مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

گناہ خدا کی نافرمانی کو کہا جاتا ہے؛ یعنی جن کاموں سے خدا نے منع کی ہو انہیں انجام دینا اور جن کاموں کی انجام دہی کا حکم دیا گیا ہو انہیں ترک کرنا۔ گناہ کو گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ گناہان کبیرہ ان گناہوں کو کہا جاتا ہے جن کے کبیرہ ہونے پر قرآن کریم یا احادیث میں تصریح کی گئی ہو یا ان کے انجام‌ دینے والے کیلئے عذاب کا وعدہ دیا گیا ہو؛ جیسے کسی کو ناحق قتل کرنا، زِنا، یتیم کا مال کھانا اور ربا۔

دینی تعلیمات میں بعض گناہوں کے خاص آثار کا ذکر ملتا ہے جن میں نعمتوں کا زائل ہونا، ذلت و رسوائی اور موت کا نزدیک ہونا وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ قرآن کی بعض آیات کے مطابق بعض نیک اعمال گناہوں کے پاک ہونے کا سبب بنتا ہے جسے اصطلاح میں اسے تکفیر گناہ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیماری اور غربت وغیرہ کے ذریعے سے بھی خدا اپنے بندوں کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں آیا ہے کہ جو شخص توبہ کرتا ہے خدا اس کے گناہوں کو بھی معاف کر دیتا ہے۔

شیعوں کے عقیدے کے مطابق چودہ معصومین اور انبیاء گناہوں سے معصوم‌ ہوتے ہیں۔

فہرست

مفہوم شناسی

دینی اصطلاح میں گناہ خدا کی نافرمانی کو کہا جاتا ہے۔[1] دوسرے لفظوں میں خدا نے جن امور کی انجام سے منع کیا ہے انہیں انجام دینا اور جن کے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے انہیں ترک کرنا۔[2] عربی میں ذَنْب، معصیت، اثِم، سَیِّئہ اور خَطیئہ بھی گناہ کے مترادف الفاظ مانے جاتے ہیں۔[3]

گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ

تفصیلی مضمون: گناہان کبیرہ

بعض اخلاقی کتابوں میں گناہوں کو صغیرہ اور کبیرہ میں تقسیم کیا گیا ہے،[4] جس کا منشاء قرآن اور احادیث کو قرار دیا جاتا ہے۔[5] مثلا سورہ نساء آیت نمبر 31 میں آیا ہے: إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ‌ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُكَفِّرْ‌ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ(ترجمہ: اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا گیا ہے پرہیز کرلو گے تو ہم دوسرے گناہوں کی پردہ پوشی کردیں گے۔) علامہ طباطبائی کے مطابق "سَيِّئَاتِكُمْ" سے مراد گناہ صغیرہ ہے؛ کیوں کہ یہ گناہ کبیرہ کے مقابلے میں آیا ہے۔ پس اس آیت کے مطابق گناہ، کبیرہ اور صغیرہ میں تقسیم ہوتا ہے۔[6]

کتاب عروۃالوثقی میں گناہ کبیرہ کی یوں تعریف کی گئی ہے: ہر وہ گناہ جس کے متعلق قرآن یا احادیث میں اس کے کبیرہ ہونے کی تصریح کی گئی ہو یا اس گناہ کے مرتکب شخص کیلئے عذاب کا وعدہ دیا گیا ہو یا عرف عام میں اسے گناہ کبیرہ میں شمار کیا جاتا ہو، اسے گناہ کبیرہ کہا جاتا ہے۔[7]

کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، زِنا، کسی پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، یتیم کا مال کھانا، رباخواری، نماز کو ترک کرنا، چوری اور خدا کی رحمت سے ناامیدی وغیرہ کو احادیث میں گناہان کبیرہ میں شامل کیا گیا ہے۔[8]

مادی اور معنوی آثار

امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث کے مطابق جب انسان کسی گناہ کا مرتک ہوتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا نقطہ ایجاد ہوتا ہے۔ اب اگر اس گناہ سے توبہ کرتے تو یہ کالا داغ اس کے دل سے پاک ہو جاتا ہے؛ لیکن اگر اس گناہ پر اصرار کرے تو اس کالے داغ میں اضافہ ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ کالا داغ اس کے دل کو گھیر لیتا ہے۔ اس صورت میں یہ شخص کبھی بھی نجات حاصل نہیں کرے گا۔[9]

امام علیؑ قرآن کریم کی اس آیت وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ(ترجمہ: اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی باتوں کو معاف بھی کردیتاہے) سے استناد کرتے ہوئے گناہوں کو انسان کی زندگی میں رونما ہوئے والے مصائب و مشکلات کی علت قرار دیتے ہیں؛ یہاں تک کہ انسان پر وارد ہونے والی ایک معمولی خراش اور زمین پر گر پڑنے تک کو اس کے گناہوں کی وجہ سے قرار دیتے ہیں۔[10]

آثار کے لحاظ سے گناہوں کی تقسیم

بعض احادیث میں گناہوں کو ان کے آثار اور انجام کے لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہے۔ معانی‌الاخبار میں امام سجادؑ سے منقول ایک حدیث میں گناہوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے بعض اقسام درج ذیل ہیں:

اِحباط اور تکفیر

تفصیلی مضمون: احباط
تفصیلی مضمون: تکفیر گناہ

گناہوں کی وجہ سے نیک اعمال کے ثواب کے ختم ہونے کو اِحباط اور نیک اعمال کی وجہ سے گناہوں کے زائل ہونے کو تکفیر کہا جاتا ہے۔[12]

آیت الله جعفر سبحانی کے مطابق بعض اسلامی مذاہب جیسے مُعتَزلہ احباط و تکفیر کے معتقد ہیں۔[13] ان میں سے بعض کہتے کہ گناہ انسان کے تمام نیک اعمال کے نابود ہونے کا باعث بنتا ہے اسی طرح نیک اعمال اس کے تمام گذشتہ گناہوں کے زائل ہونے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن بعض مذاہب احباط و تکفیر جزئی کے قائل ہیں؛ یعنی ان کے مطابق انسان کے نیک اعمال اور اس کا گناہ ایک خاص حد تک ایک دوسرے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں نہ یہ کہ ایک گناہ سارے نیک اعمال کو ختم کر دے یا ایک نیک عمل سارے گناہوں کو زائل کر دے ایسا نہیں ہے۔[14]

شیعہ متکلمین احباط کلی اور جزئی دونوں کو قبول نہیں کرتے۔[15] ان کے مطابق احباط صرف تین گناہوں کے متعلق درست ہے جس کی طرف قرآن میں تصریح کی گئی ہے، یعنی کفر، ارتداد اور نِفاق ان تین گناہوں کی وجہ سے انسان کے گذشتہ نیک اعمال ختم ہو جاتے ہیں؛[16] لیکن تکفیر کو یہ لوگ بھی جزئی طور پر قبول کرتے ہیں۔[17]

گناہوں کے زائل ہونے کے اسباب

کتاب میزان‌ الحکمہ میں "مُکَفِّرات ذُنوب" کے عنوان سے ایک حصہ موجود ہے جس میں احادیث کی رو سے بعض ایسے علل و اسباب کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کی وجہ سے گناہ زائل ہو جاتا ہے۔[18] اس کتاب کے مطابق فقر و تنگ دستی، بیماری، خندہ پیشانی، مظلومین کی فریاد رسی، زیادہ سجدہ بجالانا اور زیادہ صلوات بھیجنا انہی عوامل میں سے ہیں۔[19]

گناہ سے توبہ

تفصیلی مضمون: توبہ

تقریبا تمام فقہاء گناہوں سے توبہ یعنی دل سے گناہ کی انجام دہی پر پیشمان ہونا اور اس کے ترک کرنے کا قصد کرنے کو واجب سمجھتے ہیں۔[20] کتاب عروۃالوثقی کے مطابق گناہوں سے توبہ کرنا انسان کی زندگی کا سب سے اہم مسئلہ اور تمام واجبات میں سب سے اہم واجب ہے۔[21] قرآن کریم کی مختلف آیات من جملہ سورہ طاہا کی آیت نمبر 82 میں خدا گناہ گاروں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔[22]

عصمت اور گناہوں سے دوری

تفصیلی مضمون: عصمت

دینی اصطلاح میں عصمت ایک ایسا ملکہ ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان گناہوں کے مرتکب نہیں ہوتا ہے۔[23] دینی تعلیمات میں ایسے شخص کو معصوم کہا جاتا ہے۔[24] شیعوں کا عقیدہ ہے کہ معصوم گناہوں کی پلیدی سے آگاہی رکھنے کی وجہ سے اپنے اردے اور اختیار سے گناہوں کو ترک کرتا ہے۔[25] ان کے مطابق انبیاء، ائمہ معصومین اور حضرت زہرا(س) عصمت کے مقام پر فائل ہیں۔[26]

حوالہ جات

  1. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۷۷ش، ص۷۔
  2. سجادی، فرہنگ معارف اسلامی، ۱۳۶۲ش، ج۲، ص۴۲۹۔
  3. نگاہ کنید بہ قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۷۷ش، ص۷۔
  4. نگاہ کنید بہ دستغیب، گناہان کبیرہ، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۳۱؛ قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۷۷ش، ص۱۳تا۱۵۔
  5. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۷۷ش، ص۱۳۔
  6. نگاہ کنید بہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۳۲۳۔
  7. یزدی، العروۃالوثقی، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۶۸۱۔
  8. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۷۶تا۲۷۸۔
  9. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۰، ص۳۲۷۔
  10. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۰، ص۳۶۲۔
  11. صدوق، معانی‌الاخبار، ۱۴۰۳ق، ص۲۷۰و۲۷۱۔
  12. سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، ۱۳۷۰ش، ج۳، ص۳۵۵.
  13. سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، ۱۳۷۰ش، ج۳، ص۳۵۶.
  14. سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، ج۳، ص۴۰۸.
  15. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۴۱۳ق، ص۴۱۳۔
  16. جوادی آملی، تسنیم، ۱۳۸۷، ج۱۰، ص۶۰۲و۶۰۳۔
  17. جوادی آملی، تسنیم، ۱۳۸۷، ج۱۰، ص۶۰۶۔
  18. محمدی ری‌شہری، میزان‌الحکمہ، ۱۳۷۹ش، ج۴، ص۱۹۰۶تا۱۹۱۳۔
  19. نگاہ کنید بہ محمدی ری‌شہری، میزان‌الحکمہ، ۱۳۷۹ش، ج۴، ص۱۹۰۶تا۱۹۱۳۔
  20. یزدی، عروۃالوثقی، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۲۸۷؛ کاشف الغطاء، انوارالفقاہہ، ۱۴۲۲ق، ص۴۰؛ خوئی، صراط النجاۃ، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۳۰۱۔
  21. یزدی، عروۃالوثقی، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۲۸۷۔
  22. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۱۸۷و۱۸۸۔
  23. مصباح یزدی، آموزش عقاید، ‍۱۳۷۸ش، ج۲، ص۳۱۔
  24. مصباح یزدی، آموزش عقاید، ‍۱۳۷۸ش، ج۲، ص۳۱۔
  25. مصباح یزدی، آموزش عقاید، ‍۱۳۷۸ش، ج۲، ص۳۱۔
  26. مصباح یزدی، آموزش عقاید، ‍۱۳۷۸ش، ج۲، ص۳۰و۳۱۔


مآخذ

  • صدوق، محمد‌بن‌علی، ‏معانی‌الأخبار، تحقیق على‌اکبر غفارى، قم، دفتر انتشارات اسلامى، چاپ‏ اول، ۱۴۰۳ق۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، تحقیق علی اسلامی، قم، مرکز نشر اسراء، چاپ دوم، ۱۳۸۷ش۔
  • خویى سیدابوالقاسم، صراط‌النجاۃ، جمع‌آوری و تصحیح موسی مفیدالدین عاصى عاملى‌، قم، مكتب نشرالمنتخب‌، چاپ اول‌، ۱۴۱۶ق۔
  • دستغیب، سیدعبدالحسین، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ نہم، ۱۳۷۵ش۔
  • قرائتی، محسن، گناہ‌شناسی، تنظیم محمد محمد اشتہاردی، تہران، مرکز فرہگنی درس‌ہایی از قرآن، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق۔
  • کاشف‌الغطاء، حسن بن جعفر، انوارالفقاہہ، نجف، مؤسسہ کاشف‌الغطاء، چاپ اول‌‌، ۱۴۲۲ق۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق۔
  • سبحانی، جعفر، بحوث فی الملل و النحل؛ دراسۃ موضوعیۃ مقارنۃ للمذاہب الاسلامیہ، قم، مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، ۱۳۷۰ش.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، بیروت، دارالوفاء، ۱۴۰۳ق۔
  • محمدی ری‌شہری، محمد، میزان‌الحکمہ ہمراہ با ترجمہ فارسی، ترجمہ حمیدرضا شیخی، قم، دارالحدیث، چاپ دوم، ۱۳۷۹ش۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، آموزش عقاید، تہران، شرکت چاپ و نشر بین الملل سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۷۸ش۔
  • یزدی، سیدمحمدکاظم، العروۃ الوثقی، قم، انتشارات مدرسہ امام علی‌بن‌ابی‌طالب، چاپ اول، ۱۴۲۸ق۔