرجہ بالا سطور میں ان کی تنقید کے نمونوں کا تذکرہ کیا ہے۔

پانچویں صدی ہجری

  1. ابوالقاسم علی بن الحسین بن موسی موسوی معروف به سید مرتضی، الملقب بہ علم الہدی (ولادت 436 وفات 355ہجری قمری):
    وہ بزرگ شیعہ علمی شخصیات میں سے ہیں اور علم کلام میں بےمثل اور استاد مسلّم تھے۔ خواجہ نصیر الدین طوسی اپنے درس میں ان کا تذکرہ "صلوات اللہ علیہ" کہہ کر، کرتے تھے اور حاضرین سے مخاطب ہوکر کہتے: "کیف لا یصلی علی المرتضی"، مرتضی پر درود کیونکر نہ بھیجا جائے گا؟
    اور علامہ حلی نے ان کی تالیفات کے بارے میں کہا ہے: وبکتبه استفادت الامامیة منذ زمنه رحمه الله الی زماننا(693ه‌) ترجمہ: "اور ان کی کتب سے امامیہ نے ان کے زمانے سے لے کر ہمارے زمانے (سنہ 693ہجری قمری) تک، استفادہ کیا ہے"۔ وہ کہتے ہیں کہ "سید مرتضی امامیہ کا ستون اور استاد ہیں۔
    ابوالعلاء معری نے سید مرتضی سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ متعارف ہوئے تو کہا: "اگر تم ان کے پاس آتے تو تمام انسانوں کو ایک فرد میں اور پوری زمین کو ایک گھر میں اور پورے زمانے کو ایک ساعت میں، پاتے"۔
    سید مرتضی علم و دانش کے شیدائی تھے اور دینی تعلیمات و معارف کی کی ترویج میں انتھک کوششیں کیں اور چونکہ وہ صاحب ثروت بھی تھے اس راستے میں مؤثر اقدامات بجا لانے میں کامیاب ہوئے؛ اور جیسا کہ منقول ہے انھوں نے اپنے شاگردوں کے لئے وظیفہ مقرر کیا تھا۔ شیخ طوسی اپنے شاگردوں کو 12 دینار ماہانہ بطور وظیفہ دیتے تھے اور قاضی عبدالعزیز براج 8 دینار۔۔۔
    سید مرتضی کے اساتذہ میں اہم ترین شیعہ علماء میں سے شیخ مفید اور ابو عبداللہ مرزبانی شامل تھے اور انھوں نے اپنی کتب ـ بالخصوص امالی ـ میں ان دو بزرگوں کا بار بار تذکرہ کیا ہے۔ ان کے مکتب میں عظیم علمی شخصیات نے تربیت پائی جن میں شیخ طوسی (متوفی سنہ 460ہجری قمری)، سلار (متوفی سنہ 448 ہجری قمری)، قاضی عبدالعزیز بن براج (متوفی سنہ 481ہجری قمری) ابو یعلی محمد بن حسن بن حمزہ جعفری (متوفی سنہ 463ہجری قمری) اور [[علامہ کراجکی (متوفی سنہ 449 ہجری قمری) شامل ہیں۔
    علم الہدی نے مختلف دینی علوم میں متعدد عمدہ کتب تالیف کی ہیں جن میں سے اہم ترین کلامی تالیفات کچھ مندرجہ ذیل ہیں:
    الشافی فی الامامہ۔ یہ کتاب انھوں نے قاضی عبدالجبار معتزلی کی کتاب المغنی کے جواب میں لکھی ہے۔
    انقاذ البشرمن القضاء والقدر۔ یہ کتاب سنہ 1935 عیسوی میں نجف سے اور سنہ 1350 ہجری شمسی میں تہران سے شائع ہوئی۔
    تنزیہ الانبیاء۔ اس کتاب میں انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی عصمت پر اٹھائے جانے والے شبہات و اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
    الذخیرۃ فی اصول الدین۔
    ان کی دوسری مشہور کتب میں غرر الفوائد ودرر القلائد المعروف بہ الامالی شامل ہے۔ یہ کتاب کلامی مسائل میں شیعہ آراء پر مشتمل ہے اور ادب و شعر و لغت کے مصادر و مآخذ میں بھی شمار ہوتی ہے۔
    انھوں نے فقہ اور اصول فقہ میں متعدد کتب لکھی ہیں جن میں الانتصارفیما انفردت بہ الامامیہ اور الذریعۃ فی اصول الفقہ مشہور ترین ہیں۔
    اہم ترین کلامی موضوعات ـ جو سید مرتضی کی تالیفات کا موضوع بنے ہیں ـ عصمت و امامت، قضاء و قدر اور حدوث عالم ہیں اور یہیں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے زمانے میں یہ موضوعات بحث انگیز تھے۔
  2. علامہ ابوالفتح کراجکی (متوفی سنہ 449ہجری قمری):
    وہ عقلی اور نقلی علوم کے مختلف فنون میں صاحب رائے اور استاد تھے۔ آیت اللہ سید حسن صدر نے ذیل کے القاب سے ان کا تذکرہ کیا ہے: علامة، شیخ الفقهاء والمتکلمین وحید عصره وفرید دهره فی الفقه والکلام والحکمة والریاضی باقسامه، مصنف فی الکل، مکثر فی التصنیف متفنن فیه ترجمہ: وہ بہت علّامہ، فقہ، کلام، حکمت (= فلسفہ) اور ریاضیات کی تمام قسموں میں اپنے عصر میں یگانہ اور اپنے دہر میں منفرد ہیں؛ ان تمام علوم و فنون میں بہت زیادہ تصانیف کے مصنف اور سب میں صاحب فن ہیں۔
    ان کی کتابوں میں التعجب، الاستبصار، النصوص، معدن الجواہر، کنز الفوائد، رسالۃ تفضیل امیرالمؤمنین (علیہ السلام) شامل ہیں؛ اور یہ سب علامہ مجلسی کی کتاب بحار الانوار کے مصادر و مآخذ ہیں۔ ان کی مشہور ترین کتاب کنز الفوائد ہے جو گہرے کلامی مباحث پر مشتمل ہے۔
  3. محمد بن حسن طوسی (متوفی سنہ 460ہجری قمری) المعروف بہ شیخ طوسی اور شیخ الطائفہ:
    وہ مختلف اسلامی علوم و فنون میں علمی جامعیت کے لحاظ سے نادرہ روزگار تھے؛ کلام، فقہ، حدیث، اصول فقہ، تفسیر، دعا اور آداب و عبادات گرانقدر کتب کے مؤلف ہیں اور ان کی یہ کتابیں دینی علوم کا مرجع (= Reference) ہیں۔ کلام میں ان کی کلامی تالیفات میں ایک بڑی کتاب ہے جس کا موضوع اصول دین ہے جس میں توحید کا حصہ اور عدل کا کچھ حصہ، زیور طبع سے آراستہ ہوا ہے۔ ان کی ایک کلامی کتاب کا نام علم کلام پر ان کا لکھا ہوا دیباچہ ہے جس پر انھوں نے خود شرح لکھی ہے اور اس کا نام ریاضۃ العقول رکھا ہے۔ ان کی دوسری کلامی تالیفات میں امامت کے موضوع پر تلخیص الشافی، تمہید الاصول، الغیبہ اور الاقتصاد فی الاعتقاد شامل ہیں۔

چھٹی صدی ہجری

  1. امین الاسلام فضل بن حسن بن فضل طبرسی (متوفی سنہ 548ہجری قمری):
    وہ مجمع البیان فی تفسیر القرآن کے مؤلف ہیں۔ گوکہ انھوں نے علم کلام میں کوئی مستقل کتاب نہیں لکھی لیکن مجمع البیان میں کلامی موضوعات پر بحث کی ہے جو متکلمین کے عقائد و آراء پر ان کے احاطے اور علم کلام میں ان کی مہارت کا ثبوت ہے۔
  2. احمد بن ابی طالب طبرسی:
    وہ ابن شہر آشوب کے استاد اور کتاب الاحتجاج کے مؤلف تھے اور پانچویں صدی کے اواخر نیز چھٹی صدی ہجری کے اوائل میں امامیہ کے متکلمین اور محدثین میں سے تھے۔ ان کتاب الاحتجاج خاندان رسالت کی کلامی آراء کے اہم ترین مصادر و مآخذ میں سے ایک ہے۔ وہ اپنی کتاب کے مقدمے میں اپنی اس کاوش کے محرکات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "جس چیز نے مجھے اس کتاب کی تالیف پر آمادہ کیا یہ تھی کہ بعض اصحاب (علمائے شیعہ) نے طریق احتجاج اور جدال احسن کا راستہ ـ خواہ وہ حق ہی کیوں نہ ہو ـ ترک کردیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ رسول اللہ(ص) اور ائمۂ اطہار(ع) نے کبھی بھی مخالفین کے ساتھ مجادلہ نہیں کیا چنانچہ ان ذوات مقدسہ نے شیعہ کو بھی ایسا کرنے کا مجاز قرار نہیں دیا ہے بلکہ انہیں اس عمل سے روک رکھا ہے؛ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ ایسی کتاب تالیف کروں جو فروع اور اصول میں ان بزرگواروں کے محاورات و مباحثات پر مشتمل ہو"۔ وہ مزید لکھتے ہیں: "ائمۂ معصومین علیہم السلام نے صرف ایسے افراد کو باز رکھا ہے جو مباحثے اور مجادلے کی اہلیت سے محروم ہیں؛ نہ ان افراد کو جو با صلاحیت اور مقتدر ہیں؛ ان بزرگواروں نے با صلاحیت اور صاحب علم و دانش افراد کو مخالفین کے ساتھ بحث و مناظرے کا حکم دیا ہے اور یہ امر ان کی جلالت اور رفعت و منزلت کا سبب بنا ہے"۔
  3. سدید الدین حمصی رازی (تاریخ وفات سنہ 580 اور 590 ہجری قمری کے درمیان):
    محدث قمی ان کی توصیف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "علامہ متکلم، متبحر، فن کلام میں صاحب کتاب التعلیق العراقی۔ متکلم حاذق له مؤلفات فی الکلام فی غایة الجودة ونقل فخرالدین الرازی بعض احتجاجاته فی تفسیر آیة المباهلة ترجمہ: کتاب التعلیق العراقی وہی کتاب المنقذ من التقلید والمرشد الی التوحید ہے جس کی تالیف کا کام سنہ 581 ہجری قمری میں مکمل ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب حلہ میں بعض علماء کو پڑھ کر سنائی اور خود ہی حلہ میں قیام اور اس کتاب کی تالیف کی داستان بیان کی ہے۔
  4. رشید الدین شہرآشوب مازندرانی (متوفی سنہ 583 یا 588ہجری قمری):
    محدث قمی نے ان کے بارے میں لکھا ہے: فخرالشیعة ومروج الشریعة محیی آثار المناقب والفضائل، شیخ مشائخ الامامیة وهو عند الشیعة کالخطیب البغدادی لاهل السنة فی تصانیفه ترجمہ: فخر شیعہ، شریعت کے مروج، مناقب و فضائل کے احیاء کنندہ، علمائے امامیہ کے استاد، وہ اپنی تصانیف کے لحاظ سے شیعہ کے ہاں وہی منزلت رکھتے ہیں جو اہل سنت کے نزدیک خطیب بغدادی کو حاصل ہے۔
    صفدی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: "انھوں نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کا زیادہ تر حصہ حفظ کیا اور اصول شیعہ میں اعلی ترین مقام تک پہنچے یہاں تک کہ بہت سے لوگ دور دراز کے شہروں اور ملکوں سے ان کے علمی خزانے سے استفادہ کرنے کے لئے ان کے پاس حاضر ہوجایا کرتے تھے"۔

وہ گرانقدر تالیفات کے مالک ہیں جن میں سے بعض مشہور تالیفات درج ذیل ہیں:
معالم العلماء، مناقب آل ابی طالب اور متشابہ القرآن۔ مؤخر الذکر کتاب بہت سے کلامی نکات و فوائد پر مشتمل ہے۔

ساتویں صدی ہجری

  1. نصیر الدین محمد بن محمدبن حسن طوسی (متوفی سنہ 672ہجری قمری): کتاب تأسیس الشیعہ کے مؤلف ان کے بارے میں لکھتے ہیں: [هو] سلطان المحققین واستاد الحکماء والمتکلمین، نصیرالملة والدین احد ارکان الدنیا والدین، ناموس المسلمینوہ طوس میں پیدا ہوئے۔ طفولت میں "علم مقالات" کی طرف مائل ہوئے اور اس کے بعد علم کلام سیکھنے اور حکمت کے حصول میں مصروف ہوئے اور اس حد تک ترقی کرگئے کہ حکمت اور فلسفے نے اپنی زمام ان کے سپرد کردی . انھوں نے کلمۃ الحق کی سربلندی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، حدود الہیہ کے نفاذ اور نماز جمعہ و جماعت کے قائم کرنے کے سلسلے میں انبیاء اور ائمہ کی روش پر عمل کیا"۔
    ][علامہ حلی]] ان کے بارے میں کہتے ہیں: کان هذا الشیخ افضل اهل عصره فی العلوم العقلیة وله مصنفات کثیرة فی العلوم الحِکمیة والشرعیة علی مذهب الامامیة وکان اشرف من شاهدناه فی الاخلاق نورالله ضریحه قرأت علیه الهیات الشفا لابی علی بن سینا، بعض التذکرة فی الهیئة تصنیفه، ثم ادرکه الاجل المحتوم۔ ترجمہ: یہ شیخ علوم عقلیہ میں اپنے زمانے کے لوگوں میں بہترین تھے، وہ مذہب امامیہ کے مطابق، حکمت اور شریعت کے علوم میں، متعدد تصانیف کے مالک ہیں اور اخلاق کے لحاظ سے ان لوگوں میں بہترین تھے جنہیں میں نے دیکھا ہے خداوند متعال ان کی ضریح کو منور فرمائے، میں نے انہیں بو علی سینا کی کتاب الہیات شفا نیز ان کی اپنی کتاب تذکرہ پڑھ کر سنائی جو علم ہیئت میں ہے۔ بعدازاں وہ دنیا سے رخصت ہوئے۔

محقق طوسی کی زندگی کو تین مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے:

پہلا دور: یہ دور ان کی ولادت سے لے کر اسماعیلیوں سے ملاقت کا دور ہے۔ اس زمانے میں وہ قم اور نیشابور جیسے شہروں میں علم و دانش کے حصول میں مصروف تھے۔

دوسرا دور: یہ دور ایران پر منگولوں کے حملے سے لے ہلاکو خان کے برسر اقتدار آنے تک کے زمانے پر محیط ہے۔ اس دور میں منگولوں کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کی وجہ سے کہیں بھی گوشۂ امن میسر نہ تھا چنانچہ خواجہ نے قہستان کے والی ناصر الدین عبدالرحیم ابو منصور کی دعوت قبول کی اور مہمان کے طور پر ان کے پاس چلے گئے اور اپنی کتاب اخلاقی ناصری کو اپنے میزبان کے لئے اور رسالہ معینیہ کو ان کے بیٹے معین الدین کے لئے تالیف کیا۔ بعدازاں اسماعیلیہ کے پیشوا علاء الدین بن محمد کی دعوت پر "میمون دز" کے قلعے میں چلے گئے جو پرامن تھا اور سنہ 653 ہجری قمری میں ہلاکو خان کے ہاتھوں اسماعیلیوں کی شکست تک وہیں قیام پذیر رہے۔

[خوفزدگی اور فراخی کے انتظار کا] یہ دور رُبع صدی تک جاری رہا۔ اس زمانے میں مندرجہ بالا دو کتب کے علاوہ کئی دیگر کتب بھی تالیف کیں جن میں روضۃ القلوب، رسالۃ التولی والتبری، تحریر المجسطی، تحریر اقلیدس روضۃ التسلیم، مطلوب المؤمنین، اور شرح الاشارات شامل ہیں۔ مؤرخین نے اسماعیلیوں کے قلعوں میں خواجہ کے قیام کو قید اور اسیری کا دور گردانا ہے اور لکھا ہے کہ انھوں نے دھونس دھمکی سے انہیں اپنے پاس منتقل کیا اور ان سے کہا کہ ان کی تائید و تصدیق کریں۔ اس رائے کا ثبوت شرح اشارات کے آخر میں مندرجہ ان کی اپنی عبارات ہیں جہاں انھوں نے کہا ہے: "اس کتاب کا بیشتر حصہ میں نے بہت دشوار حالات میں ـ جس سے زیادہ دشواری قابل تصور نہیں ہے ـ اور ایسے اوقات اور مقامات پر تحریر کیا جن کا ہر لمحہ آتش دوزخ کے شعلے جیسا تھا؛ آنکھیں مسلسل گریاں اور مزاج مسلسل مکدر؛ انھوں نے اپنی ناخوشگوار صورت حال ان دو ابیات کے ذریعے ترسیم کی ہے:

به گرداگرد خود چندانکه بینم
بلا انگشتری و من نگینم
جو کچھ اپنے ارد گرد دیکھ رہا ہوں
بلا انگشتری اور میں نگیں ہوں

اور آخر کار درگاہ خداوندی میں تضرع و التجا اور ابتہال کرتے ہوئے ان حالات سے نجات کی دعا کرتے ہیں۔

تیسرا دور: تیسرے دور کا آغاز ہلاکو خان کے ہاتھوں اسماعیلیوں کی شکست اور ہلاکو کے ساتھ ان کی شناسائی سے ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں وہ حُسنِ تدبیر سے ہلاکو خان کے جذبات کو مسخر کیا اور انہیں دین اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر مؤمنین اور علماء کے قتل عام کا سد باب کرتے ہیں یہاں تک کہ تمام وسائل و امکانات کو مذہب اثنا عشری کی تقویت اور علم و دانش کی ترویج کی راہ میں بروئے کار لایا گیا۔ یہاں تک کہ ہلاکو کی طرف سے اسلامی ممالک کے اوقاف کا انتظام کا عہدہ انہیں سونپ دیا گیا۔ انھوں نے اس بےمثل موقع کو غنیمت جان کر نہ صرف علماء اور دانشوروں کو تحفظ دیا بلکہ مراغہ کے مقام پر عظیم رصد خانہ اور چار لاکھ کتب پر مشتمل عظیم ترین کتب خانہ تاسیس کیا۔

محقق طوسی کی کلامی تالیفات:

  1. تجرید الاعتقاد: یہ کتاب جامع ترین اور مشہور ترین کلامی تالیفات میں شمار ہوتی ہے اور علمائے اسلام خواجہ کے زمانے سے ہی اس سے استفادہ کرتے آئے ہیں اور علماء نے اس پر متعدد شروح اور تعلیقات لکھی ہیں۔ اس پر لکھی گئی پہلی شرح علامہ حلی کی شرح کشف المراد ہے۔ ملا علی قوشجی لکھتے ہیں: "اگر خواجہ کے عرب شاگرد ـ جو علامہ حلی ہیں ـ نے تجرید پر شرح نہ لکھی ہوتی تو بےشک یہ کتاب اجمال کی صورت میں باقی رہتی۔ تجرید الاعتقاد پر لکھی گئی مشہور شرحوں میں شمس الدین محمود بن عبدالرحمن اصفہانی (متوفی سنہ 749 ہجری قمری) المعروف بہ شرح قدیم، ملا علی قوشجی کی شرح المعروف بہ شرح جدید اور عبد الرزاق لاہیجی کی شرح شوارق الالہام شامل ہیں۔
  2. قواعد العقائد: یہ اصول عقائد کی مختصر اور مفید کتاب ہے جس میں اہم کلامی مسائل کے بارے میں مختلف اسلامی فرقوں کے عقائد بیان کئے گئے ہیں۔ اس کتاب پر بھی متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں علامہ حلی] کی شرح کشف الفوائد، محمود بن علی بن محمود حمصی رازی کی شرح کشف المعاقد، سید رکن الدین ابو محمد حسن بن شرفشاہ (متوفی سنہ 717ہجری قمری) کی شرح القواعد عبدالرزاق بن ملا میر گیلانی (متوفی سنہ 1077ہجری قمری) کی شرح تحریر القواعد الکلامیہ شامل ہیں۔
  3. فصول نَصیریہ: یہ کتاب فارسی میں لکھی گئی اور []علامہ حلی]] کے شاگرد شیخ محقق رکن الدین محمد بن علی فارسی جرجانی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب پر متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں معتبر ترین شرح علامہ حلی کے فرزند فخر المحققین کی ہے۔
  4. تلخیص المحصل یا نقد المحصل: یہ کتاب انھوں نے فخر الدین رازی کی کتاب المحصل کی تنقید میں لکھی ہے۔
  5. مصارع المصارع: یہ کتاب خواجہ نے الملل والنحل کے مؤلف "شہرستانی کی کتاب المصارعہ کے رد میں لکھی ہے۔ شہرستانی نے مذکورہ کتاب شیخ الرئیس کی آراء پر تنقید میں لکھی تھی۔
  6. جبر و اختیار پر دو رسالے: ان میں سے ایک رسالہ فارسی میں اور دوسرا عربی میں لکھا گیا ہے۔
  7. اللہ کی وحدانیت پر ایک رسالہ: یہ کتاب عربی میں مرقوم ہے۔
  8. ایک رسالہ امامت میں: یہ کتاب بھی عربی میں ہے۔
  9. المقنعہ فی اول الواجبات۔
  10. اقل ما یجب الاعتقاد بہ ۔
  11. کمال الدین میثم بن علی بن میثم بحرانی (متوفی سنہ 679 یا سنہ 699ہجری قمری)، نہج البلاغہ کے شارح اور امامیہ کے اکابر علماء میں سے ہیں جو علوم معقول و منقول میں استاد مسلّم اور اہل نظر اور صاحب تالیفات، خواجہ نصیر الدین طوسی کے ہم عصر اور ان کے ممدوح ہیں؛ نیز میر سید شریف جرجانی نے فن بیان کے اوائل میں ان کی کتاب شرح مفتاح سے ان کی تحقیقات نقل کی ہیں؛ اور "بعض مشائخنا" (= ہمارے بعض اساتذہ) کے ضمن میں ان کا حوالہ دیا ہے۔ نیز سید سند میر صدر الدین شیرازی نے شرح تجرید ـ بالخصوص جواہر و اعراض کی بحث ـ کے حواشی میں ان کے متعدد حوالے دیئے ہیں۔
    ان کی مشہور ترین کلامی تالیف قواعد المرام فی علم الکلام ہے جو ذیل کے آٹھ قواعد کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے:
    پہلا قاعدہ چار ارکان پر مشتمل ہے اور اس میں اہم منطقی مباحث بیان ہوئے ہیں؛ دوسرا قاعدہ وجود کے عام مباحث میں سے 10 مباحث (فلسفے کے امور عامہ) پر مشتمل ہے جو کچھ یوں ہیں: مفہوم وجود کی بداہت (= بدیہی ہونا)، ماہیت پر وجود کا زائد ہونا، وجود کا حادث اور قدیم پر منقسم کرنا متکلمین کی اصطلاح کے مطابق ، وجود کا واجب اور ممکن پر منقسم ہونا اور ممکن کا جوہر اور عَرَض پر منقسم ہونا اور ان کی اقسام حکماء (= فلاسفہ) کی اصطلاح کے مطابق، واجب الوجود بالذات کے خواص، ممکن الوجود بالذات کے خواص، معدوم سے متعلق مباحث۔ تیسرا قاعدہ دو ارکان پر مشتمل ہے اور عالم کے حدوث کے اثبات پر بحث کرتا ہے۔ چوتھا قاعدہ صانع کے وجود کے اثبات کے براہین و دلائل اور صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کو زیر بحث لاتا ہے۔ پانچواں قاعدہ خداوند متعال کے افعال اور عدل الہی سے متعلق مباحث و موضوعات کا جائزہ لیتا ہے اور چھٹا قاعدہ نبوت اور متعلقہ موضوعات و مباحث پر بحث کرتا ہے۔ ساتوں قاعدہ جسمانی اور روحانی معاد کے بارے میں ہے اور آٹھواں قاعدہ جو ایک مقدمے اور دو ارکان سے تشکیل پایا ہے امامت سے متعلق موضوعات کی تشریح کرتا ہے۔
    ان کے لئے دوسرے کلامی آثار بھی مذکور ہیں جن میں البحر الخضم فی الالہیات، رسالۃ فی الوحی والالہام، غایۃ النظر فی علم الکلام اور النجاۃ فی القیامۃ فی تحقیق امر الامامۃ شامل ہیں۔
  12. علی بن سلیمان بحرانی ابن میثم بحرانی کے استاد اور الاشارات فی علم الکلام کے مؤلف ہیں۔ وہ ساتویں صدی ہجری کے شیعہ متکلمین میں سے ہیں کیونکہ ابن میثم بحرانی ـ جو سنہ 636 ہجری قمری میں پیدا ہوئے ہیں ـ ان کے شاگرد ہیں۔ ان کی کتاب الاشارات پر ان کے شاگرد ابن میثم نے شرح لکھی ہے اور ان کی دوسری کتاب رسالۃ العلم پر خواجہ نصیر نے شرح لکھی ہے۔
  13. جمال الدین حسن بن یوسف بن علی بن مطہر المعروف بہ علامہ حلی (ولادت سنہ 648 وفات سنہ 726ہجری قمری) امامیہ کے نامور متکلمین اور علوم معقول و منقول میں نوادر میں سے ہیں اور تاریخ کا اعجوبہ سمجھے جاتے ہیں۔ تمام سوانح نگاروں نے ان کی علمی اور عملی منزلت کی تمجید و تعریف کی ہے اور تعجب کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔ تاسیس الشیعہ کے مؤلف ان کی توصیف میں لکھتے ہیں:
    شیخ الشیعة ومحیی الشریعة صنف فی کل فنون العلم المعقول والمنقول مایزید علی خمسمأة مجلد لم یتفق فی الدنیا مثله لا فی المتقدمین ولافی المتأخرین۔ ترجمہ: وہ تشیع کے شیخ اور شریعت کے احیاء کنندہ اور علم معقول و منقول کے تمام فنون میں صاحب تصانیف ہیں جن کی تعداد 500 تک پہنچتی ہے، دنیا میں کسی کو بھی اتنے عظیم کام کی توفیق نہیں ملی ہے متقدمین میں اور نہ ہی متاخرین میں۔
    ان کی علمی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ جب خواجہ نصیر الدین طوسی سے شہر حلہ کے مشاہدات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:
    رأیت خریتاً ماهراً وعالماً اذا جاهد فاق۔ ترجمہ: اس سے عبارت سے خواجہ طوسی کی مراد ان کے شاگرد علامہ حلی تھے جنہوں نے حلہ سے بغداد تک خواجہ کے ساتھ سفر کیا اور اس سفر کے دوران ان سے علمی مشکلات و مسائل میں سے 12 مسائل پوچھے [اور جواب وصول کیا]۔

ریاض العلما کے مؤلف ان کے وصف میں لکھتے ہیں:
الامام الهمام، العالم العامل، الفاضل الکامل الشاعر الماهر، علامة العلماء وفهامة الفضلا استاد الدنیا المعروف فیما بن الاصحاب بالعلامة عند الاطلاق والموصوف بغایة العلم ونهایة الفهم والکمال فی الافاق...وله حقوق عظیمة علی زمرة الامامیة لساناً وبیاناً وتدریساً وتألیفاً وقد کان جامعاً لانواع العلوم مصنفا فی اقسامها حکیماً متکلماً، فقیهاً، اصولیاً، ادیباً، شاعراً ماهراً...۔ ترجمہ: امام ہُمام، عالم عامل، فاضل کامل اور شاعر ماہر، علماء میں علامہ اور فضلاء میں فہامہ، [پوری] دنیا کے استاد، اصحاب (=علمائے شیعہ) میں علامۂ مطلق کے عنوان سے معروف اور آفاق میں غایت علم و نہایت فہم و کمال کے عنوان سے مشہور... لسان و بیان اور تدریس و تالیف کے لحاظ سے مکتب امامیہ پر ان کا حق عظیم ہے اور وہ مختلف النوع علوم میں جامع تھے اور حکیم (اور فیلسوف)، متکلم، فقیہ، اصولی (= اصول فقہ کے عالم)، ادیب، شاعر ماہر کے عنوان سے مختلف علوم و فنون میں صاحب تصانیف ہیں۔

علامہ نے اپنے زمانے کے عظیم الشان علماء ـ خواہ شیعہ خواہ سنی ـ سے علم حاصل کیا جن میں مشہور ترین علماء کے نام کچھ یوں ہیں: ان کے والد سدید الدین یوسف حلی، شرائع الاسلام کے مؤلف اور ان کے ماموں محقق حلی (جو اپنے زمانے کے فقہاء میں سرآمد تھے)، خواجہ نصیر الدین طوسی، کمال الدین میثم بحرانی، نجم الدین عمربن علی کاتبی قزوینی شافعی ـ جو خود محقق طوسی کے شاگرد تھے اور منطق، ریاضیات اور فلسفہ میں اہل نظر تھے؛ علامہ ان کے بارے میں کہتے ہیں: وهذا الشیخ کان من افضل علماء الشافعیة وکان من انصف الناس فی البحث وکنت اقرأ علیه واورد علیه اعتراضات فی بعض الأوقات فیتفکر تارة وفی بعض الاوقات یقول: حتی نفکر فی هذا...۔ ترجمہ: اور یہ شیخ علمائے شافعیہ میں بہترین اور بحث و مباحثے میں منصف ترین تھے اور انہیں پڑھ کر سناتا تھا اور کبھی ان پر اعتراض کرتا تو وہ یا تو سوچنے لگتے یا کہہ دیتے کہ ہمیں سوچنے دو۔

متعدد شیعہ اور سنی علماء نے مختلف علوم و فنون میں ان سے دانش و معرفت حاصل کی جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں: ان کے بیٹے فخر المحققین علامہ کے دو بھانجے سید عمید الدین اورسید ضیاء الدین، سید احمد بن ابراہیم بن زہرہ حلبی، قطب الدین رازی، شیخ رضی الدین مزیدی، شیخ زین الدین مطارآبادی، سید تاج الدین محمد بن قاسم، سید تاج الدین حسن، شیخ محمد بن علی جرجانی، شیخ تقی الدین آملی، سید صدر الدین دشتکی وغیرہ۔

ان سے منقولہ آثار و تالیفات کی تعداد کثیر ہے اور اگرچہ بعض نے مبالغے سے کام لیتے ہوئے ان کے لئے ایک ہزار تالیفات ذکر کی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے میں رائج علوم معقول و منقول میں متعدد تالیفات کے مالک ہیں۔ صاحب کتاب اعیان الشیعہ علامہ سید محسن امین عاملی نے ان کے لئے فقہ، اصول فقہ، کلام، تفسیر، بحث کے آداب، فلسفہ، حدیث، رجال، ادبیات اور دعا جیسے مضامین میں، 100 سے زائد تالیفات کا تذکرہ کیا ہے جن میں سے ہم ذیل کی چند تالیفات کے تذکرے پر اکتفا کرتے ہیں:

حوالہ جات

  1. علامه طباطبائی، امام علی و فلسفه الهی، متعلقہ باب۔
  2. زمانۂ ظہور: پہلی صدی ہجری کا نصف دوئم۔
  3. زمانۂ ظہور: پہلی صدی ہجری کا نصف اول۔
  4. مثال کے طور پر خیاط معتزلی، ابن تیمیہ، ابوالحسن اشعری، احمد امین اور الفرڈ میڈلنگ (Alfred Madelung) کا دعوی یہی ہے۔
  5. معروف الحسني، الشيعة بين الاشاعرة والمعتزلة، ص142-141۔
  6. ربانی گلپایگانی، علی، عقائد استدلالی، بخش اول۔
  7. جوادی آملی، دین شناسی، ج1، ص241- 243۔
  8. سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل و النحل، ج6، ص261۔
  9. سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل و النحل، ج6، ص254۔
  10. سروش، قبض و بسط تئوریک شریعت، ص280-281۔
  11. ربانی گلپایگانی، همان: 123-124۔
  12. ابن ندیم، الفهرست: ص217۔
  13. سبحانی، 1424 ق : ج1، ص180-182۔
  14. سبحانی، مع الشیعهٔ الامامیه فی عقائدهم، ص15-19۔
  15. ربانی گلپایگانی، ایضاح المراد فی شرح کشف المراد، ص8۔
  16. نصر، معارف اسلامی در جهان معاصر، ص42۔
  17. طریحی، مجمع البحرین، ج4، ص184۔
  18. شہید صدر، المعالم الجدیدة للاصول، ص10۔
  19. ابوزید، النّص، السلطه، الحقیقه، ص125۔
  20. مفید، سلسل‍ة مؤلفات المفید، ج7، ص22۔
  21. شهید صدر، المعالم الجدیدة للاصول، ص35۔
  22. کریمی، قرآن و قلمروشناسی دین، ص78۔
  23. اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی، ص40۔
  24. یوسفیان و شریفی، عقل و وحی، ص123۔
  25. مدرسی طباطبائی، مقدمه ای بر فقه شیعه، ص173۔
  26. یوسفیان و شریفی، عقل و وحی، ص163۔
  27. سبحانی، معجم طبقات المتكلمين، ج1، ص198۔
  28. سبحانی، معجم طبقات المتكلمين، ج1، ص198۔
  29. مدرسی طباطبائی، مقدمه ای بر فقه شیعه، ص38۔
  30. جعفریان، تاريخ ايران اسلامي، ج2، ص170۔
  31. سبحانی، معجم طبقات المتكلمين، ج1، ص46۔
  32. سبحانی، معجم طبقات المتكلمين، ج1، ص118۔
  33. الجابری، الفکر السلفی عند الشیعة الامامیة، ص201۔
  34. مدرسی طباطبائی، مقدمه ای بر فقه شیعه، ص38۔
  35. خوانساری، روضات الجنات، ج6، ص134۔
  36. شیخ طوسی، الفهرست: ص237 و 238۔
  37. رحمتی، نکاتی درباره اهمیت آثار شیخ صدوق، علوم حدیث، شماره 30، ص198-200۔
  38. الجابری، الفکر السلفی عند الشیعة الامامیة، ص193۔
  39. صدر، المعالم الجدیدة للاصول، ص35۔
  40. ابن ادریس، السرائر، ج1، ص50 و 51۔
  41. شهیدی، از دیروز تا امروز (مجموعه مقاله ها و سفرنامه ها)، ص485۔
  42. مجلسی، بحار الانوار، ج10، ص405۔
  43. شهید صدر، المعالم الجدیدة للاصول، ص35۔
  44. یوسفیان و شریفی، عقل و وحی، ص45۔
  45. ربانی گلپایگانی، 1381: ج1، ص43۔
  46. جوادی آملی: دین شناسی، ص126۔
  47. یوسفیان و شریفی، عقل و وحی، ص38 و 39۔
  48. جوادی آملی، دین شناسی، ص148۔
  49. شهید صدر، المعالم الجدیدة للاصول، ص35۔
  50. سبحانی، 1379: ص450۔
  51. [ http://lib.eshia.ir/23022/10/3921/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85 پاکتچی، دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج12، ص324]۔
  52. پاکتچی، دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج10، ص165۔
  53. ملکی میانجی، علامه مجلسی اخباری یا اصولی، ج2، ص298۔
  54. مدرسی طباطبائی، مقدمه ای بر فقه شیعه، ص173۔
  55. عزیزی، مبانی و تاریخ تحول اجتهاد، ص317 و 321۔
  56. ابن طاؤس، کشف المحج‍ة لثمرة المهجة، ص185۔
  57. پاکتچی، دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج10، ص166۔
  58. خامنه ای، 1374: ص577 - 605۔
  59. پال فولکیے [Paul Foulquié (1893-1983)]، دیالکتیک، ص80۔
  60. ابن خلدون، مقدمه، ج2، ص947 و 948۔
  61. ابن خلدون، مقدمه، وہی ماخذ۔
  62. شریف، تاریخ فلسفه در اسلام، ج1، ص342۔
  63. شریف، وہی ماخذ، ج2، ص12 و 17، 84 و 83۔
  64. مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، ج5، ص150 و 155۔
  65. دینانی، ماجرای فکر فلسفی، ج2؛ ص22 و 23۔
  66. ابن خلدون، مقدمه، وہی حوالہ۔
  67. مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، ج3، ص95، ج5، ص150 - 155۔
  68. فیاضی، 1384: ص87۔
  69. نصر، جاودان خرد، ص313۔
  70. مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، ج13، ص234 و 235۔
  71. مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، ج3، ص88۔
  72. داوری، مجموعه مقالات فلسفی، 1369: ص119۔
  73. مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، ج3 ص52۔
  74. الشیبی، الفکر الشیعی و النزعات الصوفیه، ص96۔
  75. دینانی، ماجرای فکر فلسفی، ج2، ص270۔
  76. نصر، معارف اسلامی در جهان معاصر، ص40۔
  77. الشیبی، الفکر الشیعی و النزعات الصوفیه، وہی صفحات۔
  78. نصر، جاودان خرد، ص202 و 229۔
  79. محقق حلی، المسلک فی اصول الدین، ص33۔
  80. مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، ج3، ص88۔
  81. الشیبی، الفکر الشیعی و النزعات الصوفیه، وہی ماخذ۔
  82. ربانی گلپایگانی، فرق و مذاهب کلامی، ص207۔
  83. سروش، ۱۳۷۵: ص۲۸۰-۲۸۱
  84. ربانی گلپایگانی، همان: ۱۲۳-۱۲۴
  85. رجوع کریں: کتاب تأسیس الشیعة۔


بیرونی روابط

مآخذ

  • آشتیانی، عباس اقبال، کتاب خاندان نوبختی۔
  • ابن ادریس الحلی، السرائر، قم، موسسهٔ النشر الاسلامی، الثالثه، 1414هجری قمری۔
  • ابن جوزی ابوالفرج، تلبیس ابلیس، علیرضا ذکاوتی قراگزلو، تهران، مرکز نشر دانشگاهی، 1368هجری شمسی۔
  • ابن خلدون عبدالرحمن، مقدمه، محمد پروین گنابادی، 1375هجری شمسی۔
  • ابن طاؤس رضی الدین ابی القاسم علی بن موسی بن جعفر بن محمد، کشف المحجهٔ لثمرهٔ المهجهٔ، تحقیق محمد الحسون، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، 1375هجری شمسی۔
  • ابوریان محمدعلی، تاریخ الفکر الفلسفی فی الاسلام، بیروت، دارالنهضهٔ العربیه، بی تا۔
  • ابوزید نصرحامد، النّص، السلطه، الحقیقه، بیروت، المرکزالثقافی العربی، دارالبیضاء، 2000عیسوی۔
  • استادان گروه فلسفه دانشکده ادبیات و علوم انسانی، فلسفه در ایران، مجموعه مقالات فلسفی، تهران، حکمت، 1369هجری شمسی۔
  • استرین ولفسن هری، فلسفهٔ علم کلام، احمد آرام، الهدی، 1368هجری شمسی۔
  • الامین السیدحسن، الطباطبائی السید عبدالعزیز، الجعفری محمدرضا، حیاهٔ الشیخ المفید، سلسلهٔ مولفات الشیخ المفید، بیروت، دارالمفید، 1414هجری شمسی۔
  • الامینی السیدمحسن، اعیان الشیعه، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1409هجری قمری۔
  • صدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین، التوحید، قم، موسسهٔ النشر الاسلامی، 1423هجری قمری۔
  • الجابری علی، الفکر السلفی عند الشیعهٔ الامامیه، قم، دار احیاء الاحیاء، 1409هجری قمری۔
  • جوادی آملی عبدالله، دین شناسی، قم، مرکز نشر اسراء، اول، 1381هجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول۔ تاريخ ايران اسلامي، 1378 هجری شمسی۔
  • جوادی آملی عبدالله، فلسفه الهی از منظر امام رضا، قم، نشر اسراء، 1383هجری شمسی۔
  • الحلی جعفر بن الحسن بن سعید، المسلک فی اصول الدین، تحقیق رضا استادی، مشهد، مجمع البحوث الاسلامیه، 1373هجری شمسی۔
  • حنفی حسن، من العقیده الی الثوره، المقدمات النظریه، بیروت، دارالتنویر و المرکز الثقافی الدینی للطباعهٔ و النشر، اول، 1988عیسوی، ج1۔
  • احمد پاکتچي، دائرة المعارف بزرگ اسلامی، 1383هجری شمسی، تهران، مرکز دائرهٔ المعارف بزرگ اسلامی، اول، ج8 و10۔
  • دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیه قم، مجله حوزه ش 54 بهمن و اسفند 1371هجری شمسی۔
  • ابراهیمی دینانی غلامحسین، ماجرای فکر فلسفی، تهران، طرح نو، دوم، 1379هجری شمسی۔ ج2۔
  • ربانی گلپایگانی علی، ایضاح المراد فی شرح کشف المراد، قم، مرکز مدیریت حوزه علمیه، 1382هجری شمسی۔
  • وہی مؤلف، فرق و مذاهب کلامی، قم، مرکز جهانی علوم اسلامی، اول، 1377هجری شمسی۔
  • رحمتی محمدکاظم، نکاتی درباره اهمیت آثار شیخ صدوق، علوم حدیث، ش30، دانشکده علوم حدیث، زمستان 1383هجری شمسی۔
  • رسائل الشریف المرتضی، (3 جلد)، بیروت، موسسهٔ النور للمطبوعات، بی تا۔
  • رصّافی محمد، مقالات اسلامی، قم، موسسه اطلاع رسانی اسلامی مرجع، اول، 1382 هجری شمسی۔ ج2۔
  • السبحانی جعفر، رسائل و مقالات، قم، موسسهٔ الامام الصادق، 1419هجری شمسی، ج1۔
  • وہی مؤلف، مع الشیعهٔ الامامیه فی عقائدهم، قم، معاونیهٔ شؤن التعلیم و البحوث الاسلامیه، 1413هجری قمری۔
  • وہی مؤلف، معجم طبقات المتکلمین، قم، موسسهٔ الامام الصادق، 1382هجری شمسی۔
  • وہی مؤلف، موسوعهٔ طبقات الفقهاء، قم، موسسهٔ الامام الصادق(ع)۔
  • وہی مؤلف، مدخل مسائل جدید در علم کلام، قم، مؤسسهٔ امام صادق(ع)، 1382هجری شمسی۔
  • سروش عبدالکریم، قبض و بسط تئوریک شریعت، تهران، موسسه فرهنگی صراط، 1375هجری شمسی۔
  • شبلی نعمانی، تاریخ علم کلام، سید محمدتقی فخر داعی گیلانی، تهران، رنگین، 1328هجری شمسی۔ ج1۔
  • شرف الدین عبدالحسین، النص و الاجتهاد، قم، موسسه الامام الحسین (ع)، اول، 1415هجری قمری۔
  • شهیدی سید جعفر، از دیروز تا امروز (مجموعه مقاله ها و سفرنامه ها)، تهران، نشر قطره، 1372هجری شمسی۔
  • الشیبی کامل مصطفی، الفکر الشیعی و النزعات الصوفیه، بغداد، مکتبهٔ النهضه، 1386هجری قمری۔
  • صدر محمدباقر، المعالم الجدیدة للاصول، طهران، مکتبهٔ النجاح، دوم، 1395هجری قمری۔
  • صدرایی خویی علی و مرعشی نجفی سید محمود، کتابشناسی تجریدالاعتقاد، قم، کتابخانهٔ آیت الله مرعشی، اول، 1383هجری شمسی۔
  • صدوق، من لایحضره الفقیه، قم، جماعهٔ المدرسین فی الحوزهٔ العلمیه، الثانیه، بی تا۔
  • صفری فروشانی نعمت الله، غالیان، کاوشی در جریان ها و برآیندها، مشهد، آستان قدس رضوی، اول، 1378هجری شمسی۔
  • ضیایی علی اکبر، العبیدلی، تهران، مرکز نشر میراث مکتوب، اول، 1381هجری شمسی۔
  • طباطبائی سیدمحمدحسین، امام علی و فلسفه الهی، سید ابراهیم سید علوی، قم، انتشارات اسلامی، 1361هجری شمسی۔
  • طریحی فخرالدین، مجمع البحرین، تهران، مرتضوی، 1362هجری شمسی۔
  • عزیزی، حسین، مبانی و تاریخ تحول اجتهاد، قم، مؤسسهٔ بوستان کتاب، اول، 1384هجری شمسی۔
  • علیدوست ابوالقاسم، مناهج عمده تحقیق در معارف دینی، قبسات، ش34، پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی، 1383هجری شمسی۔
  • الفاخوری حنا، خلیل الجر، تاریخ فلسفه در جهان اسلامی، عبدالمحمد آیتی، تهران، سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، سوم، 1367هجری شمسی۔
  • پل فولکیه، دیالکتیک، مصطفی رحیمی (مترجم)، تهران: آگاه، 2362۔
  • کریمی مصطفی، قرآن و قلمروشناسی دین، قم، موسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی، 1382هجری شمسی۔
  • کلینی محمد بن یعقوب، اصول کافی، تهران، دارالکتب الاسلامیهٔ، چهارم، 1365هجری شمسی۔
  • م۔ شریف م، تاریخ فلسفه در اسلام، نصرالله پورجوادی، مرکز نشر دانشگاهی تهران، 1362هجری شمسی۔
  • محقق مهدی، شیعه در حدیث دیگران، تهران، دفتر دائرهٔ المعارف تشیع، 1362هجری شمسی۔
  • مدرس رضوی محمدتقی، احوال و آثار نصیرالدین، تهران، انتشارات بنیاد فرهنگ ایران، 1354 هجری شمسی۔
  • مدرسی طباطبائی سیدحسین، مقدمه ای بر فقه شیعه (کلیات و کتابشناسی)، محمد آصف فکرت، مشهد، بنیاد پژوهش های اسلامی، 1368هجری شمسی۔
  • مطهری مرتضی، مجموعه آثار، تهران، انتشارات صدرا، پنجم، 1376هجری شمسی۔ ج6و21۔
  • وہی مؤلف، مجموعه آثار، تهران، انتشارات صدرا، ششم، 1375هجری شمسی، ج1۔
  • وہی مؤلف، یادداشت های استاد، تهران، صدرا، اول، 1383هجری شمسی، ج9۔
  • معروف الحسني، هاشم، الشيعة بين الأشاعرة والمعتزلة ۔ شبكة الإمامين الحسنين (عليهما السلام) للتراث والفكر الإسلامي ۔ قسم اللجنة العلمية في الشبكة۔
  • مفید، النکت فی مقدمات الاصول، سلسله مولفات المفید،، بیروت، دارالمفید، ج10، 1414هجری قمری۔
  • وہی مؤلف، اوائل المقالات، سلسل‍ة مؤلفات المفید، بیروت، دارالمفید، الثانیه، 1414هجری قمری،ج 7۔
  • وہی مؤلف، تصحیح اعتقادات الامامیه، سلسلهٔ مولفات الشیخ المفید، بیروت، دارالمفید، 1414هجری قمری، ج5۔
  • موسوی بجنوردی کاظم، اسلام، پژوهشی تاریخی و فرهنگی (مجموعه مقالات)، تهران، انتشارات وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، اول، 1383هجری شمسی۔
  • علی، ملکی میانجی، کتاب "علامه مجلسی اخباری یا اصولی"، (مجموعه مقالات، گفت وگوها و سخنرانی ها)، تهران، انتشارات وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، اول، 1379هجری شمسی۔
  • موسوی خوانساری محمدباقر، روضات الجنات، قم، مکتبهٔ اسماعیلیان، 1390هجری قمری۔
  • نصر سیدحسین، جاودان خرد، مجموعه مقالات، به اهتمام دکتر سیدحسن حسینی، تهران، انتشارات سروش، اول، 1382هجری شمسی۔
  • وہی مؤلف، معارف اسلامی در جهان معاصر، تهران، شرکت سهامی کتاب های جیبی، 1371 هجری شمسی۔
  • یزدی مطلق محمود، اندیشه های کلامی شیخ طوسی (سه جلد)، به کوشش پژوهشگران گروه فلسفه و کلام اسلامی، مشهد، دانشگاه علوم اسلامی رضوی، اول۔
  • یوسفیان حسن و شریفی احمد حسین، عقل و وحی، تهران، پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی، اول، 1383ش